Voice of Asia News

ارے سچ بول۔۔ نہیں تو ۔۔ تیری بھی ایسی کی تیسی ۔ محمد نوازطاہر

لیجئے حضور ! گھگھو گھوڑوں سے ملئے۔۔۔معافی چاہتا ہوں ، گھگھو گھوڑے اگر آپ پنجابی میں دو دو کومے لگا کر خود پڑھیں ، میںیہاں لکھنے سے قاصرہوں ، اگر میں نے اصل تلفظ ’’ پھُدوُ ‘‘ لکھا تو کئی قسم کے مزاحمتی عناصر سر اٹھائیں گے ، کوئی تلوار تھامے مجھے الفاظ ’ مسلمان ‘ کرنے سے پہلے ’ جہنم واصل ‘ کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے نکل پڑے گا ، کوئی منبرِ دانش پر بیٹھا میری جہالت پر لعن طعن کرے گا اور کوئی میرا دوست منٹو کی نقالی کی ناکام کوشش قراردے گا ، کوئی فرض شناس قانون دان یک کالمی خبر کیلئے عدالت میں انداراجِ مقدمہ کی درخواست دے گا اور کوئی اس درخواست پر عملدرآمد سے ’ ثوابِ دارین حاصل کرے گا اور جو بچ جائے گا وہ بول رہا ہوگا’’ ایڈی چول مارن دی کیہہ لوڑ سی ‘‘ لہٰذا بہتر ہے کپہ پنجابی لفظ ’پھدوُ ‘ کا یہاں استعمال ہی نہ کیا جائے کیونکہ بہت سے لوگ ذہنی ا نتشار کے باعث ہجوں کی شناخت بھولتے جارہے ہیں کویہ کوئی توتلا نل کا ہجے بھی الٹے سیدھے کرسکتا ہے ، کوئی واؤ کو ’جونیئر ‘یے بھی پڑھ سکتا ہے ،،، پھر اس پنگے میں پڑنے کی ضرورت نہیں بس لفظ گھگھو گھوڑے سے کام چلانے کی کوشش کارگر ثابت کرنے کی کوشش ہی دانشمندانہ ہوسکتی ہے ۔اب اگر کسی نے گھگھو گھوڑے کا مطلب پوچھ لیا تو کیا بتاؤں گا ؟ ۔۔۔ یہاں کون پرانارہ گیا ہے ؟ ماسوائے میرے کل کے ۔۔؟ کون کل کے کھلونوں کو یاد کرتا ہے ؟ ماسوائے اس کے جو کھلونے خرید نہیں سکتا اور اب یہ بھی نہیں کرسکتا کہ تھوڑی مٹی گوندھ کر کھلونے بنالے ، وہ تو ا ب خواب میں بھی کھلونے تراشتے تراشتے تھک چکا ہو گا ۔۔۔۔؟ بہتر ہے کہ انگریزی کے لفظ’ پپٹ‘ کی جانب اشارہ کرایا جائے تاکہ سبھی سمجھ جائیں کہ یہ کوئی عوام یا عوام کے نام پر عوامی حکمران قسم کا لفظ ہوگا ، جونئیر گریڈ کا سینئر گریڈ میں کام کرنے والا افسر ہو گا ، یا انٹرن شپ کرنے والا کوئی سینئر قسم کا صحافی اور تجزیہ کار ہو گا اور کچھ نہیں تو سوشل میڈیا کا کاپی ، کٹ پیسٹ سینئر دانشور ہوگا ۔
لیجئے صاحب ! منجن سے پہلے آپ سفر کی دعا پڑھ لیں ، سفر خیر سے ہوگا یا خیر کی دعا مانگنے والوں کیلئے ہاتھ اٹھانے کا موجب، فی الوقت کچھ نہیں کہا جاسکتا ، صرف لاری کی خیر کی دعا کریں اور ڈرائیور سے فرمائش کی گستاخی سے باز رہیں ۔۔۔ آپ کو منجن تو ملے گا، دانت صاف کرے نہ کرے پیٹ ضرور صاف کردے گا نیت صاف کرنا ، دورانِ سفر اپنے سامان کی خود حفاظت کی طرح آپ کی اپنی ذمہ داری ہے ۔
نئے سال کے پہلے مہینے کے آخری پیر کو اخباری کارکنوں کے ویج ایوارڈ پر عملدرآمدی ٹربیونل ( آئی ٹی این ای ) میں پیش ہونے والوں کی حالت اور قسمت پر ذہنی تالیاں بجانے گیا کہ اب نوحہ بے اثر ہوچکا ، ہر جانب’ بچے جمہورے‘ ہیں توبس گالی اور تالی ہی ماحول پر اثر انداز دکھائی دیتی ہے ۔
کمرہ عدالت میں کچھ بے تاب وسادہ لوح ’جھرلو ‘ کا کمال دیکھنے کیلئے بے چین تھے ، وہاں جھرلو بھی تھا ، بانسری بھی تھی ، ڈمروُ بھی تھا ، سانپ بھی تھے سنپولے اورنیولے بھی ، ان سب کو اپنے وسیع دامن میں سمیٹنے والا جھولہ( تھیلا) بھی تھا جو تماشے کے آخر میں تماشہ دیکھنے والوں کی جیبیں’ پولی‘ کرکے بھرتا ہے ۔
کمرہ عدالت میں جج کے نام پر ایک صاحب جلوہ افروز تھے ، سبھی ان کی چاہنے اور نہ چاہنے کے باوجود جی حضوری بجا لارہے تھے ،
کوئی ایسے ہی تعریفیں کررہا تھا جیسے وہ نواز شریف کے جلسوں میں خود کیا کرتے تھے ، یہ نوجوان بڑھ چڑھ کر نوازشریف زندہ باد کے نعرے لگایا کرتا تھا اور دامادِ نوازشریف کے جانِ عزیز ہونے کی بنا پر مسندِ انصاف پر بٹھایا گیا تھا جیسے اس سے پہلے والے بھی کئی ایسے ہی میرٹ کی بنیاد پر بیٹھتے رہے ، گو کچھ کچھ کچھ سیاسی تڑکے کے بغیر ’سادہ ‘ چیئرمین بھی اسی مسند پر بیٹھتے رہے ہیں ۔ماحول بس۔۔ تاریخ پہ تاریخ ،،، تاریخ پہ تاریخ۔۔۔ اور بس تاریخ پہ تاریخ ۔۔۔۔ والا ہی تھا ، انصاف والی بات کہیں کتابوں کے صفحات میں جلد کے گتے کے بوجھ تلے دبی ریسکیو اہلکاروں کو چیخ چیخ کر مدد کیلئے پکار رہی تھی ۔
یہاں بوڑھے ، ناتواں ، نحیف ، اور بڑھاپے کی جانب تیزی سے برھتے جوان چہرے بھی انصاف کی خواہش لئے آج پھر موجود تھے جیسے وہ کچھ برس پہلے موجود ہوتے تھے ، کسی کے چہرے پر رونق نہیں تھی ماسوائے ان کے جنہوں نے ماتمی لباس پہن رکھا تھا اور وہ جن کی ، ان کے منہ پر جھوٹی تعریف کی جارہی تھی ۔
ملک کے مختلف شہروں سے اسلام آباد جانا اور تاریخ بھگتنا کوئی آسان کام تھوڑی ہے ۔۔۔ کسی نے یہ آسانی جاننا ہو تو۔۔ جس اخبار کی پیشانی پر جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنے کو اصل جہاد قراردینے والے ، نظریہ پاکستان ٹرسٹ چلانے والے ، کشمیریوں اور مشرقی پاکستان کے مظلومین کیلئے چندے اکٹھے کرنے والے ’ نوائے وقت کے انگریزی ترجمے والے اخبار ’ دی نیشن ‘ کے ایک مرحوم کارکن کی بیوہ سے پوچھے جو کبھی اپنی بلوغت کی طرف بڑھتی بچی کے ساتھ لاہور سے اسلام آباد کا سفر کرتی ہے تو کبھی بچے کو سکول بھیجنے کے بجائے اپنے تحفظ کیلئے ’علامتی مرد‘ کو ساتھ لیکر اسی کمرہ میں’ سرکار انصاف لینے آئی ہوں ‘کی صدا بلند کرتی ہے ۔۔۔ اس کے ساتھ آنے والی اس قوم کی بیٹی ہو یا بیٹا ، ہوتے سکول کے یونیفارم میں ہیں ۔۔۔
جن کے سینے میں دل دھڑکتا ہے ان کیلئے یہ سانحہ ساہیوال سے کم نہیں ، سانحہ اے پی ایس یہاں روز ہوتا ہے لیکن اس جیسا ردِ عمل اور اس کے اثرات دکھائی نہیں دیتے ۔۔
یہ کسی ایک عدالت کا منظر نہیں ، ہر اس عدالت کا منظر ہے جہاں محنت کش اپنے محنتانے کی وصولی کیلئے قانون کا سہارا لیے پہنچتا ۔ یہ اس عدالت کا بھی منظر اور المیہ ہے جہاں لاشیں رشوت اور سفارش کے میرٹ سے روز نیا غسل کرتی ہیں ، روز تدفین ہوتی ہے اور کچھ آہیں پھر قبر سے باہر اچھال دیتی ہیں ۔۔ یہی کہانی ہر تھانے کی ، ہر پٹوار خانے کی اور ہر سرکاری دفتر کے فائل خانے کی ہے جسے سسٹم کی خرابی کے نام سے نظر انداز کرکے ناانصافی کیلئے بھر پور استعمال کیا جاتا ہے ۔۔۔
آئی ٹی این ای سے نکنے کے بعد ایک ویگن میں دورانِ سفر شاہرارہِ دستور کے کتبے پر نظر پڑی تو دماغ ، دل اور زبان بیک وقت جن کی آواز اور الفاظ باہم گڈ مڈ ہوگئے جو ایک معمر محنت کش نے سنے ، وہ پنڈی وال تھا ، افسردگی میں بولا کہ’ اسلام آباد ‘ سے پہلے یہاں کے گاؤں اور جنگل میں ہر بات سچ دکھائی دیتی تھی ، جو انسان تھا وہ اپنی حیثیت پہچانتا تھا ، جو حیوان تھا اسے اپنی شناخت تھی ، گاؤں اور جنگل کا اپنا اپنا دستور تھا اپنا، اپنا انداز تھا ، یہاں انسان اور جانور دونوں بستے تھے ، اب انسان نہیں ملتے ، انسانوں کی چ شکل میں حیوانوں ریوڑ ملتے ہیں ، دستور یہاں کوئی نہیں بس طاقت ہی دستور ہے جس کے پاس بھی ہو ۔۔۔ بابے کی باتیں سنتے ویگن سے سے اتر گیا ، ایک دوست کی پرانی کار میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے سے گذرتے ہوئے خیال آیا کہ کارکنوں ، مھنت کشوں کیلئے کے معاشی تھفط کیلئے بنائی جانے والی عدالتوں کی تاریخیں بھگتنے والوں کو اس عذاب سے نجات دلانے کی گرض سے انہی کے مقامی ، وریبی اضلاع میں شنوائی یقنی بنانے کیلئے اسمبلی میں قرارداد پیش کروانے کی کوشش کریں گے تاکہ قانون سازی ہوسکے ، لوگ انصاف لیتے بے گورو گفن نہ مریں ، انصاف کیلئے قانون بنا کر اسے بے اثر نہ کیا کؤ جاسکے ، انصاف کی کرسیوں پر گھگھو گھوڑوں کے بجائے منصف بٹھانے کی راہ ہمراور ہوسکے تو ڈرائیور صاحب نے کہا دیکھو بھائی توم پنجاب اسمبلی کوریج کرتے ہو اور میں پارلیمنٹ کی، تم بھی جانتے ہو ، میں بھی اور باقی سب بھی ، اسمبلیوں میں بھی گھگھو گھوڑے بیٹھے ہیں ، انہیں بٹھانے اور اٹھانے والے بھی گھگھو گھوڑے ہیں ، ایوانوں میں اور ایوانوں کے باہر بھی سبھی گھوگھو گھوڑے ہیں ، سمجھنے کی ضرورت تو یہ ہے کہ گھگھو گھوڑے بناتا کون کون ہے اور کن کئے بچے ان سے دل بہلاتے ہیں ، ۔۔۔۔؟
ملک کے آئین میں ہر شہری کو سماجی ، معاشی انساف فراہم کرنے کی ضمانت دی گئی ہے ، یہ کتابے جملہ اب بولنے کو بھی جی نہیں چاہتا ، جو کوئی اس مملکتِ خداد کو فلاحی ریاست کے تصور کے نام پر حاصل کرنے کی بات یاد دلاتا ہے وہ بھی گھو گھوڑا ہی لگتا ہے ۔ یہاں اگر گھگھو گھوڑا نہیں ہے تو وہ نہیں جو اختیار اور طاقت رکھتا ہے اور اسے دائمی سمجھتا ہے حالانکہ دائمی اختیار سمجھتے والے پنشن کیلئے رشوت دیتے اور دھکے کھاتے بھی دکھائی دیتے ہیں ، ڈندوں اور جھنڈو کے اختیار پر زعم کرنے والے سلا خوں میں میں بھی دیکھے ہیں ، انساف نہ کرنے والے بے توقیر ہوتے اور انصاف کے نام پر بڑھکیں مار کر وقتی شہرت کے بعد گمنام ہوتے ، مرتے بھی دیکھے ہیں ۔ کارو کاری اور وزت پر نام پر قاتل بننے والے وہ لوگ ہیں جو بیٹی کا ہاتھ تھامے دوسری کی عورتوں کے خدوخال کا آنکھوں سے پوسٹمارٹم کرتے ہیں اور منٹو کو فحش نگار قرار دیتے ہیں حالانکہ منٹو فحش نگار ی کی ابجد سے واقف نہیں ، وہ تو معاشرے کے الفاظ معاشرے کے یاد دلانے والا تھا ، ایک عاشق مزاج تھا ، عاشق فحش نگار کیسے ہوسکتا ہے ، منٹو اپنی تحریر میں آدھی اور جھوٹی گواہی کا قائل نہیں تھا ، وہ انسان کے اتارے ہوقئے الباس کو عوام کی عدالت میں گواہی دیتے ہوئے یہ نہیں کہہ سکتا کہ جب غریب کی بیٹی سے طاقت والا جنسی طاقت سے جنسی اور روحانی قتل کا مرتکب ہورہا تو قاتل اور مقتولہ نے مکمل اسلامی لباس زیبِ تن کررکھا تھا ، مقتولہ کے سر کے بال تک ہیجاب میں تھے ، اور قاتل نے بھی صرف ستر ہی نہیں چہرے سمیت پوورے جسم کو خالص مومین کی طرح ڈھانپ رکھا تھا ، یہ گواہی کسی عدالت میں جبری جنسی استحصال کے ملزم کو سزا نہیں دلا سکتی بلکہ مجرم کو آزاد کرانے کا موجب بن سکتی ہے اور منٹو معاشرے میں سماجی معاشی اور جنسی استحصال کے کسی مجرم کو سزا سے بچانے کی مفاہمتی ، این آر او ٹائپ گواہی کیوں دیتا۔۔ وہ پورے احساس والا انسان تھا ، منٹو گھگھو گھوڑا نہیں تھا ۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے