Voice of Asia News

پولیس گردی اور سرکار کی بے حسی:محمد قیصر چوہان

ملک میں انسداد دہشت گردی کے حوالے سے ایک ادارہ سی ٹی ڈی بنایا گیا تھا جو بناتھا دہشت گردں کی سرکوبی کیلئے تھا مگر اب تک اس کی جو کارکردگی رہی ہے وہ انسداد دہشت گردی کے بجائے سرکاری دہشت گردی ہے۔ سی ٹی ڈی کی تازہ دہشت گردی ساہیوال کے قریب پیش آنے والا واقعہ ہے جس میں نہتے افراد پر براہ راست گولیوں کی بارش کردی گئی۔ واقعے کی سنگینی صرف اتنی نہیں ہے کہ سی ٹی ڈی کے مسلح اہلکاروں نے ایک خاندان کو دن دہاڑے قتل کر ڈالا بلکہ اس سے بھی زیادہ سنگینی یہ ہے کہ اس خوفناک واقعے پر سی ٹی ڈی کے محکمے، پولیس کے اعلیٰ افسران ، وزیر اعلیٰ پنجاب سمیت پوری پنجاب حکومت اور مرکزی حکومت کے ترجمان سمیت کسی کو کوئی شرمندگی نہیں ہے۔ اس سانحے کے بعد سی ٹی ڈی نے جو پریس ریلیز جاری کی ہے وہ انتہائی اعلیٰ درجے کی ڈھٹائی قرار دی جاسکتی ہے۔ اس پریس ریلیز میں واقعے کو دو طرفہ فائرنگ کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے مارے جانے والے افراد جس میں ایک خاتون بھی شامل ہیں ،کو انتہائی خطرناک دہشت گرد قرار دیا گیا ہے۔ مارے جانے والے ان افراد کو سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے فرزند علی حیدر گیلانی کے اغوا میں ملوث اور اغوا کاروں کا سہولت کار بھی قرار دیا گیا ہے۔ مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ کار سے اغوا شدہ بچے بھی بازیاب کروائے گئے۔ اسی سی ٹی ڈی نے کار سے خوفناک اسلحہ اور خود کش جیکٹ کی برآمد گی بھی ظاہر کی۔ سی ٹی ڈی کی اس بریفنگ پر پوری پنجاب حکومت اور مرکزی حکومت نے بھی قوالی کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرنے والے دہشت گرد تھے۔سوشل میڈیا پر اس واقعے کی تفصیل بھی اور مختلف زاویے سے بنائی گئی تصاویر اور وڈیو موجود ہیں۔ اس سب سے پتا چلتا ہے کہ سی ٹی ڈی نے کار میں موجود افراد کو روکنے کے بجائے براہ راست فائرنگ کرکے انہیں ہلاک کیا۔ کار میں نہ تو کوئی اسلحہ موجود تھا اور نہ ہی جوابی فائرنگ کا کوئی واقعہ پیش آیا۔ اپنی نوعیت کا یہ کوئی پہلا سانحہ نہیں ہے۔ اس جیسے ہزاروں نہیں تو سیکڑوں واقعات شواہد کے طور پر پیش کیے جاسکتے ہیں۔ خروٹ آباد کا واقعہ ہو یا نقیب اللہ کو مارے جانے کا ،سرکاری وردی میں ملبوس ان سفاک قاتلوں کو بچانے کیلئے پوری انتظامی مشینری متحرک ہوجاتی ہے اور راؤ انوار جیسے کردار ایک طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ آزاد گھومتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ ان کرداروں کی سرکاری سرپرستی کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ سپریم کورٹ میں پیشی کے وقت راؤ انوار کی گاڑی کو اس مقام تک لانے کی اجازت دی گئی ، جس تک چیف جسٹس کی گاڑی بھی نہیں آتی۔
پولیس نے گزشتہ برس تیرہ جنوری کو وزیرستان سے تعلق رکھنے والے نوجوان نقیب اللہ محسود کا ماورائے عدالت قتل تسلیم کرلیا ہے۔ نقیب محسود کو بدنام زمانہ انکاؤنٹر اسپیشلسٹ راؤ انور اور اس کی ٹیم نے پہلے گرفتار، پھر جعلی مقابلے میں ہلاک کر کے اسے دہشت گرد ظاہر کیا تھا۔ نقیب محسود کے ساتھ پہلے سے گرفتار شدہ مزید تین افراد کو قتل کیا گیا تھا۔ ان پر پولیس مقابلہ، اسلحہ ایکٹ، اقدام قتل اور دھماکہ خیز مواد رکھنے کے پانچ مقدمات بھی درج کئے گئے تھے۔ گزشتہ دنوں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے نقیب محسود کے خلاف دائر پانچوں مقدمات خارج کر دیئے۔ عدالت نے قرار دیا کہ نقیب کے سوشل میڈیا پروفائل سے معلوم ہوتا ہے کہ ’’وہ ایک لبرل اور فن سے محبت کرنے والا نوجوان تھا، جو ماڈل بننے کا خواہش مند تھا‘‘۔ عدالت نے ایس ایس پی انوسٹی گیشن عابد قائم خانی کی پانچ رپورٹس کی روشنی میں یہ مقدمات خارج کرنے کا حکم جاری کیا۔ نقیب کے خلاف دائر پانچوں مقدمات کی الگ الگ تحقیقات کی گئی اور تمام الزامات کو گمراہ کن قرار دیا گیا۔
بات صرف اتنی نہیں ہے کہ سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے معصوم لوگوں کو دہشت گرد قرار دے کر مار ڈالا۔ بات اس سے بھی زیادہ سنگین یوں ہے کہ عوام کے نمائندے عوام کی نمائندگی کرنے کے بجائے سرکاری وردی میں ملبوس ان دہشت گردوں کے ترجمان اور پشت پناہ بنے ہوئے ہیں۔ساہیوال جیسا ایک آدھ واقعہ منظر عام پر آجاتا ہے ورنہ تو اس ادارے کی سو فیصد کارکردگی ہی یہ ہے کہ چاہے جسے اٹھالواور چاہے جب تک حراست میں رکھو۔ جس سے چاہے جتنا تاوان وصول کرو اور جی چاہے تو کسی بھی پولیس مقابلے میں ماردو اور پھر فخر سے سینہ چوڑا کرکے کہو کہ ملک کو دہشت گردی سے بچادیا۔ اس پر انہیں انعام سے بھی نوازا جاتا ہے اور ترقیوں سے بھی۔ ہر واقعے میں یہ اہلکار یہی کرتے ہیں مگر کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ سی ٹی ڈی کی کارکردگی آخر ہے کیا ؟اب تو اس معاملے پر سنجیدہ ہوجانا چاہیے۔ جتنے بھی لوگ گرفتار ہیں اور پولیس مقابلے میں مارے گئے ہیں ، ان کا فرانزک آڈٹ کیا جائے کہ کتنے اصلی مقابلے تھے اور کتنے جعلی۔ کتنے بے گناہ تھے اور کتنے مجرم۔ سانحہ ساہیوال دہشت گردی سے بھی بڑی کارروائی ہے۔ سرکاری اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے عوام میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے۔اس کی مثال مقبوضہ کشمیر اور اسرائیل کے سوا شائد کہیں اور نہ مل سکے۔ انصاف کی بالادستی کیلئے جعلی پولیس مقابلوں کے ذمہ داروں کو قتل عمد کے جرم میں سزا دی جائے۔ ان سرکاری قاتلوں اور ان کے سرپرستوں کے خلاف وہی رویہ رکھا جائے جودہشت گردوں کے ساتھ رکھا جاتا ہے۔ کوئی اور مہذب ملک ہوتا تو پوری صوبائی حکومت سانحہ ساہیوال پر مستعفی ہو کر قوم سے معافی مانگ کر ان سفاک قاتلوں کو سر عام پھانسی دے رہی ہوتی اور ان کے سرپرست افسران کو کان سے پکڑ کر نوکری سے نکالا جاچکا ہوتا۔ بہتر ہوگا کہ پنجاب اور مرکزی حکومت پولیس کی زبان بولنے کے بجائے حق بات کرے اور عوامی نمائندہ بنیں۔ بے گناہ کا خون رائیگاں نہیں جاتا ، اگر یہ بات عوامی نمائندوں کی سمجھ میں نہیں آئی تو پھرمزید کشت و خون کیلئے تیار رہا جائے کہ یہی تاریخ کا سبق ہے۔ ساہیوال کا واقعہ پاکستان کے مقتدر اداروں، فوج، حساس اداروں، عدلیہ اور نئی حکومت کے دعووں کی سرا سر نفی کرتا ہے۔ ہماری فوج کے ترجمان کہتے ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان اور فوجی عدالتوں کی وجہ سے دہشت گردی پر قابو پانے میں بڑی مدد ملی حساس ادارے تو سامنے آئے ہی نہیں تو بولیں گے کیا ان کی جانب سے مختلف لوگ بولتے ہیں۔ نئے وزیر مملکت برائے داخلہ امن کے گن گارہے ہیں اور سب سے بڑھ کر سابق چیف جسٹس کے بیانات اور ریمارکس سے جتنے دہشت گرد مرے اور دہشت گردی کا خاتمہ ہوا اس کے بعد تو پاکستان میں کسی کاؤنٹر ٹیررزم نامی ادارے کی ضرورت بھی نہیں ہونا چاہیے تھی۔ لیکن اب تو ہر ہفتے، پندرہ روز میں یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ پہلے جھوٹے مقدمے بنانے اور جھوٹی گرفتاریاں کرنے والا ایک ادارہ پولیس کاتھا۔ پھر سی آئی ڈی کو طاقت ملی، ایف آئی اے کو ملی، فوج کا باقاعدہ کردار سامنے آیا۔ دہشت گردی کے عالمی ڈرامے کا فائدہ پاکستان میں بھی اٹھایا گیا اور یہاں بھی آئینی شخصی آزادیاں نیشنل ایکشن پلان کے نام پر سلب کرلی گئیں۔
درندوں سے معاشرے کو پاک کرنا انسانی بقا کے ساتھ ریاست کی بقا کا بھی بنیادی تقاضا ہے۔ قرآن کریم میں حق تعالیٰ نے تمام انبیائے کرام کی بعثت اور آسمانی کتب کے انزال کا مقصد ہی لوگوں میں انصاف قائم کرنے کو قرار دیا ہے۔ (سورۃ الحدید، آیت: 25) حضرت علی کا مشہور فرمان ہے کہ کفر کے ساتھ معاشرہ چل سکتا ہے، لیکن ظلم کے ساتھ نہیں۔ مشہور چینی فلسفی کنفیوشس سے کسی نے پوچھا: اگر ایک قوم کے پاس تین چیزیں ہوں، انصاف، معیشت اور دفاع اور بہ وجہ مجبوری کسی چیز کو ترک کرنا مقصود ہو تو کس چیز کو ترک کیا جائے؟ کنفیوشس نے جواب دیا: دفاع کو ترک کردو۔ سوال کرنے والے نے پھر پوچھا اگر باقی ماندہ دو چیزوں انصاف اور معیشت میں سے ایک کو ترک کرنا لازمی ہو تو کیا کیا جائے؟ کنفیوشس نے کہا: معیشت کو چھوڑ دو۔ اس پر سوال کرنے والے نے حیرت سے کہا: معیشت اور دفاع کو ترک کیا تو قوم بھوکوں مر جائے گی اور دشمن حملہ کردیں گے؟ تب کنفیوشس نے کہا: نہیں! ایسا نہیں ہوگا، بلکہ انصاف کی وجہ سے اس قوم کو اپنی حکومت پر اعتماد ہوگا اور لوگ معیشت اور دفاع کا حل اِس طرح کریں گے کہ پیٹ پر پتھر باندھ کر دشمن کا راستہ روک لیں گے۔ اس کی واضح مثال دنیا نے میدان بدر میں دیکھ لی۔ جب تین سو تیرہ نہتے جانبازوں نے ایک ہزار کے ایسے لشکرار جرار کو شکست دی، جو کیل کانٹے سے لیس تھا۔ ونسٹن چرچل کا قول بھی مشہور ہے کہ جب دشمن کی فوجیں برطانیہ پر پے درپے حملے کر رہی تھیں تو سپہ سالار نے چرچل سے کہا کہ دشمن عنقریب برطانیہ پر قبضہ کرلے گا اور ہم شکست کھا جائیں گے تو چرچل نے کہا کہ جا کر دیکھو کہ ہماری عدالتوں میں انصاف ہو رہا ہے کہ نہیں، اگر عدالتیں انصاف دے رہی ہیں تو برطانیہ کو کچھ نہیں ہوگا اور وقت نے یہی ثابت کیا کہ دشمن کو شکست ہوگئی اور برطانیہ آج تک نہ صرف قائم بلکہ دنیا کی ایک بڑی قوت ہے۔ مگر افسوس کہ وطن عزیز میں انصاف کا پورا نظام ہی تباہ ہے۔ معمولی جرائم میں قید و بند کی سزا پانے والے افراد جیلوں میں سڑتے اور مرتے ہیں۔ مگر اثر و رسوخ اور تعلقات رکھنے والے سینکڑوں افراد کے قاتل بھی رہائی پا لیتے ہیں۔ بد قسمتی سے حکمراں جماعت تحریک انصاف نے بھی اپنے نام کی لاج رکھتے ہوئے اس جانب کوئی پیشرفت کرتے دکھائی نہیں دے رہی، بلکہ الٹا سانحہ ساہیوال میں شہید ہونے والے بے گناہ افراد کے اہل خانہ پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ صلح کرلیں۔ جبکہ ایک بے گناہ شخص کو تو دہشت گرد ثابت کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جا رہا ہے۔ اگر ہمارے حکمرانوں نے موجودہ روش نہیں بدلی تو ترقی کرنا دور کی بات، کہیں خدا نخواستہ ہمارے لئے اپنا وجود ہی باقی رکھنا مشکل نہ ہو جائے۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے