Voice of Asia News

امریکا نے روس کے ساتھ میزائلوں پر پابندی کا معاہدہ باضابط طور پر ختم کردیا

واشنگٹن (وائس آف ایشیا)امریکہ نے روس کے ساتھ وسط مدتی جوہری معاہدے خاتمے کا باضابط اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس نے معاہدے کی خلاف ورزی میں پہل کی جبکہ روس کا کہنا ہے کہ وہ بھی جوہری معاہدے سے دست بردار ہو رہا ہے. 1987 میں امریکی اور سویت یونین کے درمیان کم فاصلے اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے جوہری اور غیرجوہری میزائلوں پر پابندی کا معاہدہ طے پایا تھا‘ اس میں سمندر سے مار کرنے والے ہتھیار شامل نہیں تھے.اس معاہدے پر سویت یونین کے صدر میخائل گورباچوف اور امریکی صدر رونلڈ ریگن نے اس معاہدے پر دستخط کیے تھے‘امریکہ سویت یونین کی جانب سے ایس ایس 20 میزائل سسٹم نصب کرنے پر تشویش مند تھا اور اس کے جواب میں اس نے یورپ میں پیرشنگ اور کروز میزائل نصب کیے تھے جس کے ردعمل میں بڑے مظاہرے ہوئے . 1991 تک تقریباً 2700 میزائل تباہ کیے گئے اوردونوں ممالک کو ایک دوسرے کی تنصیبات کا معائنہ کرنے کی اجازت دی گئی‘2007 میں روسی صدر ولادی میر پوتن نے اعلان کیا تھا کہ یہ معاہدہ اب روسی مفادات میں نہیں ہے‘ روس کی جانب سے یہ اعلان امریکی کے 2002 میں انٹی بیلسٹک میزائل معاہدے سے نکل جانے کے بعد سامنے آیا .2014 میں صدر اوباما نے روس پر آئی این ایف کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا جب اس نے مبینہ طور پر زمین سے مار کرنے والے ایک کروز میزائل کا تجربہ کیا تھا . براک اوباما نے مبینہ طور پر اس معاہدے سے دستبردار نہ ہونے کا فیصلہ یورپی راہنما?ں کے دبا? پر کیا تھا جن کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے سے ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہو سکتی ہے . روس کے سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق روسی وزارت خارجہ کے ایک ذرائع نے امریکہ کے ایک اقدام کو واحد قطبی دنیا کے خواب کا شاخسانہ قرار دیا ہے جہاں صرف ایک ہی سپر پاور ہو جبکہ امریکہ کا اصرار ہے کہ روسیوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نویٹر 9M729 نامی درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا میزائل تیار کیا ہے جسے نیٹو میں ایس ایس سی 8 کے نام سے جانا جاتا ہے .اس کی مدد سے روس نیٹو ممالک کو بہت کم وقت میں نشانہ بنانا کی قابل ہو سکتا ہے‘روس نے اس نئے میزائل کے بارے میں بہت کم بات کی ہے تاہم ماسکو نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تردید کی ہے . تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس ایسے ہتھیاروں کو روایتی ہتھیاروں کے سستے متبادل کے طور پر دیکھتا ہے . یہ سرد جنگ کے زمانے میں امریکہ اور روس نے یورپ میں ایک دوسرے کے خلاف لگ بھگ 70 ہزار جوہری ہتھیار نصب کر رکھے تھے .جوہری ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک اچھا معاہدہ تھا مگر صدر اوباما کے اقتدار میں بھی امریکی محکمہ دفاع میں ایسے عناصر موجود تھے جو امریکہ کی جوہری برتری قائم رکھنے کے لیے اس معاہدے کو ختم کرنے کے حق میں تھے . ماہرین کے مطابق اس معاہدے کو چھوڑنے کے بعد امریکہ اور روس کے درمیان ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہو سکتی ہے، جس کی وجہ سے امریکہ کی دفاعی صنعتوں کو زیادہ منافع کمانے کا موقع ملے گا .واشنگٹن میں دفاعی وجوہری امور کے ایک تجزیہ نگار نے اس نظریے سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اسلحے کی دوڑ شروع ہونے سے امریکی معیشت کو بڑا فائدہ ہو گا جبکہ روس کو سوچنا پڑے گا کہ امریکہ کے مقابلے میں کم مالی وسائل رکھنے والے ایک ملک کے طور پر کیا وہ ہتھیاروں کی اس دوڑ کا متحمل ہو سکے گا . انہوں نے کہا کہ اگر روس ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہونے کی کوشش کرتا ہے تو اس سے یورپ میں خطرے کی گھنٹی بجنے لگے گی، جس کے نتیجے میں یورپی ملک امریکہ سے نیٹو کی چھتری کی مدد مانگیں گے ان دونوں صورتوں میں امریکہ کو ہی فائدہ ہو گا .

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے