Voice of Asia News

دُنیا کا پہلا ڈائبیٹک باکسنگ چمپئن بننا چاہتا ہوں: انٹرویو : محمد قیصر چوہان

پاکستان باکسنگ کا ورلڈ چمپئن بن سکتا ہے، سہولتوں کے فقدان،سیاسی مداخلت ،اقرباء پروری کی وجہ باکسنگ کاٹیلنٹ ضائع ہو رہا ہےپاکستانی نژاد برطانیہ کے پہلے ڈائبیٹک پروفیشنل باکسر محمد علی کا ’’وائس آف ایشیا‘‘ کو خصوصی انٹر ویو

انتھک محنت، اپنے کام سے سچی لگن اور حصول کامیابی کا جذبہ صادق اگر کسی بھی انسان میں مستقل مزاجی کے ساتھ موجود ہو تو اس انسان کے آگے منزلیں خود زیر ہو کر قدموں میں بچھ جاتی ہیں یہ جذبہ پاکستانی نژاد برطانوی باکسر محمد علی کی شخصیت میں واضح طور پر چھلکتا ہے جو ہر وقت خوب سے خوب تر کی تلاش میں رواں دواں رہتے ہیں۔ خوش اخلاقی، پروفیشنل ازم، اچھی اور مثبت سوچ، دیانت و ایمانداری اور احساس ذمہ داری کے اصولوں کی پٹری پر چلتے ہوئے وہ باکسنگ جیسے سخت اور مشکل کھیل میں کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔
بہادر اور جرأت مند لوگوں کے کھیل باکسنگ میں محمد علی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں وہ 20 جنوری 1996 کو انگلینڈ میں پیدا ہوئے۔محمد علی پانچ سال کی عمر میں ٹائپ ون ڈائیبیٹیز کا شکار ہوئے جب ان کے والدین نے انہیں صحت کی خرابی کے باعث ہسپتال لے کر گئے تو ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ یہ بچہ تو ذیابیطس کی بیماری میں مبتلا ہے۔محمد علی نے پانچ سال کی عمر سے ہی کھیلوں میں حصہ لینا شروع کر دیا لیکن بارہ سال کی عمر میں انہوں نے باکسنگ کے کھیل کو اپنا پروفیشن بنا کر ذیابیطس کے مرض کو شکست دینے کی ٹھان لی ۔محمد علی نے ایمچر باکسنگ کے 34 مقابلوں میں حصہ لیا اور 29 فائٹس میں فتح حاصل کی ۔ محمد علی نے جب پروفیشنل باکسنگ لائسنس حاصل کرنے کیلئے برٹش باکسنگ بورڈکو درخوست دی تو برٹش باکسنگ بورڈ نے ان کی درخواست یہ کہہ کر مسترد کر دی کہ وہ ٹائپ ون اور ٹائپ ٹو ڈائیبیٹیز کو لائسنس نہیں دیتے۔برٹش باکسنگ بورڈ کی طرف سے یہ فیصلہ سن کرمحمد علی کا دل ٹوٹ گیا اوروہ شدید غمگین ہوئے کیونکہ وہ جسمانی طور پر فٹ اور ایک اچھا باکسر ہے،تواس مشکل وقت میں اسد شمیم جو کہ اب محمد علی کے منیجرہیں نے محمد علی کو ہار نہ ماننے اور برٹش باکسنگ بورڈ کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا مشورہ دیا۔ محمدعلی نے ڈاکٹر ایان گیلین، اسد شمیم اور ا.پنے ٹرینر ایلیکس میٹویینکو کی مدد سے برٹش باکسنگ بورڈ کو چیلنج کیا اور اس فیصلے کے خلاف پُر امن احتجاج بھی کیا، تقریبا تین سال کی مسلسل محنت و کوشش کے بعد مئی 2018ء برٹش باکسنگ بورڈ نے اپنا فیصلہ واپس لے کر محمد علی کو پروفیشنل باکسنگ لائسنس دے دیااور یوں محمد علی کوبرطانیہ کی تاریخ کے پہلے پر وفیشنل ڈائیبیٹک باکسر بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔ محمد علی نے مئی 2018ء میں باکسنگ کی اجازت ملنے کے بعد سے تین فائٹس لڑی ہیں اور تینوں میں حریف باکسرز کو شکست سے دو چار کیا ہے ،انہوں نے اپنی پہلی پروفیشنل فائٹ15 ستمبر کو لتھوانیا کے باکسر آندریج سیپرکے ساتھ لڑی اور حریف باکسر کو شکست سے دوچار کرکے تاریخی فتح حاصل کی۔ 17 نومبر کو دوسری فائٹ میں ڈینی لٹل کو شکست دی جبکہ 8 دسمبر کو ہونے والی تیسری فائٹ میں انہوں نے برطانوی حریف بین فیلڈز کو بھی شکست دی۔پاکستانی نژاد برطانیہ کے پہلے ڈائبیٹک پروفیشنل باکسر محمد علی گزشتہ برس دسمبر میں پاکستان کے دورے پر آئے تو نمائندہ ’’ وائس آف ایشیا ‘‘ نے ان کے ساتھ لاہور پریس کلب میں ایک نشست کا اہتمام کیا جس میں ہونے والی گفتگو قارئین کی خدمت میں حاضر ہے۔
سوال : سب سے پہلے توآپ اپنے خاندانی پس منظر کے بارے میں آگا ہ کریں؟
محمد علی : میرے آباؤ اجدادکا تعلق پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع لیّہ کی تحصیل کروڑ لعل عیسن سے ہے۔ میرے والد برٹش پاکستانی تھے، جنہوں نے پاکستان آکر میری والدہ سے شادی کی اور پھر دوبارہ برطانیہ آگئے۔ میرے دادا کروڑ لعل عیسن کے قریبی گاؤں فتح پور میں رہتے تھے اور1960میں انگلینڈ چلے گئے تھے ۔میرے والد کانام زاہد محمود ہے اور اُن کی پیدائش مانچسٹر، روچڈیل میں ہوئی جبکہ میری والدہ محترمہ کا نام مقصودہ بیگم ہے اور ان کا تعلق بھی فتح پور گاؤں ہی سے ہے ان کی پیدائش پاکستان ہی کی ہے۔ میرے ابو ناک آوٹ کچن ریسٹورنٹ چلاتے ہیں ہم تین بہن بھائی ہیں ،دو بھائی اور ایک بہن، میں محمد علی ، بھائی محمد حمزہ یوسف اور بہن نمرہ بنت زاہدہے ۔ میں برطانیہ کے شہر روچڈیل میں 20 جنوری 1996 کو پیدا ہوا۔میں نے اپنی ابتدائی تعلیم بریمروڈ کمیونٹی پرائمری سکول سے حاصل کی اس کے بعد میتھو ماس ہائی سکول سے میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔پھر ہوپ وڈ ہال کالج اس کے بعد ایج ہیل یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔
سوال : آپ کو کب معلوم ہوا کہ آپ ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہیں؟
محمد علی : میں چار سال کاتھا کی اچانک میری صحت خراب ہونا شروع ہو گئی ،دن بدن کمزور ہو تے دیکھ کر والدین مجھے ہسپتال لے کر گئے تو ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ اس بچے کو ٹائپ ون ڈائیبیٹیز کا مرض لاحق ہے۔میرے والد اور والدہ دونوں کو شوگر نہیں۔ البتہ میرے دادا ذیابیطس کے مریض تھے۔
سوال : پرفیشنل باکسر بننے کا خیال آپ کے ذہن میں کب آیا؟
محمد علی : میں نے ذیابیطس کو کبھی اپنی کمزوری نہیں سمجھا۔ میں نے سکول اور کالج میں کرکٹ، ہاکی اور فٹبال تقریباً سبھی کھیل کھیلے ۔یہ کھیل کھیلتے ہوئے جب بھی ہماری ٹیم میچ ہارتی تو کوئی بھی اس کی ذمہ داری کوٍ قبول نہیں کرتاتھا بلکہ شکست کی وجہ ایک دوسرے کو قرار دیتے تھے ۔ اس چیز نے ان کھیلوں سے میرا دل بدزن کردیا ۔پھر میں نے سوچا کہ میں کسی ساتھی کھلاڑی کی مدد کے بغیر ہی کامیابی حاصل کروں تو اسی سوچ نے مجھے باکسنگ کے کھیل کی جانب راغب کیا۔میں نے 13 برس کی عمر میں پیشہ ور باکسر بن کر ذیابیطس کے مرض کو شکست دینے کی ٹھان لی۔جب میں نے باکسنگ میں بطور پروفیشنل باکسر اپنا کیریئر بنانے کا فیصلہ کیا تو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔میں نے 2015ء برٹش باکسنگ بورڈ میں پروفیشنل باکسر بننے کی درخواست دی تو اُس کو یہ کہہ کر مسترد کردیا گیا تھا کہ برٹش باکسنگ بورڈ ٹائپ ون اور ٹائپ ٹو ڈائبٹیز کو لائسنس نہیں دیتا۔ اسی سال میرے مخلص دوستوں نے ٹرینرز اور ڈاکٹرز کی ایک ٹیم تشکیل دی، جنہوں نے مجھے بطور پروفیشنل باکسنگ تیار کیا۔ ان میں اسد شمیم بھی شامل تھے، جو اب میرے منیجر ہیں۔ ڈاکٹر ایان گیلین، اسد شمیم اور اپنے ٹرینر ایلیکس میٹویینکو کی مدد سے میں نے برٹش باکسنگ بورڈ کو چیلنج کیا اور تقریباً تین سال کی مسلسل محنت و کوشش کے بعد مئی 2018ء میں پرفیشنل لائسنس حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔میں ذیابیطس کے مرض سے لڑ کر مزید مضبوط ہوا ہوں اور پہلا ڈائیبًٹک باکسر بن کر میں نے تاریخ رقم کی ہے جس پر ہمیشہ مجھے فخر رہے گا۔
سوال : جب آپ نے باکسنگ کے کھیل کو بطور پروفیشن اپنانے کا فیصلہ کیا تو والدین نے آگے بڑھنے میں آپ کی مدد کی یا پھر روک ٹوک کی؟
محمد علی : میرے والدین نے ہمیشہ میری حوصلہ افزائی فرمائی اور ہمت بڑھائی۔ میں سمجھتا ہوں کہ گھر والوں کی مدد کے بغیر ایک سپورٹس مین آگے بڑھ ہی نہیں سکتا۔ کسی بھی سپورٹس مین کی کامیابی میں اس کی فیملی کی سپورٹ اہم کردار ادا کرتی ہے میرے والد نے شروع دن سے ہی میری ہر ممکن سپورٹ کی۔ انہوں نے مجھے اچھے سکول اور کالج میں تعلیم بھی دلوائی۔ اور مجھے اجازت دی کہ میں جس کھیل کو بھی اپنانا چاہوں گا وہ اس میں میری ہر ممکن سپورٹ کریں گے جب میں نے باکسنگ کے کھیل کا انتخاب کیا تو انہوں نے مجھے ہر سہولت فراہم کی تاکہ میں اپنے کھیل پر بھرپور توجہ دے سکوں۔ میں آج والدین کی مکمل سپورٹ اور ان کی دعاؤں کی وجہ سے ہی اس مقام پر ہوں اگر مجھے والدین سپورٹ نہ کرتے تو شاید آج میں اس مقام پر نہ ہوتا۔
سوال : آپ نے کس باکسر کو آئیڈیل بنا کر محنت شروع کی ؟
محمد علی : آل ٹائم گریٹ باکسر محمد علی ہی میرے آئیڈیل باکسر ہیں۔ان کے علاوہ مائیک ٹائی سن ، شوگر لے لیٹارڈ، کینیلو الویزیز اور انتھونی جوشوا بھی میرے پسندیدہ باکسرزمیں سے ہیں۔ ابتدائی زمانے میں باکسنگ کی جانب راغب کرنے میں مجھے ان سے بڑی مدد ملی۔ میں آج بھی ان باکسرز کی ویڈیوز بڑے شوق اور دلچسپی سے دیکھتا ہوں۔میں عامر خان کے ساتھ پریکٹس بھی کر چکا ہوں۔
سوال : برطانیہ کیلئے کھیلتے ہوئے آپ کی پرفارمنس کیسی رہی؟
محمد علی :میں نے 34 ایمچر فائٹس لڑی جن میں سے 29 میں فتح حاصل کی۔میں نے بری ایمچر باکسنگ کلب کیلئے کھیلتے ہوئے باکسنگ کے کئی مقابلے بھی جیتے ۔کیلٹک باکس کپ، ہینگی باکس کپ، یونیورسٹی اے بی اے چیمپئن شپ، ایمچر باکسنگ ایسوسی ایشن سمیت باکسنگ کے کئی بڑے مقابلوں میں حصہ لے کر اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے۔
سوال : آپ چونکہ ذیابیطس کے مریض ہیں ،کونسی میڈیسن ستعمال کرتے ہیں؟
محمد علی : میں انسولین اور ورزش کے ذریعے اپنی شوگر کو کنٹرول کرتا ہوں۔جسمانی فٹنس برقرار رکھنے کیلئے میں جم ٹریننگ کرتا ہوں ،سوئمنگ بھی کرتا ہوں۔اس کے علاوہ کارل انس باکسنگ کلب میں جا کر دو گھنٹے تک باکسنگ کی ٹریننگ بھی کرتا ہوں ۔جس سے مجھے اپنی فزیکل فٹنس بحال رکھنے میں بڑی مدد ملتی ہے۔
سوال : آپ کو اس مقام تک پہنچانے میں کن لوگوں نے اہم کردار ادا کیا؟
محمد علی : سب سے پہلے تو میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ جس نے مجھ ناچیز پر اپنی رحمتوں کی بارش کرتے ہوئے اتنی عزت دی جس کا میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔ اس کے بعد میرے والد محترم جنہوں نے میری بھرپور سپورٹ کی کبھی کسی چیز کی کمی نہیں آنے دی۔ والدہ مجھے ہمیشہ ٹریننگ کی پابندی کرنے کا کہتی ہیں اور ڈائٹ کیلئے خود خوراک تیار کرتی ہیں تاکہ میں فٹ رہوں۔ان کے علاوہ ڈاکٹر ایان گیلین، اسد شمیم اور ٹرینر ایلیکس میٹویینکو نے میری ہر موقع پر سپورٹ کی جس کی بدولت میں آج اس مقام پر ہوں۔
سوال : آپ نے بطور پروفیشنل باکسر اب تک کتنی فائٹس لڑی ہیں؟
محمد علی : مئی 2018میں پروفیشنل باکسنگ کی اجازت ملنے کے بعد سے تینوں فائٹس اپنے نام کر چکا ہوں۔ 15 ستمبر2018 کو ہونے والی کیریئر کی پہلی فائٹ میں، میں نے لتھوانیا کے باکسر آندریج سیپر کو ہرایا۔ 17 نومبر2018 کو دوسری فائٹ میں ڈینی لٹل کو مات دی۔ اور8 دسمبر2018 کو برطانوی حریف بین فیلڈز کو بھی شکست سے دو چار کیا۔ ابھی توبطور پروفیشنل باکسر میرے کیریئر کی شروعات ہے۔ میں اپنی فتوحات کا سلسلہ جاری رکھوں گا اور انشاء اللہ کسی حریف کو ناک آؤٹ بھی کروں گا۔
سوال :آپ نے مستقبل کے حوالے سے کیا پلاننگ کی ہے؟
محمد علی : میں دنیا کا پہلا ڈائیبٹک ورلڈ چمپئن باکسر بننا چاہتا ہوں۔ ورلڈ ٹائٹل کیلئے 2020ء تک مشکل حریف کو چیلنج دوں گا۔
سوال : باکسنگ کا کھیل آپ کو کس حد تک پسند ہے؟
محمد علی : باکسنگ کا کھیل مجھے دیوانگی کی حد تک پسندہے۔باکسنگ کے کھیل نے مجھے جینے کی نئی اُمنگ دی ہے۔ فارغ وقت میں بھی باکسنگ کے بارے میں سوچتا ہوں اور باکسنگ کی ہی باتیں کرتا ہوں۔ میری خواہش ہے کہ میں اپنی آخری سانس تک باکسنگ کے کھیل سے وابستہ رہوں۔
سوال : باکسنگ کے علاوہ کون سے کھیلوں میں دلچسپی ہے؟
محمد علی : باکسنگ کے علاوہ کئی اور کھیل بھی پسند ہیں جیسا کہ فٹبال،کرکٹ لیکن باکسنگ کھیلنے یا دیکھنے کو نہ ملے تو بور ہو جاتا ہوں اسی لیے فارغ وقت میں بھی باکسنگ ہی کے بارے میں دوستوں سے بات چیت کرتا ہوں۔
سوال:آپ پاکستان کی باکسنگ کیلئے کیا کرنا چاہتے ہیں؟
محمد علی : میں پاکستان میں باکسنگ کے فروغ کیلئے کردار ادا کرنا چاہتا ہوں، پاکستان کے نوجوانوں میں باکسنگ کے کھیل کا بے پناہ ٹیلنٹ ہے، نوجوان باکسرز کی صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے کیلئے مستقبل میں کراچی ،لاہور اور کوئٹہ میں باکسنگ اکیڈمیاں بنانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ باکسنگ کے کھیل کوعروج دینے کیلئے کراچی کے معروف علاقے لیاری سمیت ملک بھر میں جدید طرز کی باکسنگ اکیڈمیاں بنانا ہوں گی اور نوجوان باکسرز کی تربیت کیلئے دُنیا کے نامور باکسرز کی خدمات حاصل کرنا ہوں گی ، باکسنگ کا کھیل تسلسل کے ساتھ سخت محنت اور تربیت کا تقاضہ کرتا ہے اس کھیل میں لاپرواہی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ میں پاکستانی باکسرز کی کوچنگ کرنا چاہتاہوں ۔مجھے کوچنگ کرنا پسند ہے۔ میرے دروازے پاکستانی باکسرز کیلئے ہمیشہ کھلے ہیں۔ پاکستان میں باکسنگ کے کھیل کا بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے لیکن عالمی معیار کی سہولیات کے فقدان ،سیاسی مداخلت ،اقرباء پروری اور پسند نا پسند کی وجہ یہ ٹیلنٹ ضائع ہو رہا ہے اگرپاکستان میں موجود باکسنگ کے ٹیلنٹ کو عالمی معیار کی سہولیات فراہم کرکے دُنیا کے بہترین باکسنگ کوچز کی زیر نگرانی گروم کیا جائے تو پاکستان ہاکی ،کرکٹ ، سنوکر اور سکوائش کی طرح باکسنگ کے کھیل کا بھی ورلڈ چمپئن بن سکتا ہے۔ پاکستان میں صرف کرکٹ کے کھیل کا چرچہ ہے اور کرکٹ کے کھیل کو حکومت کی سرپرستی ،میڈیا کی بھر پور توجہ اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کی جانب سے اسپانسرز شپ حاصل ہے جبکہ دیگر کھیلوں کو یہ چیزیں میسر نہیں ہیں جس کی وجہ سے ان کھیلوں کا ٹیلنٹ زنگ آلود ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر سپورٹس مین وزیر اعظم عمران خان کرکٹ کے علاوہ دیگر کھیلوں کے میدانوں میں بھی پاکستان کا پرچم بلند دیکھنا چاہتے ہیں تو پھر انہیں باکسنگ سمیت دیگر کھیلوں کو گراس روٹ لیول سے فروغ دینے کیلئے عملی اقدامات کرنا ہوں گے،ملک بھر میں سپورٹس کلچر پروان چڑھانے کیلئے کھیلوں کا بنیادی انفراسٹریکچر عالمی معیار کے مطابق نئے سرے سے تعمیر کرنے سمیت کھلاڑیوں کو روزگار فراہم کرنا ہو گا کیونکہ فکر معاش سے آزاد کھلاڑی ہی بین الاقوامی مقابلوں میں اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لا کر میڈلز جیت کر اپنا اور ملک کا نام روشن کرتا ہے۔
سوال: آج کل تقریباً سبھی کھیل میچ فکسنگ کی زد میں ہیں، باکسنگ بھی ان میں شامل ہے کیا آکپ کو کبھی فکسنگ کی آفر ہوئی؟
محمد علی : میں نے آج تک جتنی بھی فائٹس لڑی ہیں وہ پوری ایمانداری کے ساتھ لڑیں ہیں۔ میں مسلمان ہونے کے ناطے میں کبھی بد عنوانی کرنے کا سوچ بھی نہیں کر سکتا اور نہ ہی آج تک مجھے کسی نے فکسنگ کی پیشکش کی ہے۔ لیکن اگر کسی نے میچ فکسنگ کی آفر کی تو اسے پنج مار کر ’’ناک آؤٹ‘‘ کر دوں گا۔ دراصل کھیل انسان میں نظم و ضبط پیدا کرتا ہے اور اس میں کرپشن کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ اگر کوئی کھیلوں میں بد عنوانی کرے تو اس پر تاحیات پابندی لگا دینی چاہیے۔
سوال : آپ کے نزدیک انسانی زندگی میں کھیلوں کی کیا اہمیت ہے؟
محمد علی : میں کھیلوں کو زندگی کی علامت تصور کرتا ہوں، کھیلوں کو انسان کی تعمیرو ترقی کا ذریعہ سمجھتا ہوں۔کھیلوں کی سرگرمیوں سے صحت مند معاشرے کی بنیاد استوار ہوتی ہے۔ جس ملک میں جتنے زیادہ کھیلوں کے مقابلے منعقد ہوتے ہیں وہاں کا ماحول اتنا ہی زیادہ دوستانہ، خوشگوار اور پرُامن ہوتا ہے۔ کھیلوں کو فروغ دے کر معاشرے میں پروان چڑھتی ہوئی تنگ نظری اور انتہا پسندی کی سوچ کو بھی ختم کیا جا سکتا ہے۔ کھیل نوجوان نسل کو کلاشنکوف کلچر اور منشیات کی لعنت سمیت دیگر سماجی برائیوں سے بچانے میں بھی اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں۔ صحت مند معاشرے کے قیام میں بھی کھیل اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں۔ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی میں بھی کھیلوں کا بڑا اہم کردارہوتا ہے۔ کھیل امن ،محبت اور دوستی کے جذبوں کو پروان چڑھاتے ہیں۔ کھیلوں کی سرگرمیوں میں شریک کر کے نوجوان نسل کو ذہنی اور جسمانی طور پر تندرست رکھا جا سکتا ہے اور کھیلوں کی سرگرمیوں کے فروغ سے عوام کو تفریح کے بہترین مواقع بھی میسر آتے ہیں۔میں نے ایک سلوگن بنایا ہوا ہے کہ پوری دُنیا سے ’’کلاشنکوف کلچر‘‘ اور’’منشیات‘‘ کو ختم کروں۔ میرے نزدیک کھیلوں کے ذریعے زندگی سے تنگ دلی، بددیانتی، زیادتی اور نفرت کو ختم کیا جا سکتا ہے اس حوالے سے سپورٹس مین سپرٹ پیدا کرنا بہت ضروری ہے۔ میرا مقصدباکسنگ سمیت دیگر کھیلوں کے ذریعے جسمانی تنومندی،اخلاقی صحت اور سپورٹس مین سپرٹ کی فضاپیدا کرنا ہے میں سمجھتا ہوں کہ اگر سپورٹس مین سپرٹ مقصد حیات نہیں توکسی کا اچھے سے اچھا سپورٹس مین ہونا اور تنو مند ہو جانا قابل تعریف نہیں اورنہ ہی قابل فخر بات ہے۔میں نے بطورایک پروفیشنل باکسر کی حیثیت سے نو جوان نسل کو یہ تعلیم دینے کی کوشش کی ہے کہ کس طرح با کسنگ کے کھیل سمیت دیگر کھیلوں کے لیے عوام کو منظم کرنا ہے اورکس طرح سے گراس روٹ لیول پر سے کھلاڑیوں کی حوصلہ افرائی کرناہے۔ میں باکسنگ سمیت دیگر کھیلوں کو فروغ دے کر امن، محبت اوربھائی چارے کی فضا پیداکرنا چاہتاہوں۔ میرا فلسفہ قومی تعمیر و ترقی ہے جس سے میری مراد انسان میں سیرت و کردار کی تعمیر ہے اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو جو خوبیاں عطا کی ہیں ان کی پوری نشوونماکرنا، تدبیریں اختیار کرناتاکہ نوجوانوں کو اللہ تعالیٰ نے جن صلاحیتوں سے نوازا ہے ان کیلئے ایسا میدان مہیا کیا جائے کہ ان کی ساری صلاحیتیں پرورش پائیں۔
سوال: آپ کے نزدیک کسی بھی معاشرے یا ملک کی ترقی میں کھیل کا کیا کردار ہوتا ہے؟
محمد علی : کسی بھی ملک کی ترقی کا راز تین چیزوں میں پوشیدہ ہوتا ہے جس میں تعلیم، صحت اور صحت مندانہ سرگرمیاں شامل ہیں، کھیل اس لحاظ سے بھی اہمیت کے حامل ہیں کہ ان سے انسان ذہنی اور جسمانی طور پر تندرست رہتا ہے اب چونکہ سیٹلائٹ کا زمانہ ہے موبائل انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے رجحان نے جسمانی فٹنس کی سرگرمیاں بالکل ختم کر دی ہیں، بچے سارا دن کمپیوٹر اور موبائل پر مگن رہتے ہیں، زمانے کی ترقی نے مشین سے کام کو آسان کر دیا ہے یہی وجہ ہے کہ اب بیماریاں جلد حملہ آور ہوتی ہیں بالخصوص شوگر اور بلڈپریشر کا مرض پوری دُنیا میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں انسانوں کی بڑی تعداد کسی نہ کسی بیماری میں مبتلا نظر آتی ہے۔ لہٰذامیں دُنیا بھر کے والدین کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اپنے بچوں کو پڑھائی کے ساتھ صحت مندانہ سرگرمیوں کی طرف راغب کریں تاکہ ہماری نوجوان نسل ذہنی و جسمانی طور پر مضبوط بن سکے اور اس طرح نئے کھلاڑیوں کو بھی میدان میں آنے کا موقع ملے گا۔ کھیل انسان میں نظم و ضبط، امن و محبت اور بھائی چارے کے علاوہ جسم کی نشوونما کرتا ہے۔ لہٰذ اتمام ممالک کی حکومتوں کو کھیلوں کو نصاب کا حصہ بنانا چائیے۔
سوال: ایک پروفیشنل باکسر کی حیثیت سے آپ کا مشن کیا ہے؟
محمد علی : میں باکسنگ کے کھیل میں دنیاکاپہلاڈائبیٹک باکسنگ ولڈچمپئن بننا چاہتا ہوں۔اس کے علاوہ میں باکسنگ سمیت دیگر کھیلوں کوفروغ دے کر دُنیا بھر سے کلاشنکوف کلچر اور منشیات کی لعنت سمیت دیگر سماجی برائیوں کو ختم کرنا چاہتا ہوں۔ کھیلوں کو گراس روٹ لیول سے فروغ دے کر امن محبت اور بھائی چارے کی فضا پیدا کرنا میرا مشن ہے۔ دُنیا کے تمام ممالک کی نو جوان نسل اورمختلف کمپنیوں میں کام کرنے والے ورکروں کو صحت مندانہ سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا بھی میرا مقصد ہے کیونکہ انسان کی صحت کیلئے کھیل اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں۔ کھیل کے میدان کا رخ کرنے والا انسان دیگر انسانوں کی نسبت زیادہ صحت مند ہوتاہے مکمل فٹ اور صحت مند انسان کوئی بھی کام زیادہ بہتر طریقے سے سر انجام دے سکتا ہے۔ لہٰذا جن کمپنیوں کے ورکر کچھ ٹائم کھیلوں کے میدان میں گزاریں گے ان کمپنیوں کی کارکردگی میں بھی نکھار پیدا ہو گا۔ ان کی پروڈکشن بڑھے گی جس سے ان کے ریونیو میں بھی اضافہ ہو گا۔
سوال: کھیلوں کے مقابلوں میں حصہ لینے سے نوجوانوں اور مختلف کمپنیوں کے ورکروں کو کیا فوائد حاصل ہوں گے؟
محمد علی : کھیل انسانوں میں نظم و ضبط، اتحاد، امن، محبت، بھائی چارے کے علاوہ دماغ اور جسم کی نشوونما کرتا ہے۔ کھیل روزمرہ زندگی میں ذہنی الجھنوں یا پریشانی اور ذہنی کھینچاؤ سے نجات دلاتا ہے۔ انسانی حرکات کوکنٹرول کرتا ہے۔ صحت پر اچھے نتائج مرتب کرتا ہے سر سے لے کر پاؤں تک کے پٹھوں کے نظام کو مضبوط اور لچکدار بناتا ہے۔ کھیل انسان میں سیلف ڈیفنس، جسمانی فٹنس، تکنیکی مہارت، جسمانی توازن، ڈسپلن، یکسوئی، سپیڈ اور پھرتی پیدا کرتا ہے۔کھیل روزمرہ کے کاموں کو آسان کرتا ہے یہ انسان کو سماجی زندگی میں حصہ لینے کی خواہش پیدا کرتا ہے باہمی تعاون کو فروغ دیتا ہے کسی بھی کھیل کی مسلسل مشق انسان کو ایک بہترین انسان بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ کھیل انسان کو تحفظ کے ساتھ ساتھ خود اعتمادی عطا کرتا ہے انسان دوسروں کی عزت بڑوں کا احترام دوستوں سے خلوص، اصل دشمن کا تعین اور جنگ میں پیٹھ نہ دکھانا اور زندگی کو بہتر طریقے سے گزارنے کا طریقہ سکھاتا ہے۔
سوال: آ ج کل کے مشینی دور میں کھلاڑیوں میں ممنوعہ ادویات کے استعمال کا رجحان بڑھ رہا ہے اس پر آپ کیا تبصرہ کریں گے؟
محمد علی : کھیل میں قوت بخش ادویات کا استعمال کسی صورت بھی درست نہیں ہے ایک سپورٹس مین ادویات کھاکر وقتی طور پر خود کو تو مضبوط بنا لیتا ہے لیکن اس کا نقصان اسے بعد میں ہوتا ہے اکثر کھلاڑیوں کے ممنوعہ ادویات کے استعمال سے گردے فیل ہو جاتے ہیں۔ معدہ میں السر ہو جاتا ہے اس کے علاوہ بھی کئی بیماریاں اس کو جکڑ لیتی ہیں لہٰذا کھلاڑیوں کو ادویات بالکل بھی استعمال نہیں کرنی چاہئیں۔
سوال: اگر آپ سے یہ کہا جائے کہ آپ ایمچر باکسنگ کو پسند کریں گے یا پروفیشنل کو ،تو پھر آپ کا انتخاب کیا ہو گا؟
محمد علی : ویسے تو دونوں یعنی ایمچر اور پروفیشنل باکسنگ اپنی اپنی جگہ بہت اچھی ہے لیکن میں پروفیشنل باکسنگ کو پسند کرتا ہوں کیونکہ لمبی فائٹ ہوتی ہے۔ اس میں 12تک راؤنڈ ہوتے ہیں بعد میں بریک بھی اچھی ملتی ہے پھر یہ کہ پروفیشنل باکسنگ میں پیسہ بھی زیادہ ہے۔ پرائز بھی زیادہ ہوتے ہیں۔میں نے جب باکسنگ کھیلنا شروع کی تھی تو ایمچر مقابلوں میں حصہ لیا کرتا تھا میں نے 35 ایمچر مقابلے لڑے جن میں سے 30 فائٹس میں فتح حاصل کی ۔
سوال:آپ پاکستان کی سپورٹس پر کیا تبصرہ کریں گے؟
محمد علی :ماضی میں پاکستان کے باکسرز، پہلوان، ویٹ لفٹرز، اتھلیٹ، مارشل آرٹس اور ہاکی سے وابستہ کھلاڑی انٹرنیشنل لیول پر میڈلز جیت کر پا کستان کا نام روشن کرتے تھے ۔لیکن آج صورتحال بالکل برعکس نظر آتی ہے جس کی بہت ساری وجوہات ہیں،پاکستان میں کھیلوں سمیت ہر شعبے میں ٹیلنٹ ہے جو حکومت ، میڈیا اور اسپانسرز شپ اداروں کی عدم توجہی کے باعث ضائع ہو رہا ہے۔نوجوان کھلاڑیوں کوکھیلوں میں اپنا مستقبل محفوظ نظر نہیں آرہا، مختلف ڈپارٹمنٹس نے اپنے کھیلوں کے شعبہ کو بند کر دیا ہے جس کی وجہ سے وہ نوجوان جوباکسنگ،والی بال، پہلوانی، ہاکی، فٹ بال،بیڈمنٹن، اتھلیٹکس ، ویٹ لفٹنگ سمیت دیگر کھیلوں کو کیریئر کے طور پر اپنانا چاہتے ہیں وہ اس طرف نہیں آرہے اس جدید دور میں نوجوانوں نے اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے اپنی ترجیحات تبدیل کر دی ہیں۔ پہلے نوجوان کھلاڑی میٹرک کرنے کے بعد کھیلوں کے ذریعے اپنا کیریئر بنانے کی جانب پوری توجہ دیتے تھے جبکہ ساتھ ساتھ پڑھائی بھی کرتے تھے لیکن اب نوجوان کھلاڑی پروفیشنل ایجوکیشن کو ترجیح دے رہے ہیں اب کھیل ان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ گراس روٹ پر ہونے کھیلوں کی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں پہلے پورے پاکستان میں باکسنگ ، ہاکی، پہلوانی، ویٹ لفٹنگ، فٹ بال، بیڈ منٹن سمیت دیگر کھیلوں کے کھلاڑیوں کی ایک بڑی تعداد ان کھیلوں میں پوری دلچسپی کا مظاہرہ کیا کرتی تھی۔ جس کی وجہ سے کوالٹی پلیئرز بھی زیادہ سے زیادہ سامنے آتے تھے۔ لیکن اب ایسا نہیں ہے جس کی وجہ سے گراس روٹ لیول پرخاص طور پر کلب کی سطح پر کھیلوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے جس سے کھیلوں کی نرسریاں تباہ ہو گئی ہیں ماضی میں جب پاکستان میں بڑی تعداد میں اداروں کی ٹیمیں تھیں تو کھلاڑیوں کو نوکریاں مل جاتی تھیں جبکہ اب ملک بھر میں نہ صرف گنتی کے ادارے ہیں جو کھیلوں کی برائے نام سرپرستی کرتے ہیں پہلے کھلاڑیوں کو مستقل بنیادوں پر نوکریاں دی جاتی تھیں جس سے کھلاڑیوں کے گھروں کا کچن چلتا تھا۔ ماضی میں ڈویژن کی سطح پر اچھی کارکردگی پیش کرنے والے کھلاڑیوں کو اچھی جاب مل جاتی تھی جبکہ آج حال یہ ہے کہ قومی ٹیم میں سلیکٹ ہونے والے اکثر کھلاڑیوں کو بھی کنفرم نوکریاں نہیں ملتیں پھر حکومت اور اسپانسرز شپ کرنے والے اداروں نے بھی کھیلوں کو نظر انداز کیاہواہے۔
سوال: آپ کے نزدیک پاکستان میں کھیلوں کو عروج پر پہنچانے کیلئے کن اقدامات کی ضرورت ہے؟
محمد علی : سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ کھلاڑیوں کو ملازمتیں ملنی چاہیں جب تک ملازمتیں نہیں ملیں گی مختلف ادارے اپنے ڈپارٹمنٹس میں مختلف کھیلوں کی ٹیمیں تشکیل نہیں دیں گے،پاکستان کی کھیلیں ترقی نہیں کرسکتی جبکہ سکول ،کالجوں اور یونیورسٹیز میں ایک مرتبہ پھر کھلاڑیوں کے ایڈمشنوں کے کوٹے کو بحال کرنا ہو گا یہ دو ایسے اقدامات ہیں کہ اگر ان پر توجہ دی جائے، حکومتی سطح پر احکامات کے ساتھ ساتھ ان پر عملدرآمد یقینی بنا دیا جائے تو بات آگے چل سکتی ہے یعنی پھر گراس روٹ لیول پر کھیلوں کے کلب خود بخود بحال ہوتے چلے جائیں گے۔کلب لیول پر کھیلوں کوچز اور کھلاڑیوں کو خوشحال بنا کر ہی پاکستان میں کھیلوں کو عروج دیا جا سکتا ہے اور حکومت کی خصوصی توجہ کے بغیر کسی بھی کھیل کو عروج دینا ممکن نہیں ہے۔
سوال: پاکستان میں کرکٹ کے کھیل کا جادو سر چڑھ کا بولتا ہے ان حالات میں کس طرح نوجوان نسل کو باکسنگ،فٹ بال، بیڈمنٹن، باسکٹ بال، ریسلنگ، ویٹ لفٹنگ، سمیت دیگر کھیلوں کی طرف راغب کیا جا سکتا ہے ؟
محمد علی : پاکستان میں کرکٹ کے علاوہ دیگر کھیلوں کے ساتھ شروع دن سے ہی اچھا سلوک نہیں کیا گیا۔ کسی بھی حکومت نے ان کھیلوں کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا نہیں کیا۔ حالانکہ ان کھیلو ں کو فروغ دے کر پاکستانی حکومت نوجوان نسل کو منشیات کی لعنت سمیت دیگر سماجی برائیوں سے بچا کر معاشرے کا اہم شہری بنا سکتی ہے۔ آپ نے بات کی ہے کرکٹ کے کھیل کی، تو کرکٹ کا کھیل دنیا کے چند ممالک میں کھیلا جاتا ہے جبکہ باکسنگ،،فٹ بال، ٹینس،ریسلنگ، ویٹ لفٹنگ، باسکٹ بال، بیڈ منٹن سمیت دیگر کھیل دنیا کے 150 سے زائد ممالک میں پروفیشنل بنیادوں پر کھیلے جاتے ہیں۔پاکستان کی نوجوان نسل کو منشیات کی لت میں مبتلا ہورہی ہے لہٰذا سپورٹس مین وزیر اعظم عمران خان کو چاہئے کہ وہ پاکستان کی نوجوان نسل کو منشیات سمیت دیگر سماجی برائیوں سے بچانے کیلئے کھیلوں کے میدان آباد کریں اور نوجوان نسل کو باکسنگ سمیت دیگر کھیلوں کی جانب راغب کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں، اس سلسلے میں ملک بھر میں سپورٹس کمپلیکس تعمیر کئے جائیں جبکہ سکول ،کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر مختلف اکیڈمیاں بنانے کی اشد ضرورت ہے ۔ اگر سپورٹس مین وزیر اعظم عمران خان کھیل کے میدانوں میں پاکستان کا پرچم بلند دیکھنا چاہتے ہیں تو پھر انہیں سپورٹس کے بنیادی انفرا سٹریکچر کی بحالی کیلئے عملی اقدامات کرنا ہوں گے، نوجوان کھلاڑیوں کو پروفیشنل کوچز کی زیرنگرانی جدید معیار کی سہولیات فراہم کرکے گروم کرنا ہوگااور کھلاڑیوں کو فکرمعاش سے آزاد کرنے کیلئے مختلف اداروں میں مستقل نوکریاں فراہم کرنا ہوں گی جبکہ بین الاقوامی مقابلوں میں میڈلز کے حصول کو یقینی بنانے کیلئے کھیلوں کے شعبے سے سیاسی مداخلت ، اقراباپروری اور پسند نا پسند جیسی قباحتوں کو ختم کرکے کھلاڑیوں کی سلیکشن صرف میرٹ پر کرنے کی روایت کو فروغ دینا ہوگا۔پاکستان میں کھیلوں کو کو گلیمر دینا ہو گا تاکہ نوجوان نسل اس کی طرف راغب ہوں۔ جب نوجوانوں کو ان کھیلوں میں اپنا مستقبل محفوظ نظر آئے گا۔ تو وہ ان کھیلوں کو اپنا پروفیشن بنائیں گے۔سپورٹس مین وزیر اعظم عمران خان کو پاکستان میں کھیلوں کا کلچر پیدا کرنے کیلئے اقدامات کرنے چاہیں ۔ جب کھیلوں کا کلچربن جائے گا تو نوجوانوں میں خودبخود ان کھیلوں کے کھیل کا جنون پیدا ہو جائے گا اور پھر اسپانسرز بھی خود بخود آگے آجائیں گے اور میڈیا بھی آجائے گا۔
سوال: عالمی سطح پر منعقد ہونے والے مقابلوں میں میڈلز کے حصول کیلئے پاکستان کو کیا منصوبہ بندی کرنی چاہیے؟
محمد علی : عالمی سطح پر کامیابی حاصل کرنے کیلئے سب سے اہم چیز انفراسٹرکچر ہوتا ہے کیونکہ جب تک کھلاڑیوں کو بہترین سہولیات فراہم نہ کی جائیں اس وقت تک کھلاڑی تسلسل کے ساتھ کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔ اس سلسلے میں سپورٹس مین وزیر اعظم عمارن خان کو چاہیے کہ وہ ملک بھر میں موجود کھیلوں کے انفراسٹرکچر کو فعال بنانے کے ساتھ ساتھ نئے اسٹیڈیم تعمیر کرائیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر زیادہ سے زیادہ میڈلز کے حصول کیلئے ملک بھر میں کھلاڑیوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ٹیمیں تشکیل دی جائیں جو کہ ملک کے کونے کونے سے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کے تحت مختلف کھیلوں کے باصلاحیت نوجوان کھلاڑی تلاش کریں اگر 22 کروڑ کی آبادی میں سے 12 کروڑ نوجوان ہیں تو ان میں سے 5کروڑ نوجوان کھیلوں کی طرف راغب ہوں،اس کے علاوہ کھلاڑیوں کے لیے اتنے وسائل پیدا کئے جائیں گے کہ وہ تمام قسم کے خدشات کو ذہنوں سے نکال کر تمام تر توجہ کھیل پر مرکوز رکھیں ایک بات طے ہے جب کھلاڑی مالی طور پر خوشحال ہو گا تو اس کی کارکردگی میں خودبخود بہتری آتی جائے گی، کھلاڑیوں کو تلاش کرنے اور ان کے لیے وسائل پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ سب سے اہم چیز ان کی تربیت کیلئے کوچز ہوں گے اتنے بڑے پیمانے پر کام کرنے کیلئے بڑی تعدادد میں کوچز کی بھی ضرورت ہو گی اس سلسلے میں کوچز کو ملک اور بیرون ملک ٹریننگ کروانے کے ساتھ ساتھ کوچز کو جدید کورسز کروانے کے علاوہ ایک سینٹر آف ایکسی لینس بنائیں ۔جہاں پر نہ صرف یہ کہ مقامی بلکہ بین الاقوامی کوچز بھی ٹریننگ کیلئے آئیں اس کے ساتھ ساتھ سابق کھلاڑیوں، مارکیٹنگ کے ماہرین اور کھیلوں کی کوریج کرنے والے بہترین رپورٹرز پر مشتمل ایک خود مختار اور غیر جانبدار ٹیم بنائی جائے جو کہ تمام معاملات کا جائزہ لے کر
خامیوں اور خوبیوں کے بارے میں آگاہ کرنے کے ساتھ پاکستان سپورٹس بورڈ مزید بہتری کے حوالے سے تجاویز بھی دے علاوہ ازیں ہم ملک کی تمام اہم فیڈریشنز کے ساتھ بیٹھ کر مستقبل میں اولمپکس، ایشین گیمز، کامن ویلتھ گیمز اور ساؤتھ ایشین گیمز میں میڈل حاصل کرنے کے بارے میں حکمت عملی تیارکی جائے۔ مختلف کھیلوں میں میڈل حاصل کرنے کی خاطر فیڈریشنز کو دنیا بھر کی اولمپکس ایسوسی ایشنز کی طرح پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن مکمل تعاون فراہم کرے اور قوم کو کسی بھی ایونٹ سے قبل پوری طرح آگاہ کیا جائے گا کہ اس ایونٹ میں کون کون سی فیڈریشن میڈل حاصل کرے گی اولین کوشش یہ ہونی چاہیے کہ اولمپکس اور ایشین گیمز جیسے میگا ایونٹس میں وائلڈ کارڈ انٹری کی بجائے براہِ راست کوالیفائی کیا جائے۔پاکستان میں مختلف فیڈریشنز کی کارکردگی کے حوالے سے ان کی حوصلہ افزائی بھی کی جائے ۔ جن کھیلوں میں جلد میڈل آنے کی امید ہے ان پر زیادہ توجہ دی جائے اور دیگر کھیلوں کا معیار بلند کرنے کیلئے مرحلہ وار کام کیا جائے۔
سوال: پاکستان میں مختلف کھیلوں کو گراس روٹ لیول پر سے فروغ دینے کیلئے آپ حکومت کو کیا تجاویز دیں گے؟
محمد علی : مختلف کھیلوں کو گراس روٹ لیول سے فروغ دینے کیلئے سب سے پہلے تو کوچز کے علم کو اپ گریڈ کیا جائے ان کو بیرون ملک ہونے والے کوچنگ کے کورس کرائیں جائیں تاکہ وہ جدید معیار کی کوچنگ سے آشنا ہوسکیں۔اس حوالے سے میں سمجھتا ہوں کہ کلب لیول کے کوچز کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے کیونکہ کسی بھی پلیئر کو بنانے میں سب سے اہم ترین کردار اسی کوچ کا ہوتا ہے۔ جو نرسری پیدا کرتے ہیں مختلف کھیلوں کی نیشنل چمپئن شپ میں گولڈ میڈلز جیتنے والے کھلاڑیوں کے کلب لیول کے کوچز کو بھی انعامات سے نوازا جائے اور ان کو بیرون ملک منعقد ہونے والے کوچنگ کورس کرائیں جائیں۔ اگر کلب لیول پر کوچز کی حوصلہ افزائی ہو گی تو وہ زیادہ محنت اور لگن سے کام کریں گے۔ جب وہ گراس روٹ لیول پر انتھک محنت کریں گے تو پاکستان کو عالمی معیار کے کھلاڑی ملیں گے جو اپنے شاندار کھیل کی بدولت عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کریں گے۔
سوال: آپ کے خیال میں پاکستان میں کھیلوں کو سب سے زیادہ نقصان کن چیزوں نے پہنچایا ہے؟
محمد علی : دہشت گردی اور کرپشن نے پاکستان کی کھیلوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔دہشت گردی کی کارروائیوں نے کھیلوں کے میدان ویران کئے اور کرپشن کی دیمک نے ملکی کھیلوں کی بنیادیں کھوکھلی کر دی ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کی پارلیمنٹ نے ایک نیشنل سپورٹس پالیسی کی منظوری دی تھی ۔اس سپورٹس پالیسی پر عملدرآمد نہ ہونے سے بھی کھیلوں کو نقصان ہوا۔پھر مختلف کھیلوں کی متوازی فیڈریشنیں بننے سے بھی پاکستان کی کھیلوں کو نقصان پہنچا، اس کے علاوہ نان پروفیشنل لوگوں کا مختلف فیڈریشنوں کے عہدوں پر براجمان ہونے کی وجہ سے بھی پاکستان میں کھیل ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکے۔
سوال: کچھ لوگ کہتے ہیں پاکستان کھیلوں کیلئے محفوظ ملک نہیں، آپ اس تاثر کو کس نظر سے دیکھتے ہیں،آپ نے پاکستان کا دورہ کیا ہے ،یہ بتائیں آپ کویہاں سکیورٹی کے حوالے سے کوئی مشکلات تو پیش نہیں آئیں؟
محمد علی : دہشت گردی نے پاکستانی کھیلوں کے میدان ویران کئے ہیں لیکن پاکستان کے تحفظ کیلئے پاک فوج کے بہادر سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ کی پرُ عزم اور ولولہ انگیز قیادت میں ایمان، تقوی اور جہاد فی سبیل اللہ کے سلوگن کے سائے تلے ملکی سلامتی کی جنگ لڑنے میں مصروف ہیں،ِ ِآپریشن ضرب عضب کے بعد آپریشن ردالفساد کے ذریعے پاک فوج ملک بھر سے دہشت گردی، انتہا پسندی اور پاکستان کے مستقبل کو روشن بنانے کیلئے جنگ لڑ رہی ہے، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجو کی قیادت میں کامیابی کے ساتھ جاری آپریشن ردالفساد کے ذریعے پاکستان میں امن کا سورج طلوع ہو ر ہا ہے ۔پاکستان کے تحفظ کیلئے پاک فوج، رینجرز، ایف سی اور پولیس کے جوانوں نے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ دے کر پاکستان کی سلامتی کی آبیاری اپنے خون سے کر چکے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاک فوج کی کاوشوں کی بدولت جلد ہی پاکستان امن کا گہوارہ بن جائے گا۔ افواج پاکستان کی بے پناہ قربانیوں کی بدولت پاکستان میں امن کا سورج طلوع ہو رہا ہے لہٰذا غیر ملکی کھلاڑیوں پاکستان آ کر کھیلنا چاہیے ،دہشت گردی اور انتہا پسندی کو جڑ سے اُکھاڑنے کیلئے ضروری ہے کے پاکستانی حکومت جہالت ،غربت اور بے روزگاری ختم کرنے کیلئے عملی اقدامات کرے اور نوجوان نسل کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ باکسنگ سمیت دیگر کھیلوں کو فروغ دیا جائے ۔
سوال : پاکستانی سپورٹس کو بہتر بنانے کیلئے آپ کیا تجاویز دیں گے؟
محمد علی : پاکستان کے کھلاڑی باصلاحیت ضرور ہیں مگر اچھے اتھلیٹ نہیں ہیں۔ترقی یافتہ ملکوں کے پلیئرز کی فٹنس کا معیار کئی گنا بہتر ہوتا ہے کھلاڑی سپر فٹ نہ ہوں تو مضبوط ٹیموں کی تشکیل کا خواب دیکھنا فضول ہو گا۔ سکول اورکالج کی سطح پر سپورٹس کلچر کو فروغ دینا ہو گا نوجوان جسمانی طور پر مضبوط اور ان کے اعصاب مشقت کے عادی ہوں گے تو ہر کھیل میں اپنا لوہا منوائیں گے۔ باکسنگ ،ہاکی، فٹبال، سکواش، ٹینس سمیت مختلف کھیل ایک اچھے اتھلیٹ کو مطلوبہ فٹنس کے قریب لے جاتے ہیں اوائل عمری میں جسم کو سخت مقابلوں میں پرفارم کرنے کے قابل بنا لیا جائے تو انٹرنیشنل سطح پر بڑی کامیابیاں سمیٹی جا سکتی ہیں ۔
سوال :آپ پاکستانی سپورٹس مین کو کیا پیغام دیں گے؟
محمد علی :میں پاکستانی سپورٹس مین کو یہی پیغام دوں گا کہ ہمیشہ سخت محنت کریں کیونکہ محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔میری پاکستانی سپورٹس مین کو یہی نصیحت کروں گا کہ وہ اپنے والدین ، بہن، بھائیوں، اساتذہ، کوچز اور سینئرز کی عزت کریں کھیل کے ساتھ ساتھ تعلیم پر بھی توجہ دیں تاکہ اگر آپ کھیل میں کامیاب نہ ہو سکیں تو تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے کسی اچھی جگہ نوکری حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ نوجوان نسل قومی تعمیر و ترقی میں فعال کردار ادا کرتی ہے لہٰذا اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ کھیلوں میں بھی بھرپور حصہ لے۔ کھیل نوجوانوں میں نظم و ضبط اور قائدانہ صلاحیتیں پیدا کرتے ہیں۔ نوجوان نسل پوری ایمانداری اور دیانتداری کے ساتھ خواہ وہ کسی بھی شعبے میں ہوں اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھائیں اور ملک کی تعمیر و ترقی کے عمل میں اپنا کردار ادا کریں۔ پاکستان کو ترقی یافتہ اور مہذب بنانے کے لیے تعلیمی میدانوں میں کامیابیاں حاصل کرنا بہت ضروری ہے لہٰذا میں نوجوان نسل سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنی تمام تر توانائیاں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے صرف کریں۔ سکولوں میں پڑھائی کے ساتھ ساتھ کھیلوں کو انسانی سرگرمیوں کا حصہ بنانے سے طالب علموں کی ذہنی استعداد اور صلاحیتوں میں بے پناہ اضافہ کیا جا سکتا ہے اور اس سے طالب علموں کی جسمانی کارکردگی میں بھی نکھار آجاتا ہے۔ پڑھائی کے ساتھ کھیلوں کو زندگی کا حصہ بنا کر کئی مسائل اور بیماریوں پر قابو پایا جا سکتا ہے اور صحت مند زندگی گزارنے کی کامیاب کوشش کی جا سکتی ہے۔میرا نوجوان باکسرز سمیت دیگر کھیلوں سے وابستہ کھلاڑیوں کو یہی پیغام ہے کہ سب سے پہلے تو وہ اپنی تعلیم مکمل کریں۔ اس کے بعد اپنی بھرپور توجہ کھیل پر دیں آگے بڑھنے کیلئے شارٹ کٹ کے بجائے محنت کو شعار بنائیں۔ کامیابی کی اصل کنجی کھیل سے جنون کی حد تک محبت ، لگن اور انتھک محنت ہے۔ اپنا ایک مقصد بنا کر اس پر ڈٹ جائیں اور خوب سے خوب تر کی تلاش میں سرگرداں رہیں۔ کامیابی حاصل کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ پر کامل یقین رکھیں اور اپنی صلاحیتوں پر مکمل بھروسہ کریں۔ ہمیشہ سچ بولیں۔ یہ بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ محنت کا پھل ضرور دیتا ہے۔
سوال: آپ پاکستان کی عوام کو کیا پیغام دیں گے؟
محمد علی : سخت محنت، صاحب کردار ہونا اور نظم و ضبط، کامیاب زندگی کے یہ تین اصول ہیں، زندگی میں شکست عارضی ہوتی ہے، فتح منزل کے حصول کا دوسرا نام ہے پاکستان کے عوام میں پوٹینشل موجود ہے صرف مخلص، ایماندار، اور خوف خدا رکھنے والی قیادت کی ضرورت ہے جو اس ملک کو ترقی و خوشحالی کی منزل تک پہنچا سکتی ہے۔میں پاکستان کی عوام کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ وہ مثبت اور تعمیری سوچ کے ساتھ ملک کے وسیع ترمفاد میں پاکستان کی مضبوطی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ اسلام امن رواداری اور انسانیت کا مذہب ہے ہمارے دین کے روشن خیال اقدار کی اساس قرآن کے احکامات اور ہمارے بزرگوں کی شاندار روایات ہیں جوامن و آشتی اور اعتدال پسندی کو فروغ دیتی ہیں عوام یہ عزم کریں کہ وہ روشن خیال اور میانہ روی کا راستہ اختیار کریں گے اور اقوام عالم اور مختلف تہذیبوں اور تقافتوں کے درمیان باہمی مفاہمت اور احترام کو فروغ دیں گے کیونکہ پاکستانی امن پسندقوم ہیں۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •