Voice of Asia News

پاکستان معاشی استحکام کیلئے ایڈ کی بجائے ٹریڈ پالیسی اپنائے:انٹرویو: محمد قیصر چوہان

پاکستان معاشی استحکام کیلئے ایڈ کی بجائے ٹریڈ پالیسی اپنائے بہتر کوالٹی کی وجہ سے پاکستانی فرنیچر کی دنیا بھر میں مانگ ہےعالمی مارکیٹ میں پا کستانی فرنیچر مصنوعات کی برآمدات بڑھنے سے پاکستان کی معیشت مضبوط ہو گیبرطانیہ میں ایشین بزنس لیڈر ایوارڈ جیتنے والے پاکستانی نژادبرطانوی بزنس مین فرنیچر اِن فیشن کے چیف ایگزیکٹیو اسد شمیم کا ’’وائس آف ایشیا‘ ‘ کو خصوصی انٹرویو

https://www.furnitureinfashion.net/

اللہ تعالیٰ نے جس طرح پاکستان کو بے پناہ نعمتوں سے نواز رکھا ہے وہیں اس پاک ذات نے پاک سر زمین پر جنم لینے والوں کو بھی کمال ذہانت دے رکھی ہے۔ پاکستانی قوم کے ہونہار سپوت دُنیا میں جہاں بھی گئے انہوں نے اپنی انتھک محنت اور جفاکشی کی بدولت اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا کر پاکستان کا نام روشن کیا انہی میں سے ایک نام اسد شمیم کا بھی ہے جو اصول پسند بزنس مین اور باکردار انسان ہیں۔ جو ذریعہ معاش کے سلسلے میں انگلینڈ میں مقیم ہیں۔ محنت میں عظمت کا فلسفہ اسد شیم پر صحیح لاگو ہوتا ہے۔ انتھک محنت، ایمانداری اور لگن کے ساتھ انہوں نے اپنے آپ کو اس قابل بنایا ہے کہ آج ان کا شمار برطانیہ کے کامیاب بزنس مینوں میں ہوتا ہے۔ بزنس میں انتھک محنت اور ایمانداری کو شعار بنا کر انہوں نے ترقی کی منازل طے کیں۔برطانیہ میں ایشین بزنس لیڈر ایوارڈ جیتنے والے پاکستانی نژاد بزنس مین اسد شمیم نے زمانہ طالب علمی سے ہی اپنے کاروبار کی شروعات کی۔ مانچسٹر کے رہائشی اسد شیم نے بزنس کا آغاز کپڑوں اور گفٹ آئٹم کے ایک ڈپارٹمنٹل اسٹور سے کیا، جو اب ایک بڑے فرنیچر بزنس میں تبدیل ہوگیا ہے۔ برطانیہ میں ان کی کمپنی ملٹی ملین پاؤنڈز کی ہے، جس کی ویب سائٹ پر یومیہ ہزاروں افراد وزٹ کرتے ہیں۔ وہ معروف بزنس مین ہونے کے ساتھ ساتھ باکسنگ پروموٹر، بزنس مینٹور اور مارکیٹنگ کے امور پر ایک برطانوی لا فرم کے سینئر مشیر بھی ہیں۔
اسد شمیم کا شمار بھی تعلیم یافتہ، اصول پسند اور باکردار بزنس مینوں میں ہوتا ہے۔ جو لوگ اسد شمیم کو قریب سے جانتے ہیں وہ برملا اس بات کااعتراف کریں گے کہ وہ بچپن سے لے کر اب تک ایک ایسے نصب العین کے پرستار ہیں جس میں دکھی انسانیت کی بے لوث خدمت، امن، عدل و انصاف اور پاکستان اور پاکستانی شہریوں کی یکساں تعمیر و ترقی کا خواب شامل ہے یہی وجہ ہے کہ وہ ہر دل عزیز شخصیت ہیں۔ ان کی ایک اور خاص خوبی جس کا اعتراف اپنے اور بیگانے سب ہی کرتے ہیں یہ ہے کہ وہ دوستوں پر جان نچھاور کرتے ہیں اور وہ شرافت، حسن و اخلاق، عاجزی و انکساری کا پیکر ہیں ان کے نزدیک قدرت نے انسان کو دکھی انسانیت کی بے لوث خدمت کرنے، انصاف، علم، اعتدال اور نیکی سے محبت کرنے کیلئے پیدا کیا ہے۔ سراپا محبت، منسکر المزاج، صداقت اور دیانت کے اُجالوں میں لپٹی ہوئی شخصیت کے مالک اسد شمیم ملنسار، خلیق، نفیس، مخلص، ایماندار اور دکھی انسانیت کی بے لوث خدمت کرنے والے ایک ہمدرد انسان ہیں۔ اسد شمیم کی خواہش ہے کہ پاکستان امن کا گہوارہ بن جائے اور یہاں آئین و قانون کی حکمرانی قائم ہو جائے۔ عدلیہ اور میڈیا آزاد ہو، غریب عوام کو انصاف گھر کی دہلیز پر میسر ہو۔ کرپشن کی لعنت سے پاک جمہوری نظام قائم ہو جو دین اسلام کے بتائے ہوئے روشن راستے پر چلتے ہوئے ملک و قوم کو دنیا اور آخرت کی کامیابی سے ہمکنار کرائے۔ کسان، مزدور سمیت دیگر عوام خوشحال ہو۔ قوم کا ہر بچہ، بوڑھا اور جوان دین و دنیا کے تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو۔ اللہ کرے ان کی تمام خواہشات پوری ہوں ۔ گزشتہ دنوں نمائندہ ’’وائس آف ایشیا‘‘ نے برطانیہ میں ’’ڈیجیٹل میڈیا کی کامیاب ایپلی کیشن‘‘ بنانے پر برطانیہ میں ایشین بزنس لیڈر ایوارڈ جیتنے والے پاکستانی نژاد برطانوی بزنس مین فرنیچر اِن فیشن کے چیف ایگز یکٹو اسد شمیم سے جوخصوصی انٹر ویو کیا وہ قارئین کی خدمت میں حاضر ہے ۔
سوال: سب سے پہلے تو آپ ہمارے قارئین کو اپنے خاندانی پس منظر اور اپنی ابتدائی زندگی کے بارے میں بتائیں ؟
اسد شمیم : میرا تعلق پاکستان کے صوبہ پنجاب کے علاقے ٹوبہ ٹیک سنگھ سے ہے جبکہ میری پیدائش ساہیوال کی ہے، میں اپنی والدہ کے ساتھ 1976 میں برطانیہ آگیا تھا۔ جب میں برطانیہ آیا تو میری عمر پونے پانچ برس تھی۔ میں نے 1995 میں برطانیہ سے فنانس اور اکاؤنٹنگ میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی ۔بچپن ہی سے میں نے بزنس مین بننے کے خوب دیکھنا شروع کر دئے تھے،پھر ان خوابوں کی تعبیر کیلئے میں نے پڑھائی کے ساتھ بزنس شروع کرنے کا فیصلہ کیا اور یوں میں نے 1989 میں صرف 15 برس کی عمر میں 25 ہزار پاؤنڈز سے بزنس شروع کرکے اپنے خوابوں کوحقیقت کا روپ دینے کی بنیاد رکھی۔ہمارے خاندان کا کوئی فرد بھی بزنس سے وابستہ نہیں تھا،میں اپنے والدین کی اکلوتی اولاد ہوں،میرے والد ملازمت کرتے تھے انہوں نے زندگی کے ہر موڑ پر میری رہنمائی کی اور مجھے ہر ممکن سپورٹ کیا۔میں نے برطانیہ کے اچھے سکول ،کالج اور یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی جبکہ میری تربیت میرے والدین نے کی، جب بھی والد صاحب مجھے سکول چھوڑنے جاتے تھے تو راستے میں مجھے ایک اچھا اور کامیاب انسان بننے کے حوالے سے نصیحت آموز باتیں بتاتے تھے۔ انہوں نے مجھے پنجابی کے ساتھ ساتھ اُردو زبان بھی سکھائی۔برطانیہ میں ایشیائی باشندے بھی اپنے گھروں میں انگریزی ہی بولتے ہیں، لیکن میرے والدین نے ہمیشہ اپنی ثقافت اور روایت کو اولین ترجیح رکھا۔ ہم نے اپنی مادری زبان بھی بولی اور انگلش زبان پر بھی عبور حاصل کیا۔
سوال:آپ نے برطانیہ میں کونسا بزنس شروع کیا تھا؟
اسد شمیم : میں نے 1995 میں ورلڈ آف فیشن کے نام سے ایک اسٹور شروع کیا تھا، جس میں مردوں اور عورتوں کی گارمنٹس کے علاوہ شوز اور گفٹ کلیکشن بھی تھی۔میں نے 2005 اسی سٹور میں فرنیچر متعارف کرایا اور اس نے لوگوں کی بھر پور توجہ حاصل کی۔جب فرنیچر کا کام بڑھنے لگا تو میں نے سوچا کیا کہ 2006 میں فرنیچر کو آن لائن فروخت کیا جائے۔ اسی سال میں نے فرنیچر اِن فیشن (Furniture in Fashion)کے نام سے ویب سائٹ لانچ کی۔ چین سے آنے والا جو فرنیچر ہم 250 پاؤنڈ میں فروخت کرتے ہیں وہ ہمیں امپورٹ ڈیوٹی اور ٹیکس ملا کر 125 پاؤنڈ یعنی آدھی قیمت میں پڑتا ہے۔ لہٰذا برطانیہ میں فرنیچر کے کام میں بہت منافع ہے۔ ہماری کمپنی کا کاروباری حجم ملین پاؤنڈ میں ہے۔ ویب سائٹ پر کم سے کم 7 اور زیادہ سے زیادہ 10 ہزار افراد ہر روز وزٹ کرتے ہیں۔ دراصل اپنے سٹور میں فرنیچر رکھنے کا آئیڈیا مجھے یوں آیا کہ میرے پاس ایک جرمن ایجنٹ تھا اور اس نے مجھے بتایا کہ وہ جرمن کمپنی کا فرنیچر فروخت کرتا ہے۔ لہٰذا اس وقت میں نے ایک چھوٹے پیمانے پر فرنیچر کا بزنس شروع کیا اور اسٹور میں ان کا ایک چھوٹا کلیکشن رکھا۔ اس کے بعد جرمنی کے مزید سپلائرز کو ساتھ ملا کر فرنیچر کے کاروبار کو پروان چڑھایا۔ بعد ازاں میں نے کپڑوں کا کام بتدریج کم کرتے ہوئے بند کر دیا۔ 2001 میں میرا ڈپارٹمنٹ سٹور تھا اور آن لائن خریداری کا تصور بہت کم تھا۔ لیکن میرا ایک ویژن تھا کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں کے طور طریقے بدلتے ہیں۔ فرنیچر میں مسابقت کم تھی، اسی لئے ہم نے کپڑوں کے کاروبار پر فرنیچر کو ترجیح دی۔ کیونکہ فرنیچر کا فیشن بہت جلدی نہیں بدلتا۔ فرنیچر میں ایک، ایک پروڈکٹ 3 سے 5 برس تک فروخت کی جاسکتی ہے۔ اس کے برعکس کپڑوں کا فیشن ہر ہفتے بدلتا ہے۔برطانیہ میں ایک اوسط فرنیچر سیٹ 250 پاؤنڈ کا ہوتا ہے، جو 43500 پاکستانی روپے بنتے ہیں۔ اس فرنیچر کی اوریج لائف ٹائم 5 برس ہوتی ہے۔ فرنیچر اب ہم خود مینوفیکچر کرتے ہیں، میں نے ایجنٹس کی خدمات حاصل کر رکھی ہے جن کے ذریعے میں چین کی فیکٹریوں سے فرنیچر تیار کراتا ہوں۔ ہمارے باکسز پر برینڈ کا نام لگ کر آتا ہے۔ چین میں ہماری 20 فیکٹریاں کام کر رہی ہیں، جہاں سے فرنیچر بن کر آ رہا ہے۔ یورپ میں فرنیچر کی تیاری کی لاگت بہت بڑھ چکی ہے، جس کے باعث درآمد کنندگان کا جھکاؤچین کی طرف ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ جرمنز بھی بڑی تعداد میں اب اپنا فرنیچر جرمنی میں نہیں بنا رہے بلکہ وہ پولینڈ، ترکی و دیگر ممالک سے فرنیچر تیار کروا رہے ہیں، جس کے باعث جرمن فرنیچر کی ویلیو پہلے جیسی نہیں رہی۔ جرمن سپلائرز نے خود امپورٹ کرنا شروع کر دیا ہے۔
سوال:پاکستان کو غیر ملکی سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے ،تو آپ برطانیہ سمیت یورپ کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کے حوالے سے راغب کرنے کیلئے کیا کر رہے ہیں ؟
اسد شمیم : 2001 میں اس وقت کے وزیر خزانہ شوکت عزیز سے پاکستان جاتے ہوئے جہاز میں ملاقات ہوئی۔ دوران سفر وہ میری گفتگو سے کافی متاثر ہوئے اور انہوں نے مجھے کہا کہ اسد آپ نے پاکستان میں ایک بین الاقوامی سرمایہ کاری کانفرنس کا انعقاد کرنا ہے۔ جس پر میں نے حامی بھرلی اور پھر برطانیہ میں کلیکسو، فارماسیوٹیکل کمپنیوں، بینکرز اور سرمایہ کاروں سمیت تمام ایلیٹ کمپنیوں کو پاکستان جانے پر آمادہ کیا۔ تاکہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کریں اور ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان کے ساتھ تجارت کریں تاکہ پاکستان برآمدات میں اضافہ کیا جاسکے۔ اسلام آباد میں بین الاقوامی سرمایہ کاری کانفرنس کے انعقاد کے سلسلے میں میری تین مرتبہ شوکت عزیز سے بات بھی ہوئی۔ لیکن اس عرصے میں نائن الیون کا واقعہ ہوگیا، جس کے باعث بین الاقوامی سرمایہ کاری کانفرنس منسوخ ہوگئی۔ اس صورتحال پر مجھے بہت افسوس ہوا کیونکہ میں نے اس معاملے میں بہت محنت کی تھی اور اس کا مقصد صرف یہ تھا کہ میں اپنے آبائی ملک پاکستان کی خدمت کر سکوں۔بہرحال نائن الیون کے کچھ عرصے بعد میں نے شوکت عزیز سے متعدد بار رابطے کی کوشش کی مگر انہوں نے میری کال ہی اٹینڈ نہیں کی کیونکہ وہ وزیر اعظم بن چکے تھے۔میں بین الاقوامی سرمایہ کاری کانفرنس سے متعلق تمام تیاریاں مکمل کر بیٹھا تھا۔ برطانیہ سمیت یورپ کی مختلف ملٹی نیشنل کمپنیوں کو اپروچ کرکے ایسی فضا قائم کی تھی کہ پاکستان میں تجارت کا ماحول بن سکے ۔مگر حکومت کی جانب سے دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔ تمام بڑی کمپنیاں جو میری Credibilitکی وجہ سے پاکستان آ رہی تھیں، لیکن حکومت کی جانب سے کوئی مثبت رد عمل سامنے نہیں آیا۔ پاکستان کے ساتھ تجارت میں ہچکچاہٹ کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ غیر ملکی کمپنیوں کو پاکستان کے حکام اور افسران پر اعتماد نہیں ہے۔ حکومت کو چاہیئے کہ ایکسپورٹ اورئنٹڈ انڈسٹریز کو فروغ دیں اور جائزہ لیں کہ کن ممالک یا عالمی منڈیوں میں پاکستان کی کون سی مصنوعات جگہ بنا سکتی ہیں، اس سلسلے میں اوور سیز پاکستانی ایک پُل کاکردار ادا کرسکتے ہیں کیونکہ یہ ہی بیرون ملک پاکستان کا چہرہ ہیں۔ یہاں مقامی طور پر پاکستان میں انویسٹمنٹ سے متعلق بہت سی میٹگنز ہوتی ہیں، لیکن حکومت کی جانب سے ایک ٹیم متعین کی جانی چاہیے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ عمران خان کی حکومت میں بھی وہی کام ہو رہے ہیں جو پہلی حکومتوں میں ہو رہے ہیں۔
سوال : آپ پاکستان کی فرنیچر مارکیٹ اور مصنوعات بارے کیا کہیں گے ؟
اسد شمیم:فرنیچر کی صنعت میں پاکستان میں بہت زیادہ صلاحیت موجود ہے اور پاکستان دنیا بھر میں اپنی شاندار روایتی فرنیچر مصنوعات برآمد کر سکتاہے ،امریکا ،برطانیہ اور یورپی ممالک کی فرنیچرمارکیٹوں میں پاکستان کے تیار کردہ ہاتھ سے بنے ورلڈ کلاس شاندار روایتی فرنیچر کو بڑا پسند کیا جاتا ہے لہٰذاپاکستانی حکومت فرنیچر مصنوعات کی فنشنگ، ڈیزائننگ اور بین الاقوامی معیار کے مطابق اور جدید مشینری کے استعمال کی تربیت کیلئے فرنیچر انڈسٹری کی ہر ممکن مدد اور تعاون فراہم کرے ۔کستانی حکومت فرنیچر انڈسٹری پر زیادہ توجہ دے تو پاکستان کی برآمدات میں کئی گنا اضافہ کیا جا سکتا ہے ، پاکستان فرنیچر کی اعلیٰ مصنوعات تیار کر نے کی عمدہ صلاحیت رکھتا ہے کیونکہ پاکستان کے کئی علاقوں میں وافر مقدار میں شاندار لکڑی پائی جاتی ہے ،نسبتاً سستے اور بہتر کوالٹی کی وجہ سے پاکستانی فرنیچر کی دنیا بھر میں بڑی طلب ہے ، حکومتی تعاون سے پاکستان کی فرنیچر انڈسٹری برآمدات کو تیزی سے فروغ دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔حکومتی سرپرستی اور جارحانہ مارکیٹنگ حکمت عملی تشکیل دے کر چندبرس میں فرنیچر برآمدات کو دگنا کیا جا سکتا ہے۔ پاکستانی حکومت فرنیچرکا کاروبار کرنے والوں کو بیرون ممالک میں فرنیچر مصنوعات کی نمائشیں منعقد کرنے میں ہرممکن تعاون کرے تاکہ پاکستان کی اعلیٰ معیار کی فرنیچر مصنوعات کو دنیا میں متعارف کرا کر برآمدات کو بہترکیا جا سکے، پاکستان کے سفارتخانوں کو بھی چاہئے کہ وہ بیرونی ممالک میں فرنیچر مصنوعات کی مانگ کے بارے میں چیمبرز آف کامرس کو معلومات فراہم کریں تا کہ نجی شعبہ ممکنہ مواقعوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے۔ حکومت فرنیچر انڈسٹری میں جدید مشینری متعارف کرانے اور ملک میں فرنیچر انڈسٹری کیلئے مزید ٹریننگ سنٹر قائم کرنے پر توجہ دے تا کہ ہنر مند اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی بہتر فراہمی سے یہ صنعت تیزی سے ترقی کر سکے۔ پاکستان کو بہترین ٹیکسٹائل برآمد کرنے والے ملک کا اعزاز حاصل ہے لیکن اسے ہاتھ سے بنائے گئے ٹھوس لکڑی کے عمدہ فرنیچر کے بیرون ملک فروغ کیلئے بھی اقدامات کرنے چاہئیں اس سے پاکستان کی معیشت میں بہتری آئے گی۔ پاکستانی حکومت عالمی مارکیٹ میں پاکستان کی فرنیچر مصنوعات کی برآمدات کو بہتر فروغ دینے کیلئے ایک جامع حکمت عملی تیار کرے۔ فرنیچر مصنوعات کی نمائشوں پر مبنی معیشت جدید تکنیک ہے جس سے معاہدوں ، روابط، معلومات کے حصول اور ٹیکنالوجی کے تبادلے میں مدد ملتی ہے، اس کے علاوہ مقامی اور بین الاقوامی سطح پر خرید و فروخت کیلئے پلیٹ فارم دستیاب ہوتے ہیں،اس لئے پاکستانی حکومت کو چاہیے کہ وہ ملک بھر میں فرنیچر مصنوعات کی نمائشوں کے انعقاد کیلئے اپنا کرداد ادا کرے کیونکہ اس عمل سے عالمی برادری میں ملک کا مثبت تاثر اجاگر اور اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ فرنیچر مصنوعات کی نمائشوں میں غیر ملکیوں کی تسلسل کے ساتھ آمد کے باعث رینٹ اے کار، ٹرانسپورٹیشن، پرنٹنگ، سٹال سازی اور دیگر ترقیاتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ہوٹلنگ کے کاروبار میں بھی اضافہ ہو گا۔ پاکستان کی لکڑی کی صنعت بہت حد تک مستحکم ہوچکی ہے اور پاکستان کی فرنیچر سازی کی صنعت 95 فیصد ملکی ضروریات کو پورا کرتی ہے اور صرف چنیوٹ میں فرنیچر تیار کرنے کے 700 سے زائد یونٹس کام کر رہے ہیں جو مجموعی ملکی ضروریات کے 80 فیصد حصہ کو پورا کرتے ہیں اس کے علاوہ گجرات، پشاور، لاہور اور کراچی سمیت ملک بھر میں ہزاروںیونٹ ہیں، فرنیچر کی پاکستانی صنعت دو حصوں میں تقسیم ہے جن میں گھریلو استعمال اور دیگر مقاصد کا فرنیچر شامل ہے ،فرنیچر سازی کی مقامی صنعت میں ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں اور اگر مقامی صنعت کی ترقی اور فروغ کیلئے مراعات دی جائیں تو فرنیچر سازی کی صنعت سے پاکستان کی سماجی اور معاشی ترقی کی شرح میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ میں وزیر اعظم عمران خان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ فرنیچر سازی کی مقامی صنعت کیلئے سبسڈی کا اعلان کیا جائے اور بالخصوص صنعت کے فروغ میں حائل رکاوٹوں کے خاتمہ کیلئے بھی جامع اقدامات کی ضرورت ہے، فرنیچر کی صنعت کیلئے مراعات کی فراہمی اور رکاوٹوں کے خاتمہ سے اس کے فروغ میں نمایاں مدد ملے گی جس سے نہ صرف بے روزگاری کی شرح کو کم کرنے بلکہ دیہی معیشت کی ترقی میں بھی معاونت حاصل ہو گی۔ فرنیچر سازی کی ملکی صنعت کی ترقی اور فروغ سے فرنیچر کی درآمدات میں کمی کے ذریعے قیمتی زرمبادلہ بھی بچایا جا سکے گا جس سے ملکی خزانے پر پڑنے والے ادائیگیوں کے اضافی بوجھ کو بھی کم کیا جا سکے گا۔
سوال : آپ کو پاکستانی حکومت یا پھر عدلیہ سے کوئی شکوہ یا شکایت ہے؟
اسد شمیم : سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس کو میں نے مختلف مسائل کے حوالے سے تین خط لکھے ، لیکن انہوں نے ایک کا بھی جواب نہیں دیا۔ ان میں ایک تنازعہ پاکستان میں ہی ہماری زمینوں پر قبصہ کا بھی تھا۔ میں برطانیہ میں کسی معاملے پر توجہ دلانے کیلئے جب بھی برطانوی وزیر اعظم یا ملکہ الزبتھ یا کسی بھی وزیر کو لیٹر لکھتا ہوں تو فوری جواب آتا ہے۔ یہی سوچ اور نظریہ ہے جس کو پاکستان میں بدلنا ہوگا، کیونکہ اگر چیف جسٹس اہم ایشوز پر آفیشل لیٹر کا جواب نہ دیں تو میں ان کے بارے میں کیا سوچوں گا۔
سوال: آپ کے نزدیک کسی بھی ملک یا معاشرے کی ترقی کا راز کن اصولوں میں پوشیدہ ہوتا ہے؟
اسد شمیم : کسی بھی ملک یا معاشرے کی ترقی عوام کی خوشحالی اور معیشت کی مضبوطی کا راز کرپشن اور دہشت گردی کی لعنت سے پاک ایک ایسے جمہوری نظام میں مضمر ہے جہاں پر آئین و قانون کی حکمرانی ہو، عدلیہ اور میڈیا آزاد ہو، عوام کو انصاف گھرکی دہلیز پر میسر ہو، محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ ہو، کسان اور مزدور خوشحال ہو، قوم کے مستقبل کے معمار صحت مند اور تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوں، کھیل کے میدان آباد ہوں، توانائی اورپانی کا بحران نہ ہو، زراعت اور صنعتیں چلیں، حکمران، سیاستدان، افواج، بیورو کریسی، عدلیہ، میڈیا اور شہری محب وطن ہوں۔ کسی بھی معاشرے کی ترقی و خوشحالی کا راز دیر پا امن میں مضمر ہوتا ہے۔
سوال: اسد بھائی آپ کے نزدیک پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟
اسد شمیم : قائد اعظم محمد علی جناح کا پاکستان حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں کی بدولت آج دہشت گردی، توانائی کے بحران، کرپشن،مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سمیت دیگر بے شمار مسائل کا شکار ہے۔ پاکستان کو لوٹنے والوں نے گروپ بنا رکھے ہیں جس طرح ڈرگ مافیا، کلاشنکوف مافیا، کرکٹ مافیا، بھتہ مافیا، پولیٹیکل مافیا، امپورٹر مافیا، کارٹل مافیا اور بیورو کریسی مافیا ہیں جو ایک دوسرے کو تحفظ فراہم کرتے ہیں اسی طرح کرپٹ سیاستدانوں کا مافیا بھی ایک دوسرے کا تحفظ کرتا چلا آرہا ہے۔ بھتہ مافیا کی سرپرستی بعض کرپٹ سیاستدان کر رہے ہیں۔ بعض کلیدی عہدوں پر وہ بیورو کریٹ براجمان ہیں جو حکمرانوں کو کرپشن کے داؤ پیچ سکھاتے ہیں۔ اسی لیے دیانتدار بیوروکریٹس کو ہر حکومت کھڈے لائن لگا کر اپنے چہیتے اور فرمانبردار عہدیدار لگاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں بیورو کریسی کے باصلاحیت، دیانتدار، محب وطن افسران سائیڈ لائن میں بیٹھ کر اپنی ریٹائرمنٹ کے دن پورے کررہے ہیں۔ پاکستان میں ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی، بد عنوانی کے خاتمے، ٹیکس چوری، انسداد چور بازاری اور بلیک مارکیٹنگ کے قوانین روز اول سے کتابوں میں موجود ہیں مگر ان قوانین پر ایمانداری کے ساتھ عملدرآمد کوئی حکومت نہیں کر پائی جس کا خمیازہ ملک کے غریب عوام ایک عرصہ سے بھگت رہے ہیں۔ پاکستانی قوم کی ستم ظریفی یہ ہے کہ اس کے حکمران فوجی ہوں یا جمہوری، وہ سبھی پاکستانی عوام کے ٹیکسوں سے جمع خزانے کی لوٹ مار قومی اداروں پر اربوں نہیں کھربوں روپے ہتھیا کر بیرون ملک خفیہ یا بے نامی اکاؤنٹس میں جمع کرانے والوں پاکستان کے باہر کروڑوں، اربوں کے منقولہ و غیر منقولہ اثاثے بننے والے سیاستدانوں میں شامل شخصیات انصاف کے کٹہرے میں لانے کے عزم میں کمزوری کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں تاکہ جب وہ بھی اپنی معیاد پوری کر کے چلتے بنے تو ان کی جگہ اقتدار میں آنے والے ان سے بھی پوچھ گچھ نہ کرنے کی روایت برقرار رکھیں۔
