Voice of Asia News

’’نسل پرستانہ‘‘ لفظ کا استعمال آئی سی سی نے سرفراز احمد پر چار میچوں کی پابندی : محمد قیصر چوہان

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد پر نسلی تعصب سے متعلق قانون کی خلاف ورزی پر چار میچوں کی پابندی عائد کر دی ہے۔اس فیصلے کی رو سے سرفراز احمد جنوبی افریقہ کے خلاف آخری دو ون ڈے انٹرنیشنل اور پہلے دو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ نہیں کھیل سکیں گے۔انٹر نیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے 2012 میں نسل پرستانہ رویہ کے خاتمے کیلئے بنائے گئے قوانین کے مطابق پہلی بار نسل پرستانہ رویہ دکھانے کے الزام میں دو سے چار ٹیسٹ میچ یا چار سے آٹھ محدود اوورز کے مقابلوں میں شرکت کرنے پر پابندی عائد ہوگی جبکہ یہ جرم دوبارہ کرنے پر تاحیات پابندی بھی لگ سکتی ہے۔آئی سی سی کے قانون میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ اگر کسی کھلاڑی نے اپنے کسی بھی ساتھی کھلاڑی یا میچ کے منتظمین اور شائقین کے ساتھ ان کے نسل، ذات، رنگ، مذہب، ثقافت، قومیت وغیرہ کی بنیاد پر امتیازی سلوک برتا تو ان پر ان قوانین کا اطلاق ہوتا ہے۔
سرفراز احمد بدھ کے روز جوہانسبرگ میں آئی سی سی کے میچ ریفری رنجن مدوگالے کے سامنے پیش ہوئے اور کہا تھا کہ ان سے نادانستگی میں یہ جملہ ادا ہوگیا لیکن نسلی تعصب کا تاثر درست نہیں ہے۔ رنجن مدوگالے نے ان کا موقف سننے کے بعد ضابطے کی کارروائی کے بعد رپورٹ آئی سی سی کو بھیج دی ہے۔آئی سی سی نے اس فیصلے کا اعلان گزشتہ روز کیا۔سرفراز احمد نے 22 جنوری کو پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان ڈربن میں کھیلے گئے دوسرے ون ڈے انٹرنیشنل میچ میں جنوبی افریقی بیٹسمین اینڈی فیلک وایو کو مخاطب کرتے ہوئے اردو میں فقرہ کسا تھا جو آئی سی سی کے نسلی تعصب سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ڈربن میں کھیلے گئے اس میچ میں جنوبی افریقی اننگز کے دوران 37ویں اوور میں پہلوک وایو نے پاکستانی بولر شاہین آفریدی کی گیند پر اپنی نصف سنچری مکمل کی تو اس موقع پر سٹمپ مائیک کے ذریعے کپتان سرفراز کا فقرہ واضح طور پر سنائی دیا گیا جس میں انھوں نے پہلوک وایو کو اردو میں نسل پرستانہ لفظ سے مخاطب کرتے ہوئے ان کی بیٹنگ میں مسلسل خوش قسمتی پر جملہ کسا۔گو کہ جملہ ٹی وی پر واضح طور پر سنائی دیا گیا تھا لیکن جب کمینٹیٹر مائیک ہیزمین نے اپنے پاکستانی ساتھی رمیز راجہ سے اس بارے میں پوچھا تو انھوں نے جواب میں کہا کہ ‘یہ کافی لمبا جملہ ہے جس کا ترجمہ کرنا تھوڑا مشکل ہے۔’میچ کی پہلی اننگز میں پاکستان کے 204 رنز کے جواب میں جنوبی افریقی بیٹنگ لائن شدید مشکلات میں تھیں لیکن وان ڈر ڈسین اور پہلوک وایو نے 127 رنز کی ناقابل شکست شراکت جوڑی اور اپنی ٹیم کو جیت دلائی۔مین آف دا میچ کا اعزاز حاصل کرنے والے پہلوک وایو نے اپنی اننگز میں 69 رنز بنائے تھے اور چار کھلاڑیوں کو آؤٹ بھی کیا تھا۔
سرفراز احمد نے اپنی اس حرکت پر ٹوئٹر کے ذریعے معافی مانگ لی تھی جبکہ سرفراز احمد نے تیسرے ون ڈے سے قبل اینڈی فلیک وایو سے ملاقات کی تصویر ٹویٹ کی تھی اور یہ لکھا تھا کہ انھوں نے فلیک وایو سے اپنی حرکت پر معافی مانگی جو انھوں نے قبول کر لی۔سرفرازاحمد نے یہ بھی لکھا تھا کہ انھیں امید ہے کہ جنوبی افریقی عوام بھی ان کی معذرت قبول کر لیں گے۔دوسری جانب جنوبی افریقی کپتان فاف ڈوپلیسی نے تیسرے ون ڈے سے قبل کہا تھا کہ وہ اور ان کی ٹیم سرفرازاحمد کو معاف کرچکی ہے کیونکہ وہ اپنی غلطی پر معذرت کرچکے ہیں۔جنوبی افریقی کپتان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ معاملہ ان کے ہاتھ سے نکل چکا ہے اور اب اس بارے میں آئی سی سی ہی فیصلہ کرے گی تاہم انھیں یقین ہے کہ سرفراز احمد نے جو کچھ کہا اس کا مطلب وہ ہرگز نہیں تھا لیکن جب آپ جنوبی افریقہ آتے ہیں تو آپ کو نسلی امتیاز سے متعلق گفتگو میں بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
سرفراز احمد نے اپنے بیان میں کہاتھا کہ ’میں ہر اس شخص سے معافی کا طلبگار ہوں جسے تکلیف پہنچی ہے۔ میرے الفاظ براہ راست کسی کے لیے نہیں تھے اور میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا کہ کسی کو میں تکلیف پہنچاؤں۔ میں ماضی کی طرح مستقبل میں بھی میدان میں اور میدان سے باہر ساتھی کرکٹرز کے ساتھ بھائی چارے کو قائم رکھوں گا۔‘پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی بدھ کی شب جاری کردہ بیان میں سرفراز احمد کی حرکت پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔
کرکٹ میں نسلی امتیاز کے واقعات
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کی جانب سے جنوبی افریقی کرکٹر فیْلوک وایو پر مبینہ نسل پرستانہ فقرہ کسے جانا اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ماضی میں اس طرح کے کئی واقعات رونما ہوچکے ہیں۔باسل ڈی اولیورا جنوبی افریقہ میں پیدا ہونے والے کرکٹر تھے لیکن جنوبی افریقہ کی نسلی امتیاز کی پالیسی کے سبب انہوں نے انگلینڈ کا رخ کیا اور ٹیسٹ کرکٹ میں انگلینڈ کی نمائندگی کی لیکن جب انگلینڈ کی ٹیم کے دورہجنوبی افریقہ کا وقت آیا تو جنوبی افریقی حکومت نے ان کی ٹیم میں موجودگی پر اعتراض کردیا جس کے سبب یہ دورہ منسوخ کرنا پڑا اور جنوبی افریقہ پر نسلی امتیاز کی پالیسی کی وجہ سے بین الاقوامی کرکٹ کے دروازے بند کردیے گئے تھے۔1980ء میں ویسٹ انڈیز کا دورہ کرنے والی انگلینڈ کی ٹیم میں فاسٹ بولر رابن جیکمین بھی شامل تھے لیکن جب ٹیم گیانا پہنچی تو وہاں کی حکومت نے رابن جیکمین کو ویزا دینے سے انکار کردیا۔ حکومت کا موقف تھا کہ رابن جیکمین کے نسلی امتیاز کی پالیسی کے دنوں والے جنوبی افریقہ سے روابط رہے ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے درمیان گیانا ٹیسٹ منسوخ کرنا پڑگیا۔ویسٹ انڈیز کے کرکٹرز کی ایک ٹیم نے 1983ء میں جنوبی افریقہ کا اسوقت دورہ کیا جب جنوبی افریقہ پر انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے بند تھے۔ اسی دورے میں فاسٹ بولر کالن کرافٹ کو کنڈکٹر ولی وان زل نے یہ کہہ کر ٹرین سے اتاردیا کہ یہ بوگی صرف اور صرف سفید فام لوگوں کے لیے مخصوص ہے۔ کنڈکٹر کو بتایا گیا کہ کالن کرافٹ ایک کرکٹر ہیں لیکن ولی وان زل مصر تھے کہ کرافٹ کو یہاں سے جانا ہی ہوگا۔
1996ء کے عالمی کپ میں ویسٹ انڈیز کوغیرمتوقع طور پر کینیا نے ہرادیا۔ میچ کے بعد برائن لارا کینیا کے ڈریسنگ روم میں گئے اور کھلاڑیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ انہیں آپ سے ہارنا برا نہیں لگا کیونکہ آپ سیاہ فام ہو۔ جنوبی افریقہ جیسی ٹیم کا معاملہ مختلف ہے۔ہم سفید ٹیم سے ہارنے کا نہیں سوچ سکتے۔برائن لارا کا یہ بیان وہاں موجود ایک صحافی نے رپورٹ کردیا جس کے بعد لارا کو معافی مانگنی پڑی تھی تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کی بات کو سیاق وسباق سے ہٹ کر شائع کیا گیا تھا۔2003 میں آسٹریلیا اور سری لنکا کے درمیان برسبین کے ون ڈے کے دوران ڈیرن لی مین نے رن آؤٹ ہونے کا غصہ سری لنکن ٹیم پر نسلی تعصب پر مبنی فقرے کے ذریعے اتارا جو انہیں مہنگا پڑگیا اور آئی سی سی میچ ریفری کلائیو لائیڈ نے ان پر پانچ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کی پابندی عائد کردی۔2003 کیورلڈ کپ میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے گئے میچ میں آسٹریلوی وکٹ کیپر ایڈم گلکرسٹ نے اپنے ہم منصب راشد لطیف پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے مبینہ طور پر ان پر نسلی تعصب پر مبنی فقرہ کسا ہے۔ یہ معاملہ آئی سی سی کے میچ ریفری کلائیولائیڈ کے پاس گیا اور عدم شواہد پر راشد لطیف اس الزام سے بری کردیے گئے۔راشد لطیف نے جوابی طور پر آسٹریلین کرکٹ بورڈ کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کا اعلان کیا کہ اس الزام سے ان کی ساکھ متاثر ہوئی ہے تاہم وہ اس قانونی چارہ جوئی کو عملی جامہ نہ پہناسکے۔2007 ء میں آسٹریلیا اور بھارت کے درمیان سڈنی ٹیسٹ میں بھارتی اسپنر ہربھجن سنگھ اور آسٹریلوی آل راؤنڈر اینڈریو سائمنڈز آپس میں الجھ پڑے۔ اس تلخ کلامی میں سائمنڈز نے ہربھجن سنگھ پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے انہیں بندر کہا ہے۔ آئی سی سی نے ہربھجن سنگھ پر تین میچوں کی پابندی عائد کردی جس پر بی سی سی آئی نے یہ دورہ ختم کرنے کی دھمکی دے ڈالی تھی۔ بعد میں تین میچوں کی پابندی کی سزا ختم کرکے اسے جرمانے میں تبدیل کردیا گیا۔2007ء میں جنوبی افریقہ اور سری لنکا کے درمیان جب ہاشم آملا نے کمار سنگاکارا کا کیچ لیا تو اس میچ کی کمنٹری کرنے والے آسٹریلوی ڈین جونز بول پڑے کہ دہشت گرد نے ایک اور وکٹ حاصل کرلی ہے۔اگرچہ ڈین جونز نے اس بات پر ہاشم آملا سے معافی مانگ لی لیکن انہیں کمنٹری سے ہاتھ دھونے پڑے تھے۔2014 ء کی ایشیز سیریز کے موقع پر کرکٹ آسٹریلیا کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل نے روایتی پگڑی پہنے چار سکھوں کی تصویر پوسٹ کی جس پر لکھا تھاکہ کیا اصلی مونٹی پنیسر کھڑے ہوجائیں گے پلیز ۔کرکٹ آسٹریلیا کو نہ صرف یہ ٹوئٹ ڈیلیٹ کرنا پڑا بلکہ معافی بھی مانگنی پڑی۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے