Voice of Asia News

ایف بی آر میں پیش نہ ہونیوالوں کی جائیدادیں ضبط کی جائیں، چیف جسٹس

اسلام آباد(وائس آف ایشیا ) چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے غیرملکی اثاثہ کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ جو لوگ ایف بی آر میں پیش نہیں ہوئے ان کی جائیدادیں ضبط کر لیں۔پیر کو چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے غیرملکی اثاثہ اور بینک اکانٹس کیس کی سماعت کی۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ممبر آڈٹ نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی اے نے 895 لوگوں کا ڈیٹا فراہم کیا تھا، جن کی دبئی میں 1365 جائیدادیں تھی، اب تک صرف 27 لوگوں نے ادائیگیاں کی ہیں اور ان سے 270 ملین سے زائد کی ریکوریاں ہوچکی ہیں جب کہ 768 ملین کی مزید ریکوریاں ہوں گی، اس طرح مجموعی طور پر ایک ارب سے زائد کی ریکوریاں ہوں گی۔ 116 افراد نے ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھایا، انہوں نے 38 ارب کی جائیدادیں ظاہر کی، 125 لوگ ایف بی آر میں پیش نہیں ہوئے، علیمہ خان نے ایمنسٹی اسکیم میں جائیداد ظاہر نہیں کی۔رپورٹ کے مطابق ایک شخص مفرور، 5 فوت ہو چکے، 10 تعاون نہیں کر رہے، 97 افراد نے یو اے ای میں جائیداد سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے جبکہ 79 افراد نے ایف بی آر کے پاس اپنے ٹیکس ریٹرن جمع کرائے ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جو ڈیٹا فراہم کیا گیا اس کے مطابق ایف بی آر کی ریکوریوں کی رفتار بہت کم ہے، ایف بی آر کو شریفوں کا تھانہ کہا جاتا ہے، اب تک شریفوں کو اندر بٹھایا جانا چاہیے تھا، جو لوگ ایف بی آر میں پیش نہیں ہوئے ان کی جائیدادیں ضبط کر لیں، جو لوگ غیر ملکی جائیداد کو تسلیم کر چکے ہیں، وہ جرمانہ ادا کریں تاکہ پاکستان کی حالت بہتر ہو، عدالت نوٹس نہ لیتی تو ایف بی آر آج بھی بیٹھا ہوتا۔بعد میں کیس کی سماعت ملتوی کر دی گئی ۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے