Voice of Asia News

مقبول بٹ اور افضل گوروکے باقیات واپس کئے جائیں، بھارتی وزیر اعظم کو خط

سرینگر(وائس آف ایشیا ) پی ڈی پی کے رکن پارلیمان فیاض احمد میر نے دہلی کے تہاڑ جیل میں تختہ دار پر چڑھائے جانے والے2کشمیری مزاحمتی لیڈروں محمد مقبول بٹ اور محمد افضل گورو کے باقیات کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیر اعظم ہند نریندر مودی کے نام مکتوب روانہ کیا۔پی ڈی پی کے راجیہ سبھا کے ممبر فیاض احمد میر نے ایک مکتوب بھارتی وزیر اعظم ہند نریندر مودی کے نام روانہ کیا،جس میں کہا گیا کہ سوپور کے سیر جاگیر علاقے میں افضل گورو کی قبر اس کا انتظار کر رہی ہے۔خط میں تحریر ہے سوپور کے سیر جاگیر میں محمد افضل گورو کی تختی انکے باقیات کے بغیر لگی ہوئی ہیں اور ملک کی عظمت کے انتظار میں ہے کہ ایک دن افضل گورو کے اس جسد خاکی کو ان کے اہل خانہ کو سپرد کیا جائے گا،جس کو تہاڑ جیل میں سپرد خاک کیا گیا ہے۔ ممبر پارلیمنٹ فیاض احمد میر کی طرف سے روانہ کئے گئے مکتوب میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیر اعلی مرحوم مفتی محمد سعید نے بھی اس وقت کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو ایک خط روانہ کیا تھا،جس میں محمد افضل گورو کے جسد خاکی کوان کے اہل خانہ کو سپرد کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ فیاض میر نے مفتی محمد سعید کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا باقیات کی واپسی سے نہ صرف گورو کے اہل خانہ کے درد اور کسک میں کچھ کمی ہوگی،بلکہ کشمیریوں اور ملک کے درمیان نفسیاتی سطح پر خلیج پاٹنے کیلئے پل کا راستہ بھی بنائے گی اور پی ڈی پی کا آج بھی وہی موقف برقرار ہے۔ فیاض احمد میر نے وزیر اعظم ہند کے نام مکتوب میں مزید کہا کہ جس ملک میں وزیر اعظم کے قاتلوں کو معافی دی جاتی ہے اور ان کی سزائے موت کو تبدیل کیا جاتا ہے، میں نہیں سمجھتا کہ دو کشمیریوں کے باقیات ا ن کے اہل خانہ کو سپرد کرنا کوئی ناپسندیدہ عمل ہیں۔ ادھر عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ انجینئر رشید نے پی ڈی پی کی جانب سے وزیر اعظم کو افضل گورو اور مقبول بٹ کی باقیات کی واپسی کیلئے خط لکھنے کو بے سود بتاتے ہوئے پی ڈی پی کو اس طرح کی ڈرامہ بازی سے لوگوں کو بے وقوف بنانے کی کوشش نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ایک بیان میں انجینئر رشید نے کہا اگر پی ڈی پی واقعی اس بارے میں سنجیدہ ہوتی تو پھر اس نے افضل گورو کی معافی کیلئے اسمبلی میں قرارداد پیش ہونے کے وقت اسکی حمایت کی ہوتی یا پھر اقتدار میں آنے کے بعد گورو کی باقیات کی واپسی کا مطالبہ کیا ہوتا۔آج جو اچھل کود پارٹی کررہی ہے اس سے اسے کچھ حاصل تو نہیں ہوگا بلکہ الٹا اس پارٹی کا چہرہ مزید بے نقاب ہورہا ہے۔اگر یہ پارٹی چاہتی تو بی جے پی کے ساتھ سرکار بنانے کیلئے معاہدہ کرتے وقت اس نے افضل گورو کی باقیات کا مطالبہ کیا ہوتا لیکن اب جبکہ اسکے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے اس نے اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے کی ناکام کوششوں میں گورو کی باقیات پر بھی سستی سیاست کرنا شروع کیا ہے لیکن اسے جان لینا چاہیئے کہ ایسے میں اسکی پہلے سے خراب شدہ شبیہ مزید مجروح ہوجائے گی۔انجینئر رشید نے پی ڈی پی اور دیگر مین اسٹریم جماعتوں کو یاد دلانا چاہا کہ نئی دلی نے کشمیریوں کے جذبات و احساسات کو دبانے کیلئے ایک بڑا کوڈ ے دان میں رکھا ہوا ہے جس میں اٹانومی کے شوشے کو بھی دبایا جاتا ہے اور یقیناًپی ڈی پی کی وہ درخواست بھی اسی کوڈے دان میں جانے والی ہے کہ جس پر اس نے ابھی سے سیاست کرنا شروع کیا ہے۔انجینئر رشید نے تاہم کہا کہ اگر پی ڈی پی واقعی سنجیدہ ہے تو پھر اسے افضل گورو کی باقیات کے واپس مل جانے تک پارلیمنٹ کے سامنے بھوک ہڑتال شروع کرنی چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی ایسا کرے تو عوامی اتحاد پارٹی اس اقدام کی حمایت کرنے پر تیار ہے۔انجینئر رشید نے کہا کہ بصورت دیگر پی ڈی پی جو بھی اچھل کود کررہی ہے اس سے اسی کا نہیں بلکہ پوری مین اسٹریم کی سیاست اور افضل گورو و مقبول بٹ کے لواحقین کے درد کا مذاق بن جاتا ہے۔اس دوران انہوں نے جموں میں درماندہ کشمیریوں پر اپنے آپ کو سب سے زیادہ قوم پرست کہلانے والوں کی طرف سے حملہ کئے جانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان عناصر کو کشمیریوں پر پاکستانی ایجنٹ ہونے کا الزام لگانے کی بجائے نئی دلی سے سوال کرنا چاہئے کہ وہ 1947سے لیکر ابھی تک ایک کارآمد سڑک تعمیر کرنے میں کیوں ناکام رہی ہے۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے