Voice of Asia News

جنگ کی دھمکیاں مسائل کا حل نہیں،بھارت سن لے! ایسا وقت آیا تو منہ توڑ جواب دیں گے،پاک فوج

راولپنڈی( وائس آف ایشیا)پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ دشمن کا ایک ڈرون تک ہماری حدود میں نہیں آ سکتا، پاکستان کو دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں کیا جا سکتا، بھارت سن لے ایسا وقت آیا تو منہ توڑ جواب دیں گے، سرجیکل سٹرائیک صرف باتوں سے نہیں ہوتی، جھوٹ کے کوئی پاؤں نہیں ہوتے، سرجیکل سٹرائیک کو تو بھارت کے اپنے لوگ بھی نہیں مانتے، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے آج تک اپنے لوگوں کو سرجیکل سٹرائیک کا ثبوت نہیں دیا، نئی جنگ ترقی کی جنگ ہے جو جہالت کیخلاف اور تعلیم، صحت اور روزگار کیلئے ہے۔ایک انٹرویو میں پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے بھارت پر واضح کر دیا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی، جنگ کی دھمکیوں سے مسئلے حل نہیں ہونگے لیکن اگر ایسی کوئی بات ہوئی تو افواج پاکستان ہر وقت تیار ہے۔میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ بہت مشکل سفر تھا، پچھلی دو دہائیوں میں مشکل سفر طے کیا ہے۔ پاک فوج قربانیاں دے کر امن بحال کر رہی ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کیخلاف جنگ کو کامیاب بنایا۔ پچھلے دو سال میں 75 ہزار سے زائد خفیہ آپریشن کیے گئے جبکہ آپریشن ردالفساد کے دوران 35 ہزار غیر قانونی اسلحہ برآمد کیا گیا۔افغانستان کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کیلئے معیشت کو کنٹرول کرنا بہت مشکل ہے، افغان مصالحتی عمل میں پاکستان اپنا کردار ادا کر رہا ہے، افغانستان میں امن ہوگا تو پاکستان میں بھی ہوگا اور پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان سے امریکا کے جانے کے بعد وہاں ترقی کے کام جاری رہیں۔ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا اور فاٹا کے لوگوں نے دہشت گردی کا سامنا کیا اور بہت مشکلات دیکھیں۔ خیبر پختونخوا اور فاٹا کی عوام کو بہادری پر سلیوٹ پیش کرتا ہوں، آئی ڈی پیز تکلیف میں رہے، اب ان کی بحالی کا وقت ہے۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی دھمکیوں کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں آج کل الیکشن کا ماحول ہے، وہاں الیکشن زیادہ تر پاکستان کے سلوگن پر لڑے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کیساتھ ستر سال کی ہسٹری ہے، اس نے ہمیشہ ڈائیلاگ سے انکار کیا اور جنگیں بھی کر کے دیکھ لیں، جنگوں کی بات ہمیشہ بھارت نے اور پاکستان نے امن کی بات کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دھمکیوں سے پاکستان سمیت خطے کے تعلقات پر اثر پڑتا ہے، جنگ کی دھمکیوں سے مسئلے حل نہیں ہونگے، اگر ایسی کوئی بات ہوئی تو افواج پاکستان ہر وقت تیار ہے۔ دشمن کا ایک ڈرون تک ہماری حدود میں نہیں آ سکتا، پاکستان کو دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں کیا جا سکتا، بھارت سن لے ایسا وقت آیا تو منہ توڑ جواب دیں گے۔بھارت کی گیڈر بھبکیوں کا جواب دیتے ہوئے پاک فوج کے ترجمان نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ سرجیکل سٹرائیک صرف باتوں سے نہیں ہوتی، جھوٹ کے کوئی پاؤں نہیں ہوتے، سرجیکل سٹرائیک کو تو بھارت کے اپنے لوگ بھی نہیں مانتے، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے آج تک اپنے لوگوں کو سرجیکل سٹرائیک کا ثبوت نہیں دیا۔ان کا کہنا تھا کہ جنگوں کی بات ہمیشہ بھارت نے اور امن کی بات پاکستان نے کی ہے، مذاکرات سے فرار کی راہ ہمیشہ بھارت نے اختیار کی ہے۔انہوں نے کہا کہ جو کام کسی قوم نے نہیں کیا وہ پاکستانی قوم نے کیا، جو کام کسی افواج نے نہیں کیا وہ کام پاکستانی افواج نے کیا، یہ پاکستان کا پوزیٹو امیج ہے۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ ریاست، افواجِ پاکستان اور عوام نے مل کر لڑی ہے۔میڈیا کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ آج کے دور میں میڈیا سب سے مضبوط ستون اور اس کا مثبت کردار ہے، دہشت گردی کیخلاف جنگ میں میڈیا نے بہت ساتھ دیا۔تاہم انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بہت سارے اکاؤنٹ بیرون ملک سے چلائے جا رہے ہیں، میڈیا اس حوالے سے عوام کو آگاہی دے، نورین لغاری کو سوشل میڈیا کے ذریعے ہی قابو کیا گیا تھا۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ آرمی جیسا احتساب کا نظام دیگر اداروں میں آدھا بھی آ جائے تو بہت کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ فوج کوئی ایسا کام نہیں کرے گی جو قوم کو ترقی کے راستے سے ہٹا دے۔ جمہوریت چلے گی تو پاکستان ترقی کرے گا۔ عسکری قیادت جمہوری استحکام کی خواہش مند ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ نئی جنگ ترقی کی ہے، جہالت کیخلاف، تعلیم، صحت اور روزگار کیلئے ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فوجی عدالتوں کی ضرورت اب بھی ہے تو یہ فیصلہ حکومت کو کرنا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ الیکشن قومی سرگرمی ہے اور الیکشن سے ہی تبدیلی آتی ہے، اس میں فوج کا کوئی ہاتھ نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی عدالت انصاف میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کے جاسوس کلبھوشن یادیو کے کیس کی کچھ عرصے میں سماعت ہونی ہے جب کہ بھارتی جاسوس کی رحم کی اپیل آرمی چیف کے پاس ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آپریشن شیر دل 2008 میں شروع ہوا تھا جب کہ آپریشن ردالفساد کو تقریبا 2 سال ہوچکے ہیں۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے