Voice of Asia News

ایردوآن اور قطر کے درمیان مشکوک ڈیل سے ترکی کی قومی سلامتی کو خطرہ

انقرہ(وائس آف ایشیا)ترکی میں صدر رجب طیب ایردوآن کی حکومت نے دسمبر 2018 میں قطر کے ساتھ (محصول کاری کے) ایک مالی معاہدے کو پارلیمنٹ کے ذریعے منظور کرانے میں بڑی تیزی دکھائی۔ جس کے بعد ایردوآن نے اپنے ملک میں 20 ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کی فوجی ٹینک بنانے والی فیکٹری کو چاندی کی طشتری میں رکھ کر بکتربند گاڑیاں بنانے والی ترک اور قطری مشترکہ کمپنی بی ایم اسی کے حوالے کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس کمپنی کو عصام سنجق چلاتے ہیں جو ایردوآن کی جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن بھی ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق ترک پارلیمنٹ نے محصول کاری کے اس معاہدے کی کی منظوری دے دی۔ اس کے بعد ایردوآن نے 20 دسمبر کو ایک ایگزیکٹو آرڈیننس جاری کیا جس میں ٹینک سازی کی قومی کمپنی کے حقوق کو 25 برس کے لیے بی ایم سی کے حوالے کرنے کا اعلان کر دیا۔ واضح رہے کہ یہ کارروائی بنا شفافیت اور کسی بھی جانب سے بولی پیش کیے بغیر عمل میں لائی گئی۔خبروں سے متعلق انگریزی ویب سائٹ کی جانب سے افشا کی گئی دستاویزات کے مطابق قطر کی مسلح افواج بی ایم سی کمپنی میں 49.9فیصد حصص کی مالک ہے جب کہ عصام سنجق 25% اور اوزترک خاندان 25.1%. حصص کا مالک ہے۔البتہ انقرہ کے حلقوں میں گردش کرنے والی معلومات کے مطابق بی ایم سی کمپنی کے حقیقی مالک ایردوآن ہیں جب کہ عصام سنجق محض ترک صدر کے تجارتی مفادات کی دیکھ بھال کرنے والے ناظم ہیں۔یاد رہے کہ ایردوآن کا مقرب اوزترک خاندان سزا یافتہ قاتل اور ایک منظم جرائم پیشہ نیٹ ورک کے سربراہ غالب اوزترک کے واسطے سے مافیا سے تعلقات کے سبب مشہور ہے۔مذکورہ ویب سائٹ کی تحقیق اور حاصل شدہ دستاویزات کے مطابق قطر اور ترکی کے درمیان معاہدہ 5 دسمبر 2018 کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا تھا۔ اس دوران معاہدے کی جلد از جلد منظوری عمل میں لانے کے لیے قانون کی خلاف ورزی کی گئی اور دو کے بجائے صرف ایک پارلیمانی کمیٹی کو معاہدے کے متن کا جائزہ لینے کے لیے کہا گیا۔نورڈک مانیٹر ویب سائٹ کی تحقیق کے مطابق بی ایم سی کمپنی میں ترک شراکت داروں کے علاوہ قطر کے بھی بعض شہری حصص رکھتے ہیں اور وہ اس کے مینجمنٹ بورڈ میں کام کر رہے ہیں۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق ان قطریوں کے نام عبد الل? حمد النابت، محمد جابر محمد اور محمد العثمان ہیں۔ویب سائٹ کا کہنا تھاکہ ٹینکوں کی فیکٹری کی نج کاری ترکی کے موجودہ قوانین بالخصوص نج کاری کے قانون 4046 اور وزارت دفاع کے قیام کے قانون کے ساتھ متصادم ہے۔ یہ فیکٹری ترکی کی فوج کی ملکیت ہے لہذا اسے غیر ملکیوں کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ علاوہ ازیں اس کی نج کاری کے ترکی کی قومی سلامتی پر اثرات مرتب ہوں گے۔ویب سائٹ نے اپنی رپورٹ کے اختتام پر کہا کہ آج کوئی نہیں جو اس خطر ناک نج کاری کے عمل کو چیلنج کر سکے کیوں کہ ترکی میں قانون کی بالا دستی باقی نہیں رہی۔ علاوہ ازیں اس معاملے پر کوئی عدالت میں دعوی بھی نہیں دائر کر سکتا کیوں کہ ملک کی عدلیہ مکمل طور پر ایردوآن کے آگے سرنگوں ہے۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے