Voice of Asia News

سپریم کورٹ کا اصغرخان عملدرآمد کیس بند نہ کرنے کا فیصلہ، ایف آئی اے اور سیکرٹری دفاع طلب

اسلام آباد( وائس آف ایشیا) سپریم کورٹ آف پاکستان نے اصغر خان عملدرآمد کیس بند نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)اور سیکریٹری دفاع سے جواب طلب کرلیا۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بینچ نے اصغر خان عملدرآمد کیس کی سماعت کی۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایف آئی اے نے کیس کی فائل بند کرنے کی استدعا کی ہے لیکن ہم کیسے عدالتی حکم کو ختم کردیں، اس معاملے کی مزید تحقیقات کرائیں گے۔چیف جسٹس نے اصغر خان کے وکیل سلمان اکرم راجا سے اتفسار کیا کہ آپ عدالت کی معاونت کریں، اس کیس کو کیسے آگے بڑھایا جائے، ایک عدالتی فیصلہ آیا اور اب عملدرآمد کے وقت ایسا ہورہا ہے۔انہوں نے ریمارکس دیے کہ کچھ افراد کو اس معاملے سے علیحدہ کرنے کی تجویز تھی اس پر سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ایک شخص کہہ رہا ہے کہ ہاں میں نے رقم تقسیم کی ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس کے بعد پھر کیا رہ جاتا ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اصغر خان کی کوشش کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے، کیس بند کرنے کے معاملے میں اصغر خان کے اہل خانہ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، اگرایف آئی اے کے پاس اختیارات نہیں تو دوسرے ادارے سے تحقیقات کرالیتے ہیں۔سماعت کے دوران انہوں نے ریمارکس دیے کہ جب فیصلہ آیا تو میں اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چودہدری سے ملا اور کہا کہ اتنا بڑا فیصلہ کیا ہے کہ اب عدالت کچھ نہ کرے تو یہی کافی ہے۔اس پر سلمان اکرم راجا نے کہا کہ اصغر خان اور آسیہ بی بی کیس کے دونوں فیصلے تاریخ ساز ہیں۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ فوج کے ملوث لوگوں کے خلاف فوجی عدالت ٹرائل کر رہی ہے جبکہ سول لوگوں کے خلاف الگ ٹرائل ہورہا ہے، الگ الگ تحقیقات سے کیسے حتمی نتیجے تک پہنچیں گے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کابینہ نے کہا تھا کہ ان کا ٹرائل فوجی عدالت کرے گی، ہمیں نہیں پتہ ملٹری والے کیا کارروائی کر رہے ہیں کیوں نہ ان سے بھی رپورٹ طلب کرلیں، ایسا نہ سمجھیں کہ فوج والیعدالتی دائرہ اختیار سے باہر ہیں، میں بطور چیف جسٹس ان کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ یہ سب ہمارے اختیار میں ہے، کیوں نا سیکریٹری دفاع کو طلب کر لیں۔عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ ایف آئی اے کی طرف سے اخذ کیے گئے نتائج اور وجوہات سے مطمئن نہیں۔بعد ازاں عدالت نے اصغر خان کے قانونی ورثا کی طرف سے دائر درخواست پر ایف آئی اے سے جواب طلب کرتے ہوئے سیکریٹری دفاع کو بھی نوٹس جاری کردیا۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ سیکریٹری دفاع بتائیں کہ جن افسران کا معاملہ ان کو بھیجا گیا تھا اس کی تحقیقات کہاں تک پہنچیں، اس معاملے پر ایک ہفتے میں جواب جمع کرایا جائے۔جس کے بعد عدالت نے اصغر خان عملدرآمد کیس کی سماعت 25 جنوری تک ملتوی کردی۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے