Voice of Asia News

قبر میں مز دوری: شوکت علی چوہدری

دُنیا بھر میں سب سے زیادہ خطرناک مزدوی کان کنوں کی مزدوری ہے۔جس کو قبر میں مزدوری بھی کہہ سکتے ہیں۔زمین کے اندر ہزاروں فٹ نیچے کام کرنا ایسے ہی ہے کہ جیسے آپ زندہ درگور ہو گے۔کان کنی دنیا کا قدیم ترین شعبہ ہے۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کی تاریخ کو اگر دیکھا جاے تو ان کی ترقی میں کان کنی کا حصہ سب سے زیادہ ہے۔امریکہ سے لے کر یورپ تک تمام ممالک کی ترقی کی بنیادیں کانکنوں کی ہڈیوں پر ہی رکھی گی ہیں۔اس کے علاوہ بھی اگر ماضی کا جاہزہ لیا جاے تو دنیا کے طاقت ور اور ترقی یافتہ اور مہم جو ممالک نے ایشاء افریقہ اور لاطینی امریکہ کے جن جن ممالک پر اپنا تسلط قائم کیا اس کے پیھچے وہاں سے خام مال کا حصول سرفہرست رہا۔وہ کوہلہ سونا،تانبا،جپسم ،گندھک اور ہیرے جواہرات وغیرہ کی شکل میں اس دولت کو اپنے اپنے ممالک کو منتقل کرتے رہے اور اپنی صنعتی ترقی کی بنیادوں کو اس لوٹے ہوے خام مال سے مستحکم کرتے رہے۔تیل کی دریافت نے اس عمل کو تیز سے تیز تر کر دیا تھا اور تا حال یہ سلسلہ جاری ہے۔امریکہ سمیت تمام یورپی ممالک بھی قدرتی وسائل سے مالا مال تھے۔خاص کر کوئلے اور لوہیے کے ذخاہر میں وہ بڑی حد تک خود کفیل تھے۔لیکن اس کے باوجود وہ غلام بناے گے ممالک کے خام مال کو اپنی صنعتی ترقی کیلئے استعمال کرنے کو ترجیح دیتے رہے۔یہ ہی وجہ رہی کہ ان ممالک میں محنت کشوں کی تحریکوں نے ہمیسہ ہی اپنے اوقات کار اور تنخحواہوں میں اضافہ کے علاوہ دیکر سہولیات کے حصول کے لیے خون آشام جدوجہد کی اور وہ اس میں بڑی حد تک کامیاب بھی رہیے۔لیکن وہ تمام ممالک جن کو ان ترقی یافتہ ممالک نے غلام بنایا تھا وہاں انہیں یہ تمام تر خام مال بہت ارزاں نرخوں پر میسر آجاتا تھا۔اور ان ممالک کی مزدور تحریکیں بھی کمزور حالت میں رہیں اور دوسرے کالونیل لاز کے تحت جس قدر سختی ممکن ہوتی وہ بھی روا رکھی جاتی۔جس کی وجہ سے وہ تحریکیں اپنے حقوق حاصل کرنے میں وہ کامیابی حاصل نہ کر پاہیں جو کامیابی امریکہ اور یورپ کے مزدوروں نے حاصل کیں۔
ایک زمانہ تھا جب برطانیہ کی سلطنت میں سورج غروب نہی ہوتا تھا۔دنیا کا بڑا حصہ اس کے قنضہ قدرت میں تھا۔اسے اپنے ملک کے محنت کشوں کی جدوجہد کے سامنے جھکتے ہوے 1920 کے لگ بھگ کانکنوں کی بہبود کے لیے قانون سازی کرنی پڑی۔ برطانوی حکومت 1880ء کے لگ بھگ ہنروستان میں بھی کان کنی کا آغاز کر چکی تھی اور ہندوستان کے طول و عرض سے اس نے زیر زمین پوشیدہ خام مال نکالنے کیلئے ہزاروں کی تعداد میں محنت کشوں کو ملازم بھی رکھا۔لیکن ان کو برطانوء محنت کسوں کی طرح کوء قانونی تحفظ فراہم نہی کیا تھا۔حیرت کی بات یہ ہے کہ قانون ساز اداروں نے اس بات کا اعلان کیا کہ برطانوی ماہنز ایکٹ کا اطلاق اس کی کالونیوں کے کانکنوں پر نہی ہو گا۔برطانوی حکومت کے اس فیصلہ کے خلاف ہندوستان میں کانوں میں کام کرنے والے محنت کشوں کے علاوہ ہندوستان کی سیاسی قیادت نے بھی بھر پور احتجاج کیا اور اس احتجاج کی شدت میں اضافہ کو دیکھتے ہوے حکومت برطانیہ نے 1923 میں ہندستانیوں کے لیے ماہنز ایکٹ 1923 نافز کیا۔قیام پاکستان کے بعد انگریز سرکار کے بناے ہوے دیگر قوانین کی طرح ماہنزایکٹ 1923 بھی پاکستان کے حصہ میں آیا جو اج تک لاگو ہے۔بلاشبہ یہ ایک قدرے بہتر قانون ہے بشرطیکہ اس قانون پر عمل درآمد کیا جاے۔لیکن پاکستان میں ایک مسلہ جو تمام محنت کشوں کو درپیش ہے وہ قوانین پر عمل کا نہ ہونا ہے۔20۔21 دسمبر 2018 کو کراچی میں پاکستان ورکرز کنفیڈریشن نے FES (.فیڈرک ابرٹ سٹیفٹنگ) جو کہ ایک جرمن تنظیم ہے کے تعاون سے ماہنز ورکرز کا کل پاکستان کنوینشن منعقد کیا۔جس میں کانکنوں کے صحت و سلامتی سے متعلق مساہل۔ آن کا حل اور اس کے لیے قانون سازی کروانے کی کوشش کرنا شامل تھا اس کنونشن میں ملک بھر سے کانکنی سے متعلقہ یونیز کے تقریبا” 65 رہنماوں نے شرکت کی۔ان کی زبانی جو حالات کار معلوم ہوے وہ رونگٹے کھڑے کر دینے والے تھے۔پہلے تو ہم پاکستان کے اس شعبہ میں رونما ہونے والے حادثات پر ایک نظر ڈالتے ہیں 1898ء سے 2018 تک تقریبا” 1130 کان کن کانوں میں میتھین گیس کے جمع ہو جانے۔کان کے بیٹھ جانے۔کان میں ہوا کا دباو کم ہو جانے آگ لگنے۔زہریلے کیڑے کے کاٹنے سے جان کی بازی ہار گے۔یہ اعدادوشمار صرف صوبہ بلوچستان کے ہیں۔پختون خواہ۔پنجاب اور سندھ میں رونما ہونے والے حادثات بھی دل ہلا دینے والے ہیں۔یہ وہ اعدادوشمار ہء4 ں جو متعلقہ محکموں کے ریکارڈ پر آجاتے ہیں اس کے علاوہ ایک بڑی تعداد ان مزدوروں کی بھی ہے جن کو کان کا ٹھیکیدار اس کا قانون کے مطابق ریکارڈ بناے بغیر دھاڑی دار مزدور کے طور پر صرف سستی لیبر کے حصول کے لیے اسے کام پر بھیج دیتا ہے ایسا ورکر اگر حادثہ میں مارا جاے تو اس کا کوء ریکارڈ نہی ہوتا۔اس کے علاوہ کان کے حادثات میں جو مزدور زخمی ہو جاتے ہیں انکی زیادہ تعداد زندگی بھر کے لیے معذور ہو جاتی ہے۔اور ان کی پینشن یا ویلفیر کا کوء نظام موجود نہی ہے اور اگر ہے بھی تو اس پر عمل درآمد نہی ہوتا۔اس کے علاوہ پنجاب کے ضلع سرگودھا میں جہاں پہاڑیوں کو توڑ کر بجری بنانے کیلئے پتھر حاصل کیا جاتا ہے اس شعبہ میں 2000ء سے 2014 تک 224اور 2015 سے 2018 تک 111 مزدور پہاڑیوں سے گر کر یا پہاڑیوں کے پتھروں کے نیچے آکر جان کی بازی ہار گے۔زخمی ہونے مزدوروں کی تعداد ان کے علاوہ ہے اور زندگی بھر کے لیے معزور ہو جانے والوں کی تعداد کا کچھ پتہ نہی چلتا۔کیونکہ اس شعبہ میں کام کرنے والے محنت کشوں کا زیادہ تر تعلق ضلع سوات۔آزاد کشمیر اور خیبر پختونخواہ کے رور دراز علاقوں سے ہوتا ہے اور جب یہ لوگ اپنے گھروں کو واپس چلے جاتے ہیں تو ان کے ساتھ کسی قسم کا کوء راطہ برقرار رکھنا نا ممکن ہو جاتا ہے۔کانوں کے اندر رونما ہونے والے حادثات میں انسانی جانوں کے ضیاع کے علاوہ 3 سے 7 ہزار فٹ کی گہراء میں جاکر کام کرنے والت کانکن۔کان میں اڑنے والے گردے۔ہوا کے کم دباو اور کام کی سختی کی وجہ سے ٹی بی۔دمہ پٹھوں کی مختلف بیماریوں کے علاوہ خارش اور آنکھوں کی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں اب ذرا اس کنوینشن میں جو حالات کاکنوں کے رہنماوں نے بیان کیے ان پر بھی ایک نظر ڈال لیتے ہیں۔
قانون یہ کہتا ہے کہ کسی بھی شخص کو کان میں اس کا ریکارڑ مکمل کیے بغیر نہ بیھجا جاے اس قانون کی کان کے ٹیھکیدار کے نماہندے کھلی خلاف ورزی کرتے ہیں۔یہ ضروری ہے کہ ہر کان کے علاقہ میں ایک ڈسپینسری جس میں ڈاکٹر سمیت تمام سہولیات موجود ہوں اس کا قیام ضروری ہے۔ان سہولیات کا دور دور تک کوء نام نشان نہی۔ایمولینس جو کسی بھی ایمرجنسی میں مزدوروں کو جلد از جلد ہسپتال تک پہنچاے اس کا دور تک کوئی زکر نہیں۔اس شعبہ میں کانکنوں کی صحت و سلامتی کا زیادہ تر دارومدار محکمہ کانکنی کے انسپکٹر کا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بناہیں کہ کانوں کے لیز ہولڈرز کانکنوں کو کان میں کام کرنے کیلئے انکی حفاظت کا تمام سامان ان کو بہمم پہنچاارہے ہیں یانہیں۔اول تو ممحکمہ کے پاس انسپکٹرز کی مطلوبہ تعداد ہی نہی ہے کہ وہ تمام کام بخوبی سر انجام دے سکیں۔ دوہم انسپکٹرحضرات دور دراز اور پر خطر علاقوں میں جا کر انسپیکشن کرنے کی تکلیف گوارا نہی کرتے۔ بلوچستان کی کانوں میں موجود میٹھین گیس کی وجہ سے سب سے زیادہ حاثات ہوتے ہیں اس کی روک تھام کیلئے ضروری ہے کی کانوں میں اس مہلک گیس کی نشاہدہی کرنے والے انڈیکیٹرز لگاہیں جاہیں۔ایک انڈیکیٹر کی مارکیٹ میں قیمت 25 ہزار روپے ہے لیکن کوئی لیز ہولڈر یہ انڈیکیٹرلگانے کو تیار نہیں۔اور متعلقہ محکمے اس پر مجرمانہ غفلت کے مرتکب ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ کان سے کوہلہ وغرہ نکالنے کیلئے مزدوری کا تعین پیس ریٹ کے حساب سے ہوتا ہے۔جتنا مال نکالو گے اتنی۔مزدوری ملے گی۔اس تمام مزدوری کا حساب کتاب لیز ہولڈر یاٹیھکیدار کے کار خاص جمعدار کے ہاتھ میں ہوتا ہے آج تک کبھی بھی کانکن اپنی محنت کی پوری اُجرت ان جمعداروں سے حاصل نہی کر سکا۔ماسواے ان علاقوں کے جہاں کانکنوں کی مظبوط یونینز موجود ہیں۔
21 صدی میں بھی پاکستان میں کانکنی کا شعبہ اٹھارویں صدی کے طور طریقوں پر ہی کام کر رھا ہے۔دنیا نے اس شعبہ میں کمال کی ترقی کی ہے پاکستان میں کانوں کے زیادہ تر لیز ہولڈرز کا تعلق قباہلی سرداروں بڑے بڑے جاگیر داروں اور با اثر حکمران خاندانوں سے ہے ان کو کانوں کی ترقی اور کانکنوں کی صحت و سلامتی سے کوئی دلچسپی نہیں۔اور نہ ہی کوئی حکومت ان سے اس سلسلہ میں کوئی باز پرس کرتی ہے۔آج بھی پاکستان کے بہت سے علاقوں میں کانوں سے مال گدھوں پر لاد کر کان سے باہر لایا جاتا ہے۔یہاں ایک بھی ایسی کان نہیں جس میں آپ کھڑے ہوکر کان کے اندر جا سکیں۔کان کنوں کو دوران کام پینے کے لیے صاف پانی تک میسر نہیں ہوتا جس کی سپلائی قانون کے مطابق ضروری ہے۔کان کن دوران کام گندا پانی پینے پر مجبور ہوتے ہیں۔ کانکنی کا شعبہ ملک کی کل آمدنی میں 3سے 5 فی صد تک حصہ ڈالتا ہے اس شعبہ کے ساتھ ایک لاکھ سے زیادہ محنت کش وابسطہ ہیں اس شعبہ کو ترقی د یکر قومی آمدن میں اس کے حصہ کو بہت مناسب حد تک بڑھایا جا سکتا ہے لیکن ایسا کون کرے۔اور کیوں کرے۔پاکستان میں کانکنی ایسی مزدوری ہے کہ جس کو قبر میں مزدوری کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔یہ ایک ایسی مزدوری ہے کہ اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے۔
mazdoormahaz@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے