Voice of Asia News

کابل کی سڑکوں پر کشمیریوں کے حق میں خواتین کی ریلی نے بھارت کی نیندحرام کر دی

سرینگر/دلی ( وائس آف ایشیا ) یوم یکجہتی کشمیر پر افغانستان میں پہلی بار خواتین نے ریلی نکالی اور آزادی کشمیر کے حق میں نعرے بلند کیے جس سے دلی کی نیندیں حرام ہو گئی ہیں ۔کرنٹ نیوز آف انڈیا مانیٹرنگ کے مطابق کابل کی سڑکوں پر پہلی بار خواتین نے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ریلی نکالی، ریلی کے شرکا نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیریوں کے حق میں نعرے درج تھے۔ریلی میں شامل خواتین نے بھارتی جارحیت کے خلاف اور جدوجہد آزادی کشمیر کے حق میں فلک شگاف نعرے لگائے۔ مقررین نے عالمی قوتوں سے بھارتی جارحیت رکوانے اور بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کے لیے کردار ادا کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔مقررین کا مزید کہنا تھا کہ جنت نظیر وادی میں مظلوم کشمیریوں کو ان کا حق دینے کے بجائے نسل کشی کی جارہی ہے، نوجوانوں کا ماورائے عدالت قتل کیا جا رہا ہے اور خواتین کی عصمت دری کی جا رہی ہے۔واضح رہے کہ دنیا بھر میں یوم یکجہتی کشمیر منایا گیا اس دوران کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور عالمی قوتوں کو بھارتی مظالم سے آگاہ کرنے کے لیے جلسے، احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں منعقد کی گئیں جن میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔دریں اثناء اس واقعہ نے دلی کی نیندیں حرام کر دی ہیں ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی حکومت کابل میں احتجاج پر سخت پریشان ہے ۔بھارت افغانستان کو دوست ملک اور افغان حکومت کو اپنے زیر نگین سمجھتا ہے اس لئے کابل میں ایسا احتجاج اس کیلئے چشم کشا ہے۔بھارت نے افغانستان میں اپنا اثر رسوخ بڑھانے کیلئے کھربوں ڈالر لگائے ہیں ۔ایسے حالات میں جب افغان طالبان اور بھارت کے ایک اور نئے دوست امریکہ میں تعلقات کی پینگیں بڑھ رہی ہیں اور امریکہ وہاں سے بوریا بستر گول کرنے کی تیاری کر رہا ہے وہاں کشمیریوں کے حق میں احتجاجی مظاہرہ بھارت کے تشویش کا باعث ہے ۔اس سارے معاملے کی رپورٹ بھارتی حکومت تک پہنچا دی گئی ہے ۔مودی سرکار احتجاج کا معاملہ اندرونی سطح پر اشرف غنی کی حکومت کے ساتھ اٹھانے پر غور کر رہی ہے۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے