Voice of Asia News

ملک میں امن قائم اور علاقہ میں آپریشنز ختم ہوچکے ، اب صرف ترقی کاسفر شروع ہوگا ، ترجمان پاک فوج

اسلام آباد ( وائس آف ایشیا) پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ ملک میں امن قائم ہو گیا ہے اورعلاقے میں آپریشنز ختم ہوچکے ہیں ٗاب ترقی کا سفر شروع ہوگا ٗمقامی افراد کسی شر پسند کی بات میں نہ آئیں ، امن کو قائم رکھنے کیلئے سکیورٹی اداروں سے تعاون کریں ، اگر افغانستان میں حالات خراب رہیں گے توادھر سے پھر دہشتگردی آنے کا اندیشہ ہے، اگر بارڈر مکمل محفوظ ہوگیا تو دہشتگرد آزادی سے پاکستان میں داخل نہیں ہوسکیں گے،صرف قانونی راستے کے ذریعے پاکستان آنا پڑیگا،اندھیروں سے مکمل طورپر نکل آئے ہیں ،اب اور روشنیوں کی طرف جائیں گے ،نشاء اللہ آگے تعلیم اور صحت ہے ۔ گزشتہ روز اسلام آباد کے صحافیوں کو کرائے گئے شمالی وزیرستان کے دورے کے دور ان ’’ وائس آف ایشیا ‘‘سے خصوصی بات چیت کے دور ان ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہاکہ پہلے جب کسی جگہ پردھماکہ ہوتا تھا تو پورے پاکستان میں الرٹ ہو جاتا تھا اب ایسا نہیں ہے ،ہم اس مرحلے سے آگے نکل آئے ہیں ،اب اللہ تعالیٰ کا شکر ہے حالات پہلے جیسے نہیں رہے۔انہوں نے کہاکہ اب مارکیٹوں میں بزنس چل رہاہے اور لوگ بغیر کسی خوف کے کھلے پھر رہے ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ بارڈر تجارت کیلئے بند نہیں کیا جارہا ہے ،دہشتگردوں کی آمدورفت روکنے کیلئے بارڈرپرباڑ لگائی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جب حالات خراب تھے تو بارڈر بند تھا اب غلام محمد بارڈر کھلا ہے اور آمدورفت جاری ہے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ جب امن آئے گا توکاروبار آئے گا اور اس امن کو قائم رکھیں گے تو کاروبار ترقی کریگا ۔دوکان داروں کی جانب سے دکان کیلئے 5لاکھ روپے پگڑی لینے اور زائد کرائے کی شکایت پر انہوں نے کہاکہ یہ ایک نئی مارکیٹ بنی ہے اور مالی معاملات کے حوالے سے فوج کا کوئی تعلق نہیں ہے کہ کس نے کتنی پگڑی لینی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ یہاں پر لوکل کا ایک سسٹم ہے جو پاکستان میں ہر جگہ ہے جن کو مارکیٹ میں دکانیں ملیں گی وہ اپنے بزنس کے حوالے سے طے کرینگے لیکن آرمی کی خواہش ہوگی کہ وہ لوکل انتظامیہ سے ملکر وہ ڈیل کریں جس سے لوکل بندے کو سہولت ہو ،یہ نہ ہو وہ بندہ اتنا کما نہ سکے جتنی آپ پگڑی لے لیں ۔ایک اور سوال پر انہوں نے کہاکہ ہمارا پہلا کام تھا اپنے ملک میں امن قائم ہو اللہ کا شکر ہے وہ ہم نے کرلیا ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر افغانستان میں حالات خراب رہیں گے توادھر سے پھر دہشتگردی آنے کا اندیشہ ہے اسی لئے ہم نے اپنے بارڈر کو محفوظ بنانا شروع کر دیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ اگر بارڈر مکمل محفوظ ہوگیا تو دہشتگرد اتنی آزادی سے پاکستان میں داخل نہیں ہوسکیں گے۔ انہوں نے کہاکہ بارڈر پر مکمل باڑ لگنے کے بعد پاکستان میں داخلہ صرف قانونی طورپر ہوگا اور وہ روڈ ٹرمینلز کے ذریعے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ امن قائم رکھنے کی سب سے زیادہ ذمہ داری مقامی افراد کی ہوگی اگر کوئی باہر سے بندہ آیا ہے تو مقامی افراد کو چاہیے کہ وہ سکیورٹی حکام کو بتائیں ۔ انہوں نے کہاکہ بہادر قبائلیوں نے قربانیاں دیکر امن قائم کیا ہے ،مقامی افراد بہت تعاون کررہے ہیں ۔ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ آپریشن کے دور ان فاٹا میں آٹھ کیڈٹ کالج بنے اور تعلیم شروع ہوئی یہاں بچوں کو فوج کے ہوسٹل میں رکھ کر تعلیم دی انہوں نے کہاکہ پچھلے تین سال میں چالیس سے زیادہ یہاں کے لوکل نو جوان کیڈٹ کالج سے پڑھ کر فوج میں افسر بن گئے ہیں اب امن آگیا ہے ،سکول ،کالج بن گئے ہیں ہسپتال بھی بنا ہے ،مزید سہولیات فراہم کی جائیں گی ۔انہوں نے کہاکہ آپریشنز ختم ہوئے ہیں تواب ترقی کا سفر شروع ہوگا آپ ساتھ دیں اور امن کو قائم رکھیں کسی شر پسند کی بات میں نہ آئیں کسی باہر والے مشکوک بندے کو یہاں آنے نہ دیں اور انشاء اللہ آگے تعلیم اور صحت ہے ۔اس موقع پر انہوں نے مقامی افراد سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آپ اندھیروں سے مکمل طورپر نکل چکے ہیں اور اب اور روشنیوں کی طرف جائیں گے ۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ اس وقت تک 900کلو میٹر سرحد پر باڑ لگائی گئی ہے اور یہ منصوبہ اس سال کے آخر تک مکمل ہو جائیگا ۔انہوں نے کہاکہ پورے منصوبے پر 70ارب روپے کاتخمینہ لگایا ہے جس میں چیک پوسٹس ، قلعے ،شام کے وقت سرحد کی نگرانی کا نظام اور دیگر ضروریات شامل ہیں ۔ یاد رہے کہ پاکستا ن اور افغانستان کے درمیان تقریباً دوہزار چھ سو کلو میٹر کی مشترکہ سرحد ہے اورباڑ تقریباً 2300کلو میٹر پر لگائی جائیگی ۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ منصوبے میں تقریباً 843قلعوں کی تعمیر شامل ہے اور 1.5سے لیکر 3کلو میٹرتک کے فاصلے پر ایک قلعہ قائم ہوگا ۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان آنے جانے کیلئے16باضابطہ راستے ہیں جبکہ اس کے علاوہ غیر اعلانیہ سینکڑوں راستے موجود ہیں ۔اس وقت صرف طور خم اور چمن پر آنے جانے والے لوگوں کی شناخت اور معلومات رکھنے کیلئے بائیو میٹرک نظام موجود ہے ۔سرحد کے تحفظ کیلئے فرنٹیئر کور کے 86یونٹ بنائے جارہے ہیں اس سال ایف سی کے آٹھ ونگز بنائے جائینگے جبکہ آئندہ سال چھ ونگز کااضافہ کیا جائیگا ۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے