Voice of Asia News

فوجی اہلکار اورنگ زیب کی ہلاکت ،بھارتی فوج کے 3اہلکار گرفتار،انکوائری شروع

شوپیان( وائس آف ایشیا )جون 2018میں شادی مرگ پلوامہ44آر آر فوجی کیمپ کے ایک اہلکار،اورنگ زیب ساکن پونچھ کو اغوا کرنے کے بعد ہلاک کرنے کی تحقیقات کے دوران فوج نیپلوامہ اور قاضی گنڈ سے تعلق رکھنے والے اپنے ہی 3جوانوں کو حراست میں لے لیا ہے،جن سے مبینہ طور پر اس بات کی تفتیش ہورہی ہے کہ انہوں نے ہی اورنگ زیب کے کیمپ سے چھٹی لیکرگھر جانے کی اطلاع جنگجوؤں کو دی تھی، جس کے بعد اسکی ہلاکت کا واقعہ پیش آیا ۔فوج نے اس واقعہ کی کورٹ آف انکوائری کے احکامات بھی صادر کردیئے ہیں۔جون 2018میں 44آر آر کیمپ سے وابستہ اہلکار اورنگ زیب کو جنگجوؤں نے عید سے قبل ایک روز اس وقت اغوا کیا تھا جب وہ ایک پرائیویٹ گاڑی میں شوپیان کی جانب سفر کررہا تھا۔بتایا جاتا ہے کہ شادی مرگ سے کیگام کی طرف جانے کے دوران دو کلومیٹر کے فاصلے پر جنگجوؤں نے اسکی گاڑی روک دی اور اسے نیچے اتار کر اپنے ساتھ لے گئے اور دوسرے دن اسکی لاش گوسو پلوامہ وڈر میں ایک درخت کیساتھ لٹکتی ہوئی پائی گئی۔مذکورہ فوجی اہلکار کو اس سال 26 جنوری کے موقعہ پر فوج کا دوسرا بڑا اعزاز سوریہ چکر دیا گیا۔بتایا جاتا ہے کہ چند ماہ گزرنے کے بعد فوج نے مذکورہ کیمپ سے وابستہ 3اہلکاروں کو حراست میں لیتے ہوئے پوچھ تاچھ کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔کہا جارہا ہے کہ اورنگ زیب نامی فوجی اہلکار کی نقل و حرکت سے متعلق ان کے ساتھی اہلکاروں نے جنگجوؤں کو مکمل تفصیلات فراہم کی تھی ۔معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ روز شادی مرگ پلوامہ میں توصیف نامی جس نوجوان کو فوج نے حراست کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا اس کے بھائی عابد احمد وانی ساکن یچھ گوز پلوامہ کو بھی حراست میں لیا جاچکا ہے، جوکہ اسی فوجی یونٹ میں کام کررہا تھا۔اسکے علاوہ اسکے ساتھ جن 2دیگر اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں تجمل احمد ساکن نسو قاضی گنڈاور عادل وانی ساکن نائنہ سنگم پلوامہ شامل ہیں۔اورنگ زیب قتل کیس کے حوالے سے شروع کی گئی تحقیقات کے دوران ہی تینوں اہلکاروں کے نام سامنے آئے جس کے بعد فوج نے انکوائری کے احکامات صادر کرتے ہوئے تینوں کو گرفتار کرلیا ۔ 4فروری کو فوج نے نامعلوم وجوہات کی بنا پر 20سالہ توصیف احمد ولد غلام احمد ساکن یچھ گوز پلوامہ کو گرفتار کیا ، جس کے بعد بقول نوجوان ، انہیں زیر حراست رکھتے ہوئے انتہائی شدید ٹارچر سے گزارا گیا جس کے بعد نوجوان کو انتہائی نازک حالت میں سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال منتقل کیا گیا ۔ہسپتال میں زیر علاج توصیف کا کہنا تھا کہ میجر شکلا اور دیگر اہلکاروں نے مجھے ٹارچر کے دوران میری بہن کی تصویر فراہم کرنے کو کہا اور مجھ پر انتہائی دباؤ ڈالا گیا کہ میں آنے والے دنوں میں ہتھیار اٹھاکر جنگجوؤں کی صفوں میں شامل ہوجاؤں۔زخمی توصیف نے بتایا کہ میجر شکلا نے مجھے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس نے اپنی بہن کی تصویر فوج کو فراہم نہیں کی تو وہ اس کی بہن کو اغوا کریں گے۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے