Voice of Asia News

ڈاکٹر قاسم کے بارے سرکاری پالیسی سراسر انتقام گیری ہے ،میرواعظ عمر فاروق

سرینگر( وائس آف ایشیا )کل جماعتی حریت کانفرنس (ع) کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے سرکردہ مزاحمتی محبوس رہنما اور دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی کے شوہر ڈاکٹر محمد قاسم فکتوکے جیل میں 26 سال مکمل ہونے کے موقعہ پر ان کے تئیں اختیار کی گئی سرکاری پالیسی کو عدل و انصاف کے مسلمہ تقاضوں کے منافی قرار دیا۔میرواعظ نے کہاکہ سیاسی نظریئے کی بنیاد پر کسی شخص کو تاحیات جیل میں مقید رکھنانہ صرف انصاف کے خون کے مترادف ہے بلکہ انسانی آزادی چھیننے کی ایک بدترین مثال ہے ۔انہوں نے کہا کہ سشیل شرما کیس میں عمر قید کاٹ رہے ملزم کو رہائی دی گئی اور پنجاب میں بھی اس طرح کی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں عمر قید والے قیدیوں کو رہا کردیا گیا لیکن ڈاکٹر قاسم فکتو کے حوالے سے حکومت ہندوستان نے جو طرز عمل اختیار کیا ہے اس سے سیاسی انتقام گیری کے سوا کوئی نام نہیں دیا جاسکتااور بھارتی سپریم کورٹ کے ان احکامات کے باوجود کہ ان قیدیوں کو مقامی جیلوں میں ہی مقید رکھا جائے کو بالائے طاق رکھ کر انہیں اپنے گھر سے دور بیرون وادی کی جیل میں مقید رکھا گیا ہے اور اس طرح خود اپنی عدالتوں کے احکامات کو پس پشت ڈالنے کے ساتھ ساتھ موصوف کے ساتھ غیر انسانی ، غیر جمہوری اور غیر اخلاقی سلوک روا رکھا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر قاسم فکتو کے ساتھ ساتھ ایسے سینکڑوں کشمیری سیاسی نظر بند ہیں جو بھارت کی مختلف ریاستوں کی جیلوں میں سالہا سال سے مقید ہیں اور جیلوں میں ان کو نہ صرف بنیادی سہولیات سے محروم رکھا جارہا ہے بلکہ ان کی مدت قید کو بلا جواز طریقوں سے طول دیا جارہا ہے ۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے