Voice of Asia News

شرجیل خان نے اسپاٹ فکسنگ واقعے کے 2سال بعد جرم کا اعتراف کرلیا

لاہور(وائس آف ایشیا)شرجیل خان نے اسپاٹ فکسنگ واقعے کے 2 سال بعد جرم کا اعتراف کرلیا ہے ، پی سی بی اینٹی کرپشن یونٹ نے شرجیل خان پر پانچ الزامات عائد کئے تھے، انہوں نے پانچوں الزامات میں اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے اسپاٹ فکسنگ کیس میں سزا یافتہ ٹیسٹ اوپنر شرجیل خان کو کرکٹ سرکٹ میں واپسی کیلئے مزید انتظار کرنا ہوگا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے شرجیل خان کی درخواست پر انہیں ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت نہیں دی ہے میڈیا رپورٹس کے مطابق شرجیل خان نے اس واقعے کے دو سال بعد اب اپنے جرم کااعتراف کر لیا ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے شرجیل خان کو فوری طور پر ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔ شرجیل خان نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی کو خط تحریر کیا تھا کہ ان کی پابندی اگست میں ختم ہورہی ہے لہذا انہیں ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت دی جائے لیکن پی سی بی نے فوری طور پر ان پر عائد پابندی اٹھانے سے انکار کردیا ہے۔قومی اور انٹرنیشنل سرکٹ میں واپسی کیلئے شرجیل خان نے حیدرآباد میں ایک ایسی جگہ پر پِچ بنائی ہے جو عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہے۔ اس پچ پر انہوں نے اپنے طور پر ٹریننگ اور پریکٹس شروع کی ہوئی ہے۔2017میں پاکستان سپرلیگ کے دوسرے ایڈیشن میں شرجیل خان اور خالد لطیف اسپاٹ فکسنگ میں ملوث پائے گئے تھے۔ پی سی بی نے دونوں کرکٹرز کو معطل کردیا تھا جبکہ اسی کیس کے مرکزی کردار ناصر جمشید پر برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے فرد جرم عائد کی ہوئی ہے۔شرجیل خان اور خالد لطیف پر الزام تھا کہ انہوں نے مبینہ طور پر پاکستان سپر لیگ شروع ہونے سے پہلے دبئی میں مشکوک افراد سے ملاقات کی جہاں ان کے درمیان ایک ڈیل ہوئی تھی۔ اس ڈیل میں مبینہ بک میکر یوسف انور اور کرکٹر ناصرجمشید کے نام سامنے آئے تھے۔ پی سی بی اینٹی کرپشن یونٹ نے شرجیل خان پر پانچ الزامات عائد کئے تھے، انہوں نے پانچوں الزامات میں اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔اگست 2017میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں ملوث کرکٹر شرجیل خان پر کرکٹ سے متعلق کسی بھی قسم کی سرگرمی میں حصہ لینے پر پانچ سال کی پابندی عائد کر دی تھی۔ شرجیل خان کو پانچ میں سے ڈھائی برس کی معطلی کی سزا لازما کاٹنی ہے۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے