Voice of Asia News

جیل میں انہیں جو چیزیں قانون کے مطابق ملنی چاہیں وہ نہیں مل رہیں،نواز شریف

لاہور ( وائس آف ایشیا) سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ جیل میں انہیں جو چیزیں قانون کے مطابق ملنی چاہیں وہ نہیں مل رہیں۔روزانہ صرف ایک اخبار دیا جاتا ہے جسے وہ بار ، بار پڑھتے رہتے ہیں۔ باتیں کرنے والے بتائیں کہاں ہے این آر او ۔ جبکہ نواز شریف نے شکوہ کیا ہے کہ ان کے سیل میں ٹی وی بھی فراہم نہیں کیا گیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق ان خیالات کا اظہار نواز شریف نے جمعرات کے روز کوٹ لکھپت جیل میں ملاقات کے لیئے آنے والے (ن) لیگی رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ ایک ہی اخبار کو میں اتنی دفعہ پڑھتا ہوں کہ مجھے اخبار کے اداریے بھی یاد ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ (ن) لیگ کے دور میں جو منصوبے شروع کیے گئے تھے ان کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور فرداً، فرداً ان منصوبوں کو بند کیا جا رہا ہے۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ جب میں جیل کے اندر آیا تو لوگ این آر او کی باتیں کر رہے تھے کہ این آر او آ رہا ہے ، این آر او آ رہا ہے تو میں ان لوگوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ این آر او کہاں پر ہے ،میں نے تو کوئی این آر او نہیں مانگا۔ ایک لیگی رہنما کے سوال پر نواز شریف کا کہنا تھا کہ بیگم کلثوم نواز انہیں بہت یاد آتی ہیں وہ میری شریک حیات رہی ہیں ان کی یاد مجھے سب سے زیادہ آتی ہے۔ واضح رہے جن (ن) لیگی رہنماؤں اور اہلخانہ کے افراد نے جمعرات کے روز نواز شریف سے ملاقات کی ان میں نواز شریف کی والدہ بیگم شمیم اختر، مریم نواز شریف، حمزہ شہباز شریف، شاہد خاقان عباسی، خواجہ محمد آصف، چوہدری احسن اقبال، رانا تنویر حسین، رانا ثنا اللہ خان،سینیٹر مشاہد اللہ خان ، مریم اورنگزیب، عظمیٰ بخاری، جنید صفدر اور دیگر شامل ہیں۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے