Voice of Asia News

پلوامہ جھڑپ،کمانڈو سمیت دو بھارتی فوجی جہنم واصل،شہید نوجوان سپرد خاک،

سرینگر(وائس آف ایشیا ) مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں خونین معرکے کے دوران کمانڈو سمیت 2بھارتی فوجی جہنم واصل ،ایک نوجوان شہید ہو گیا جس کی شناخت ہلال احمد راتھر کے نام سے ہوئی جس پر حزب کمانڈر نوید جٹ کو پولیس حراست میں چھڑانے کا الزام ہے،جبکہ فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں ۔تفصیلات کے مطابق سرینگر جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں منگل کو مبینہ مجاہدین اور فورسز کے درمیان جاری خونین معرکہ آرائی میں 2فوجی اہلکار اور ایک عسکریت پسند جاں بحق ہوگئے۔ اس جھڑپ میں ایک فوجی اہلکار زخمی بھی ہوگیا ۔پولیس ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بھارتی خبر رساں ایجنسی جی این ایس نے اطلاع دی ہے کہ فوج، سی آر پی ایف اور ایس او جی اہلکاروں نے پلوامہ میں رتنی پورہ گاؤں کو محاصرے میں لیکر تلاشی آپریشن کا آغاز کیا جس کے دوران مبینہ مجاہدین اور فورسز کے مابین گولیوں کا تبادلہ ہوا۔گولیوں کے اس ابتدائی تبادلے میں ایک کمانڈو سمیت تین فوجی اہلکار زخمی ہوگئے جنہیں سرینگر میں قائم فوجی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں دو اہلکار زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھے۔ہلاک شدہ اہلکاروں کی شناخت سپاہی بلجیت سنگھ اور نائیک سنید جبکہ زخمی اہلکار کی شناخت حوالدار چندر پال کے طور ہوئی ہے۔جی این ایس کے مطابق ایک جنگجو کی لاش بھی معرکہ آرائی کی جگہ سے بر آمد ہوئی ہے جہاں آخری اطلاعات ملنے تک فورسز آپریشن جاری تھا۔ مقامی میڈیا کے مطابق شہید ہونے والے نوجوان کے دیگر ساتھیوں کا جائے وقوعہ سے فرار ہونے کا امکان ہے ۔اس دوران لوگوں کی بڑی تعداد بھی جائے وقوعہ پر پہنچی اور احتجاج کیا ۔اس دوران فورسز کے ساتھ جھڑپ میں متعدد افراد زخمی ہو گئے ۔اس موقع پر علاقے میں دکانیں اور بازار ایک دم سے بند کر دی گئیں ۔بھارتی فورسز نے انٹر نیٹ اور موبائل سروس پہلے ہی بند کر دی تھی۔علاقے میں تعلیمی ادارے بھی بند ہو گئے۔بعد میں بھارتی فوج نے شہید نوجوان کی لاش ورثاء کے سپرد کی جس کی شناخت ہلال احمدراتھر کے طور پر ہوئی ۔ہلال احمد راتھر پر الزام تھا کہ انھوں نے2018میں حزب المجاہدین کے کمانڈر نوید احمد جٹ کو پولیس کی حراست سے چھڑایا تھا جو سرینگر ہسپتال میں زیر علاج تھا۔حزب المجاہدین سے تعلق رکھنے والے ہلال احمد راتھر کی نماز جنازہ میں شمولیت کیلئے لوگوں کی ایک بھاری تعداد مرحوم کے آبائی گاؤں، بیگم باغ پہنچی تھی، جو رتنی پورہ نامی اس گاؤں سے محض چار کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے جہاں وہ فورسز کے ہاتھوں جاں بحق ہوگیا۔آخری اطلاعات ملنے تک ہلال کی یکے بعد دیگرے دو بار نماز جنازہ پڑھائی گئی تاکہ سبھی لوگوں کو اس میں شامل ہونے کا موقع مل سکے۔اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔بندشوں کے باوجود لوگوں کی بڑی تعداد نے نماز جنازہ میں شرکت کی ۔لوگوں نے شہید کی تدفین کے بعد احتجاجی مظاہرہ کیا ۔اس دوران بھارتی فورسز کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئی جوآخری اطلاعات تک جاری تھیں ۔دریں اثناء کولگام میں بھارتی فوج کے ہاتھوں پی ایچ ڈی اسکالر ڈاکٹر ذیشان سمیت پانچ نوجوانوں کی شہادت کیخلاف وادی کے مختلف علاقوں میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔اس دوران مختلف علاقوں میں لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کئے اور ریلیاں نکالیں ۔ اس دوران بھارتی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوئے ۔اس دوران دکانیں ،بازار اور تعلیمی ادارے بند جبکہ انٹر نیٹ اور موبائل سروس معطل رہی ۔ٹرین سروس بھی بند رہی ۔ادھر مزاحمتی جماعتوں کی طرف سے کولگام کے شہداء کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا گیا۔نیشنل فرنٹ، فریڈم پارٹی اورپیپلز لیگ نے کیلم کولگام جھڑپ میں جاں بحق ہوئے جنگجوؤں کو خراج عقیدت ادا کیا ہے۔نیشنل فرنٹ کے نائب چیئر مین الطاف حسین وانی نے ایک بیان میں کہا کہ متنازعہ خطے کے اطراف و اکناف میں غم و اندوہ کی لہر دوڑ گئی ہے اور خونی لکیر کے آر پار موجود حساس شہریوں کے دل خون کے آنسو رورہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہلاکتوں سے پورا خطہ ماتم کدے میں تبدیل ہوکر رہ گیا ہے۔ ڈیمو کریٹک فریڈم پارٹی نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے نوجوانوں کو گاجر مولی کی طرح آئے دنوں کاٹا جارہا ہے کیونکہ وہ بھارت کے قبضے کیخلاف محو جد و جہد ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے بہادر، نڈر اور بیباک نوجوان اپنے عوام کے بنیادی حقوق کیلئے میدان میں کود پڑے ہیں اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ ان کی بات سننے کے بجائے ان کا قتل عام کیا جارہا ہے۔پیپلز لیگ نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وادی بھر خصوصا جنوبی کشمیر میں آئے روز نوجوانوں کی طرف سے ہمارے بہتر سیاسی مستقبل کیلئے دی جارہی قیمتی جانوں کی قربانیاں اس قوم کی تحریک آزادی کے تئیں ایک قیمتی اثاثہ ہے جس کی ہرحال میں اور کسی بھی صورت میں حفاظت کی جائے گی۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے