Voice of Asia News

بھارتی کانگریس جماعت کا ایک ساتھ 3طلاق دینے پر سزا کو ختم کرنے کا عندیہ

نئی دہلی (وائس آف ایشیا) بھارتی کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کانگریس نے کہا ہے کہ اگر ان کی جماعت انتخابات میں کامیاب ہوگئی تو وہ وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے جاری کردہ اس حکم نامے کو ختم کردے گی جس میں ایک ساتھ 3 طلاق دینے پر مسلمان مردوں کو جیل بھیجنے کا کہا گیا تھا۔زیرارعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) نے جنوری میں ایک خصوصی حکم جاری کرتے ہوئے مسلمان مردوں کے 3 دفعہ لفظ طلاق کہہ کر اپنی اہلیہ کو بیک وقت طلاق دینے کو قابلِ سزا جرم قرار دیا تھا۔حکم نامے کی رو سے ایک ساتھ 3 طلاقیں دینے پر 3 سال جیل کی سزا مقرر کی گئی تھی، جبکہ مذکورہ بل لوک سبھا یا ایوانِ زیریں میں منظور کرلیا گیا تھا۔تاہم جب ایوانِ بالا (راجیہ سبھا) میں بیک وقت 3 طلاقوں کو ناقابلِ ضمانت جرم بنانے کا بل پیش کیا گیا تو کانگریس اور کچھ دیگر جماعتوں کی مزاحمت کے باعث منظور نہ ہونے کی وجہ سے حکومت نے اس پر خصوصی حکم نامہ جاری کردیا تھا۔بھارتی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے یہ کام ضروری ہے لیکن کانگریس کا کہنا تھا کہ اس کے تحت مسلمان مردوں کو غیر منصفانہ طور پر سزا دی جائے گی۔کانگریس کی شعبہ خواتین کی سربراہ سشمیتا دیوی نے اپنی تقریری میں کہا کہ ہم اس کی مخالفت اس لیے کررہے ہیں کہ یہ مسلمان مردوں کو قید کرنے یا ان کو پولیس تھانوں تک پہنچانے کے لیے نریندر مودی کا بنایا ہوا ہتھیار ہے۔انہوں نے وعدہ کیا کہ 2019 میں کانگریس حکومت میں آکر تین طلاقوں کے اس قانون کو ختم کردے گی۔سشمیتا دیوی نے یہ بات پارٹی کے اقلیتی اراکین کے اجلاس میں کہی جس میں کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے بلند و بالا آواز میں کہا تھا کہ آپ کی زبان، مذہب، ذات سے قطع نظر کانگریس ہمیشہ آپ کا تحفظ کرے گی۔یہ بات مدِ نظر رہے کہ بھارت کی ایک ارب 30 کروڑ افراد پر مشتمل آبادی میں 80 فیصد ہندو اور 14 فیصد مسلمان ہیں۔دوسری جانب بی جے پی، جو انتخابات میں کامیابی کے لیے مسلمان خواتین کی حمایت حاصل کرنا چاہتی ہے، نے کانگریس کے اس اعلان کو طفل تسلی قرار دیا۔اس ضمن میں بی جے پی ترجمان سمبت پترا نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ا س قسم کے رجعت پسدندانہ خیالات پر نہ بھارتی عوام اور نہ مسلمان خواتین انہیں معاف کریں گی۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے