Voice of Asia News

معاشی طورپر استحکام کیلئے بلیک گولڈ کی صنعت پر توجہ دی جائے: محمد قیصر چوہان

توانائی کے نت نئے ذرائع دریافت ہو چکے ہیں جن میں سے کوئلہ بھی ایک اہم ترین ذریعہ ہے۔ ساڑھے تین سو سال پہلے برطانیہ کا ایک شخص سمندر پر مچھلیاں پکڑنے میں مصروف تھا کہ اچانک اس کی نظر ساحل پر پڑے ہوئے ایک پتھر پر پڑی اور پھر اس کو اسی قسم کے اور پتھر ساحل سمندر پر پڑے ہوئے ملے جو عام پتھروں سے بہت مختلف اور معمولی چمکدار تھے۔ وہ شخص ان پتھروں میں سے چند کو اٹھا کر گھر لے گیا اور گھر کے آتشدان کے قریب رکھ دیا۔ اس شخص کی بیوی کو یہ پتھر بے کار نظر آئے، وہ ان کو باہر پھینکنا چاہتی تھی۔ ایک دن وہ آتش دان کے قریب بیٹھی کچھ پکار رہی تھی، اس نے وہ پتھر اٹھا کر آتش دان میں پڑے دہکتے ہوئے انگاروں پر رکھ دیئے اوران پتھروں پر کھانا پکانے والابرتن رکھ دیا۔ تھوڑی دیر میں پتھر کے ٹکڑے چٹخنے لگے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ پتھر انگاروں میں تبدیل ہو گئے۔ ان سے بیدار ہونے والی حرارت آتشدان میں جلائی جانے والی لکڑی سے کہیں زیادہ تھی اور یہ انگارے لکڑیوں کے جلنے سے جمع ہو جانے والے انگاروں کے مقابلے میں زیادہ دیرپا بھی تھے۔ اس حیرت انگیز انکشاف کے بعد وہ شخص ساحل سمندر کے کنارے پہنچا اور کئی اور پتھر جمع کر کے گھر لے آیا ان میں کئی پتھر نرم اور بھر بھرے تھے اورکئی عام پتھر ہی کی طرح سخت تھے۔ دوسرے روز اس نے ساحل سمندر سے چند ایسے پتھر اکٹھے کئے اور بازار میں جا کر لوگوں کو اس پتھر کی خصوصیت بتائیں۔ لوگ حیران رہ گئے کئی اور کئی افراد نے اس کی خصوصیت جان کر کچھ پتھر اس شخص سے خرید لئے اور جا کر جب انہوں نے ان پتھروں کو آتشدان میں لکڑی کے ساتھ جلانے کے لیے رکھا تو واقعی ان کی حرارت لکڑی کے مقابلے میں کافی زیادہ تھی۔ چونکہ انگلستان میں ان دنوں بہت زیادہ سردی ہوتی تھی اس لیے لوگ سمند کے کنارے اس پتھر کو ڈھنڈنے کیلئے دوڑ پڑے۔ برطانیہ کی حکومت نے سرکاری کارندے بھیج کر اس بات کی تصدیق چاہی، وہ درست ثابت ہوئی۔ چنانچہ حکومت کی طرف سے اس پر باقاعدہ تحقیق ہوئی اور اس طرح برطانیہ کے ساحل پر معدنی کوئلے کے دو ذخائر دریافت ہوئے جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ بیس کروڑ سال پرانے ہیں۔ کم و پیش اسی دور میں جرمنی میں دریائے رو رو کی واد ی کی وہ کانیں بھی دریافت ہوئیں جو آج کے جدید دور میں کان کنی کی صنعت میں ایک مثالی حیثیت رکھتی ہیں۔کوئلہ قدرتی حالت میں ٹھوس شکل میں پایا جاتا ہے اور یہ پہاڑوں یا ڈھلوانوں کو کھود کر نکالا جا سکتا ہے۔ یہ گہرے بھورے،سیاہ رنگ میں ہوتا ہے۔ اس کے بنیادی اجزا میں نامیاتی اور مختلف غیر نامیاتی اجزا شامل ہیں۔ کاربن کے علاوہ اس میں ہائیڈروجن اور آکسیجن بھی موجود ہوتی ہے لیکن تھوڑی تعداد میں نائٹروجن اور سلفر بھی شامل ہوتا ہے۔
معدنی کوئلہ کیا ہے؟ اس سلسلے میں جدید سائنس دو نظریات پیش کرتی ہے۔پہلا نظریہ (InsitueTheory) کہلاتا ہے۔ اس نظریے کے حامی سائنسدانوں کا خیال ہے کہ جن مقامات پراب کوئلے کی کانیں ہیں وہاں ہزاروں سال قبل گھنے جنگل تھے۔ زمنیی سطح پر تبدیلیوں کے باعث یہ جنگل اکھڑ کر زمین پرڈھیر ہو گئے۔ اس کے ساتھ ہی مختلف اقسام کے پودے اوردیگر نباتات بھی زیرزمین دب گئے اور سیلابوں کی لائی ہوئی مٹی ان پر جمتی چلی گئی۔ کروڑوں سال تک یہ عمل جاری رہا۔ وقت گزرنے کے ساتھ زمین کے اوپر درجہ حرارت بڑھتا گیا۔ شدید دباؤ زمین کے اندر درجہ حرارت کی زیادتی ہوا کی غیر موجودگی کی وجہ سے یہ نباتات کیمیائی طور پر ٹوٹ پھوٹ کرکاربن تبدیل ہونا شروع ہوئے۔ یہ سڑتے اور گلے رہے حتیٰ کہ ان کے تنوں اورشاخوں نے معدی کوئلے کی شکل اختیار کر لی اس عمل میں ہزاروں لاکھوں سال لگ گئے۔
دوسرا نظریہ ’’ڈرفت کا نظریہ (Drift Theory)کہلاتا ہے۔ اس نظریے کے حامل سائنسدان یہ تو تسلیم کرتے ہیں کہ معدنی کوئلہ کی تشکیل زمین کے نیچے دب جانے والے جنگلات کے سبب ہوئی لیکن وہ یہ تسلیم نہیں کرتے کہ یہ جنگلات وہیں پرواقع تھے جہاں اب کانیں ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ دراصل گھنے جنگلات کے ہزاروں میل میں پھیلے ہوئے سلسلے کانوں کے موجود مقامات سے بلندی پر واقع تھے۔ ارضیاتی انقلابات کے سبب یہ جنگلات سے اکھڑا کھڑ کر سیلابوں کے ساتھ نشیب کی طرف بڑھے۔ وہاں رکاوٹیں آئیں رکھتے چلے گئے اس طرح ایک دوسرے پھر تیسرے اور چوتھے جنگل کی تہہ جمتی گئی۔ جب جنگلات کا سلسلہ ختم ہوا تو ان پر مٹی، چونے اوردیگر معدنیات اورریت رغیرہ کی تہیں جمتی چلی گئیں اور لاکھوں سال بعد ان جنگلات نے معدنی کوئلے کی شکل اختیار کر لی۔ اس نظریے کے صداقت کو ثابت کرنے کیلئے ان سائنسدانوں کی دلیل یہ ہے کہ چونکہ اکثرکانوں سے نکالا جانے والا کوئلہ سیکڑوں فٹ بلکہ بعض مقامات پر ہزاروں فٹ موٹی تہوں میں پایا جاتا ہے، اس لیے یہ خیال زیادہ صحیح ہے کہ ان کانوں کی تشکیل کئی جنگلات کے اوپر نیچے جمع ہو جانے سے ہوئی ہے۔
بہرحال کوئلے کی اصلیت کچھ بھی ہو یہ حقیقت ہے کہ اس کی تشکیل میں کروڑوں سال صرف ہوئے۔ کرۂ ارض پر اس کی دریافت اور کھدائی کی تاریخ ساڑھے تین سو سال پرانی ہے۔ لیکن جہاں تک عام کان کنی کا سوال ہے، یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ا ب سے ہزاروں ، لاکھوں سال پہلے کے لوگ بھیزمنی کے نیچے چھپے ہوئے معدنی ذخائر کے وجود اور ان کے کھود نکالنے کے طریقوں اور ان معدنیات کے مناسب استعمال سے واقف تھے۔ چنانچہ زمانہ ماقبل تاریخ،میں تانبے، سونے اور ٹین وغیرہ کے استعمال کا ثبوت مل چکا ہے۔ ایک مسلمہ روایت کے مطابق کرۂ ارض کی قدیم ترین کانیں حضرت سلیمان علیہ السلام کی تانبے کے ذخائر موجود ہیں؟ ان سوالات کاجواب حاصل کرنے کیلئے گزشتہ صدی سے تلاش جاری ہے۔ حضرت سلیمان علہ السلام کی کانوں کے بارے میں فرضی کہانیوں کے سہارے فلمیں بنی بنائیں جا چکی ہیں اورکئی داستانیں بھی مشہور ہیں۔ اگر یہ کانیں دریافت کر لی گئیں توان کے مطالعے سے کان کنی کی تاریخ میں ایک گراں قدر باب کا اضافہ ہو جائے گا۔ لاکھوں سال قبل کے کان کنی کے طریقہ کار کا مطالعہ بھی جدید سائنسی تحقیقات کو ایک نیا رخ عطا کر دے گا۔
قیام پاکستان کے وقت کوئلہ توانائی کا ایک اہم ذریعہ تھا۔ اس وقت ملکی ضروریات پوری کرنے کیلئے تقریباً 3 لاکھ ٹن کوئلے کی ضرورت ہوتی تھی۔ اس میں پچاس فیصد کوئلہ باہرسے منگوایا جاتا تھا اور تقریباً پچاس ساٹھ فیصد کوئلہ مقامی ذرائع سے حاصل ہوتا تھا۔یہ کوئلہ زیادہ ترریلوے انجنوں، سیمنٹ کے کارخانوں ،اینٹوں کے بھٹوں، لوہا پگھلانے والی چھوٹی چھوٹی بھٹیوں اور کچھ کوئلہ گھروں اور ہوٹلوں میں استعمال ہوتا تھا لیکن 1953 میں سوئی کے مقام پر گیس کی دریافت اور بعد میں تیل کی دریافت سے پاکستان میں کوئلے کااستعمال کم ہونے لگا۔ پن بجلی گھروں کے بنے سے توانائی کا ایک بڑا مسئلہ حل ہو گیا اور کوئلہ کا استعمال صرف اینٹوں کے بھٹوں تک محدود ہو گیا۔ 1988-89 کے سروے کے مطابق پاکستان کی مختلف کوئلہ کی کانوں سے تقریباً 2619 ملین میٹرک ٹن کوئلہ نکالا گیا۔
پاکستان میں کان کنی کی تاریخ کچھ زیادہ قدیم نہیں۔ کھیوڑہ کی نمک کی کانیں برصغیر کی قدیم ترین کانیں تسلیم کی جاتی ہیں۔ ان کا سراغ اکبراعظم کے دورمیں بھی ملتا ہے۔ اکبر اعظم ان کانوں سے نمک نکالنے کیلئے خصوصی عملہ اپنی نگرانی میں بھیجا کرتا تھا۔ ضلع میانوالی میں مکڑوال کی کوئلہ کی کانیں بھی برصغیرکی قدیم ترین کانیں ہیں۔ ان کانوں میں کھدائی کا کام 17 ویں صدی کے اوائل میں ریلوے والوں نے شروع کروایا تھا۔ کافی عرصہ تک یہاں سے نکالا ہوا کوئلہ ریلوے انجنوں میں ڈالا جاتا رہا، اسکے بعد قیام پاکستان سے پہلے بہار اور بنگال کے علاقوں میں نئی کانیں دریافت ہوئیں جو مکڑوال کی کانوں کے مقابلے میں بہترین تھیں اور ان سے کوئلہ نکلانے کا کام نسبتاً کم خرچ بھی تھا، چنانچہ مکڑوال میں کان کنی روک دی گئی اور نئے علاقوں میں کان کنی کا کام تیزی سے شروع کردیا گیا۔مکڑوال کی کانیں کئی سال تک یونہی پڑی رہیں، پھر ایک ہندو لالہ ٹیکم داس نے ایک مسلمان ملک ولایت حسین کے اشتراک سے اس علاقے میں دوبارہ کام شروع کیا اور کثیر مقدار میں کوئلہ نکالا۔ ان لوگوں کا کام کان کنی کے سائنسی طریقوں سے قطعاً مختلف بھی تھا اور خطرناک بھی۔ یہ لوگ کوئلے کے علاقے میں سنگینی تعمیر کرنے کی بجائے اوپر سے نیچے کی طرف کھدائی کرتے تھے، جس سے کوئلے کی کثیر مقدار ضائع بھی ہو جاتی تھی اور ہولناک حادثات کا بھی ہر وقت خطرہ رہتا تھا۔ بعد میں اس علاقے کو مغربی پاکستان انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریش W.P.I.D.C. نے اپنی تحویل میں لے لیا۔ اس وقت مکڑوال ایریا کی کانیں پاکستان میں کوئلے کی سب سے بڑی کانیں ہیں اور ان میں ہونے والا کام کان کنی کی جدید ترین تکنیک کے مطابق ہے۔
پاکستان میں کوئلہ پہاڑوں یاڈھلوانوں میں سنگین یا سرنگیں یا کانیں بنا کر نکالا جاتا ہے۔ کوئلہ زیر زمین یا پہاڑوں کے نچلے حصوں میں یا پھر درمیانی حصوں یا پہاڑوں کی چوٹیوں پربھی پایا جاتا ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بات کا پتا کیسے چلایا جاتا ہے کہ زیر زمین پہاڑوں میں کس مقام پر کوئلے کے ذخائر ہیں یا کتنی مقدار میں یہ ذخائر موجود ہیں؟ اس کا پتا چلانے کیلئے کئی طریقے اختیارکئے جاتے ہیں۔
-1ایک طریقہ تو غیر ارادی یا چانس کاہے۔ کوئلے کے ذخائر کے علاقے میں آبادیاں بھی ہوتی ہیں لیکن کسی کو پتانہیں ہوتا کہ وہاں زیر زمین یا قریبی پہاڑوں پر کوئلہ موجودہے۔ زمین یا پہاڑ کھودتے وقت مقامی لوگوں کواچانک پتاچل جاتا ہے کہ وہاں پر کوئلہ موجود ہے۔ اکثر لوگ اس علاقے میں پینے کے پانی کے لیے کنویں وغیرہ کھودتے ہیں۔ کبھی کبھی کوئلہ زمین کی سطح کے قریب بھی مل جاتا ہے۔ لاکھڑا میں کوئلے کے ذخائر کا پتا خانہ بدوشوں نے چلایا تھا۔ وہ پانی کے لیے کنوں کھود رہے تھے۔ تھوڑی سی گہرائی کے بعد مٹی کے بجائے کوئلہ نکلنا شروع ہو گیا اور اس طرح حکومت کو کوئلے کے ذخائر کا پتا چل گیااور آج اسی مقام سے خاصی مقدار میں کوئلہ نکالا جاتا ہے۔
-2 دوسرا طریقہ کوئلے کے ذخائر کا پتا چلانے کا یہ ہے کہ مختلف مقامات پرجہاں کوئلے کے ذخائر ملنے کی توقع ہو، ڈرلنگ کی جاتی ہے۔یعنی پانچ دس فٹ سے لے کر 1000 فٹ یا اس سے بھی زیادہ کھدائی کے بعد اگر کوئلے کے نمونے حاصل ہوتے ہیں تو ان کی کوالٹی جانچی جاتی ہے اوریہ معلوم کیا جاتا ہے کہ آیا وہاں کوئلے کے ذخائر اتنے ہیں کہ کھدائی کا کام کیا جائے تو تجارتی پیمانے پر فائدہ مند ہو گا۔ اگر یہ معلوم ہو جائے کہ ذخائر کافی ہیں تو پھرکوئلے کیلئے کھدائی کا کام کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں تحقیق کیلئے خاص آلات جس میں Seismographوغیرہ شامل ہیں، کام میں لائے جاتے ہیں، تحقیق اور سروے کے کام کے لیے باقاعدہ ٹیمیں روانہ کی جاتی ہیں۔ وہ موقع پر جا کر پورا سروے اور تحقیق کا کام کرتی ہیں اورباقاعدہ سروے رپورٹ بناتی ہیں۔ اس سلسلے میں محکمہ جیالوجیکل سروے آف پاکستان عرصہ دراز سے مفید خدمات سرانجام دے رہا ہے۔
-3 تیسرا طریقہ جس سے مختلف علاقوں میں کوئلے کے ذخائر کا پتاچل سکتا ہے وہ ہوائی جہاز یا مصنوعی سیاروں کے ذریعے سروے کا کام ہے ۔ اس طریقے کو ایرو میگنیٹک سروے کہا جاتا ہے۔ اس طریقے میں خاصی فریکوئنسی کی ریڈیو لہریں ہوائی جہاز سے یا مصنوعی سیاروں کے ذریعے نیچے زمین پر بھیجی جاتی ہیں جو زمین کے اندر 500 فٹ یا ایک ہزار فٹ تک جا سکتی ہیںیا اس سے بھی زیادہ کام کر سکی ہیں۔ جب یہ لہریں واپس ہوائی جہاز یا مصنوعی سیارے میں موجود خا ص قسم کے آلات تک پہنچتی ہیں توان لہروں کا تجزیہ کیا جاتا ہے، جس سے ماہرین زمین کے اندر موجود کوئلے اوردیگر معدنیات کے ذخائر کی موجودگی کا پتہ چلا سکتے ہیں۔ یہ مخصوص قسم کی لہریں زمین کے اندر مختلف چٹانوں سے ٹکرا کر واپس جاتی ہیں تو یہ ہوائی جہاز یا مصنوعی سیارے میں موجود آلات پر مختلف کیفیات ریکارڈ کرتی ہیں جس سے کوئلے سے متعلقہ مخصوص لہروں کا پتا چلایا جا سکتا ہے۔ اگرچہ یہ طریقہ مہنگا ہے لیکن اس کے ذریعے ایک بڑے علاقے کا سروے مختصر عرصے میں کیا جا سکتا ہے۔کو ئلہ زمین کی سطح پر پہاڑوں کی چٹانوں سے مختلف طریقوں سے نکالا جاتا ہے۔ترقی یافتہ ممالک میں آج کل کوئلہ نکالنے کا کام خود کار نظام کے تحت کیاجاتا ہے۔ زیادہ تر کام مشینوں اور ٹرانسپورٹ سے لیا جاتا ہے۔ لیکن ترقی پذیرممالک میں کوئلہ نکالنے کے پرانے طریقے ہی رائج ہیں، کیونکہ خودکار مشینوں کا نظام بہت مہنگا ہے۔ پاکستان میں بھی کوئلہ کانوں سے نکالنے کا کام ٹھیکیدار کرتے ہیں جو زیادہ خرچ کرتے یا مہنگا کام کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
تحقیق اورجستجو کے بعد اگر پتا چل جائے کہ مخصوص علاقے میں کوئلے کے ذخائر موجود ہیں اور کوئلہ یا توزیر زمین یا پہاڑوں میں موجو د ہے تو وہاں کوئلہ نکالنے کا کام شرع کیا جاتا ہے۔ کوئلہ نکالنے کے چند طریقے یہاں درج کئے جا رہے ہیں۔
-1 اگر کوئلہ زیرزمین ہے تو مٹی کی اوپر کی سطح جس کے نیچے کوئلے کے ذخائر ہوتے ہیں ان کو بڑے بڑے بلڈوزوں کے ذریعے ہٹادیا جاتا ہے اور لوڈرز کے ذریعے یہ مٹی ایک طرف ڈال دی جاتی ہے۔ اس طریقے کو Open Pit Shinning کہتے ہیں یعنی سطحی کان کنی کا طریقہ۔ اس طریقے میں کوئلہ نکالنے کے بعد زمین میں بڑے بڑے گڑھے اور خندقیں بن جاتی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں تویہ گڑھے بعد میں پر کئے جاتے ہیں لیکن پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک میں خرچ زیادہ ہونے کے سبب ان گڑھوں کوکھلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس طریقے سے کوئلہ نکالنے کا کام قدرے آسان ہے۔ اس طریقے میں کوئلے کے ذخائر ڈرلنگ کر کے یا بورنگ کر کے نکالے جاتے ہیں یا پھر کان کن علیحدہ علیحدہ اپنے ہاتھوں سے کوئلہ کھود کر نکالتے ہیں۔ خچروں یا دیگر ذرائع سے کوئلہ باہر نکالا جاتا ہے۔ کوئلہ نکالنے کا کام بڑا محنت طلب ہے۔ اس طریقے میں کان کنی کھلی دھوپ اور کانوں کے اندر سخت گرمی اور غیر موافق حالات میں کام کرتے ہیں۔ اکثریہ کام سرکاری مد میں ہوتاہے اور ٹھیکیدار بھی ٹھیکے پر کرتے ہیں۔
-2 دوسرا طریقہ کوئلہ نکالنے کا وہ ہے، جب یہ معلوم ہوتا ہے کہ کوئلے کے ذخائر پہاڑوں کی چٹانوں میں موجود ہیں تو کوئلہ نکالنے کام شروع کیا جاتا ہے۔
پہاڑوں میں کوئلہ نکالنے کیلئے جو کان بنائی جاتی ہے، اس کے لیے پہلے ڈرلنگ کا کام کیا جاتا ہے اور کان بنانے کا کام اس جگہ شروع کیا جاتا ہے جہاں کوئلے کی تہیں موجود ہوتی ہیں اور کہیں پر دس یا پندرہ فٹ یا اس سے بھی زیادہ موٹائی کی ہوتی ہیں۔ ان تہوں کی موٹائی کے ساتھ چوڑائی بھی زیادہ یا کم ہو سکتی ہیں۔ ڈرلنگ اور بلاسٹنگ کے بعد پہاڑوں میں راستہ بنایا جاتا ہے جو تقریباً دس فٹ اونچا ہو سکتا ہے۔ یہ اندر جانے کا راستہ کوئلے کی تہہ کے ساتھ ساتھ بنایا جاتا ہے۔ کان کنی کے دوران کوئلے کی ان تہوں سے کوئلہ یا تو اپنے ہاتھوں سے اوزار استعمال کر کے نکالتے ہیں یا پھر ڈرلنگ کرکے یا بلاسٹنگ کر کے کوئلہ اکٹھا کرتے ہیں اور مختل ذرائع سے اس کوئلے کوباہر نکالتے ہیں۔ پہاڑوں میں کوئلہ نکالنے کے ساتھ جو سرنگ بنتی ہیں ان کے گرنے کا خطرہ بھی ہوتا ہے لیکن اس کے نیچے شہیتر لگاتے ہیں تاکہ کان گرنے سے محفوظ رہے۔ اس کے علاوہ مضبوطی کیلئے جگہ جگہ کانوں میں کنکریٹ کے ڈاٹ بھی بنائے جاتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں کانوں کی مضبوطی کے لیے لوہے کے فریموں سے کام لیا جاتا ہے اور یہ کام کانوں کی انتہائی گہرائی تک کیاجاتا ہے تاکہ کان گرنے نہ پائے اوراس میں کام کرتے ہوئے مزدور محفوظ رہیں۔کوئلہ کی کانوں کا ایک بڑا راستہ ہوتاہے لیکن جوں جوں کان گہرائی میں جاتی ہے اس میں چھوٹے چھوٹے راستے بنائے جاتے ہیں جو کبھی کبھی کوئلے کی تہوں کے متوازی جاتے ہیں یا کوئلے کی تہوں کی چوڑائی میں بھی بنائے جاتے ہیں۔کوئلے کی تہوں کو مکمل نہیں کاٹا جاتا، بلکہ اس میں جگہ جگہ کوئلہ کے ستون چھوڑے جاتے ہیں جوچالیس فٹ لمبے اور چالیس فٹ تک چوڑے ہو سکتے ہیں یااس کی لمبائی چوڑائی زایدہ اور کم ہو سکتی ہے۔ کوئلہ کانوں میں سے نکالنے کے پہلے مرحلے میں چالیس فیصد نکالا جاتا ہے۔بعد میں ا س کوئلے کے باقی ماندہ ستونوں سے کوئلہ حاصل کیا جاتا ہے، لیکن پھر بھی کوئلے کی کانوں میں کم و بیش فیصد تک کوئلہ باقی رہ جاتاہے جو ان ستونوں کی شکل میں کانوں میں باقی رہتا ہے تاکہ کان گرنے سے محفوظ رہے۔
جس جگہ سے کوئلہ نکالا جاتا ہے کوشش یہ کی جاتی ہے کہ وہ جگہ کسی اور مواد سے بھر دی جائے تاکہ جہاں سے کوئلہ نکالا گیا ہے، گرنے سے محفوظ رہے، یہ جگہ ریت سے یا چھوٹے بڑے پتھروں سے بھر دی جاتی ہے۔اگر کہیں یہ چٹانیں بہت سخت ہوں تووہاں صرف ڈرلنگ سے کام نہیں بنتا، اس کیلئے سخت چٹانوں میں ڈرلنگ مشینوں سے سوراخ کیا جاتا ہے۔ پھر اس میں بارود بھردیا جاتا ہے، جس وقت بلاسٹنگ کاعمل ہوتا ہے اس وقت مزدور کانوں کے اندر محفوظ مقامات میں چھپ جاتے ہیں۔ جب بلاسٹنگ ختم ہو جاتی ہے تو مزدور بکھرا کوئلہ اکٹھا کر کے اور اس طرح آگے راستہ بنتا جاتا ہے۔اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض چٹانیں نہایت سخت ہوتی ہیں، وہاں ڈرلنگ کا کام بھی مشکل سے ہوتا ہے۔ ایسی جگہ Pheneumatic Compressive کے ذریعے چٹان میں ڈرلنگ کی جاتی ہے۔ اس طریقے سے سخت سے سخت چٹان میں ڈرلنگ کا کام ہو سکتاہے۔
کانوں سے کوئلہ نکالنے کا کام دو طریقوں سے کیا جاتا ہے:
-1 ایک طریقہ تو وہی پرانا یعنی کوئلہ بوریوں میں بھر کر گدھوں کے ذریعے باہر نکالا جاتا ہے۔ پاکستان میں یہ طریقہ عام ہے کیونکہ یہ کم خرچ ہے، اور کام کیلئے باقاعدہ مزدور نہیں رکھے جاتے بلکہ عام طور سے یہ کام ٹھیکے پردیا جاتا ہے۔ جتنی مقدار میں کوئلہ کانوں سے باہر لایاجاتا ہے، اتنی ہی مزدوری ملتی ہے۔
-2 کوئلہ کانوں سے باہرنکالنے کا دوسرا طریقہ ریل گاڑی ہے۔ کوئلہ کی کانوں کے اندر یل کی پٹریاں بنائی جاتی ہیں اور ٹرالیوں کے ذریعے کوئلہ کانوں سے باہر نکالا جاتا ہے اور اس کوٹرکوں میں آسانی سے لادا جا سکتا ہے۔ صوبہ سندھ اور بلوچستان کی کچھ کوئلے کی کانوں میں یہ طریقہ رائج ہے۔
-3 تیسرا طریقہ وہاں کام میں لایا جاتا ہے جہاں کانیں پہاڑوں کی چوٹیوں پر قائم ہیں۔ یہ بڑا محنت طلب کام ہے۔ پہاڑوں کی اونچائی پر پہنچنا اور وہاں کھدائی کرنا بڑا مشکل ہوتا ہے، اورپھرکوئلہ نکالنا اور اس کو نیچے لانا اور بھی زیادہ مشکل کام ہے۔ کوئلہ نیچے لانے کے لیے کیبل کار استعمال کی جاتی ہیں اور کوئلہ ان کیبلز کے ذریعے ٹرالیوں میں بھر کرنیچے لایا جاتا ہے۔ یہ کیبل کار تقریباً اسی اصول پر جلتی ہیں جو آپ نے ایوبیہ اورمری میں دیکھا ہو گا۔ ایک آہنی رسے سے ٹرالیاں لٹکی ہوتی ہیں جو کان کے دہانے تک جاتی ہیں، وہاں ٹرالیاں کوئلہ سے بھر دی جاتی ہیں، یہ ٹرالیاں پہاڑ سے نیچے آتی ہیں جہاں ٹرالیوں سے کوئلہ ان کیبلز کے ذریعے ٹرالیوں میں بھر کر نیچے لایاجاتا ہے۔ یہ کیبل کار تقریباً اسی اصول پر جلتی ہیں جو آپ نے ایوبیہ اور مری میں دیکھا ہو گا۔ ایک آہنی رسے سے ٹرالیاں لٹکی ہوتی ہیں جو کان کے دہانے تک جاتی ہیں، وہاں ٹرالیاں کوئلہ سے بھر دی جاتی ہیں، یہ ٹرالیاں پہاڑ سے نیچے آتی ہیں جہاں ٹرالیوں سے کوئلہ ٹرکوں میں منتقل کردیا جاتا ہے۔ پنجاب کے کچھ علاقوں میں جہاں کوئلے کی کانیں ہیں یہ طریقہ رائج ہے۔
کوئلہ توانائی کا اہم وسیلہ ہے۔ کارخانے، انجن، مشینیں اس کی قوت سے چلتی رہیں، کوئلہ دھاتوں سے پگھلانے کے کام بھی آتا ہے۔ پاکستان میں اعلیٰ قسم کے کوئلے کی کمی ہے۔ اگر اعلی قسم کا کوئلہ ہے بھی تو ابھی اس کو کانوں سے نکالا نہیں گیا۔ جو کوئلہ ملتا ہے اس میں گندھک کی آمیزش ہوتی ہے۔ اس میں دھویں کی مقدار زیادہ اور پیش کم ہوتی ہے۔ اس لیے بڑے کارخانوں میں اس سے کام نہیں لیاجاتا۔ کچھ صنعتی ضروریات کے لیے کوئلہ درآمد کرنا پڑتاہے ملکی کوئلہ زیادہ تر اینٹ بنانے، چونے کی بھٹیوں اور ریلوے انجنوں کو چلانے میں استعمال ہوتا ہے۔
پاکستان میں کوئلے کے ذخائر
-1 کوہستان نمک
کوہستان نمک کی کوئلے کی مشہور کانیں ڈنڈوت، پڈھ اور مکڑوال ہیں۔ مکڑوال کی کان پاکستان میں کوئلے کی سب سے اہم کان ہے۔ یہاں کوئلے کے ذخائر کا اندازہ بیس ملین میٹرک ٹن ہے۔
-2 بلوچستان
بلوچستان کی کانیں کوئٹہ شہر کے آس پاس ہیں،یہاں ملکی پیداوار کا دو تہائی کوئلہ پیدا ہوتا ہے۔ یہاں کوئلے کی پیداوار کے لیے تین علاقے اہم ہیں:
-|خوست، شارگ اور ہرنائی کی کانیں۔ صوبہ بلوچستان میں کوئلے کے سب سے بڑے ذخائر ہیں۔ خصوصیات کے لحاظ سے یہاں کاکوئلہ نسبتاً بہترقسم کاہے۔ یہاں تقریباً 40 ملی میٹرک ٹن کوئلے کے محفوظ ذخائر موجود ہیں۔
-||سار، گیاری اور شیریں آب کے علاقے، اس علاقے میں ڈگیاری کی کانیں اہم ہیں جو کوئٹہ سے 16 کلومیٹر مشرق کی جانب واقع ہیں، لیکن یہ کوئلہ عمدہ قسم کا نہیں۔
-|||مچھ کے ذخائر۔ یہ ذخائر بھی کوئٹہ ریلوے لائن کے دونوں اطراف واقع ہیں۔ ان سے سالانہ 40 ہزارمیٹرک ٹن کوئلہ نکالا جاتا ہے۔
-3 صوبہ سندھ:۔
صوبہ سندھ میں چھمپیر اور لاکھڑا، ضلع دادو کے مقامات سے کوئلہ نکلا جاتا ہے، یہاں سے ملنے والا کوئلہ کمتر درجے کا ہے اور ان تہوں کی موٹائی بھی کم ہوتی ہے۔ یہاں تقریباً 240 ملین میٹرک ٹن کوئلے کے محفوظ ذخائر موجود ہیں۔
کوئلہ کی کئی اقسام ہیں۔ سب سے کم کوالٹی والے کوئلے کو Peat کہتے ہیں۔ Peat دراصل کوئلہ بننے کا پہلا مرحلہ ہے، اس میں پانی کی مقدار تقریباً 85 فیصد ہوتی ہے۔ اس کو خشک کرنے کے لیے اور کانوں سے نکلنے کے لیے کافی قوت اور سرمایہ خرچ ہوتا ہے۔ اس لیے اس کو نکالنا معاشی طور پر فائدہ مند نہیں۔ لیکن چونکہ اس قسم کے کولے میں سلفر کی مقدار کم ہوتی ہے اس لیے Briquetts یعنی چھوٹے چھوٹے چوکور ٹکڑوں میں ڈھال کر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
نائٹروجن کی موجودگی کی وجہ سے کوئلے کی یہ قسم کھاد کے طور پر کھیتوں میں بھی استعمال ہو سکتی ہے۔
کوئلے کی دوسری قسم کو Legnite کہتے ہیں۔ یہ بھورے رنگ کا ہوتا ہے لیکن کھلی فضا میں رہنے سے اس کا رنگ کالا ہوجاتا ہے۔
کھلی فضا اور روشنی کی وجہ سے اس میں موجود 45 فیصد پانی خشک ہو جاتا ہے اور یہ کوئلہ چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بٹ جاتا ہے۔ اس لیے اس کو بہت دور دراز علاقوں میں نہیں لے جایا جا سکتا۔ چونکہ یہ کوئلہ بہت جلدی آگ پکڑ لیتا ہے اس لیے اس سے گیس آسانی سے بن سکتی ہے۔ اس قسم کے کوئلے کو بھی Briquettes یا چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کی صورت میں استعمال کیاجا سکتا ہے۔
پاکستان میں کوئلے کے ذخائر کا اندازہ 850کھرب کیوبک فٹ ہے ، ملک میں موجود کوئلے کے ذخائر کے صرف 2 فیصد استعمال سے 40 سال تک 20 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ جبکہ ایران اور سعودی عرب کے تیل کے ذخائر کا مجموعی تخمینہ 375 ارب بیرل ہے۔پاکستان کے کوئلے کی مالیت ایران اور سعودی عرب کے تیل کے مجموعی ذخائر کی مالیت کے برابر ہے۔پاکستان کے کوئلے کے ذخائر کو’’کالا سونا‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ ذخائر پاکستان کے تمام صوبوں میں موجود ہیں۔ سندھ، پنجاب،بلوچستان، خیبر پی کے اور آزاد کشمیر میں کان کنی صنعت کا درجہ رکھتی ہے۔ پاکستان میں سب سے زیادہ کوئلہ اینٹوں کے بھٹوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک سائنسدان نے اس سے گیس پیدا کرنے کا دعویٰ کیا مگر کروڑوں کے اخراجات کے بعد بھی گیس پیدا نہ ہو سکی، اگر گیس کی پروڈکشن پر نیک نیتی سے عمل کیا گیا ہوتا تو توانائی میں ہم خود کفالت کی راہ پر گامزن ہو چکے ہوتے۔ آج کوئلے کا استعمال بجلی کی پیداوار کیلئے ہو رہا ہے۔صرف پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں کوئلے کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکا میں 30 فیصد، بھارت میں 40 سے 50 فیصد کوئلے کا استعمال بجلی کے لئے استعمال ہوتا ہے۔پاکستان میں بجلی کی پیداوار کا چھ فیصد کوئلہ کے استعمال سے حاصل کیا جاتا ہے۔ مستقبل میں اس میں واضح اضافے کے امکانات ہیں۔
پاکستان میں بجلی کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق2025 تک بجلی کی ضرورت 49ہزار میگاواٹ تک پہنچ جائے گی۔ اس دوران اگر کالا باغ اور بھاشا ڈیم بن جائیں تو بھی بجلی کی ضرورت پوری نہیں ہو سکتی جبکہ ان دونوں ڈیموں کی تعمیر کے امکانات ہنوز واضع نہیں ہیں۔ دیگر ذرائع سے بھی مطلوبہ مقدار میں بجلی پیدا ہوتی نظر نہیں آتی، اس لئے کوئلہ سے بجلی کی پیداوار پر زیادہ انحصار کرنا پڑ سکتا ہے۔ کوئلہ سے بجلی کی پیداوار کے عمل میں ضرر رساں گیسوں کا اخراج ایک حقیقت ہے جس سے نجات حاصل کی جا رہی ہے۔وفاقی وزیر ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں کوئلے کے منصوبوں میں دنیا کی سب سے بہترین ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے تاکہ کوئلے کے استعمال کے ماحولیاتی اثرات کو کم سے کم کیا جائے۔گیسوں کے اخراج کے مضر اثرات پر قابو پا لیا جائے تو کوئلے کا وسیع تر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اب تک کوئلے کی زیادہ مقدار اینٹوں کے بھٹوں میں استعمال ہوتی تھی۔ سی پیک کے بعد کوئلہ بجلی کی پیداوار کیلئے استعمال ہوتارہا۔ اس تناظر میں کوئلہ انڈسٹری کے تحفظ اوراس میں توسیع کی اشد ضرورت ہے۔
کوئلے کے کئی فوائد ہیں، کوئلہ توانائی کے حصول یا صنعتی ایندھن کا سب سے بڑا وسیلہ ہے اور خاص طور پر دیگر ایندھنوں کے مقابلے میں بہت سستا ہے، کوئلے کو بجلی پیدا کرنے کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے اور آسانی سے ذخیرہ شدہ بھی ہے۔کوئلے میں کاربن کا عنصر نمایاں ہوتا ہے جو اس کا 50 فیصد سے زیادہ وزن 70 فیصد سے زائد بناتا ہے۔کوئلہ توانائی کے طور پر استعمال کی جانے والے ایندھن کے ساتھ ساتھ انسانی صحت کیلئے بھی فائدہ مند ہے۔کالا سیاہ نظر آنے والا کوئلہ دراصل اپنے اندر بے پناہ خوبیاں لیے ہوئے ہے، کوئلہ وہ خاص چیز ہے جو افادیت سے بھرپور ہے۔ ہیرے کی تلاش بھی کوئلے کے تراشے جانے پر مکمل ہوتی ہے۔کوئلہ جہاں بار بی کیو اور دیگر کھانوں کو مزید لذیذ بناتا ہے وہیں آپ کے چہرے کی جھائیاں دور کرنے اورکلینزر کے طور پر جلد کو تروتازہ رکھنے اورچہرے کے داغ دھبوں کو ختم کنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔کوئلے کے ذریعے کیا جانے والا ڈیٹوکس بھی بے حد مقبول ہے۔ اس کے علاوہ کوئلے کے استعمال سے آپ اپنے پیلے اور گندے دانتوں کو صاف شفاف بھی رکھ سکتے ہیں۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے