Voice of Asia News

بٹ کی قربانی کے بعد کشمیر کے ہر گھر اور ہر گلی سے ہزاروں مقبول پیدا ہوئے محمد یاسین ملک

سری نگر(وائس آف ایشیا) جموں وکشمیرلبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے کہا ہے کہ محمد مقبول بٹ کی جدوجہد اور قربانیاں کشمیریوں کی تحریک آزادی کے بنیادی ستون ہیں جو کشمیریوں کو تحریک مزاحمت میں ہمیشہ مشعل راہ بنے رہیں گے۔انہوں نے کہاکہ محمد افضل گورو نے بھی مقبول کے ہی راستے کو چن کر تختہ دار کو چومنا قبول کیااور جان قربان کی۔ کوٹھی باغ پولیس تھانہ میں6فروری2019سے مقیدیاسین ملک نے یوم مقبول کے سلسلہ میں جاری کئے بیان میں کہا ہے کہ محمد مقبول بٹ ناجائز تسلط اور جبر کے خلاف ہماری تحریک مزاحمت کا بنیادی ستون اور آزادی کی علامت ہیں، ان کی جدوجہد اور قربانیاں ہرزیر تسلط قوم اور ظلم کا شکار بنائے گئے انسان کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مقبول بٹ ایک نظریہ ساز قائد، ایک مخلص مزاحمت کار اور ایک اعلی دانشور تھے جنہوں نے مادر وطن کو اغیار کے تسلط سے خلاصی دلانے کا خواب دیکھا، اس خواب کی تکمیل کیلئے جدوجہد کی اور اسی راہ عزیمت میں اپنی جان کی بازی تک لگادی۔ انہوں نے کہا کہ مقبول بٹ کی جدوجہد وقربانی ہماری تاریخ کا تابناک ورق ہے جو مزاحمت و مقاومت کے جاری سفر میں ہماری راہنمائی کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ مقبول بٹ ہی تھے جنہوں نے ملت کشمیر کی ہر میدان بشمول سفارتی، سیاسی، عسکری اور دانشوری جیسے محاذوں پرراہنمائی کی اور ہمارے لئے مشعل راہ بنے۔ یاسین ملک نے کہا کہ 11 فروری1984 کے دن بھارتی حکمرانوں نے کشمیریوں کے اس بے لوث قائد کو تختہ دار پر لٹکاکر یہ گمان کیا کہ انہوں نے کشمیریوں کی آواز کو دبادیا ہے لیکن حق یہ ہے کہ بھارت اپنی اس کاوش میں ناکام ہوا اور مقبول بٹ کی قربانی کے بعد کشمیر کے ہر گھر اور ہر گلی سے ہزاروں مقبول پیدا ہوئے جنہوں نے بھارت کے ناجائز تسلط کے خلاف جدوجہد کو جاری رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محمد افضل گورو نے مقبول بٹ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تختہ دار کو چوم لیا اور یوں ایک مثال قائم کردی جو تادیر قائم رہے گی۔یاسین ملک نے کہاکہ بھارتی حکمرانوں نے نہ صرف یہ کہ ہمارے ان دو سپوتوں کو تختہ دار پر لٹکایابلکہ ان کی اجساد خاکی تک کو ورثا کے حوالے نہ کیا اور یوں ان کو شایان شان طریقے پر تدفین سے بھی محروم رکھا، یہ دراصل دنیا کے ضمیر پر ایک بدنما داغ ہے جو آج تک کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ تک میں ناکام رہی ہے۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے