پلوامہ کا شہید نوجوان سپرد خاک ،وادی میں احتجاج اور مظاہرے ، جھڑپوں میں کئی زخمی

سرینگر( وائس آف ایشیا ) مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں گزشتہ روز مظاہرین پر بھارتی فوج کی فائرنگ سے شہید ہونے والے نوجوان کو ہزاروں سوگواران کی موجودگی میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے جبکہ وادی میں احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے،بھارتی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں ۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز بھارتی فوج نے پلوامہ میں گھر گھر تلاشی کیلئے کارروائیوں کا آغاز تو اس دوران لتر کے علاقے چوہدری باغ میں لوگوں نے بھارتی مظالم کیخلاف احتجاج کیا۔اس دوران بھارتی فوج نے مظاہرین پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں ایک نوجوان موقع پر شہید ہوا جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔شہید ہونے والے نوجوان شناخت عرفان احمد راتھر کے نام سے ہوئی ہے جو گاؤں راجپورہ کا رہائشی تھا۔نوجوان کی لاش پہلے ہسپتال منتقل کی گئی جہاں سے ضروری کارروائی کے بعد میت کو گھر منتقل کیا گیا۔میت گھر پہنچنے پر کہرام مچ گیا۔اس دوران لوگوں نے بھارتی فوج کیخلاف شدید احتجاج کیا۔جمعہ کو شہید نوجوان کی گاؤں راجپورہ میں ہزاروں سوگواران کی موجودگی میں تدفین کی گئی۔شہید کی نماز جنازہ میں قرب و جوار کے دیہاتوں سے لوگوں نے شرکت کی ۔تدفین کے بعد لوگوں نے ایک بار پھر احتجاج کیا اور بھارتی اہلکاروں پر پتھراؤ کیا جس کے جواب میں لوگوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔وادی کے مختلف علاقوں میں شہری ہلاکتوں کیخلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔اس دوران پلوامہ ،ترال ،شوپیاں،سرینگر اور بارہمولہ سمیت کئی علاقوں میں مظاہرین اور فورسز کے درمیان جھڑپوں میں کئی افراد زخمی ہو ئے ۔اس دوران تعزیتی ہڑتال کے باعث کاروباری مراکز اور تجارتی ادارے بند رہے جبکہ انٹر نیٹ اور موبائل سروس بدستورمعطل رہی ۔گزشتہ روز بھارتی فوج کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے کئی مظاہرین بدستور زیر علاج ہیں ۔دریں اثناء شوپیان میں شبانہ چھاپوں کے دوران 5نوجوانوان کو گرفتارکیا گیا،تاہم بعد میں ایک کو چھوڑ دیا گیا۔ادھر پلوامہ اور بانڈی پورہ کے کئی دیہات میں گھر گھر تلاشی کارروائیاں انجام دی گئیں۔فوج ،سی آر پی ایف اور ایس او جی شوپیان نے 9اور10 جنوری کی درمیانی رات کنجلورہ گاؤں میں چھاپوں کے دوران5نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے تاہم بعد ایک نوجوان کورہا کیا گیا۔ گرفتار نوجوانوں کی شناخت محسن رشید ولد عبد الرشید لون ،فاروق احمد ولد محمد ایوب بٹ ،شوکت احمد ولد عبد الخالق ٹھوکر اور آزاد احمد لٹو شامل ہیں ۔ان نوجوانوں پر پتھربازی کا الزام ہے۔ شوپیان کے ہنڈ یو علاقے کو فورسز نے کئی گھنٹوں تک محاصرے میں لیا ۔اس دوران یہاں بھی کوئی قابل اعتراض چیز برآمد ہونے کے بعدمحاصرہ اٹھالیاگیا۔ادھر فورسز نے پلوامہ کے گوسو علاقے میں جنگجوؤں کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر کریک ڈاؤن کیا۔ 55آر آر،سی آر پی ایف اور ایس او جی نے گوسومیں ایک فارم کا محاصرہ کیا ۔تاہم تلاشی کارروائیوں کے دوران کوئی بھی قابل اعتراض چیز برآمد نہیں ہوئی۔ادھربانڈی پورہ کی ایک بستی کا محاصرہ کر کے گھر گھر تلاشی لی گئی۔کلہامہ ماہی گیر بستی کا فوج اور ایس او جی نے محاصرہ کر کے گھر گھر تلاشی لی لیکن یہاں انہیں کچھ نہیں ملا ۔کلہامہ ماہی گیر بستی جھیل ولر کے کنارے آباد ہے ۔ 14 آر آر اور ایس او جی کو یہاں جنگجوؤں کی موجودگی کی اطلاع دی گئی تھی جو غلط ثابت ہوئی۔تاہم تلاشی کے دوران گھریلو اشیا کوتہس نہس کرنے کے علاوہ مکینوں کو ہراساں کیا گیا۔ادھر ہال پلوامہ میں شام دیر گئے ایک پر اسرار دھماکہ کے بعد فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں۔ ادھر اونتی پورہ میں ایک بنک محافظ نے مشتبہ حرکات دیکھ کر فائرنگ کی۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ شام کے وقت قریب ساڑھے سات بجے انہوں نے ایک دھماکہ کی آواز سنی جس کے بعد دو تین فائر کئے گئے۔تاہم ایس پی شوپیان نے کہا کہ ایسا کوئی واقعہ ہال میں پیش نہیں آیا۔ادھر ایس پی اونتی پورہ زاید ملک نے کہا کہ نور پورہ ترال میں جموں و کشمیر بینک شاخ کی حفاظت پر مامور ایک محافظ نے مشتبہ حرکت دیکھ کر ہوا میں کچھ راؤنڈ فائر کئے، تاہم کوئی نقصان نہیں ہوا۔