سوال: آپ نے جن مسائل کی نشاندہی کی ہے ان سے عوام کو نجات کس طرح مل سکتی ہے؟
اسد شمیم : دیانتدار، با صلاحیت، مخلص اور محب وطن حکمران ملک کو گھٹا ٹوپ تاریکیوں، جہالت، غربت اور افلاس کی چکی سے نکال کر عوام کو ترکی، سنگاپور، ملائیشیا، کے برابر معیار زندگی مہیا کر سکتے ہیں۔ پاکستان کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والی بیورو کریسی، ٹیکس چوروں، موجودہ و سابق ارکان اسمبلی و سینٹ سے ہڑپ کردہ قومی دولت کو سپریم کورٹ نکلوانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ قومی اداروں میں اربوں روپے کی کرپشن کر کے بنائے گئے اثاثوں کو بحق سرکار ضبط کیا جائے گا سیاسی رشوت کے طور پر مقرر کئے گئے عہدیداروں کو نکال کر ان کی جگہ میرٹ پر نئی بھرتیاں کی جائیں۔ عوام کو انصاف ان کے گھر کی دہلیز پر دیا جائے۔
سوال: کیا آئی ایم ایف یا ورلڈ بینک سے قرض لے کر پاکستان کی معیشت مضبوط ہو سکتی ہے؟
اسد شمیم : آئی ایم ایف ہو یا ورلڈ بینک یا پھر کوئی بھی عالمی مالیاتی ادارہ کسی بھی ملک کو قرض دیتے وقت اس پر اپنی مرضی کی شرائط عائد کرتا ہے جن کا مقصد دراصل قرض کیلئے دی گئی رقم کی سود سمیت وصولی کو بھی یقینی بنایا ہوتا ہے۔ اس لیے پاکستان ہو یا دنیا کا کوئی بھی ترقی پذیر ملک اگر وہ اپنی معیشت میں بہتری کے نام پر آئی ایم ایف جیسے اداروں سے رجوع کرتا ہے تو وہاں کے عوام، سیاسی اشرافیہ، سماجی ماہرین یا کسی بھی شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے دانشوروں کو حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ قرض کے عو ض اس ملک کو اپنی معاشی پالیسیاں قرض دینے والے ادارے کی مقرر کردہ شرائط کے مطابق ترتیب دینا پڑتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے جب بھی آئی ایم ایف کے معاشی پروگرام میں شمولت کی تو اسے اس عالمی ادارے کی شرائط اور قواعد و ضوابط کو بھی تسلیم کرنا پڑا۔ لیکن زمینی حقائق کو دیکھا جائے تو اس قرض کے عوض وزارت خزانہ کو چاہتے نہ چاہتے ہوئے ایسے معاشی فیصلے کرنا پڑے جن کی وجہ سے عام آدمی کو بدترین مہنگائی اور مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ملکی معیشت اس وقت تک درست خطوط پر استوار نہیں ہو سکتی جب تک معاشی بحالی کیلئے قرض پالیسی سے جان نہیں چھڑا ئی جائے گی۔ جہاں تک آئی ایم ایف نے قرض لینے کا معاملہ ہے تو صرف پاکستان ہی نہیں دنیا کا کوئی ملک اس عالمی ادارے کے معاشی پروگرام کے ذریعے اپنی معیشت کو بحال نہیں کر سکا۔ جہاں جہاں بھی آئی ایم ایف سے قرض کی پالیسی کو اپنایا گیا وہاں ٹیکسوں کے بے ہنگم نظام نے عام آدمی کی زندگی کو عذاب تو ضرور بتایا لیکن معاشی آسودگی کی کوئی صورت دکھائی نہیں دی۔ اس لیے ہم تو اپنے معاشی ماہرین، وزارت خزانہ اور وفاقی حکومت کو کھلے لفظوں میں مشورہ دیں گے کہ جتنی جلدی ممکن ہو سکے قرض کے سودی نظام سے چھٹکارہ حاصل کر کے معیشت کو خود انحصاری کے اصول پر استوار کرنے کی منصوبہ بندی کی جائے۔ معیشت کے اس ہدف کواگرچہ آسانی سے تو حاصل نہیں کیا جاسکے گا تاہم اس راستے کو اختیار کر کے ہی معاشی بحران سے نکلنے کی سبیل کی جا سکے گی۔موجودہ جمہوری حکومت کو یہ حقیقت ہرگز صرف نظر نہیں کرنی چاہیے کہ 2018
کے انتخابات میں پاکستانی عوام نے بد ترین معاشی پالیسی سے تنگ آکر اس پراعتماد کا اظہار کیاتھا۔ لوگ یہ اُمیدرکھتے ہیں کہ وزریراعظم عمران خان اپنی ٹیم کے ساتھ ملکی معیشت کوایسے خطوط پراستوار کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے کہ جس کے نتیجے میں میں عام آدمی کی آمدن اور ذرائع آمدن میں اضافہ، افراط زر میں کمی اور شرح نمو میں بڑھوتری کو یقینی بنایا جا سکے۔ موجودہ حکومت اگر اوپر سے نیچے کی طرف کرپشن کے خاتمے پر توجہ دے تو اس سے بھی بہت سے معاشی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ مصنوعی مہنگائی، ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ جیسے سماج دشمن رجحانات کے خلاف راست اقدام، توانائی کے بحران پر قابو اور امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنا کر بھی معاشی حالات میں مثبت تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں۔ اس حقیقت میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان اپنے قدرتی وسائل، افرادی قوت، یوتھ، کھیل، سیاحت، صنعت، تجارت، زراعت اور برآمدات جیسے پہلوؤں کو منظم منصوبہ بندی کے تحت بروئے کار لا سکتے تو نہ صرف ہماری معیشت میں انقلاب آسکتا ہے بلکہ ہم قرض لینے کے بجائے دینے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہو سکتے ہیں لیکن اس کیلئے بیدار معز قیادت اور قوم پرستی کے جذبے سے سرشار سیاسی دانش کی اشد ضرورت ہے۔
سوال: آپ کے خیال میں پاکستان کی غریب عوام کو مہنگائی کے عفریت سے کس طرح نجات مل سکتی ہے؟
اسد شمیم : پاکستان کی غریب عوام کو مہنگائی کے عفریت سے بچانے کیلئے کارٹلوں پر پابندی عائد کرنا ہو گی۔ وزیراعظم کو Competition Commission of Pakistan Lawمیں ایک آرٹیکل شامل کروانا چاہیے کہ ’’پاکستان میں کارٹل سازی ثابت ہونے پر کارٹل میں شامل کارخانہ داروں، مینوفیکچررز، کمرشل اداروں کے مالک اور منیجرز کو کم از کم دو سال جیل میں گزارنے ہوں گے‘‘ امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوی لینڈ، جاپان، سنگاپور، جنوبی کوریا، چین، ملائیشیا، ترکی سمیت دنیا کے مہذب ممالک میں کارٹل اور اجارہ داری کو پیدا ہونے سے روکنے کے لیے بھاری جرمانوں کے علاوہ لازمی قید کی سزا دینے کی شقیں موجود ہیں۔ پاکستان میں بد قسمتی سے آج تک کسی بھی حکومت نے کارٹل ثابت ہونے پر کارٹل کے ممبر اداروں کے مالکان کو جیلوں میں ڈالنے کا قانون نہیں بنایا۔ آج وزیراعظم قومی مسابقتی کمیشن قانون میں مذکورہ شق شامل کر کے اسے عملی جامہ پہنانا شروع کر دیں تو پاکستان کی غریب عوام کو مہنگائی کے ’’جن‘‘ سے نجات مل جائے گی۔ کیونکہ اس اقدام سے ملک کے اندر موجود مرغی، انڈے، چینی، ددودھ، دہی، چاول، دالوں، گھی، تیل، سیمنٹ اور سریے سمیت عام استعمال اشیا کی من مانی قیمتیں مقرر کرنے والوں کو سزا ملے گی۔ اس کے بعد وہ صارفین سے من پسند قیمت وصول کرنا چھوڑ دیں گے جس سے مہنگائی، قلت اور ذخیرہ اندوزی ختم ہو کر رہ جائے گی۔ حکمران ایوان وزیراعظم، کیبنٹ انکلیو اور چیف منسٹرز ہاؤسز سے باہر نکل کر خود آٹے، دال، چینی، چاول، مرغی، انڈے، دودھ، سفری اخراجات، نان روٹی اور غریبوں کے استعمال کی دوسری اشیاء مثلاً بچوں کی کتابوں، کاپیوں، کپڑوں کے بھاؤ بھی معلوم کرنے کا آغاز کریں تاکہ انہیں معلوم ہو کہ ’’سب اچھا‘‘ کی رپورٹیں کہاں تک درست ہیں، سب اچھا کی رپورٹیں دینے والے لوگ وزیراعظم کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔
سوال: ملک کی اقتصادی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کیا ہے؟
اسد شمیم : دہشت گردی، کرپشن اور توانائی کا بحران ملک کی اقتصادی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ان مسائل کی وجہ سے مینوفیکچرنگ سیکٹر تباہی سے دو چار ہے۔
سوال: ملک کو معاشی طور پر مضبوط بنانے کیلئے کن اقدامات کی ضرورت ہے؟
اسد شمیم : ملک کو امن و امان کا گہوارہ بنایا جائے۔ توانائی کے بحران کا خاتمہ کیا جائے۔توانائی کے بحران کا خاتمہ کرنے کیلئے اور سستی بجلی کے حصول کیلئے حکومت کالا باغ ڈیم تعمیر کرے۔ پاکستان کی عدلیہ اور حکومت نے دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم تعمیرکرنے کا درست فیصلہ کیا ہے ۔ لیکن کالا باغ ڈیم کی تعمیر پاکستان کیلئے سب سے زیادہ ضروری ہے ۔معیشت کی مضبوطی کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیکسوں کی وصولی ناگزیر ہوتی ہے۔ اس کے لئے منصفانہ اصول ٹیکس جمع کرانے والے اصول ایف بی آر کو اپنانے ہوں گے۔ منصفانہ اصول سے مراد ہے زیادہ آمدنی والوں سے زیادہ اور کم آمدنی والوں سے کم ٹیکس وصول کرنا۔ اس سلسلے میں کسی کو بھی ٹیکس سے استثنیٰ نہ دیا جائے، چاہے اس کی آمدنی زراعت سمیت کسی بھی شعبے سے کیوں نہ ہو۔ بنیادی نکتہ یہ ہونا چاہیے کہ ٹیکس سے استثنیٰ والی سالانہ آمدنی کی حد تمام افراد کے لیے یکساں ہو۔ ایک حد سے زیادہ آمدنی والے تمام افراد سے یکساں نرخوں سے ٹیکس وصول ہونا چاہیے تاکہ ملک و قوم خود انحصاری کی منزل پا سکیں اور ان کو بین الاقوامی اداروں اور دوسرے ملکوں کے سامنے کشکول لے کر نہ پھرنا پڑے۔ ٹیکس چور سے بھاری رشوت لے کر چھوڑنے کا سلسلہ ایف بی آر کو بند کرنا ہو گا اور ٹیکس چور سے نہ صرف جرمانوں کے ساتھ ٹیکس وصول کرنا ہو گا بلکہ انکم ٹیکس و سیلز ٹیکس قانون کے تحت جیلوں میں ڈالنا ہو گا گھروں سے ہتھکڑیاں لگا کر جیل میں جاتے ہوئے ٹی وی چینلوں پر براہ راست دکھانے کا بندوبست کرنا ہو گا تاکہ باقی ٹیکس چور عبرت پکڑ سکیں۔ مذکورہ دو اقدامات کے ساتھ ساتھ ایف بی آر اور حکومت کو ملکی معیشت کی زیادہ سے زیادہ ڈاکو مینٹیشن کرنا ہو گی تاکہ لوگوں کے پاس ٹیکس چوری کے مواقع کم سے کم ہوں لوگوں کو ٹیکس کی ادائیگی کی ترغیب دینے کے لیے اگر حکمران اور پارلیمنٹرین اپنی آمدن کے گوشوارے اور دولت کے گوشوارے رضاکارانہ طور پر برسر عام داخل کریں تو خود اپنی سالانہ آمدنی اور اثاثوں کو میڈیا پر دکھا کر داخل کریں تو عوام کو مزید ترغیب ملے گی کیونکہ عام لوگوں کا تاحال یہ تاثر ہے کہ حکمران سول و فوجی بیورو کریٹس، پارلیمنٹرین، ارکان اسمبلی عوام پر تو ٹیکس لگاتے ہیں لیکن بیشتر خود پورا ٹیکس ادا نہیں کر رہے۔ سول و ملٹری بیورو کریسی کی تنخواہوں سے تو ٹیکس منہا ہوتارہتا ہے لیکن بہت سے افسران کے تنخواہ کے علاوہ بھی ذرائع آمدن ہیں جن پر ٹیکس کی ادائیگی قانونی طور پر لازم ہے۔ہر وزارت ہر ڈویژن ہر محکمے سے کرپشن کا خاتمہ ناگزیر ہو گیا ہے۔ کرپشن ختم کئے بغیر پاکستان کی معیشت مضبوط نہیں ہو سکتی۔
سوال: بجلی کی قیمتوں میں ہو شربا اضافے سے غریب عوام کو کس طرح نجات مل سکتی ہے؟
اسد شمیم : میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان بھر میں تقریباً دو سو ارب روپے مالیت کی بجلی چوری ہوتی ہے۔ حکومت نہ صرف بجلی چوری کرنے والوں بلکہ بجلی چوری کرانے میں ملوث کمپنی اہل کاروں اور بااثر کارخانہ داروں کو جب جیل میں ڈالنا شروع کرے گی تو پھر بجلی کا ٹیرف صارفین کی کمر توڑنے والا نہیں ہو گا بلکہ ایسا ٹیرف حقائق پر مبنی ہو گا۔ اس کے لیے انہیں ڈیزل، فرنس آئل، گیس سے بجلی بنانے والے نجی اداروں (آئی پی پیز) سے ان کی سرکاری ریکارڈ میں موجود معاہدوں میں موجود پیداواری گنجائش کے مطابق بجلی کی تیاری شروع کروائیں گے تو بجلی کی قیمتیں بتدریج کم ہوں گی اور جن بیورو کریٹس، سیاستدانوں اور سابقہ حکومتوں کے عہدیداروں نے غلط معاہدے کئے یا معاہدوں کے مطابق نئے تھرمل پاور پلانٹ نہیں لگوائے، انہیں بھی انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنا ہوگا۔ اگر کارٹل بنانے والے سیٹھوں کو حکومت سیاسی، معاشرتی، کاروباری وابستگیاں بالائے طاق رکھ کر انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کر کے جیل میں بند کروائے تو غریب عوام کو ریلیف مل جائے گا۔
سوال: صنعتی یونٹ کسی بھی ملک کی ترقی اور معیشت کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں معاملہ اس کے برعکس ہے پاکستان میں صنعتیں تباہی کی راہ پر گامزن ہیں، آپ کے نزدیک اس کی کیا وجوہات ہیں؟
اسد شمیم : پاکستان کی صنعتوں کو امن و امان ، گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ نے تباہ کیا ہے اگر یہ مسائل حل کر دیے جائیں تو پاکستان کے 80 فیصد سے زائد مسائل حل ہو جائیں گے۔ پاکستان اس وقت اندرونی و بیرونی خطرات کا سامنا ہے۔ اندرونی طور پر پاکستان بجلی اور گیس کے بحران کی وجہ سے معاشی بدحالی کا شکار ہے جبکہ بیرونی طرز پر غیر ملکی میڈیا پاکستان کا امیج خراب کرنے میں مصروف ہے۔ پاکستان کا امیج دنیا میں اس قدر خراب ہو چکا ہے کہ غیر ملکی انشورنس کمپنیاں پاکستان سفر کرنے والوں کی انشورنس نہیں کرتیں۔ کوئی بھی تاجر اگر اپنے خریدار سے ملاقات کرنا چاہتا ہے تو بنگلہ دیش، بھارت اور دبئی جاناپڑتا ہے۔ جب پاکستانی مصنوعات کا خریدار ہی ملک نہیں آئے گا تو ملک کی برآمدات میں کس طرح اضافہ ممکن ہے۔ کراچی بندرگاہ ہونے کی وجہ سے ٹرانزٹ ٹریڈ کا حب ہے اسی لیے ہم تجارتی مرکز اور پاکستان کی شہ رگ کا درجہ رکھتا ہے۔ ایک دن کراچی بند ہونے کی وجہ سے تقریباً تین ارب روپے کا نقصان ہو جاتا ہے اور نہ صرف کاروباری سرگرمیوں کا نقصان ہوتا ہے بلکہ روزانہ اجرت کمانے والے 25 سے 30 لاکھ افراد بھی متاثر ہوتے ہیں۔ ملک میں نئی صنعت کاری نہیں ہو رہی جبکہ موجودہ صنعتیں بند ہو رہی ہیں۔ اگر اس صورتحال پر بروقت قابو نہ پایا گیا تو امن و امان کا مسئلہ مزید سنگین ہو جائے گا۔ سنگاپور، ہانگ کانگ، ویت نام، کمبوڈیا جیسے شہروں پر مشتمل ملکوں کی برآمدات 100 ارب ڈالر سے بڑھ چکی ہے اور ہم 22 کروڑ سے زائد آبادی والے ملک ہوتے ہوئے بھی صرف 25 ارب ڈالر تک پہنچ سکے ہیں۔ ملک کو اس وقت معاشی اعتبار سے جتنے بھی مسائل ہیں وہ حل طلب ہیں لیکن اس کیلئے صحیح قیادت کی ضرورت ہے جو ملک کو صحیح سمت میں لے جانے کی اہلیت اور ارادہ رکھتی ہو۔ پاکستان کے وسائل اب بھی اس قدر ہیں کہ اگر اُسے استعمال میں لایا جائے تو ہم امداد لینے کے بجائے امداد دینے والے ملک بن سکتے ہیں۔ خاص کر معدنیات اور زراعت ایسے شعبے ہیں کہ ہماری معاشی ترقی کی رفتار ترقی یافتہ ممالک کے برابر ہو سکتی ہے۔ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی میں سب سے زیادہ اہم کردار صنعتی شعبہ ادا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں صنعتی شعبے کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے لیکن ہمارا صنعتی شعبہ چند ایسی مشکلات سے دوچار ہے جس کی وجہ سے وہ معاشی ترقی میں اپنا خاطر خواہ کردار ادا نہیں کر پا رہا، ان مشکلات میں سر فہرست زیادہ پیداواری لاگت ہے۔ پٹرول، بجلی اور گیس ہر صنعت کیلئے خام مال کا درجہ رکھتے ہیں اور ان کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے مثبت اور صنعتی اثرات ہر صنعت پر مرتب ہوتے ہیں۔
سوال: ہماری کرنسی کی گرتی ہوئی صورتحال نے معیشت پر کیا اثرات مرتب کیے ہیں؟
اسد شمیم : ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کم ترین سطح پر آئی جس کی وجہ سے درآمدات کی لاگت بے تحاشا بڑھ گئی ہے۔حکومت نے روپے کی قدر کو مستحکم رکھنے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کیے۔
سوال: زراعت ہماری معیشت کا ایک اہم شعبہ ہے اس شعبے کی حالت زار پر آپ کیا کہیں گے؟
اسد شمیم : ہماری زراعت کا حال بہت ہی خراب ہے ہمارے ہاں آبپاشی کے بغیر زراعت کی ترقی نا ممکن ہے ہماری داخلی سیاست نے بڑے آبی ذخائر کو اپنے مکروہ عزائم کی بھینٹ چڑھا دیا، اگر پانی سمندر میں جانے کی بجائے ڈیمز میں جمع ہو تو کیا قباحت ہے؟ کالا باغ ڈیم ہمارے زراعت کیلئے ناگزیر ہے اور ایک بہترین جگہ کالاباغ پر بہترین چوائس سے اس وقت گلوبل وارمنگ بڑھ رہی ہے ہمالیہ کے گلیشئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں اگلے 30 سے 40 سال میں سارے گلیشئرز پگھل جائیں گے اور اس تناظر میں ہمیں آبی ذخائروں کی اشد ضرورت ہے شعبہ زراعت کو جنگی بنیادوں پر قرضے دے کر اس ملک و قوم پر بڑا احسان کرنا ہو گا ہم زراعت سے منسلک ہیں اور اس کے بغیر ہم کچھ بھی نہیں، زراعت ہمارا وہ ہتھیار ہے جو ہمیں زندگی کی سانسیں فراہم کرتا ہے۔
سوال: زرعی اجناس اور لائیو سٹاک کی زراعت کے شعبے میں کیا اہمیت ہے؟
اسد شمیم : پاکستانی زراعت کا غالب فیکٹر لائیو سٹاک ہے، پاکستانی زراعت کے شعبے میں 52 فیصد حصہ صرف لائیو سٹاک کا ہے اور باقی 48 فیصد حصہ چاول، گندم، گنا، کپاس، اور فورسٹ کا ہے۔ لائیو سٹاک اکیلے 52فیصد فراہم کر رہا ہے اور اس فیلڈ میں پوٹینشل ہے ہماری ڈیری اور میٹ انڈسٹری تو ہے لیکن ڈھنگ سے اسے سائنسی بنیادوں پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت دنیا کی معیشت جس راستے پر چل رہی ہے، اس کے منفی اثرات ہم پر بھی مرتب ہوئے۔ اصل میں گلوبل فوڈ ٹریڈ میں افواہوں کی وجہ سے فوڈ انڈسٹری میں قلت پیدا ہوئی،ہمارے ہاں مینجمنٹ کی وجہ سے بھی بحران پیدا ہو رہے ہیں بیج اور کھاد خالص ہوں اور سستی ملے تو مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
سوال: آپ کے نزدیک پاکستان حکومت کس طرح توانائی کے بحران پر قابو پا سکتی ہے؟
اسد شمیم : پاکستان میں بجلی پیدا کرنے والے اتنے قدرتی عوامل موجود ہیں کہ ہم توانائی میں نہ صرف خودکفیل ہوسکتے ہیں بلکہ بیرونی دنیا کو بھی بجلی فروخت کر کے کثیر زرمبادلہ کما سکتے ہیں۔ لیکن حکومت کے ایوانوں اور اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے لوگ بجلی سمیت کسی بھی مسئلے کو حل کرنے میں مخلص دکھائی نہیں دیتے۔ توانائی کے بحران پر قابو پانے کا بہترین حل کالاباغ ڈیم سمیت دیگر نئے ڈیمز کی تعمیر میں پوشیدہ ہے۔ کالا باغ ڈیم کی تعمیر پاکستان کو خوشحالی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔
سوال: پاکستان میں دہشت گردی کے کیا اسباب ہیں اور پاکستان کو اس سے کیسے نکالاجا سکتا ہے؟
اسد شمیم : پاکستان جغرافیائی طور پر ایک ایسے خطے میں واقع ہے کہ جہاں ہماری آزادی ہی سے ہمیں سیاسی اور بین الاقوامی مفادات اور برتری کی خاطر بہت سے مسائل کا سامنا رہا ہے۔چین کے علاوہ باقی ہمسایہ ممالک سے پر امن تعلقات نہ ہونے کی وجہ سے ہمارا ملک دہشت گردی سمیت جہالت، غربت اور تفرقے بازی کے بڑے مسائل کا سامنا کرتا آرہا ہے۔ خاص طور پر ناخواندگی اور غربت کی وجہ سے ہماری نوجوان نسل کی بہتر نشوونما نہیں ہو سکی جس نے ہمیں دہشت گردی اور دیگر گمبھیر مسائل میں دھکیل دیا ہے۔ اس بھنور سے نکلنے کا واحد راستہ تعلیم اور صرف تعلیم ہے۔ شرح خواندگی میں خاطر خواہ اضافہ کر کے روزگار کے مواقع بہتر اور معیشت کو صحیح ڈگر پر ڈال کر ایسے مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ کچھ عرصہ بعد یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔پاکستان کے حکمرانوں کے سامنے سب سے بڑا ہدف نوجوانوں کی صحیح اور درست تعلیم و تربیت ہونا چاہیے ۔ تعلیمی ایمرجنسی اور انقلاب سے پاکستانی معاشرے میں امن، رواداری، ہم آہنگی اور خوشحالی لا ئی جا سکتی ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کے اہل شعور، اہلِ ثروت، اہلِ تعلیم، اہلِ قیادت، سیاستدانوں، خطیبوں، عالموں اور میڈیا کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو ہر اس نعمت سے نوازا ہے جس سے ترقی اور خوشحالی کے زینے طے کیے جا سکتے ہیں۔ محنتی، ذہین اور جفا کش لوگ، زرخیز زمین، چاروں موسم، قدرتی وسائل، معدنیات غرض سب کچھ پاکستان کے پاس ہے لیکن اگر کمی ہے تو عزم، ارادے اور مواقع کی۔ یہ دہشت گردی، غربت، سیاسی عدم استحکام و عدم برداشت، بے روزگاری، معاشی و اقتصادی مسائل ایسے نہیں ہیں جو نا قابل حل اور ان پر قابو پانا نا ممکن ہو۔ دنیا کے بہت سے ممالک کو ان کا سامنا کرنا پڑا ہے اور انہوں نے بتدریج ان مسائل پر آہستہ آہستہ قابو پایا ہے اور آگے بڑھ کر ترقی پذیر سے ترقی یافتہ بنے ہیں۔ ترکی، چین، سری لنکا کی مثال لے لیں، میرے خیال میں ہم تاریخ کے ایک اہم موڑ سے گزر رہے ہیں۔ راستہ کٹھن ضرور ہے لیکن منزل دُور نہیں ہے۔ وہ دن یقیناًضرور آئے گا جب پاکستان کا شمار بھی چین، سری لنکا، ملائیشیا اور ترکی جیسے ممالک میں ہو گا۔ میرا گمان ہے کہ پاکستان 2030 میں آج سے یقیناًبہت مختلف ہو گا۔ پاکستان کو ایک نیا اور مختلف یعنی خوش حال، پر امن اور بہتر دیکھے گی۔ حکومت تعلیمی شعبے میں ہنگامی حالات کا اعلان کرے۔ معاشی و اقتصادی ایمرجنسی نافذ کریں اور نوجوانوں کو موقع دیں پھر دیکھیں یہاں کیسی مثبت تبدیلی آتی ہے۔
سوال: آپ کے نزدیک پاکستان کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کا فارمولا کیا ہے؟
اسد شمیم : اسلام امن اور علم کا دین ہونے کے علاوہ انسان کی فطرت اور ضرورت دونوں سے مکمل طور پر آشنا ہے ہم خوش نصیب ہیں کہ مسلمان ہیں ایک ایسے دین کے پیر کار جو ہمیں جینے کا صحیح گر بتاتا ہے اسلام میں حکم دیا گیا کہ ’’علم حاصل کرنا ہر مرد اور عورت پر فرض ہے‘‘ اس حدیث نے علم کی افادیت اور اس کا مقام ظاہر کر دیا ہے کوئی بھی مذہب ایسا نہیں ہے جو علم کے حصول کو اپنے پیرو کاروں پر فرض قرار دے۔ تعلیم ہر انسان کے لیے اس طرح سے ضروری ہے جس طرح آکسیجن زندگی کی حیات کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ تعلیم انسان کو معاشرے میں باعزت مقام اور آخرت کی آگائی دلاتی ہے انسان اور حیوان میں فرق پیدا کرتی ہے باقی اس کے بغیر جہالت کا اندھیرا ہے اور جہالت حیوانیت سے بھی بدتر شے ہے آج دنیا بہت تیزی سے ترقی کر رہی ہے دنیا کے تمام ممالک تیزی سے دوڑ رہے ہیں اور ترقی کی منازل طے کرنے میں ہر ملک و قوم کو کسی ایک فرد کی تعلیم نہیں درکار بلکہ پورا کا پورا معاشرہ جس میں مرد خواتین برابر کی شریک ہوں تعلیمی و تربیت دی جاتی ہے جو بھی ملک تعمیر و ترقی کا خواہاں ہے وہ اپنی اس ترقی کے سفر میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کی شمولیت کو بھی ایک لازمی امر قرار دیتا ہے کیونکہ کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کا کردار بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے اور اس کی اہمیت سے قطعی طور پر انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ حصول علم تو ہر مردوزن کا حق ہے۔ لیکن مردوں کی نسبت خواتین کیلئے تعلیم کا حصول بہت ضروری ہے کیونکہ انہوں نے آخر آنے والی نسل کی اچھی تعلیم و تربیت کرنی ہوتی ہے۔ آئندہ آنے والی نسل کی اچھی تعلیم و تربیت ایک پڑھی لکھی ماں ہی بہتر طور پر سر انجام دے سکتی ہے۔ اس لیے پاکستان کی ہر عورت کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا ہو گا اور جس دن پاکستانی معاشرے نے یہ بات سمجھ لی کہ کامیابی کی راہ پر جب تک مرد اور عورت ساتھ قدم بڑھا کر نہیں چلتے پاکستان ترقی نہیں کر سکتا اس دن ہمارے معاشرے کی ہر برائی عورت کا استحصال اس کے وقار کو مجروح کرنا ختم ہو جائے گا اور پاکستان بھی دیگر ممالک کی طرح ترقی یافتہ ملک کہلائے گا ۔
سوال :آپ کے خیال میں چین نے نئی تجارتی گزرگاہوں کی پالیسی کس طرح ترتیب دی ہے اورپاک چین اکنامک کوریڈور کی تعمیر کا پس منظر اور مقاصد کیاہیں؟
اسد شمیم : چین کی تجارت ایک جانب تو مشرق وسطیٰ اور افریقی ممالک کے ساتھ ہے دوسری چین نے یورپی یونین کے ممبرممالک کے ساتھ بھی قریبی تجارتی تعلقات استوار کررکھے ہیں، یورپی یونین کے ساتھ تجارت کیلئے چین نے وسطیٰ ایشیائی ممالک کے راستے ایک ہائی وے تعمیر کی ہے جس کے ذریعے وہ اپنی تجارت کر سکے گا۔ مشرق وسطیٰ اور افریقی ممالک کے ساتھ تجارت میں چین کو کئی طرح کی مشکلات درپیش تھیں، چین کے جاپان، فلپائن، کوریا اور مشرق بعید کے دیگر کئی ممالک کے ساتھ تنازعات موجود ہیں، اس صورتحال میں چین اپنی تجارت کے لیے محفوظ ترین راستے کے تلاش میں تھا جو گوادر کی صورت میں اسے مل گیا ہے۔ اس لیے چین نے گوادر پورٹ کا انتظام سنبھالنے اور اکنامک کوریڈور تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چین میں اب تک ہونے والی ترقی کا مرکز اس کا مشرقی علاقہ رہا جبکہ سنگیانگ سمیت پاکستان سے ملحقہ چین کا مغربی حصہ ابھی تک پسماندہ اور ترقی کے لحاظ سے بہت پیچھے ہے دوسری جانب چین کی تمام تر بحری تجارت سٹیٹ آف مالا کا کے راستے ہو رہی ہے، سٹیٹ آف مالاکا دراصل ایک بہت ہی تنگ بحری گزرگاہ ہے جہاں ایک وقت میں ایک بحری جہاز ہی گزر سکتاہے، چین زیادہ تر خام تیل مشرق وسطیٰ کے ممالک سے درآمد کرتا ہے اور چین میں برآمد کئے جانے والے تیل کا 70 سے 80 فیصدحصہ اسی راستے سے آتا ہے، مشرقی وسطیٰ سے اس بحری راستے کے ذریعے سامان کی ترسیل میں بہت زیادہ وقت لگتاہے، مشرق وسطیٰ سے کارگو چین تک پہنچانے میں لگ بھگ 4 سے 5 ہفتے لگ جاتے ہیں پھر چین کے مشرق ساحلوں پر پہنچنے والے کارگو کو مغربی چین تک پہنچانے کیلئے مزید وقت درکار ہوتاہے جبکہ یہی کارگو پاکستان کے راستے چین تک ایک ہفتے میں پہنچ سکتا ہے اس طرح کارگو کی ترسیل میں نہ صرف وقت بلکہ اخراجات میں نمایاں بچت ہو سکتی ہے، دوسری جانب کسی عالمی طاقت کے ساتھ تنازعے کی صورت میں سٹیٹ آف مالاکا کے روٹ کے بند ہونے کے خدشات بھی موجود رہتے ہیں جبکہ چین پاکستان کے راستے آسانی اور کسی خدشے کے بغیر اپنا سامان تجارت منگوا سکتا ہے، اسی وجہ سے چین نے گوادر بندرگاہ کاانتظام سنبھالنے اور اکنامک کوریڈورتعمیر کرنے کا فیصلہ کیا۔
سوال: گوادر پورٹ کی ڈویلپمنٹ سے خطے کی تجارت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
اسد شمیم : گوادر پورٹ کی اہمیت کاجائزہ لینے کیلئے پہلے ہمیں دیگر پورٹس اورخطے کی تجارت کا جائزہ لینا ہو گا، اس خطے کا سب سے مصروف ترین پورٹ دبئی ہے، یہ دنیا کا نواں مصروف ترین پورٹ ہے، جس پر سالانہ 131 ملین ٹن کارگو کی ہنڈ لنگ ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود یہ مسئلہ بھی ہے کہ دبئی پورٹ پر ٹرانس شپمنٹ کے ذریعے کارگو لانا پڑتا ہے یعنی بڑے بحری جہازوں کو گہرے سمندر میں لنگر انداز کر کے اس پرکارگو چھوٹے جہازوں پرمنتقل کیاجاتاہے اورپھریہ چھوٹے جہاز دبئی پورٹ پر لنگر انداز ہو کر کارگو اتارتے ہیں، دوسری جانب چین ہے، لیکن چین کی تمام بندرگاہیں اس کے مشرقی حصے میں واقع ہیں، چین کے مشرقی علاقے میں تقریباً 200 پورٹس موجود ہیں جہاں اس کا معروف شنگھائی پورٹ بھی ہے جس کودنیا کی سب سے بڑی بندرگاہ سمجھا جاتا ہے لیکن بڑھتی ہوئی تجارت کیلئے چین کی ان بندرگاہوں میں مزید کارگوہینڈل کرنے کی استعداد نہیں، یہ بندرگاہیں پہلے ہی بہت زیادہ مصروف ہیں، جس کی وجہ سے چین کو مزید بندرگاہوں کی ضرورت ہے، ان بندرگاہوں کے راستے آنے والے کارگو کو چین کے بقیہ تمام علاقوں میں ترسیل کیاجاتا ہے، چین کے مغربی علاقے کا فاصلہ بہت زیادہ ہے اس لیے مشرقی علاقے سے کارگو مغربی صوبوں تک بھیجنے میں وقت بھی زیادہ لگتاہے اور اخراجات بھی بہت زیادہ ہوتے ہیں۔گوادر پورٹ چین کو ایک بہترین متبادل روٹ فراہم کرتا ہے۔
سوال: پاک چین اکنامک کوریڈور اور گوادر پورٹ کی تعمیر سے کتنی سرمایہ کاری آنے کی توقع ہے؟
اسد شمیم : گوادر پورٹ اور پاک چین اکنامک کوریڈور بہت بڑے منصوبے ہیں،ان منصوبوں کی تعمیر اور ترقی کے اثرات پورے خطے کی تجارت پر مرتب ہوں گے، یہ منصوبے صرفپاکستان اور چین کی تجارت تک محدود نہیں ہوں گے بلکہ افغانستان، وسطی ایشیائی ممالک اور روس کے علاوہ ایران، دبئی اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کی تجارت پر بھی ان منصوبوں کے اثرات ہوں گے۔ البتہ پاک چین اقتصادی راہداری پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے، اس منصوبے سے پاکستان کی معیشت تیزی سے ترقی کرے گی، پاکستان کے تمام علاقوں میں معاشی ترقی ہو گی، مقامی افراد کو روزگار کے نئے مواقع ملیں گے۔ پسماندہ علاقوں کو ترقی نصیب ہوگی اور پاکستان اقتصادیات کے ایک سنہری دور میں داخل ہو جائے گا۔ اس منصوبے پر صحیح معنوں میں عملدرآمد ہو گیا تو پاکستان میں اقتصادی انقلاب آئے گا۔
سوال: پاک چین اکنامک کوریڈور اور گوادر پورٹ کے ذریعے تجارتی سرگرمیوں میں کس حد تک اضافہ ہوسکتا ہے اور اس کا پاکستان کو کتنا فائدہ ہو گا؟
اسد شمیم : چین کے تمام مغربی صوبوں کے سارے سامان تجارت کی ترسیل ان بندرگاہوں کے ذریعے کی جاتی ہے جو چین کے مشرق میں واقع ہیں، چین اپنی ضرورت کا 80 فیصد تیل مشرق وسطیٰ سے درآمد کرتا ہے، اس کے علاوہ افریقہ کے ساتھ تجارت بھی چین کی انہی بندرگاہوں کے ذریعے کی جاتی ہے، اس روٹ کا فاصلہ بہت زیادہ ہے، مشرق وسطیٰ اور افریقہ سے چین کے مغربی صوبوں تک سامان تجارت کی ترسیل کیلئے 6 سے 7 ہفتے یا بعض اوقات اس سے بھی زیادہ وقت لگ جاتا ہے جبکہ اس پر اخراجات بھی بہت زیادہ ہوتے ہیں، اقتصادی راہداری کی تعمیر کے بعد گوادر پورٹ کے راستے چین کا یہی سامان تجارت ایک ہفتے میں منزل مقصود تک پہنچایا جا سکے گا جس سے چین کو اربوں ڈالر کی بچت ہو گی، چین کی بیرونی تجارت بہت زیادہ ہے، اگرچین کی مجموعی بیروی تجارت میں سے 20 فیصد تجارت بھی گوادر اور اقتصادی راہداری کے روٹ کے ذریعے ہونے کی صورت میں پاکستان کو کروڑوں ڈالر کا فائدہ ہو گا، چین کے علاوہ افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ کوئی سمندر نہیں لگتا، یہ لینڈ لاک ممالک ہیں اور ان ممالک کی زیادہ تر تجارت گوادر کے راستے ہوسکتی ہے، اس کے علاوہ روس بھی اپنا سامان تجارت اس راستے کے ذریعے منگوا سکتا ہے بالخصوص سردیوں کے موسم میں روس کی کئی بندرگاہیں سمندر منجمد ہونے کی وجہ سے بند ہوجاتی ہیں، اس موسم میں روس کا بیشتر سامان تجارت گوادر پورٹ کے ذریعے ترسیل کیا جا سکتاہے۔
سوال: چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور اور گوادر پورٹ کوکس طرح زیادہ فائدہ مند بنایا جا سکتا ہے؟
اسد شمیم : حکومت کو چاہیے کہ وہ چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور اور گوادر پورٹ منصوبوں کی تعمیر اس طرح کرے کہ اس سے ملک کے تمام صوبوں کے عوام کویکساں فائدہ پہنچے حکومت کوشش کرے کہ ان منصوبوں کی تعمیر اس طرح کرے کہ ملک کے پسماندہ علاقے ترقی کے عمل میں شریک ہو سکیں، پسماندہ علاقوں میں معاشی سرگرمیاں شروع ہو سکیں اور لوگوں کا معیار زندگی بہترہو سکے، پاک چین اکنامک کوریڈور اور گوادر پورٹ قومی منصوبے ہیں اور ان کا فائدہ بھی مساوی طور پر تمام صوبوں کے عوام کو ہوناچاہیے، کسی ایک صوبے کو زیادہ فائدہ پہنچانے کی کوشش نہیں کی جانی چاہیے، ان صوبوں کی تعمیر سے جب ملک کے تمام صوبوں کے عوام کو فائدہ ہو گا تو اس کے قومی یکجہتی کو فروغ ملے گا اور پورے ملک میں عوام کامعیار زندگی بہتر ہوگا۔
سوال: کچھ ممالک نے گوادر پورٹ کی ترقی اور اکنامک کوریڈور کی تعمیر میں رکاوٹیں ڈالنا شروع کر دی ہیں اس صورتحال میں حکومت کی کیا حکمت عملی ہونی چاہیے؟
اسد شمیم : اقتصادی ترقی ہرملک کی اولین ترجیح ہوتی ہے تمام ممالک کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کی بیرونی تجارت میں اضافہ ہو، گوادر پورٹ کی تعمیر اور ترقی سے نہ صرف چین بلکہ روس اور وسطیٰ ایشیائی ممالک تک سامان تجارت کی ترسیل اس پورٹ کے ذریعے کی جا سکتی ہے، یورپی ممالک بھی اپنی تجارت اس راستے کے ذریعے کر سکتے ہیں۔ معاشی طور پر مضبوط ہونا ہر ملک کا حق ہے لیکن بد قسمتی سے جب پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط ہونے کا موقع میسر آرہا ہے تو ان حالات میں دشمن ممالک نے پاکستان کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے ضامن منصوبے پاک چین اکنامک کوریڈور کی مخالفت شروع کر دی ہے۔ اس صورتحال میں حکومت اور پاک فوج کو چاہیے کہ وہ متحد ہو کردشمن کا مقابلہ کریں۔ پاکستان کی ترقی وخوشحالی کے دشمن ممالک کالا باغ ڈیم کی طرح پاک چین اکنامک کوریڈور منصوبے کو بھی سبوتاژ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اکنامک کوریڈور منصوبے پر ناچاقی قومی مفاد میں نہیں ہے اس لیے حکومت، افواج پاکستان، تمام مذہبی و سیاسی جماعتیں متحد ہو جائیں اور اکنامک کوریڈور کی تعمیر کویقینی بنائیں۔
سوال: موجودہ بین الاقوامی حالات کے تناظر میں آپ پاکستانی عوام کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟
اسد شمیم : میں پاکستان کی عوام کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ وہ مثبت اور تعمیری سوچ کے ساتھ ملک کے وسیع ترمفاد میں پاکستان کی مضبوطی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔عوام کوچاہیے کہ وہ اپنے قومی مفادات کو پہچانیں اور پاکستان کے استحکام اور خوشحالی کو اولیت دیں کیونکہ موجودہ حالات میں ملک کو قومی یکجہتی کی بڑی اشد ضرورت ہے اور عوام کو شرپسندی، دہشت گردی اور منفی سیاست سے دوسروں کے عزائم کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ عوام کو پاکستان کو خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔ میں پاکستان عوام کو پیغام دوں گا کہ وہ برطانیہ ، امریکا ، جرمن ، کینیڈا ، جاپان ، کوریا سمیت دیگر ترقی یافتہ قوموں کی تاریخ کا مطالعہ ضرور کریں اور پاکستانی حکومت کو چاہیے کہ وہ ان ممالک کی ترقی کو رول ماڈل بنائے۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے