Voice of Asia News

بوڑھے پینشرز کس سے فریاد کریں۔۔۔؟: شوکت علی چوہدری

آئین پاکستان جس کو بنیاد بنا کر حکمران کرسی اقتدار پر براجمان ہوتے ہیں اور معزز اراکین پارلیمنٹ ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بن بیٹھتے ہیں اور ہماری معزز عدالتیں حق و انصاف پر مبنی فیصلے صادر کرتی ہیں اور اسی آئین کو بنیاد بنا کر اپوزیشن جماعتیں اپنا استحقاق مانگتی ہیں اور کہا یہ جاتا ہے کہ مملکت پاکستان کا ہر کام آئین پاکستان کے عین مطابق ہوتا ہے۔ بات تو ٹھیک ہے کہ پاکستان کے اہل دولت و اقتدار اپنی تمام مراعات آئین پاکستان کو بنیاد بنا کر ہی حاصل کرتے ہیں۔اسی آئین پاکستان میں لکھا ہوا ہے کہ ریاست حکومت پاکستان اور دیگر اداروں کے ملازمین کو سماجی تحفظ فراہم کرے گی جو کہ سماجی انشورنش یا کسی اور صورت میں ہو گا۔اس سلسلہ میں وفاقی حکومت نے 1972ء میں پہلا قدم اٹھایا تھا اور بڑھاپے کی پینشن (EOBI) کا آرڈینس،EOBI 1972ء کا 13 اپریل 1972ء کا نفاز عمل میں لایا گیا تھا۔آرڈینس ہیں یہ درج تھا کہ صوبے اپنے ملازمین کیلئے بڑھاپے کی پینشن کی ایک سکیم کا آغاز کریں گے۔اس پینشن سکیم کے خدوخال کو آرڈینس کے آرٹیکل 32 میں بیان کیا گیا ہے۔لیکن اس وقت کسی بھی صوباء حکومت نے پینشن سکیم کا آغاز نہی کیا۔اس صورت حال کو دیکھتے ہوے وفاقی حکومت نے پہلی مرتبہ EOBI آرڈینس مجریہ 1975ء کا نفاذ 23 ستمبر 1975 میں کیا اور اس کے زریعے پینشن کی ایک سکیم کو متعارف کروایا۔بعد میں اس آرڈینس کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا جس نے چند ترمیم کے ساتھ اس کو منظور کر لیااور اس طرح EOBI کا قانون مجریہ 1976ء بنا دیا گیا۔اپنے قیام سے لے کر 2017-2018تک اس ادارے میں 101024آجر رجسٹرڈ ہوے جن میں سے 29331 ادارے بعدمیں بند ہو گے اور 3889 اداروں نے اپنی رجسٹریشن منسوخ کرادی اس طرح باقی بچنے والے 67804 ادارے اس میں رجسٹرڈ ہیں۔اس ادارے (EOBI) میں 5،772،798 مرد و خواتین رجسٹرڑ ہیں جو نجی اداروں میں کام کرتے ہیں۔اگر دیکھا جائے تو سال 2018تک تقریبا”5 لاکھ کارکن اس ادارے کی پینشن سے فائدہ اُٹھارہے تھے۔اور 326853 کارکنوں کے علاوہ 151189 کارکنوں کے لواحقین کو اس پینشن سے فاہدہ پہنچ رہا ہے۔
2010 میں آئین میں اٹھارویں ترمیم کی گی اور صوبوں کو خود مختاری دے دی گی۔ اسی ترمیم کے نتیجہ میں EOBI کا وجود بھی خطرے میں پڑ گیا اور صوبوں اور وفاق کے درمیان اس ادارے کو تقسیم کرنے کی کوششیں شروع ہو گئیں،جو تاحال جاری ہیں۔جس کے کارکنوں کی پینشن پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں اور ایک بے یقینی کی فضاء پروان چڑھی ہے کہ اس ادارے کا مستقبل کیا ہو گا۔اور اس ادارے میں کارکنوں کی پینشن کی مد میں جمع شدہ اربوں روپے کیا مرکز کی تحویل میں رہیں گے یا صوبوں کو منتقل ہو جاہیں گے۔ایک اہم بات یہ ہے کہ اس ادارے کے آج تک جو اربوں کے فنڈز جمع ہوے ہیں اس میں حکومت پاکستان کی دی ہوء کوء رقم شامل نہی ہے یہ تمام فنڈز رجسٹرڈ اداروں کے مالکان اور مزدوروں کی کنٹری بیوشن کے نتیجہ میں جمع ہوتے ہیں۔لیکن ان کے کنٹرول اور انتظام کیلئے سرکاری افسران کی ایک فوج ظفر موج مزدوروں کے سروں پر مسلط کر دی گی ہے جن کی مراعات کی ہی کوئی حد نہیں۔عدالتوں میں سابقہ حکرانوں اور ان کے اس ادارے پر مسلط کردہ افسران اعلی کی اربوں روپے کی کرپشن کے کیسیز الگ چل رہے ہیں۔قصہ مختصر 1976 سے قاہم یہ ادارہ حکمرانوں اور افسر شاہی کے شاہانہ اخراجات اور محکمہ کے اہلکاروں کی عادات بد کی وجہ سے مزدوروں کو سکھ دینے کی بجاے صرف دکھ ہی دکھ دے رہے ہیں۔مزدوروں سے کیے گے ایک سروے میں جو باتین سامنے آئی ہیں وہ کچھ یوں ہیں۔کہ اس وقت یہ ادارہ بغیر سربراہ کے چل رہا ہے جس کا مطلب ہے کہ ادارہ کام نہی کر رہا۔PPP کے دور حکومت اس ادارے کے ایک سربراہ نے 40 ارب روپے سے زیادہ کی جو رقم مہنگی جاہیدادیں خریدنے پر خرچ کی تھی اور جس پر جناب جسٹس افتخار چوھدری نے سو موٹو ایکشن لیتے ہوے ادارے کی 38 جائیدادوں کی خریدوفروخت پر جو پابندی لگاء تھی اس کا فیصلہ آج تک نہی ہوا جس کی وجہ غریب محنت کشوں کی پینشن کے اربوں روپے کسی استعمال میں نہیں ہیں۔مزدوروں کا یہ مطالبہ ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جلد از جلدان مقدمات کا فیصلہ کریں تاکہ لاکھوں پینشروں کو پینشن کی ادائیگی میں آسانی پیدا ہو سکے۔سابقہ حکومتوں میں جو رقم اس ادارے سے لوٹی گئے ہے اس رقم کی وصولی کرکے ادارے کو واپس کرائی جائے۔باہمی مفادات کونسل کا اجلاس بلا کر اس ادارے کے مدکز یا صوبوں کے پاس رہنے کا فیصلہ کیا جاے تاکہ قومی یا صوبائی سطح کی قانون سازی کی جا سکے۔اس وقت اس ادارے سے بوڑھے پینشرز کو 5240 روپے ماہانہ پینشن مل رہی ہے۔دو ماہ قبل وزیر اعظم کے مشیر زلفی بخاری نے اس پینشن کو 6500 روپے ماہانہ کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن آج تک اس کا کوء نوٹیفکیشیشن جاری نہی ہوا۔مزدوروں کا مطالبہ کہ یہ نوٹیفکیشیشن جلد جاری کیا جاے۔قانون یہ کہ محکمہ کے اہل کار اداروں سے مزدوروں کی کم سے کم تنخوا پر مالکان سے کنٹری بیوشن اکٹھا کریں گے لیکن ایسا نہیں ہے یہ کنٹری بیوشن کہیں 4000 ،کہیں 7000 اور لیکن 10000 روپے پر اکٹھا کیا جاتا ہے جس سے ادارے کی آمدن پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور اہلکاروں کیلئے رشوت خوری کے مواقع بھی بڑھ جاتے ہیں۔ادارے میں ملازم تمام ملازمیں کا کنٹری بیوشن لینے کی بجاے محکمہ کے اہلکار مالکان سے ساز باز کر کے کم سے کم ملازمیں کا کنٹری بیوشن جمع کرتے ہیں اور بہت سے اداروں سے کنٹری بیویشن لینے کے باوجود ملازمین کر EOBI کارڈ جاری نہیں کرتے۔ادارے کے افسران کا پینشرز کے ساتھ رویہ انتہای توہین آمیز ہے۔کسی بھی کام کیلئے بوڑھے لوگوں کو مہینوں دفتروں کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں۔بیوہ کو پینشن کی ادئیگی کا طریقہ کار پیچیدہ تر بنا دیا گیا ہے۔یہ مساہل کی ایک معمولی سی جھلک ہے۔عرض یہ کرنا ہے کہ حکومت کا یہ آہینی فرض ہے کہ وہ بوڑھے پینشرز کو ان ہی کہ جمع کرواء ہوء کنٹری بیوشین سے باعزت طریقہ سے پینشن کی ادائیگی کو یقینی بناے اور اداروں کا انتظام بہتر انداز میں چلانے کی حکمت عملی طے کرے۔صرف باتیں کرنے سے معاملات بہتر نہیں ہوں گے اس کیلئے ٹھوس اور بہتر منصوبہ بندی کی اشد ضرورت ہے۔
mazdoormahaz@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے