Voice of Asia News

حکومت کا دوسری مرتبہ فوجی عدالتوں میں توسیع کا فیصلہ

اسلام آباد(وائس آف ایشیا)حکومت نے فوجی عدالتوں میں توسیع کا فیصلہ کر لیا ہے۔قانونی مسودہ اگلے ہفتے ایوان میں پیش کیا جائے گا۔تفصیلات کے مطابق سانحہ آرمی پبلک سکول کو بیتے 4 سال ہو چکے ہیں ،کچھ روز قبل سانحہ اے پی ایس کی چوتھی برسی منائی گئی،اس سانحے کے بعد وفاقی حکومت نے فوجی عداتیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ابتدا میں فوجی عدالتیں 2 سال تک قائم کی گئی تھیں لیکن بعد میں ایکٹ آف پارلیمنٹکے تحت ان کے قیام میں توسیع کر دی گئی تھی۔16 دسمبر کو آئی ایس پی آر نے فوجی عدالتوں سے متعلق اہم تفصیلات جاری کر دی تھیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق وفاقی حکومت نے 717 کیسسز فوجی عدالتوں میں بھیجے جن میں سے 546 نمٹائے جا چکے ہیں۔546 میں سے 310 دہشتگردوں کو موت کی سزا سنائی گئی۔سزا موت پانے والوں میں سے 56 افراد کو تختہ دار پر لٹکایا جا چکا ہے جبکہ 254 دہشتگردوں کی سزائے موت قانونی عمل کےباعث زیرالتوا ہے۔جن دہشتگردوں کو سزائے موت سنائی گئی ان میں امجد صابری میریٹ ہوٹل، بنوں جیل حملے،ایس ایس پی چوہدری اسلم حملہ،نانگا پربت میں غیر ملکیوں پر حملہ کرنے والے دہشتگرد شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مستونگ میں فرقہ واریت پھیلانے والے مجرمان کو بھی انہی فوجی عدالتوں نے موت کی سزا سنائی ہے۔234 مخلتف مجرموں کو مختلف دورانیے کی سزا سنائی جن میں کم سے کم مدت 5 سال ہے۔فوجی عدالتوں نے 2 ملزمان کو بری بھی کیا ہے۔ فوجی عدالتوں کی مدت جنوری میں ختم ہونے جارہی ہے ۔جس پر حکومت نے فوجی عدالتوں کی مدت میں دوسری بار توسیع کا فیصلہ کر لیا ہے۔ فوجی عدالتوں کی مدت میں مزید 2 سال کی توسیع کی جائےگی۔ وزارت قانون نے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کیلئے آئینی ترمیم کامسودہ تیارکر لیا ہے جسے آئندہ ہفتے ایوان میں پیش کیا جائے گا ۔جبکہ حکومت نے اس معاملے پر اپوزیشن کو بھی اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے