Voice of Asia News

طالبان سے مذاکرات ہوسکتے ہیں،کشمیریوں سے نہیں،بھارتی آرمی چیف

نئی دہلی(وائس آف ایشیا )بھارتی آرمی چیف بپن راوت نے دوغلے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہاہے کہ طالبان سے مذاکرات ہوسکتے ہیں لیکن کشمیریوں سے نہیں، ہم نے تو چینی فوج کو بھی بھنگڑا کر وادیا،ہتھیار اور مذاکرت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، مقبوضہ کشمیر میں مذاکرات صرف ہماری شرائط پر ہی ہوں گے، ہر جگہ کے لیے الگ پالیسی ہوتی ہے اور ہر جگہ ایک ہی پالیسی نہیں چلائی جاسکتی۔بھارتی میڈیا کے مطابق ایک پریس کانفرنس میں بھارتی آرمی چیف بپن راوت نے کہا کہ جب پاکستان، امریکا، روس اور چین طالبان سے بات چیت میں مصروف ہیں۔ افغانستان میں بھارت کے مفادات ہیں تو دیگر ممالک کی طرح بھارت کو بھی طالبان سے مذاکرات کرنے چاہیے۔انہوں نے کشمیر پر موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ ہتھیار اور مذاکرت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، مقبوضہ کشمیر میں مذاکرات صرف ہماری شرائط پر ہی ہوں گے، ہر جگہ کے لیے الگ پالیسی ہوتی ہے اور ہر جگہ ایک ہی پالیسی نہیں چلائی جاسکتی۔چینی اور بھارتی افواج کے دوستانہ تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے تو چینی فوج کو بھی بھنگڑا کر وادیا۔واضح رہے چین اور بھارت کی 14روزہ فوجی مشقیں گزشتہ سال 10دسمبر کو ، وزیراعظم نریندرمودی اور چینی صدر شی جن پھنگ کے درمیان چینی شہر ووہان میں ملاقات کے بعد منعقد کی گئیں، ان مشقوں کو ہاتھ میں ہاتھ 2018 کا نام دیا گیا تھا۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے