Voice of Asia News

کیا مسلم ممالک تجارتی,صنعتی طور پر ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو سکتے ہیں؟:شوکت علی چوہدری

گزشتہ دنوں لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں ادبی تنظیم قلم دوست کے بینر تلے جناب پروفیسر ڈاکٹر علی رضا اعرافء سربراہ المصطفی انٹرنیشنل یونیورسٹی ایران ،مشیر رہبر معظم برائے کلچروایجوکیشن ایران کونسل ممبر براے تعلیمی وثقافتی انقلاب ایران کے اعزاز میں عصرانہ دیا گیا جس کے روح رواں معروف صحافی ایثار رانا تھے۔پاکستان سمیت اس خطے میں جو سیاسی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں اور ان کے آنے والے دنوں میں اس خطے پر جو اثرات مرتب ہونے جارہے ہیں اس حوالہ سے اس تقریب میں جناب پروفیسر ڈاکٹر علی رضا اعرافء نے جو گفتگو کی وہ خاصی اہم اور غور طلب تھی۔انقلاب ایران کی 40 ویں سالگرہ کے حوالے سے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوے انہوں نے کہا ان 40 سالوں میں باوجود ایران پر بے جا معاشی اور تجارتی پابندیاں کے ایران نے صنعتی اور تعلیمی میدان میں شاندار ترقی کی ہے اور اپنی دفاعی صلاصیت کو بھی بڑھایا ہے۔ایران میں اس وقت 2000 یونیورسٹیاں اور دیگر تعلیمی اداروں کے علاوہ 2000 دینی مدارس 5 ملین طلباء کو زیور تعلیم سے آراستہ کر رہے ہیں اور ان طالب علموں میں60 فیصد تعداد لڑکیوں کی ہے۔ایڈوانس ٹیکنالوجی۔میڈیکل اور دفاع میں ہم نے بہت سی ایجادات کی ہیں۔اس کے علاوہ دنیا کا ہر علم ایران میں پڑھایا جاتا ہے اور ایران میں امن و امان کی صورت حال تسلی بخش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری یہ خواہش اور کوشش ہے کہ پوری مسلم امہ متحد ہو۔ اس وقت پوری دنیا 70 فیصدکی کل انرجی کاصرف مسلم۔ممالک کے پاس ہے۔ہم یہ بھی چاھتے ہیں کہ اسلامی دنیا کا علم و صنعتی ترقی کا ایک مشترکہ بازار ہونا چاہیے اور اس سمت میں علما ء دانشور اور مصنفین اپنا کردار ادا کریں۔اس سوال پر کہ ان حالات میں جب کہ مسلم امہ مختلف بین الااقوامی سیاسی دھڑے بندیوں کا شکار ہے تو اس کا اتحاد کیسے ممکن ہے تو ان کا کہنا تھا یہ مسلم امہ کی بدقسمتی ہے کہ بہت سے مسلم ممالک کے امریکہ اور اسراہیل کے ساتھ تعلقات قائم ہیں جو اس اتحاد کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔پاکستان ایران اور ترکی کے درمیان ہمیشہ سے بہتر تعلقات قائم رہے ہیں اور یہ تینوں ممالک اپنے اتحاد کو مزید فرغ دے سکتے ہیں خاص کر پاکستان کے ساتھ ایران کے باہمی تعلقات ہمیشہ لاجواب رہے ہیں اور ہمارے درمیان ہمیشہ سے دینی اور تہذیبی روابط رہے ہیں۔
جناب ڈاکٹر علی رضا الرافء کی تمام گفتگو کی روشنی میں اگر ہم اس پورے ریجن کی سیاست پر ایک نظر ڈالیں تو اس وقت افغانستان میں امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدہ کے لیے گفتگو جاری ہے اور اس پورے کھیل میں امریکہ پاکستان کے کردار کی تعریف کر رہا ہے حالانکہ چند ماہ قبل تک امریکہ پاکستانی حکمرانوں کی پالیسوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہا تھا ایسی ہی صورت حال شام میں بھی ہے جہاں اب امریکہ سمیت دیگر ممالک امن کے خواہاں ہیں۔ ان تمام ممالک میں سعودی عرب اور امریکہ کی پالیسیاں ایک ہیں لیکن ایران امریکہ اور سعودی پالیسوں کا بڑا ناقد ہے اور تمام تر امریکی دباو اور پابندیوں کے باوجود اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہا ہے اور دوسری طرف اس کے مراسم چین اور روس کے ساتھ بھی پہلے کے مقابلہ میں بہت مستحکم ہوئے ہیں۔پاکستان کی پالیسیوں میں بھی واضع فرق دکھائی دیتا ہے اور اس کا جھکاو بھی چین اور روس کی طرف بڑھتا جارہا ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان کے سعودی عرب کے . ساتھ روابط میں آج بھی پہلے والی گرم جوشی موجود ہے اور وزیر اعظم عمران خان نے چند ماہ میں سعودی عرب سمیت دیگر عرب ممالک کے طوفانی دورے کر کے ان کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی پیش کش کرنے کے ساتھ ساتھ ان سے پاکستان کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے مدد بھی مانگی ہے۔ پاکستان اس وقت بری طرح مالی بحران میں گھرا ہوا ہے اور حکومت اس سے نکلنے کے لیے ہاتھ پاؤں مارہی ہے ان حالات میں اگر پاکستان کے حکمران اپنے تعلقات کو ایران کے ساتھ مزید مستحکم کرتے ہوے ایران سے کیے ہوئے قدرتی گیس کے معاہدوں پر عمل درآمد کی طرف پیش قدمی کرتے ہیں تو اس سے پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت کے فروغ سے پاکستانی معیشت کو سنبھلنے کا موقع مل سکتا ہے۔ بہر حال قلم دوست کے پلیٹ فارم سے منعقدہ اس تقریب سے ایران کے خارجہ امور، معاشی تجارتی اور تعلیمی ترقی سے متعلق حالات سے آگاہی ہوئی۔
mazdoormahaz@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے