Voice of Asia News

پنجاب پولیس کی سابق ورلڈ اسنوکر جونیئر چیمپیئن سے شدید بدتمیزی

ساہیوال( وائس آف ایشیا )پولیس نے بدتمیزی کی نئی مثال قائم کرتے ہوئے رات دیر تک اسنوکر کلب کھلا رکنے پر پاکستان کے پہلے جونیئر اسنوکر ورلڈ چیمپیئن کی تضحیک کرتے ہوئے انہیں شدید ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا۔2017 میں ورلڈ جونیئر اسنوکر چیمپیئن شپ جیتنے والے محمد نسیم اختر تین مرتبہ انڈر18 پنجاب چیمپیئن رہنے کے ساتھ ساتھ ایک مرتبہ انڈر18 نیشنل چیمپیئن اور انڈر21 ایشین چیمپیئن شپ کے سیمی فائنل میں بھی پہنچ چکے ہیں۔نسیم اختر نے صحافیوں کو بتایا کہ پولیس ا?فیشلز نے ان کے اسنوکر کلب پر چھاپہ مارا اور کلب بند کرنے کے حوالے سے کسی قسم کے مخصوص اوقات کار کی اطلاع دیے بغیر انہیں سب کے سامنے زدوکوب کیا۔انہوں نے بتایا کہ فتح شیر پولیس نے ایس ایچ او کی سربراہی میں رات ساڑھے 10 بجے ورلڈ چیمپیئن اسنوکر اکیڈمی کا دورہ کیا اور ان کی بے عزتی کی۔انہوں نے کہا کہ میں نے پولیس کو بتایا کہ مجھے کلب 10 بجے بند کرنے کے حوالے سے پولیس کا کوئی اعلامیہ یا حکمنامہ موصول نہیں ہوا لیکن اس کے باوجود وہ تمام چیزوں کو نظرانداز کرتے ہوئے ان کے شاگردوں کے سامنے انہیں وین میں ڈال کر لے گئے۔عینی شاہدین کے مطابق پولیس کلب سے دو موٹر سائیکل اور ایک ڈی وی آر بھی لے گئی۔نسیم اختر نے کلب رات 12 بجے تک کھولنے کے لیے ایک درخواست ڈپٹی کمشنر محمد زمان وٹو کو بھیجی تھی جنہوں نے یہ ضلعی اسپورٹس افسر کو بھیج دی تھی۔ڈی پی او علی ضیا نے معاملے کی تحقیقات کے لیے اے ایس پی پولیس انعم فریال کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دے دی۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے