Voice of Asia News

انسانی شخصیت وکردار کی تعمیر:محمد قیصر چوہان

کسی انسان کی شخصیت اس کی ظاہری و باطنی اوراکتسابی خصوصیات کا مجموعہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنی جو ہدایت انبیاء کرام علیہم الصلوۃوالسلام کے ذریعے دنیا میں بھیجی ہے ، اس کا بنیادی مقصد ہی انسان کی شخصیت اور کردار کی صفائی ہے۔ اسی کا نام ’’تزکیہ نفس‘‘ ہے۔انسان کی خصوصیات میں ایک تو وہ ہے جو اسے براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملی ہیںیہ غیر اکتسابی یا قدرتی صفات کہلاتی ہیں۔ دوسری وہ خصوصیت جنہیں انسان اپنے اندر یا تو خود پیدا کر سکتا ہے یا پھر اپنی قدرتی صفات میں کچھ تبدیلیاں پیدا کرکے انہیں حاصل کرسکتا ہے یا پھر یہ اس کے ماحول کی پیداوار ہوتی ہیں یہ اکتسابی صفات کہلاتی ہیں۔ قدرتی صفات میں ہمارا رنگ، نسل ، شکل و صورت ، جسمانی ساخت ، ذہنی صلاحیتیں وغیرہ شامل ہیں۔ اکتسابی صفات میں انسان کی علمی سطح، اس کا پیشہ، اس کی فکر وغیرہ شامل ہیں۔شخصیت فر د کے ذہنی ،جسمانی ،شخصی ،برتاؤ ،رویوں ،اوصاف ا ور کردار کے مجموعہ کا نام ہے باالفاظ دیگر اگر سہل انداز میں شخصیت کی تعریف کی جائے تو یہ انسان کے ظاہری و باطنی صفات ،نظریات اخلاقی اقدار ،افعال احساسات اور جذبات سے منسوب ہے۔ ظاہری حسن وجمال وقتی طور پر کسی کی توجہ تو مبذول کرسکتا ہے لیکن کردار کا دائمی حسن ہی انسان کو زندہ جاوید بنا تا ہے۔تعمیر کردار میں فکر و نظریات کا کلیدی رول ہوتا ہے ۔
لوگ خود بخود اس شخص کی طرف کھنچے چلے جاتے ہیں جو دلکش شخصیت کا حامل ہو۔ ہمیشہ لوگوں کا سنجیدگی سے مطالعہ کریں۔ آپ دیکھیں گے کہ کچھ لوگ زیادہ دلکش ہوتے ہیں یہ دلکشی صرف جسمانی نہیں ہوتی اگر دلکشی صرف جسمانی ہو، تو یہ بہر حال عارضی شے ہو گی۔ اچھے کپڑوں اور چمکتے جوتوں سے بلاشبہ دلکشی پیدا کی جاسکتی ہے مگر ہمیشہ یاد رکھیں کہ جس دلکشی کی وجہ یہ مادی حقیقتیں ہوں وہ دلکشی کپڑوں پر آنے والی شکنوں اور جوتوں کی پالش پر میل آتے ہی ہوا ہو جائے گی۔ ایسی دلکشی مختصر وقت کیلئے ہو گی اور یوں جو تعلق اس دلکشی کے سحر میں ارتقا پائے گا وہ تھوڑی مدت میں ختم ہو جائے گا۔ حقیقی دلکشی ان اعلیٰ انسانی اوصاف کی بدولت پیدا ہوتی ہے جو انسان مسلسل محنت اور سالوں کی ریاضیت سے خود میں پیدا کرتا ہے۔ دراصل آدمی کا کردار اسے دوسرے لوگوں سے مختلف اور ممتاز بناتاہے۔ وہ طاقت جو کردار کی مضبوطی سے آتی ہے اس کا کوئی رنگ، نسل اور مذہب نہیں ہوتا۔ یہ صرف دولت کی طاقت پر ہی قائم نہیں ہوتی۔ کردار کا فاتح دولت، علم، خیالات کی طاقت سے ماورا ہو جاتا ہے۔ انسان کا کردار ہی دراصل یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ کن نظریات کا پیروکار ہے۔ کردار میں مضبوطی انسان کے ذمہ دار ، باضمیر، سچا اور دیانت دار ہونے پر انحصارکرتی ہے۔ دنیا کے تمام مذاہب کی تعلیمات کو سامنے رکھ کر دیکھ لیں وہ سب اسی کی تبلیغ کرتے نظر آئیں گے۔ اپنے دلائل کو مضبوط کرنے کیلئے جب صداقتوں کا بیان کرتے ہیں تو انہی باکردار اور صادق لوگوں کی مثالیں پیش کرتے ہیں، لیکن ایک بات یاد رکھیں کردار ایسی چیز نہیں جو راتوں رات تعمیر ہو جائے، یہ تو وہ اعلیٰ اعمال ہیں جو انسان کی یوں عادت بن جاتے ہیں اور وہ روزمرہ زندگی میں انہیں اس باقاعدگی سے اپناتا ہے کہ یہ اس کی فطرتِ ثانیہ بن جاتی ہے۔ اور جب بھی ایسے شخص کو زندگی کے کسی موڑ پر کردار کی مضبوطی کے اظہار کیلئے ان اوصاف کی ضرورت پڑتی ہے تو وہ خودبخود اس سے ظہور پزیر ہو جاتے ہیں۔
کسی بھی انسان میں ایک سے بڑھ کر ایک خوبیاں ہوتی ہیں مثال کے طورپر حسن اخلاق،حسن معاملات، سچائی وصداقت، تواضع وانکساری، عزم وحوصلہ، سنجیدگی وبرداشت اور ایفائے عہد جیسی صفات پائی جاتی ہیں۔ دوسری طرف اْس کے اندر ایسی کمزوریاں بھی راہ پاتی ہیں جو شخصیت کو تباہ کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں، جن کو ہم چار حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں ایک اخلاقی کمزوری، دوسری معاملات کی کمزوری، تیسری جسمانی کمزوری، چوتھی نفسیاتی و ذہنی کمزوری۔انسان کی سب سے اہم خوبی حسن اخلاق ہے اِس کا دائرہ کافی وسیع ہے، اِس میں خوش کلامی بھی آتی ہے یعنی اپنی زبان کا موزوں استعمال، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ’’پہلے تولو پھر بولو‘‘ ، اِتنا ہی نہیں زبان کی شیرینی کا اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ غیروں کو بھی اپنا بنا لیتی ہے، زبان کے بارے میں ایک کہاوت یہ بھی مشہور ہے کہ ’’تیرکا زخم تو بھر جاتا ہے لیکن زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کا زخم ہمیشہ ہرا رہتا ہے‘‘ واقعی ہم غور کریں تو یہ بڑی حیرت انگیز بات لگتی ہے کہ زبان میں ہڈی نہیں ہوتی، یہ گوشت کا ایک معمولی لوتھڑا ہے، پھر بھی زبان اتنی طاقت رکھتی ہے کہ کسی کا بھی سینہ چھلنی کرسکتی ہے اور اِس سے بہت آسانی کے ساتھ دوسرے کا دل ودماغ متاثر ہوسکتا ہے، بے شمار لوگ ہمارے سماج میں ایسے ہیں جو یہ نہیں جانتے کہ زبان سے پھول بھی جھڑتے ہیں اور خوشبو بھی آتی ہے، لوگوں کا دل بھی خوش ہوجاتا ہے اور اْن کو دکھ بھی پہونچ سکتا ہے، یہی حال انسانی معاملات کا ہے کہ اْن کی وجہ سے جہاں انسان کو عزت، احترام اور وقار حاصل ہوتا ہے ، وہیں اِن کے بگاڑ کی وجہ سے وہ لوگوں میں غیرمقبول، ناپسندیدہ، گرا ہوا انسان سمجھا جانے لگتا ہے کیونکہ انسان اور سماج کے آپسی رشتوں کو اچھے بنانے کے لئے معاملات کا درست ہونا بہت ضروری ہے، معاملات صحیح ہوں گے تو انسان سچائی و صداقت کا دامن بھی تھامے رکھے گا، اْس میں تواضع و انکساری بھی پائی جائے گی اور عزم وحوصلہ بھی نظر آئے گا، سنجیدگی وبرداشت اور وعدہ نبھانے کی خوبیوں سے بھی وہ آراستہ ہوگا۔انسانی شخصیت کی ظاہری خوبیاں لوگوں کو تھوڑے عرصہ کیلئے متاثر کرتی ہیں اور اگر باطنی صفات نہ ہوں تو اْن کا بھرم جلد کْھل جاتا ہے اور متاثر کرنے کا عمل وقتی ہوتا ہے، اگر انسان کی شخصیت میں اچھے اخلاق وکردار کا عمل دخل ہوتو وہ ہر ایک کی توجہ کا مرکز بن جاتا ہے، اِس لئے علم، تجربہ، جاذبیت، اخلاق اور کردار کے ساتھ ہی انسان کی شخصیت بنتی اور دوسروں کو متاثر کرتی ہے۔
شخصیت درحقیقت نام ہے ظاہری اور اندرونی صلاحیتوں کا ، اگر کوئی انسان صرف ظاہری خوبیوں کا مالک ہے تو اْس کے اثرات دیرپا نہیں ہوتے، جلد ہی اْس کی کمزوریاں سامنے آجاتی ہیں۔ اچھے اخلاق ظاہری طور طریقے کا نام نہیں بلکہ اِس کے ذریعہ باطنی کردار اور عمل میں بھی خوبیاں پیدا ہونا چاہئے۔ دنیا کی تمام تعلیمات ، سبھی مذاہب اور فلسفوں کا نچوڑ بھی یہی ہے کہ انسان خود کو ظاہری اور باطنی دونوں پہلوؤں سے بہتر بنائے، ساتھ ہی اْس کی کمزوریوں کا خاتمہ ہو، انسانی شخصیت میں عیب پیدا ہونے کی بنیادی وجہ انسان کی اخلاقی کمزوریاں، بْری عادتیں اور خودغرضی ہوتی ہے، جن پر قابو پاکر انسان خود کو بہتر بنا سکتا ہے۔اِسی طرح قومیں انسانوں سے بنتی ہیں اور دنیا میں جتنی قومیں ہیں ان کی فطرت یکساں نہیں ، یہی وجہ ہے کہ کچھ قومیں مثالی اور بعض غیر مثالی تسلیم کی جاتی ہیں کچھ قومیں اپنی وضع داری خاطرداری اور مہمان نوازی کی مثال ہیں جن میں جاپان سر فہرست ہے۔
شخصیت و کردار انسان کی ذات کا وہ عنصر ہے جو معاشرے میں اس کا مقام متعین کرتا ہے۔ اس لئے شخصیت و کردار کی تعمیر اس نہج پر ہونا ضروری ہے کہ معاشرے میں عزت و عظمت کا مقام حاصل ہو سکے اور اس کا مقام نہ صرف رہتی دنیا تک بلکہ آخرت کی دنیا جو کہ ہمیشہ کے لئے ہے قائم رہے۔شخصیت کے لغوی معنی خصلت اور کردار کے لغوی معنی ہیں چال چلن۔یہ قدرتی امر ہے کہ کسی بھی شئے کی تعمیر کرنی ہو تو اس کیلئے بنیاد کی ضرورت ہوتی ہے۔ مختصر یہ کہ دماغ انسان کے جسم کا وہ حصہ ہے جو سوچتا ہے، سمجھتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ کیا کام کیا جائے اور کیا کام نہ کیا جائے۔ جب فیصلہ کر لیا جاتا ہے تو پھر ایک پلان ترتیب دیا جاتاہے اور اس پلان کے مطابق عمل کیا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے دماغ میں اپنی ہدایت جو کہ قرآن پاک میں ہے اسے ہر روح میں سمو دیا ہے جس پر شخصیت و کردار کی تعمیر ہونی ہوتی ہے۔ جب انسان زندگی کے مختلف ادوار میں سے گزرتا ہے تو اسے اپنی زندگی کے معاملات کو اللہ کی ہدایت کی بنیاد پر پرکھنا ہوتا ہے اور پھر اس کے مطابق زندگی کو ترتیب دینا ہوتا ہے۔ اگر انسان اللہ کی ہدایت کے مطابق اپنی زندگی کو ترتیب دیتا ہے تو اس کی خصلت میں اسلامی اقدار کی روح جنم لیتی رہے گی جس سے ان کا چال چلن اچھا ہوگا اور اچھے چال چلن والا انسان معاشرے میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔!للہ تعالیٰ نے انسان کو اختیار بھی دے رکھا ہے۔ اختیار یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کو اللہ کی ہدایت کے مطابق ترتیب دے یا پھر اپنی وضع کر دہ اقدار پر ترتیب دے۔بھائیو اور بہنو!گر انسان اپنی وضع کردہ اقدار پر اپنی زندگی کو ترتیب دیتا ہے تو اس کی خصلت پراگندہ ہوتی رہتی ہے اور اس کا چال چلن اچھا نہیں رہتا جس کی وجہ سے معاشرے میں اسے ذلت کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔
انسان اپنے اخلاق وکردار کی وجہ سے ہی انسان بلکہ اشرف المخلوقات کا درجہ حاصل کرتا ہے اور جب اخلاق وکردار سے محروم ہوجاتا ہے تو انسانیت کے درجے سے نیچے گرجاتا ہے اور اْسے احساس بھی نہیں ہوتا، اِس کے برعکس حیوان اپنی فطرت پر قائم رہتا ہے، انسان کو ایک سماجی جانور اِسی لئے کہا جاتا ہے کہ وہ سماجی طور طریقوں سے واقف ہوکر ہی انسان بنتا اور کہلاتا ہے۔ اِس کے بغیر وہ انسان قرار نہیں پا سکتا۔یاد رکھئے! شخصیت علم، تجربہ، اخلاق ، کردار اور جاذبیت کا نام ہے اِس کیلئے ظاہری اور باطنی دونوں طرح کی صلاحیتوں کے ارتقاء کی ضرورت ہے، دنیا میں بڑے لوگ اِس وجہ سے مشہور ہوئے کہ اْنہوں نے اپنی شخصیت کی تعمیروتشکیل پر توجہ دی، اْسے اْبھارا اور نکھارا، جس کے نتیجہ میں اْن کی صلاحتیں نکھرکر سامنے آئیں اور وہ عوام الناس کی توجہ کا مرکز بن گئے اور بڑے آدمی کہلائے۔شخصیت کی تعمیرظاہری و باطنی اور اکتسابی ،دونوں طرز کی صفات کو مناسب حد تک ترقی دینے کرنے کا نام ہے۔ انسان کو چاہئے کہ وہ اپنی شخصیت کو دلکش بنانے کیلئے اپنی قدرتی صفات کو ترقی دے کر ایک مناسب سطح پر لے آئے اور اکتسابی صفات کی تعمیر کا عمل بھی جاری رکھے۔ شخصیت کے باب میں ہمارے نزدیک سب سے اعلیٰ و ارفع اور آئیڈیل ترین شخصیت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت ہے۔ اعلیٰ ترین صفات کا اس قدر حسین امتزاج ہمیں کسی او رشخصیت میں نظر نہیں آتا۔ آپ بحیثیت ایک انسان اتنی غیرمعمولی شخصیت رکھتے ہیں کہ آپ کی عظمت کا اعتراف آپ کے مخالفین نے بھی کیا۔ دور جدید کے متعصب مغربی مفکرین نے بھی آپ کی شخصیت اور کردار کی عظمت کو کھلے لفظوں میں بیان کیا ہے۔ قرآن مجید اور صحیح احادیث سے ہمیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سمیت دیگر انبیاء کرام علیہم الصلوۃوالسلام کی شخصیات کے بہت سے اعلیٰ پہلو ملتے ہیں ۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے