Voice of Asia News

سعودی عرب: جزیر العرب میں پہلے فرعونی آثار قدیمہ دریافت

ریاض( وائس آف ایشیا)سعودی عرب کی تیما گورنری کو مملکت کے تاریخی اور آثار قدیمہ کے اعتبار سے انتہائی اہمیت کے حامل مقامات قرار دیا جاتا ہے۔ حال ہی میں مقام کی اہمیت اس وقت اور بھی دو چند ہوگئی جب ماہرین آثار قدیمہ نے اس علاقے میں مصری فراعنہ کےآثار قدیمہ دریافت کیے۔ ماہرین آثار قدیمہ کو تیما میں کھدائی کے دوران "حیرو گلیفی” کا ایک نسخہ ملا ہے جس پر فرعونی بادشاہ "رمسیس سوم” کی مہر ثبت ہے۔ ماہرین آثار قدیمہ کو الزیدانیہ کے مقام سے کھدائی کے دوران ایک پتھر ملا جس پر "حیر گلیفی” نقوش میں "رمسیس سوم” کی مہر بھی لگی ہے۔ یہ فرعونی بادشاہ بارہ سو قبل مسیح گذرا ہے۔تیما میں آثاریات کے ڈائریکٹر محمد النجم نے بتایا کہ اس طرح کے نقوش صرف فرعون کے زمانے میں پائے جاتے تھے۔ یہاں سے ایسی نوادرات کا ملنا اس بات کا ثبوت ہیکہ فرعونی بادشاہ اس علاقے میں بھی آیا ہوگا۔تاہم بعض ماہرین نے جزیر العرب کے شمال مغرب میں "رمسیس سوم” کی موجودگی پر شک کا بھی اظہار کیا ہے۔ تیما سے فرعونی آثار قدیمہ سے قبل یہاں سے آرامی، ثمودی اور نبطی اقوام کے آثار قدیمہ بھی دریافت چکے ہیں۔ یہاں پر بعض جانوروں بالخصوص گائے اونٹ اور لومڑی کے پتھروں پر بنے خاکے بھی ملے ہیں۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے