Voice of Asia News

میانمار سے روہنگیا مسلمانوں پر ظلم و ستم جاری، گھر بار چھوڑنے پر مجبور

نیویارک(وائس آف ایشیا)اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان فرحان حق نے تحریری اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج آرخائن فوج اور سیکورٹی فورسز کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کی وجہ سے 4 ہزار 5 سو سے زاہد افراد اپنا گھر بارترک کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔اقوام متحدہ نے اطلاع دی ہے کہ میانمار کے صوبے آرخائن میں سیکورٹی فورسز اور ” آرخائن فوج ” کے نام سے منسوب گروپوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں ایک روز میں 4 ہزار 5 سو افراد اپنا گھر بار ترک کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان فرحان حق نے تحریری اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج آرخائن فوج اور سیکورٹی فورسز کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کی وجہ سے 4 ہزار 5 سو سے زاہد افراد اپنا گھر بارترک کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ باتھیڈاؤنگ شہر میں چار جنوری کو پولیس چیک پوسٹ پر ہونے والے حالیہ حملوں کی وجہ سے علاقے میں جھڑپیں شروع ہوئی جس کے نتیجے میں سینکڑوں افراد اس شہر سے دیگر علاقوں کی جانب نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق کوارڈینیٹر کونٹ اوسٹ بائی نے کہا ہے کہ آرخائن اور شمال کی جانب کے مختلف علاقوں میں ہونے والے تشدد کے واقعات جس میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے کو بڑا دکھ پہنچا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق 25 اگست 2017 سے آرخائن سے فرار ہوکر بنگلہ دیش پناہ لینے والے پناہ گزینوں کی تعداد 7 لاکھ 20 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق سے متعلق اداروں کی جانب سے جاری کردہ سیٹلائٹ کی تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ سینکڑوں دیہات صفحہ ہستی سے مٹا دیے گئے ہیں۔انسانی حقوق سے متعلق تنظیم نے آرخائن میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کے ان واقعات کو ” نسل کشی ” قرار دیا ہے۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے