Voice of Asia News

2018میں پیلٹ گولیاں لگنے سے 5افراد کی دونوں آنکھوں کی بینائی متاثر ہوئی

سری نگر( وائس آف ایشیا)سال 2018میں پیلٹ گولیاں لگنے سے19ماہ کی بچی سمیت 363افراد جزوی طور پر بینائی سے محروم ہوئے جب کہ 5افراد کی دونوں آنکھوں کی بینائی پیلٹ گولیاں لگنے سے متاثر ہوئی ، سال 2016میں 1500افراد پیلٹ گولیاں لگنے سے آنکھوں کی بینائی سے ہاتھ دھو بیٹھے، یہ وہ ریکارڈ ہے جو ہسپتال علاج ومعالجے کے لئے پہنچادئے گئے، ایسے افراد کی تعداد اسے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔ صدر ہسپتال ریکارڈ کے مطابق سال 2018میں 19ماہ کی جنوبی کشمیر کے پہاڑی ضلع شوپیاں سے تعلق رکھنے والی 19ماہ کی حبا جان سمیت 363افراد پولیس وفورسز کی جانب سے پیلٹ گولیاں استعمال کرنے کے دوران آنکھوں کی بینائی سے جزوی یا مکمل طور محروم ہوئے۔ فروری 2018میں سب سے کم تعداد 2تھی جو پیلٹ گولیاں لگنے سے متاثر ہوئے تھے، اپریل 2018میں ایسے افراد کی تعداد 70تھی جن کی آنکھوں میں پیلٹ گولیاں پیوست ہوگئیں تھی اور ان کی بینائی متاثر ہوئی۔ مئی ، اکتوبر اور نومبر کے 3ماہ کے دوران پیلٹ گولیاں لگنے سے بلترتیب 54,44,30افراد پیلٹ گولیاں لگنے سے ان کی آنکھوں کی بینائی متاثر ہوئی ، 2018میں 5ایسے افراد بھی ہسپتال لائے گئے جن کی دونوں آنکھوں کی بینائی پیلٹ گولیاں لگنے سے چلی گئی جب کہ 14سالہ لڑکا بھی ایسے افراد میں شامل تھا، 2018کی عید الفطر کے موقعے پر 11افراد کی آنکھوں میں پیلٹ گولیاں پیوست ہوئی جب کہ شیل لگنے سے ایک نوجوان کا دماغ بھی متاثر ہوا، 2019کے 10دنوں کے دوران 7افراد پیلٹ گولیاں لگنے سے متاثر ہوئے ۔ ترال میں پولیس وفورسز نے پیلٹ گولیاں استعمال کرنے کے دوران دو افراد کو نشانہ بنا کر انہیں آنکھوں کی بینائی سے محروم کردیا۔ گذشتہ دنوں مرکزی وزارت داخلہ نے احتجاجی مظاہروں کو تتر بتر کرنے اور تشدد کو روکنے کیلئے پیلٹ گولیوں کے بجائے ، ربر گولیاں استعمال کرنے کے احکامات صادر کئے تھے تاہم اس کے باوجود جنوبی کشمیر میں احتجاجی مظاہروں کے دوران پیلٹ گولیاں فورسز کی جانب سے استعمال کی جارہی ہیں۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے