Voice of Asia News

ایران اور یورپ کے درمیان جوہری سمجھوتہ ٹوٹنے کی متضاد اطلاعات

تہران( وائس آف ایشیا)ایرانی ذرائع ابلاغ میں آنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ یورپی ملکوں اور ایران کے درمیان تہران کے جوہری پروگرام پرطے پایا سمجھوتہ ٹوٹنے کے قریب پہنچ گیا ہے۔ دوسری جانب ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف کے استعفے کے افواہیں بھی گردش کررہی ہیں۔ایران کے ایک کثیرالاشاعت فارسی اخبار”مستقل”نے اپنی رپورٹ میں قومی سلامتی کمیٹی کے ایک با خبر ذریعے کے حوالے سے بتایا سنہ 2015 کے دوران مغرب اور تہران کیدرمیان جس معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے ایران اس سے نکلنے کا فیصلہ کرچکا ہے۔ذرائع کے مطابق ایرانی سپریم قومی سلامتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ امریکا اس معاہدے سے الگ ہوگیا اور اس میں شامل بعض دوسرے ممالک بھی اس کی شرائط کی پاسداری نہیں کرسکے ہیں۔ یورپی ممالک کی طرف سے بھی امریکا کی ایران پر عاید کردہ پابندیوں کی حمایت کی جانے لگی ہے۔ اس لیے ایران اپنے جوہری مفادات کے تحفظ اورملک وقوم کے وسیع تر مفاد میں اس سمجھوتے سے الگ ہو رہا ہے۔اخباری رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران کی جوہری توانائی ایجنسی نے سمجھوتے سے قبل والی پوزیشن پر واپس جانے اور جوہری ہتھیاروں کے حصول کے لیے دوبارہ کام شروع کرنے کی تیاری کررہا ہے۔ادھر حکومت کی مقرب ویب سائیٹ”انتخاب” نے جوہری معاہدے سے علیحدگی اور وزیر خارجہ جواد ظریف کے استعفے کی افواہوں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ویب سائیٹ نے حکومتی ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ جواد ظریف کیوزارت خارجہ کے عہدے سے استعفے اور ایران کے جوہری معاہدے سے الگ ہونے کی تمام خبریں بے بنیاد ہیں اور دشمن کی طرف سے منفی پروپیگنڈے کا حصہ ہیں۔ ایران میں ان متضاد اطلاعات پر سرکاری سطح پر تا حال کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے