Voice of Asia News

بھارت شہید محمد مقبول بٹ اور شہید محمد افضل گورو کی باقیات واپس کرے سید علی گیلانی

سری نگر(وائس آف ایشیا)کل جماعتی حریت کانفرنس گ کے چیرمین سید علی گیلانی نے شہید محمد مقبول بٹ اور شہید محمد افضل گورو کو پھانسی دئے جانے کے بالترتیب 35سال اور 6سال مکمل ہونے پر دونوں کشمیری سپوتوں کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ہے۔ انہوں نے دونوں شہداء کی تہاڑ جیل میں مدفون باقیات کو واپس لوٹائے جانے کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ یہ اگرچہ خالصتاً ایک انسانی مسئلہ ہے، البتہ بھارت تمام تر اخلاقی، آئینی اور انسانی اصولوں کو پامال کرتے ہوئے اس کو پورا نہیں کررہا ہے اور اس طرح اس کا ایک بڑی جمہوریہ ہونے کا دعویٰ بُری طرح سے ایکسپوز ہورہا ہے۔ اپنے بیان میں گیلانی نے کہا کہ شہید محمد مقبول بٹ اور شہید افضل گورو کشمیری قوم کے ہیرو ہیں اور ہمیں اُن پر فخر ہے۔ کشمیری قوم پچھلے 71سال سے بھارت کے جبری قبضے کے خلاف جدوجہد کررہی ہے اور اس جدوجہد میں جہاں ہمارے ہزاروں جیالوں نے اپنی جانوں کی قربانیاں پیش کی ہیں، وہاں شہید محمد مقبول بٹ اور شہید افضل گورو کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ دونوں نے29سال کے وقفے سے ایک ہی جیل اور ایک ہی مہینے میں تختۂ دار کو خوشی خوشی اور بہادری کے ساتھ چوما اور کسی قسم کی مداہنت اور کمزوری نہیں دکھائی۔ حریت چیرمین نے کہا کہ شہید محمد مقبول بٹ کو اگر جموں کشمیر کی تحریکِ آزادی میں ایک خاص مقام حاصل ہے اور انہیں یقینی طور سرفروشی کے راستے کا پہلا سپاہی قرار دیا جاسکتا ہے تو شہید محمد افضل گورو کے تختہ دار پر چڑھنے سے پہلے لکھے ’’آخری خط‘‘ نے جدوجہد کے ایک نئے سنگ میل کی حیثیت اختیار کی اور ایک نئی تاریخ کی بنیاد ڈالی ہے۔ اُس کے خط سے صاف ظاہر تھا کہ وہ ایک نظریاتی انسان تھے اور ان کے جذبے کے پیچھے عقیدے کے علاوہ عقل اور شعور بھی کارفرما تھے۔ گیلانی نے کہا کہ افضل گورو کوچھ سال قبل جن حالات میں اور جس طرح سے تہاڑ جیل میں پھانسی پر لٹکایا گیا، وہ ہر حیثیت سے ایک سیاسی قتل اور انصاف کا خون کرنے کے مترادف معاملہ تھا۔ پھانسی سے قبل اہل خانہ کو ملاقات نہ دینا اور پھانسی کے بعد لاش بھی لوٹا نہیں دینا بھارتی عدلیہ پر بھی ایک بڑا سوال تھا اور اس نے اس ملک کے بڑی جمہوریہ دعوے کو بھی ایکسپوز کردیا۔گیلانی نے کہا کہ شہید مقبول بٹ اور شہید محمد افضل گورو کو خراج تحسین پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ قوم اپنے ان بیٹوں کو فراموش نہ کرے اور ان کے مشن کو زندہ رکھے، جنہوں نے اپنی عزیز جانوں کو نچھاور کیا ہے اور ہمارے ’’کل‘‘ کے لیے اپنے ’’آج‘‘ کو قربان کیا ہے۔ کشمیری راہنما نے کہا کہ دونوں سرفروشوں کی نعشیں جب تک تہاڑ جیل میں قید ہیں اور انہیں لوٹایا نہیں جاتا، کشمیری قوم ان کی واپسی کے مطالبے پر کاربند رہے گی اور اس کو کسی بھی صورت میں ترک نہیں کیا جائے گا۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے