Voice of Asia News

بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کا خسارہ 18.3 فیصد پر برقرار

اسلام آباد(وائس آف ایشیا) موجودہ مالی سال کے دوران بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں(ڈسکوز) کے عوامی سیکٹر میں ہونے والے خسارے میں مجموعی طور پر کوئی تبدیلی نہیں آئی اور یہ خسارہ اب بھی 18.3 فیصد ہے. اس سلسلے میں سکھر الیکٹرک پاور کمپنی سب سے زیادہ نقصان میں رہی جس کا لائن لاسز کی مد میں ہونے والا خسارہ 41.3 فیصد رہا جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ شرح 36.7 فیصد تھی.اس کے بعد پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی ہے جس کا خسارہ ایک سال میں 2 فیصد کم ہوا لیکن اس کے باوجود یہ دوسری سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والی کمپنی ہے جس کا خسارہ مالی سال 19۔2018 میں 38.1 فیصد رہا.لائن لاسز سے تیسرے نمبر پر سب سے زیادہ متاثر ہونے والی کمپنی حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی ہے جس کا خسارہ گزشتہ مالی سال میں 29.9 فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر 33.6 فیصد ہوگیا.دوسری جانب کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے لائن لاسز گزشتہ مالی سال میں 22.4 فیصد تھے اور 19۔2018 کے دوران معمولی سی کمی کے بعد 22.4 فیصد ہوگئے. اسی طرح ملتان الیکٹرک پاور کمپنی کا لائن لاس خسارہ گزشتہ مالی سالی میں 16.6 فیصد تھا جس میں رواں مالی سال میں اضافہ ہوا اور یہ 17.5 فیصد ہوگیا. علاوہ ازیں 19۔2018 میں لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے لائن لاسز 14.5 فیصد رہے جو مالی سال 18۔2017 میں 13.8 فیصد تھے.اسی طرح ٹرائبل الیکٹرک کمپنی کے لائن لاسز 13.3 فیصد رہے جو مالی سال 18۔2017 میں 12.5 فیصد تھے جبکہ گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی کے لائن لاسز گزشتہ برس کے 10فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر 11.1 فیصد ہوگئے. فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے لائن لاسز میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں کمی واقع ہوئی اور وہ 10.5فیصد سے کم ہو کر 9.8 فیصد ہوگئے. دوسری جانب اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی اب بھی سب سے بہتر رہی جس کے لائن لاسز 9.1 فیصد سے کم ہو کر 7.9 فیصد تک رہ گئے.اس سلسلے میں ایک عہدیدار نے کہا کہ گردشی قرضوں کی مد میں 8 کھرب 8 ارب روپے کی ادائیگی کا انحصار تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے صارفین سے وصول کی گئی رقوم پر ہے. انہوں نے کہا کہ واجبات کی وصولی اور پورے ملک میں خسارے کو کنٹرول کرنے اور وصولی کے معاملات بہتر کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں.

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے