Voice of Asia News

۔وفاقی حکومت کا 23 جنوری کو منی بجٹ پیش کرنیکا اعلان

کراچی( وائس آف ایشیا )وفاقی حکومت نے 23جنوری کو منی بجٹ پیش کرنے کا اعلان کردیا ہے، وزیرخزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ منی بجٹ میں عوام کو ریلیف دیا جائیگا،ٹیکسوں سے متعلق ہرقسم کی تبدیلی پارلیمنٹ کی منظوری سے دی جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کراچی چیمبر آف کامرس میں صنعت کاروں سے ملاقات کی۔ملاقات میں تاجروں کے مسائل سنے اور منی بجٹ سے متعلق تجاویز بھی لیں۔ اس موقع پر سراج قاسم تیلی نے کہا کہ ایف بی آر میں نچلے درجے کے افسران تک طاقت منتقل کی گئی۔ ایف بی آر افسران نے طاقت رشوت لینے کیلیے استعمال کی۔ انہوں نے تجویز پیش کی ہے کہ ایف بی آر کو تالہ لگا دیں شر طیہ 15 فیصد ریونیو بڑھ جائے گا۔ وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر نے کہا کہ 23 جنوری کو منی بجٹ ایوان میں پیش کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ منی بجٹ میں ٹیکس اینا ملیز کو دور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے بیرون ملک جانا ہے اس لیے 23جنوری کو ہی فنانس بل پیش کردیا جائے گا۔ ٹیکسوں سے متعلق ہرقسم کی تبدیلی پارلیمنٹ کی منظوری سے دی جائے گی۔ بغیر کسی چیک بیلنس کے کوئی اختیار ہو تو وہ اختیار نقصان دہ ہوگا۔ ہمیں علم ہے کہ ماضی میں قلم کی ایک جنبش سے ہر روز کیا کیا کام کیا گیا ہے۔تحریک انصاف کے منشور میں شامل ہے کہ کاروبار میں سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ اکیس ویں صدی میں معیشت کا پہیہ نجی شعبہ چلاتا ہے۔ سرمایہ کاری ہوگی تومعیشت آگے بڑھے گی اور نوکریاں بھی پیدا ہوں گی۔ اسد عمر نے کہا کہ ایف بی آر کے ایس آر او کے اجرا کا اختیار ختم کردیا گیا ہے۔ یاد رہے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے گزشتہ روز بھی صحافیوں کے ایک گروپ سے گفتگو میں واضح کیا تھا کہ ہماری حکومت نے برآمدات اور ترسیلات میں اضافہ اور درآمدات میں کمی پر توجہ مرکوز کی ہے جس کے نتیجہ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں کاروبار کی صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جولائی تا دسمبر 2018 کے دوران نجی شعبہ کے قرضوں میں 65 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ پورے سال میں اس اضافہ کی شرح 21 فیصد رہی، یہ اضافہ 13 سال میں تیز ترین ہے جو کاروباری سرگرمیوں میں تیزی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس موقع پر وزیر خزانہ نے افراط زر کے حوالہ سے پاکستان پیپلز پارٹی (2008)، پاکستان مسلم لیگ (ن) (2013) اور پاکستان تحریک انصاف (2018) کی حکومتوں کے پہلے 5 ماہ کا موازنہ پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے پہلے ماہ مارچ 2008 میں سی پی آئی پر مبنی افراط زر کی شرح 14.1 فیصد تھی جو اگست 2008 میں 25.3 فیصد تک پہنچ گئی، اس طرح پیپلز پارٹی کی حکومت کے پہلے پانچ ماہ میں افراط زر کی شرح میں 11.2 فیصد اضافہ ہوا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے پہلے ماہ مئی 2013 میں افراط زر کی شرح 5.1 فیصد تھی جو اکتوبر 2013 میں 9.1 فیصد ہو گئی، اس طرح پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے پہلے پانچ ماہ کے دوران افراط زر کی شرح میں 4.0 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے ماہ جولائی 2018 میں افراط زر کی شرح 5.8 فیصد تھی جو دسمبر 2018 میں 6.2 فیصد رہی، اس طرح پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے پانچ ماہ کے دوران افراط زر کی شرح میں 0.4 فیصد کا معمولی اضافہ ہوا ہے۔ وزیر خزانہ نے مختلف آمدنی والے طبقات کیلئے مہنگائی کے تناسب کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ملک کے غریب ترین طبقات کیلئے مہنگائی کی شرح میں کمی ہوئی جبکہ صاحب استطاعت طبقہ کیلئے مہنگائی کی شرح نسبتا زیادہ رہی۔اس سلسلہ میں اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ غریب ترین طبقہ کیلئے افراط زر کی شرح دسمبر 2017 میں 4.03 فیصد تھی جو دسمبر 2018 میں کم ہو کر 3.18 فیصد رہی۔ 20 ہزار سے 40 ہزار روپے تک کی آمدنی والے طبقہ کیلئے افراط زر کی شرح دسمبر 2017 میں 4.11 فیصد تھی جو دسمبر 2018 میں 3.79 فیصد ہو گئی۔ 41 ہزار سے 60 ہزار روپے تک ماہانہ آمدنی والے طبقہ کیلئے افراط زر کی شرح دسمبر 2017 میں 4.14 فیصد تھی جو دسمبر 2018 میں 4.23 فیصد ہو گئی۔اسی طرح 61 ہزار سے 80 ہزار تک کی آمدنی والے طبقہ کیلئے افراط زر کی شرح دسمبر 2017 میں 4.23 فیصد تھی جو دسمبر 2018 میں 5.90 فیصد ہو گئی۔ اسی طرح زیادہ آمدنی والے طبقہ کیلئے افراط زر کی شرح دسمبر 2017 میں 4.98 فیصد تھی جو دسمبر 2018 میں 8.06 فیصد ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے عام آدمی کو متاثر کرنے والا کوئی اقدام نہیں کیا ہے، افراط زر کے ان اعداد و شمار سے واضح ہو رہا ہے کہ غریب اور کم آمدنی والے طبقات کیلئے مہنگائی میں کمی لائی گئی ہے جبکہ پچھلی حکومت میں تمام طبقات کیلئے یکساں مہنگائی بڑھائی گئی۔وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم نے جتنے بھی ٹیکس لگائے ہیں وہ صاحب استطاعت افراد کی آمدنی، ان کے زیر استعمال اشیا پر براہ راست لگائے گئے ہیں، اسی طرح بجلی کی قیمتیں بھی 70 فیصد گھریلو اور 95 فیصد کمرشل صارفین کیلئے نہیں بڑھائی گئیں۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے بتایا کہ 2017-18 میں ملکی قرضوں میں 2.4 کھرب روپے کا اضافہ ہوا جبکہ جولائی تا نومبر 2018 کے دوران پانچ ماہ کے عرصہ میں تقریبا ایک کھرب روپے اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، جب آئی ایم ایف کی جانب سے اچھا پروگرام ملے گا تو معاہدہ کر لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان فنڈز کے متبادل انتظام میں کامیاب رہے ہیں، اب ہمیں آئی ایم ایف کے ساتھ بہتر پروگرام کیلئے بات چیت کا وقت مل گیا ہے، موجودہ حکومت آئی ایم ایف کے علاوہ دیگر انتظامات پر بھی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے، ملک کے معاشی مسائل کے حل کے لئے جو اقدامات ضروری ہیں، وہ ہم کر رہے ہیں۔دوست ممالک سے مالی پیکج کے حصول کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ ان کی جانب سے کوئی شرائط عائد نہیں کی گئی ہیں، سعودی عرب کے بعد متحدہ عرب امارات اور چین کے ساتھ بھی بات چیت جاری ہے، ہماری حکومت پہلی سول حکومت ہے جو آئی ایم ایف سے ہٹ کر اتنے بڑے پیمانے پر مالی انتظام کرنے میں کامیاب ہوئی ہے، آئی ایم ایف کے بغیر گزارا ممکن ہے تاہم ملکی معیشت کی ضروریات کے پیش نظر مختلف آپشنز کا موازنہ کرتے ہوئے انہیں بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں اسد عمر نے کہا کہ سابق دور میں معیشت کے حوالے سے حقیقی صورتحال کی عکاسی نہیں کی گئی جس کا ثبوت یہ ہے کہ گزشتہ سال بجلی و گیس کے شعبے کے نقصانات کو بجٹ خسارہ میں ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ضمنی فنانس بل میں 90 فیصد اقدامات ملکی برآمدات، کاروبار اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر مبنی ہوں گے۔ یہ فیصلہ کاروباری برادری کے اعتماد کو پیش نظر رکھتے ہوئے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاجر برادری کا بھی مقف ہے کہ جون تک انتظار کرنے کی بجائے ابھی سے کچھ اقدامات کر لئے جائیں جن میں سے بعض فوری نوعیت کے ہوں گے جبکہ دیگر کا اطلاق جولائی سے ہو گا۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے