Voice of Asia News

شاہ محمود قریشی نے افغان صدر کا ٹویٹ مسترد کردیا

لاہور ( وائس آف ایشیا)وزیرخارجہ پاکستان شاہ محمود قریشی نے افغان صدراشرف غنی کا ٹویٹ مسترد کردیا ہے، انہوں نے کہا کہ افغان لیڈرشپ کابیان غیرذمہ درانہ ہے، ایسے بیانات پاکستان کے معاملات میں کھلی مداخلت ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغان حکومت کوافغان عوام کے دیرینہ مسائل حل کرنے چاہئیں۔ تفصیلات کے مطابق افغان صدراشرف غنی نے اپنے ٹویٹ میں پاکستانی معاملات میں کھلی مداخلت کی ہے۔جس پر وزیرخارجہ پاکستان شاہ محمود قریشی نے افغان صدراشرف غنی کا ٹویٹ مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے افغان حکومت پر واضح کیا کہ افغان لیڈڑشپ کے اس قسم کے غیرذمہ درانہ بیانات پاکستان کے معاملات میں کھلی مداخلت ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغان لیڈرشپ کوافغان عوام کے دیرینہ مسائل حل کرنے پر غور کرنا چاہیے۔دوسری جانب افغان صدراشرف غنی کے بیان کو دیکھا جائے توانہیں کبھی کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم نظر نہیں آئے؟ ایل اوسی پر بھارتی فوج کی سویلین آبادی پر فائرنگ کی کبھی مذمت نہیں کی۔اشرف غنی کو چاہیے کہ بھارتی مظالم کی مذمت سمیت کلبھوشن کی گرفتاری پر بھی تشویش کا اظہار کرتے۔ اسی طرح پاکستان افغانستان میں امن کے قیام کیلئے کوششیں کررہا ہے ۔ پاکستان کی کوشش سے ہی افغان طالبان اور امریکی قیادت مذاکرات کی میز پر بیٹھے ہیں، تاکہ افغانستان میں امن قائم ہوسکے، پاکستان سمجھتا ہے کہ خطے میں بالخصوص ہمسایہ ممالک میں پائیدار امن خطے کی عوام کے اہم ہے ، امن کی بدولت ہی پورا خطہ ترقی کرسکتا ہے۔واضح رہے افغان صدر نے پاکستانی معاملات میں مداخلت کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغان حکومت کو بلوچستان اور خیبرپختونخواہ میں احتجاج کرنے والوں پرتشدد پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔انہوں نے اپنے ٹویٹ میں کہا تھا کہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ ہر حکومت کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ایسے شہری جو شدت پسندی اور دہشتگردی کے خلاف آواز اٹھائیں ان کی حمایت کرے۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے