Voice of Asia News

تبدیلی سرکار کی مریض دُشمنی : محمد قیصر چوہان

تحریک انصاف نے گزشتہ برس منعقد ہونے والے عام انتخابات میں غریب عوام کو ریلیف دینے اور کرپشن کرنے والے عناصر کا بلا امتیاز احتساب کرنے کے نام پرووٹ حاصل کئے تھے لیکن اقتدار میں آکر عمران خان کی حکومت نے ابھی تک جتنے بھی اقدامات کئے ہیں وہ سب غریب عوام کو تکلیف دینے پر مبنی ہیں ۔ تبدیلی سرکارنے ادویات کی قیمتوں میں پندرہ فیصد اضافہ کرکے غرب اور مریض دُشمنی کا ثبوت دیا ہے۔دواساز کمپنیوں کی کارکردگی پر نظر رکھنے ، دواؤں کے معیار کو برقرار رکھنے اور قیمتیں مقرر کرنے کیلئے پاکستان میں بھی ایک ادارہ ہے جو کہنے کو تو نیم خود مختار ہے، لیکن یہ براہ راست منسٹری آف نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشنز اینڈ کوآرڈی نیشن کے ماتحت ہے۔ اس ادارے کا نام ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان ہے۔ ’’ڈریپ‘‘ کے تمام امور کی نگرانی اس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اور متعلقہ وزارت کے سیکریٹری اور وزیر کی اجازت کے بغیر کچھ نہیں کرسکتے۔ ان سب کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ ملک بھر میں بھوک، افلاس، صحت و صفائی کی ناقص سہولیات کے باعث مختلف امراض میں مبتلا ہونے والے بائیس کروڑ عوام کو سستی اور معیاری دوائیں فراہم کریں۔ لیکن اس کے بالکل برعکس یہ محکمے اور ادارے دواساز کمپنیوں کی ملی بھگت سے آئے دن ملکی غیر ملکی دواؤں کے نرخ بڑھانے میں پیش پیش نظر آتے ہیں، جبکہ دوا کے غیر معیاری ہونے کی کوئی پروا نہیں کرتا۔ کوئی مریض کسی مرض میں مبتلا ہوکر مرنے سے بچ جائے تو وہ ناقص، جعلی اور بعد از تاریخ استعمال دواؤں سے جاں بحق ہوجاتا ہے۔ جس پر کسی کے خلاف کبھی کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ غریب لوگ ناگہانی موت کو اللہ کی مرضی سمجھ کر قبول کرلیتے اور صبر کرکے خاموش ہو جاتے ہیں۔ حکمرانوں کی بے حسی اور عوام کی بے بسی کا اندازہ اس امر سے کیا جاسکتا ہے کہ بجلی، تیل، گیس ، ٹی وی چینلز اور دوا ساز کمپنیوں پر کڑی نظر رکھنے کے لئے اوگرا، پیمرا ، نیپرا اور ڈریپ جیسے جو بھی ادارے قائم کئے جاتے ہیں، وہ محض ان اشیا و خدمات کو گراں قیمت پر فروخت کرنے والوں کی وکالت کرتے اور ان کے مفادات کا تحفظ کرتے نظر آتے ہیں۔ تازہ مثال ڈریپ کی جانب سے ادویہ کے نرخوں میں اضافہ ہے، جو عوام کے لئے تبدیلی کا دعویٰ کرنے والی تحریک انصاف کی بدتر تبدیلی کا ایک اور ’’شاہکار‘‘ ہے۔ بجلی، گیس، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور ٹیکسوں میں آئے دن اضافہ کرنے والی موجودہ حکومت نے غالباً طے کر رکھا ہے کہ لوگ بھوک سے مریں یا امراض سے، انہیں روٹی ، پانی کی طرح دواؤں سے بھی محروم کرکے چھوڑیں گے، تاکہ آبادی میں کمی کا حکومتی خواب جلد از جلد پورا ہوسکے۔ وفاقی حکومت نے ڈریپ کی آڑ لے کر ملک بھر سے دواؤں کے نرخ نو فیصد سے پندرہ فیصد تک بڑھادیئے ہیں۔ احسان یہ کیا ہے کہ جان بچانے والی ادویہ نو فیصد مہنگی کی ہیں، جبکہ ہر شہری کی بلا معاوضہ جان بچانا حکومت کے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ وزیراعظم خان نے تو برسراقتدار آتے ہی اعلان کیا تھا کہ وہ پاکستان کو مدینہ جیسی فلاحی مملکت بنائیں گے، لیکن ان کی حکومت لوگوں سے جینے کا حق بھی چھین رہی ہے۔ ڈریپ کی جانب سے جاری کئے جانے والے نوٹی فکیشن، بہ الفاظ دیگر حکمنامے کے مطابق جان بچانے والی تقریباً ساڑھے چار سو دواؤں کی قیمت میں نو فیصد جبکہ دوسری تمام دواؤں کی قیمت میں پندرہ فیصد اضافہ کیا گیا ہے ، جن کی تعداد بیان نہیں کی گئی۔
ڈریپ کے مطابق ادویہ کی قیمتیں دوا ساز کمپنیوں کے مطالبے پر بڑھائی گئی ہیں۔ ترجمان ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے اپنے اعلامیہ میں فرمایا ہے کہ ’’مریضوں اور ملک کے وسیع تر مفاد میں قیمتیں بڑھانے کا قدم اٹھایا گیا ہے، اس کے باوجود بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر جو قیمتیں ہیں، پاکستان میں ان سے کم رہیں گی۔‘‘ پاکستان میں ایسے تمام اقدامات ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں کیے جاتے رہے ہیں۔ سابقہ حکومتیں بھی یہی دعوتے کرتی ہوئی چلی گئیں اور اب جو عوام کی ہمدرد و غم گسار حکومت آئی ہے وہ بھی یہی منتر پڑھ رہی ہے۔ اس کو زخموں پر نمک نہیں تیزاب چھڑکنے کا عمل قرار دیا جاسکتا ہے۔ اگر مریضوں اور ملک کا وسیع تر مفاد دواؤں کی قیمتیں بڑھانے میں ہے تو اسے وسیع ترین کرنا چاہیے اور صرف 15 فیصد تک پر اکتفا نہ کیا جائے۔ دنیا بھر میں جان بچانے والی دواؤں کی قیمتیں بڑھنے نہیں دی جاتیں تاکہ غریب ترین مریض بھی جان بچا سکیں۔ کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر اب بھی قیمتیں نسبتاً کم ہیں۔ بین الاقوامی صورتحال کا علم تو ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کو ہوگا لیکن یہ حقیقت ہے کہ پڑوسی ملک بھارت میں دواؤں کی قیمتیں پاکستان کے مقابلے میں نہ صرف کم ہیں بلکہ معیار بھی بہتر ہے اسی لیے کئی دوائیں اسمگل ہو کر آتی ہیں۔ پاکستان کے بارے میں معروف ہے کہ یہاں بیشتر دوائیں دو نمبر کی ہیں چنانچہ مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوتے۔ نام نہاد ادارہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی اس جعل سازی پر کوئی توجہ نہیں دیتا کیونکہ شاید اس کا کام قیمتیں بڑھانا ہے۔ دواؤں کی قیمت میں اضافے کا الزام بھی سابق حکومتوں پر آجائے گا اور اس بار بھی کہہ دیا جائے گا کہ سابق حکومتیں ملک کو لوٹ کر کھا گئیں اور ورثے میں اقتدار کے سوا کچھ نہیں چھوڑا چنانچہ خسارہ پورا کرنے کے لیے ہر شے کی قیمت بڑھائی جا رہی ہے۔ یہ راگ اگلے 5 سال تک الاپا جائے گا۔ اس بار بھی یہی کہا گیا ہے کہ ڈالر کی قدر میں 30 فیصد اضافے کے بعد ادویات میں استعمال ہونے والے خام مالک اور پیکنگ مٹیریل کے نرخوں میں اضافہ ہوا اور گیس و بجلی مہنگی ہونے سے بھی اس صنعت پر اضافی بوجھ پڑا۔ چنانچہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے دوا ساز اداروں کا مطالبہ مان لیا۔ اب اگر مریض دوائیں نہ ملنے سے مرتے ہیں تو مریں، کسی کی بلا سے کیونکہ یہ تو ان کے وسیع تر مفاد میں ہے۔ میڈیکل اسٹوروں کے مالکان کا کہنا ہے کہ کچھ دواؤں کی قیمتیں تو کمپنیوں نے پہلے ہی بڑھا دی تھیں۔ گزشتہ کئی دن سے یہ خبریں آرہی تھیں کہ کئی دوائیں مارکیٹ میں دستیاب ہی نہیں ہیں مگر سرکاری نمائندے یہ تاویلات پیش کررہے تھے کہ اگر کسی ایک برانڈ کی دوا نہیں مل رہی تو کسی دوسرے برانڈ کی وہی دوا لے لی جائے، ڈاکٹر بھی یہ تجویز کر دیں گے۔ لیکن ہر دوا میں کچھ نہ کچھ فرق ضرور ہوتا ہے اور مریض کو کسی اور برانڈ کی دوا راس نہیں آتی۔ اطلاعات کے مطابق دوا ساز کمپنیاں تو 40 فیصد اضافے کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ تاہم مہنگائی کی جو وجوہات بیان کی گئی ہیں ان کو دور کرنے کی ذمے داری موجودہ حکومت پر ہے۔ وہ کب تک ماضی کا رونا روتی رہے گی۔ ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہو یا گیس کی قیمت کی بے مثال گرانی اور بجلی کی مہنگائی، یہ سب تو نئی حکومت کے دور میں ہوا ہے۔ گیس نہ ملنے سے صنعتیں بند ہو رہی ہیں جس کی وجہ سے برآمدات بری طرح متاثر ہوئی ہیں اور روپے کی قدر گرانے کے باوجود برآمدات میں اضافہ نہیں ہوا۔ کہا جارہا ہے کہ امریکا میں بھی توچند دن پہلے 490 سے زائدادویات کے نرخ دگنے ہوگئے۔ امریکا و یورپ کی مثالیں دینے والے حکومتوں کی طرف سے دی گئی دیگر سہولتوں کا کوئی ذکر نہیں کرتے۔
کاش تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے نام کی لاج رکھتے ہوئے عوام کا کوئی ایک مطالبہ تسلیم کرکے ان سے بھی انصاف کیا ہوتا، جو اس کے دور میں مہنگائی کی چکی میں پہلے سے کہیں زیادہ بے دردی کے ساتھ پسے اور کچلے جا رہے ہیں۔ عوام کے مفادات اور ان کی فلاح و بہبود کے نام پر برسراقتدار آنے والی تحریک انصاف عوام کی نہیں،بلکہ دوا ساز کمپنیوں کی ترجمان بن کر کہتی ہے کہ پاکستان میں دواؤں کی قیمتیں بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر اب بھی کم رہیں گی۔ ترجمان کی جانب سے اگر یہ بھی بتایا جاتا تو بہتر تھا کہ پاکستان میں تیار ہونے والی اور دوسرے ملکوں سے پاکستان کے لئے تیار کی جانے والی دواؤں کا معیار کیا ہے؟ اس کی صرف ایک مثال پاکستان میں پیناڈول نامی ایک گولی روپے سوا روپے میں ملتی ہے، لیکن ایسی چار چھ گولیاں بھی بیرونی ممالک میں بننے والی ایک گولی کے برابر تاثیر نہیں رکھتی۔ اتنی سستی اور بے اثر دوائیں بنانے والی کمپنیاں دوا فروشوں اور اسپتالوں کو قیمتوں میں زبردست رعایت دینے کے علاوہ متعلقہ حکام کو رشوت، کمیشن، بھتے، تحفے اور نہ جانے کیا کیا پیش کرتی ہیں۔ ڈاکٹروں کیلئے بیرون ملک دوروں اور عیاشی کا اہتمام بھی اکثر و بیشتر دوازسا کمپنیاں کرتی ہیں۔ یہ سارا تیل تلوں (عوام) ہی سے نکالا جاتا ہے۔ ترجمان نے دوا ساز کمپنیوں کے وکیل کا کردار ادا کرتے ہوئے مزید فرمایا کہ قیمتوں میں مناسب اضافے کا یہ قدم ملک اور مریضوں کے وسیع تر مفاد میں اٹھایا گیا ہے۔ گویا ملک اور قوم کا مفاد بس یہی رہ گیا ہے کہ انہیں مسلسل زبوں حالی میں مبتلا کیا جاتا رہے۔ ترجمان کہتے ہیں کہ پچھلے ایک سال میں ڈالر تیس فیصد اور ادویہ میں استعمال ہونے والا خام مال اور پیکنگ میٹریل مہنگا ہوا۔ حکومت اور عوام سے زیادہ منافع خور دوا ساز کمپنیوں کے ترجمان یہ بتاتے ہوئے کیوں شرماتے ہیں کہ امریکی ڈالر کے نرخ آسمان تک پہنچانے کا عوام دشمن کارنامہ بھی موجودہ حکومت ہی کا ہے، جس نے تمام اشیائے صرف کی قیمتوں میں آگ لگادی ہے۔ بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھنے سے صنعت دوا سازی پر اضافی بوجھ پڑنے کا جو مروڑ ترجمان کے پیٹ میں اٹھا ہے۔ اس بوجھ کے ذمہ دار عوام نہیں، تحریک انصاف کی حکومت ہے۔ شرح سود میں اضافے کے علاوہ ترجمان نے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا بھی حوالہ دیا ہے، جو موجودہ دور حکومت میں شاید ہی کہیں بڑھی ہوں۔ اخباری صنعت سے وابستہ ملازمین حکومت کی سفاکانہ بے حسی کے باعث ایک طرف بے روزگار ہورہے ہیں تو دوسری جانب چھ چھ ماہ سے انہیں تنخواہیں نہیں ملی ہیں۔ ترجمان نے دوا ساز کمپنیوں کی وکالت کرنے کی کیا فیس وصول کی ہوگی کہ انہوں نے کئی غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے کام بند کرکے پاکستان چھوڑنے اور مقامی کمپنیوں کے اپنا کام سمیٹ کر سرمایہ کاری ختم کرنے کا تذکرہ کرنا ضروری سمجھا۔ اس کے برعکس ملک اور عوام کے مفادات کا مبہم اور لایعنی حوالہ دے کر قیمتیں بڑھانے کو ضروری قرار دیا۔ عام شہریوں کو ذرہ برابر بھی سہولت نہ دینے والی حکومت کی پارٹی کا نام ’’تحریک انصاف‘‘ ہے، جو اپنے نام کے بالکل برعکس ہے۔ یہ بھی ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کی طرح عوام کے ساتھ انصاف کرنے کے بجائے انہیں دو نہیں ، چار ہاتھوں سے لوٹنے کھسوٹنے میں لگی ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ انسان کے سوا دیگر حیوانات کے چاروں ہاتھ اور پیر برابر ہوتے ہیں۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے