Voice of Asia News

مودی سرکار نے انتہاپسند ہندؤوں کے ووٹ لینے کیلئے مقبوضہ کشمیر میں مظالم

اسلام آباد( وائس آف ایشیا)آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم و پی ٹی آئی کشمیر کے صدربیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں نہ صرف مظالم میں بے انتہاء اضافہ ہورہا ہے بلکہ سیئز فائر لائن پر بھی بھارت آئے روزخلاف ورزیاں کر رہا ہے۔ وادیء نیلم میں بھی بھارت فائرنگ کرکے آبادی کو نشانہ بنا رہا ہے جس سے معصوم لوگ شہید اور زخمی ہورہے ہیں۔لہذا عالمی برادری اسکا نوٹس لے بالخصوص برطانیہ کی یہ دوہری ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس کا نوٹس لے کیونکہ مسئلہ کشمیر اسوقت پیدا ہو جب برطانیہ اپنے دو سو سالہ اقتدار کے خاتمے پر برصغیر سے گیا۔ جبکہ برطانیہ کا انسانی حقوق کی پامالی پر بھی اپنا ایک موقف ہے اور وہ گاہے بہ گاہے دنیا میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر آواز اٹھاتا رہتا ہے۔پاکستان اور بھارت کے وزرائے خارجہ کی ملاقات شیڈول ہوئی لیکن بھارت اس سے پیچھے ہٹ گیا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت نہ تو مذاکرات میں سنجیدہ ہے اور نہ ہی مخلص۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے آج یہاں اسلام آباد میں اپنی رہائشگاہ پر برطانوی ہائی کمشن کے ایک وفد سے ملاقات کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ملاقات میں برطانوی ہائی کمشن کے پولیٹیکل قونصلر ولیم مڈلٹن( William Middleton) اور کیرون میلون(Ciaron Malone) تھے ۔بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے وفد کو مزید بتایا کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی انسانی حقوق کی پامالی ہوئی برطانیہ نے اس پر آواز اٹھائی۔ خود برطانوی پارلیمنٹ نے اپنی رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم پر نوٹس لیتے ہوئے وہاں تحقیقاتی کمشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے ۔جبکہ اس سے قبل اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشن کی رپورٹ بھی مقبوضہ کشمیر میں مظالم پر سامنے آچکی ہے اور یہ انٹرنیشنل کمیونٹی کے سامنے پہلا بڑا ثبوت سامنے ہے۔جبکہ کچھ روز قبل ناروے کی وزیر اعظم نے بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی ہے۔بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ریاستی و جمہوری تحریک کی وجہ سے دنیا کی توجہ مسئلہ کشمیر پر مبذول ہو چکی ہے بلکہ مودی سرکار نے بھارت کے انتخابات میں انتہاء پسند ہندؤوں کے ووٹ لینے کے لئے مقبوضہ کشمیر میں مظالم میں اضافہ کر دیا ہے۔ لہذا برطانیہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے