Voice of Asia News

پاکستان کی ترقی کا رازتعلیم نسواں کو فروغ دینے میں پوشیدہ ہے: محمد قیصر چوہان

علم کو روح کی غذا کہا گیا ہے ،کائنات کے اسرار و رموز سے آگاہی کیلئے علم کی مسلمہ حقیقت ہے، تعلیم اقوام کی اخلاقی، معاشی، سیاسی بلکہ ہر قسم کی ترقی کیلئے مسلمہ ہے۔ تعلیم کے بغیر انسان ادھورا ہے۔ تعلیم و تربیت ہی وہ زیور ہے جس سے آراستہ ہو کر ہم ملک و قوم کی اصلاح، ترقی و خوشحالی میں بنیادی اور کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں اور یہی وہ آلہ ہے جس کی مدد سے حق اور باطل کے درمیان تمیز ممکن ہے۔ تعلیم ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس کی بدولت غربت، جہالت، پسماندگی، انتہا پسندی اور دہشت گردی کے اندھیروں سے قوم کو نجات دلائی جا سکتی ہے۔تعلیم ایک ایسی چیز ہے جو کہ انسان کے لیے اس طرح سے ضروری ہے جیسے آکسیجن زندگی کیلئے ضروری ہے تعلیم کے بغیر انسان بالکل حیوان کی مانند ہے یہ تعلیم ہی ہے جو انسان کو عقل و شعور کی دولت سے مالا مال کرتی ہے اور زندگی کی حقیقتوں سے آگاہ کرتی ہے بغیر علم کے انسان کبھی بھی سیدھی راہ پر چل نہیں سکتا ہے علم ہی انسان کو راہ حق کی جانب لے جاتا ہے۔قرآن و حدیث میں علم کو فلاح اور کامیابی کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے اور اہلِ علم کی بہت زیادہ فضیلت بیان کی گئی ہے۔علم انسان کو پستی سے بلندی کی طرف لے جاتا ہے، یہ ادنیٰ کو اعلیٰ بناتا ہے۔ غیر تہذیب یافتہ اقوام کو تہذیب کی دولت سے مالامال کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں اہلِ علم افرادکو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔علم کی اہمیت کے حوالے سے قرآن پاک میں متعدد مقامات پر ذکر آیا ہے۔ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے کعبہ کی تعمیر مکمل کی اور وہاں چند لوگ آباد ہوگئے تو دعا فرمائی ’’اے ہمارے رب ان ہی میں سے رسول بھیج جو ان کے پاس تیری آیتیں پڑھے، انہیں کتاب و حکمت سکھائے اور انہیں پاک کرے۔ یقیناًتْو حکمت والا ہے۔‘‘اسلام کی پہلی تعلیم اور قرآن پاک کی پہلی آیت جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی وہ علم ہی پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ’’پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا، جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ تْو پڑھ، تیرا رب بڑے کرم والا ہے جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا، جس نے انسان کو وہ سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا۔‘‘ (سورہ علق)۔اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کے ذریعے سے انسان کو مسلسل تعلیم حاصل کرنے اور علم حاصل کرنے کی طرف رغبت دلائی ہے۔ قرآن پاک میں تعلیم کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے 100 کے قریب آیات کے ذریعے انسان کو تعلیم کی طرف گامزن کیا ہے۔ دنیاوی تعلیم حاصل کرنا اللہ تعالیٰ کے سامنے اتنا ہی افضل ہے جتنا دینی تعلیم حاصل کرنا ہے۔علم کی ضرورت و اہمیت کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے کہ ’’بے شک مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔‘‘نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیثِ مبارکہ میں متعدد مقامات پر علم حاصل کرنے پر زور دیا ہے، چنانچہ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’علم کا طلب کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔‘‘درج بالا احادیثِ مبارکہ میں علم کا حصول ضروری قرار دیا گیا ہے، لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح فرمان کے باوجود ہمارے ہاں آج بھی بہت سی خواتین کو تعلیم کی نعمت سے محروم رکھا جاتا ہے، حالانکہ ایک تعلیم یافتہ عورت ہی ایک بہترین خاندان کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔
آج کے اس ترقی یافتہ دور میں جو بھی ملک تعمیر و ترقی کا خواہاں ہے وہ اپنی اس ترقی کے سفر میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کی شمولیت کا بھی متلاشی ہے کیونکہ کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کا کردار بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے اور خواتین جو اس سلسلہ میں اپنا کردار سرانجام دے رہی ہیں اس کی اہمیت سے قطعی طور پر انکار نہیں کیا جا سکتا ہے خواتین بھی مردوں کی طرح مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خدمات سرانجام دے کر ملک و قوم کی خدمت کر رہی ہیں اور ان کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں یہ صرف اسی وجہ سے ممکن ہوا ہے کہ وہ تعلیم کے زیور سے بھی آراستہ ہیں ویسے حصول علم ہر مرد وزن کا حق ہے لیکن مردوں کی نسبت خواتین کیلئے تعلیم کا حصول بہت ضروری ہے کیونکہ انہوں نے آنے والی نسل کی اچھی تعلیم و تربیت کرنی ہوتی ہے آئندہ آنے والی نسل کی اچھی تعلیم و تربیت ایک پڑھی لکھی ماں ہی بہتر طور پر سرانجام دے سکتی ہے، دیکھنے میں آیا ہے کہ پڑھی لکھی مائیں اپنے بچوں کی صحت و تعلیم اور تربیت کا زیادہ بہتر طور پر خیال رکھتی ہیں جس کی وجہ سے ان کے بچے زیادہ توانا اور تعلیم کے میدان میں جلد ترقی کرنے والے ہوتے ہیں۔ پڑھی لکھی مائیں بچے کا شروع دن سے ہی بہتر خیال رکھتی ہیں اور خوراک مناسب ہونے کی وجہ سے وہ صحت مند رہتے ہیں بہتر قوم اس وقت بنتی ہے جب مائیں پڑھی لکھی اور باشعور و سمجھدار ہوں آج جب ہر طرف میڈیا اپنے اثرات لوگوں پر مرتب کر رہا ہے انٹرنیٹ، کیبل اور ویڈیو گیمز بھی بچوں کے اخلاق کو بگاڑنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں ایسے میں ایک پڑھی لکھی اور باشعور ماں ہی اپنے بچوں کو میڈیا کے ان اثرات سے محفوظ رکھ سکتی ہے اور وقت کے تقاضوں کے مطابق اپنے بچوں کی تربیت درست خطوط پر کر سکتی ہے کیونکہ تعلیم یافتہ باشعور ہونے کی وجہ سے وہ اچھے برے کی تمیز بہتر طور پر کر سکتی ہے جو کہ اس کے بچوں کو ایک اچھا انسان اور مفید شہری بنانے میں معاون ثابت ہوتی ہے پاکستان کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں خواتین کی شرح خواندگی افسوسناک حد تک کم ہے لیکن اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہاں پر تعلیمی اداروں کا فقدان ہے وہاں پر تعلیمی ادارے تو ہیں مگر وہاں کے گھر کے سربراہان خواتین کو تعلیم دلوانے کا رجحان نہیں رکھتے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں تعلیم کے حصول کے بعد وہ اپنے حقوق کا مطالبہ کریں گی اور پڑھ لکھ کر خاندان کی بدنامی کا باعث بنیں گی ان علاقوں کی خواتین حصول علم کی خواہشمند ہیں مگر خاندانی رسم و رواج اور پردے کی وجہ سے تعلیم حاصل نہیں کر پا رہی ہیں اس کے ساتھ ساتھ گھر والے بھی لڑکیوں کی تعلیم حاصل کرنے پر زیادہ توجہ نہیں دیتے جو کہ ایک لمحہ فکریہ ہے اب یہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس سلسلے میں مختلف اقدامات کرے تاکہ یہ خواتین بھی تعلیم حاصل کر سکیں اور مستقبل میں آنے والی نسل کی بہترین نشوونما کر پائیں، نیز اپنی صلاحیتوں کو بھی استعمال میں لاسکیں، گزشتہ چند برسوں سے پاکستان کی خواتین میں تعلیم کے حصول کا شعور اُجاگر ہوا ہے جس کی وجہ سے اب پہلے کی نسبت کافی تعداد میں خواتین مختلف شعبہ ہائے زندگی میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور بعدازاں نوکری کر کے ملک و قوم کی خدمت کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کی کفالت بھی کر رہی ہیں خواتین گھر کے سربراہ کی ناگہانی موت کی صورت میں یا اس کے کام کاج کے قابل نہ رہنے کی بنا پر گھر کا نظام چلانے کی ذمہ داری بھی بخوبی سنبھالتی ہیں اس کے علاوہ آج کے اس دور میں جب مہنگائی روز بروز بڑھ رہی ہے اور ایک کمانے والا اور دس کھانے والے ہوں تو یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ معاشی طور پر مستحکم ہونے کیلئے خواتین بھی مردوں کے ساتھ کام کریں اور یہ اس وقت ممکن ہوتا ہے جب وہ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوتی ہیں کیونکہ بغیر تعلیم کے وہ کسی بھی قسم کی عمدہ نوکری حاصل نہیں کر سکتی ہیں اس لیے ہر خاتون کا زیورِتعلیم سے آراستہ ہونا وقت کی اشد ضرورت ہے۔ تاکہ کل کو کسی بھی ناخوشگوار صورتحال میں اپنے پاؤں پر خود کھڑی ہو سکیں اور کسی دوسرے پر بوجھ نہ بنیں۔
ایک مثبت تعمیری اور جمہوری معاشرے کے قیام ،امن و آشتی اور تعمیر و ترقی میں خواتین کی تعلیم و تربیت کی اہمیت ایک مسلمہ حقیقت ہے ایک خاتون کو تعلیم دینے کی بڑی اہمیت ہے کیونکہ ایک خاتون کو تعلیم دینے کا مقصد پورے خاندان کو تعلیم دینے کے مترادف ہے۔ خواتین کی تعلیم بھی معاشرے کی ترقی کیلئے اہم جزو ہے اور اسلام میں بھی خواتین کی تعلیم پر زور دیا گیا ہے۔ ہمارے ملک میں خواتین کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے اس لیے ہمارا ملک اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک خواتین تعلیم یافتہ نہیں ہوں گی کیونکہ تعلیم یافتہ اور نیک ماں ہی بچے کو معاشرے کا اچھا فرد بنا سکتی ہے۔ ہمارے ملک میں خواتین کسی بھی طرح سے مردوں سے کم نہیں ہیں۔ اگر خواتین کو یکساں مواقع دیئے جائیں گے۔ تو خواتین بھی ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ تعلیم و صحت حتی کہ انجینئرنگ کے شعبوں میں خواتین مردوں سے کم نہیں ہیں۔ سکول، کالج، یونیورسٹی امتحانات سے لے کر عملی زندگی تک خواتین نے اپنا لوہا منوایا ہے۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے