Voice of Asia News

باکسر نہ بنتا تو گدھا گاڑی چلا رہا ہوتا سیول اولمپکس میں براؤنز میڈل جیتنے والے باکسر حسین شاہ کا ’’وائس آف ایشیا‘ ‘ کو خصوصی انٹرویو محمد قیصر چوہان

بہادر اور جرأت مند لوگوں کے کھیل باکسنگ میں سید حسین شاہ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں وہ 14 اگست1964 کوکراچی کے معروف علاقے کمبھار واڑہ لیاری میں پیدا ہوئے۔حسین شاہ نے1984 جنوبی ایشیائی کھیل میں اپنا پہلا سونے کا تمغہ جیتا تھااور پھر جنوبی ایشین گیمز کی تاریخ میں پانچ گولڈ میڈلز جیت کر پاکستان کا نام روشن کیا۔وہ 1980 سے 1988 تک ایشیا کے بہترین باکسر تھے۔1988 کے سیول اولمپکس میں انہوں نے براؤنز میڈل جیتااور کینیڈا کے کرس سینڈی کے ساتھ پوڈیم کا اشتراک کیا۔ وہ اولمپکس گیمز کے باکسنگ مقابلوں میں کوئی بھی میڈل جیتنے والے پہلے پاکستانی باکسر بھی ہیں۔حکومت پاکستان نے باکسنگ کے کھیل میں حسین شاہ کی گرانقدر خدمات کے عوض انہوں تمغہ حسن کارکردگی (پرائڈ آف پرفارمنس ) سے بھی نوازا۔ حسین شاہ جاپان میں منتقل ہوگئے ۔حسین شاہ کا بیٹا شاہ حسین شاہ جو جاپان میں رہتا ہے وہ جوڈو کا بہترین کھلاڑی ہے۔اس کاپاسپورٹ پاکستانی ہے اور اس نے ایشین گیمز اورکامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کیلئے گولڈ میڈلز جیت رکھے ہیں۔گزشتہ دنوں نمائندہ ’’ وائس آف ایشیا‘‘ نے جاپان سے وطن واپس آنے والے اولمپین باکسر حسین شاہ سے کراچی پریس کلب میں ملاقات کی اس دوران ہونے والی گفتگو قارئین کی خدمت میں حاضر ہے۔
سوال : سب سے پہلے تو آپ ہمارے قارئین کو اپنے بارے میں کچھ بتائیں یہ بھی بتائیے گا کہ آپ باکسنگ کے کھیل سے محبت کس عمر میں ہوئی ؟
حسین شاہ : میں 14 اگست 1964 کو لیاری کے علاقے کمبھار واڑہ میں پیدا ہوا۔میرے والد محترم نے مزدوری کرکے ہماری پرورش کی۔میں 7 سال کا تھا کہ میرے ابو کا انتقال ہو گیا ۔8 برس کا ہوا تو باکسنگ کے کھیل سے محبت ہو گئی ۔باکسنگ سے محبت کو پروان چڑھانے کی خاطر میں نے بڑی سخت محنت کی۔چونکہ ہمارے گھر کے حالات اچھے نہیں تھے اسی وجہ سے سکول جانے کی عمر میں ہی گدھا گاڑی چلا کر مزدوری کرنا شروع کر دی دی تھی۔اسی لئے میں پڑھ لکھ نہیں سکا۔میں گدھا گاڑی پر ریتی بھوسہ ڈھوتا تھااس کے علاوہ کچرا چننے کا کام بھی کرتا تھا،کچرے سے لوہا اکٹھا کرتا اسے فروخت کرکے اپنا اور گھر والوں کا پیٹ پالتا تھا۔میں پانی کے ساتھ باسی سوکھی روٹی کھا کر باکسنگ کی ٹریننگ کیا کرتا تھا۔اللہ کے فضل وکرم سے حق وحلال سے کمائی ہوئی روکھی سوکھی باسی روٹی بھی مجھے طاقت دیتی تھی۔
سوال : آپ نے کس باکسر کو اپنا آئیڈیل بنا کر محنت شروع کی تھی؟
حسین شاہ : میرے آئیڈیل تو باکسر محمد علی صاحب ہیں۔ محمد علی کے کھیل اور شخصیت کی ایک دنیا معترف ہے۔لیجنڈ باکسر محمد علی کی پھرتی اور مہارت کے سب ہی دیوانے تھے رنگ میں وہ مخالف باکسرز کو تھکا تھکا کر مارتا تھا۔ میں نے بھی محمد علی جیسا باکسر بننے کی خواہش دل میں بسا کرباکسنگ رنگ میں سخت محنت شروع کر دی۔ان دنوں میں محمد علی کی طرح باکسنگ ورلڈ چمپئن بننے کے خواب دیکھا کرتا تھا۔
سوال : باکسنگ شروع کی تو کس کلب کو جوائن کیا اورآپ روزانہ کتنے گھنٹے پریکٹس کیا کرتے تھے؟
حسین شاہ :میں صبح سویرے اُٹھ کر ننگے پاؤں اپنے گھر کمبھار واڑہ لیاری سے کلفٹن تک رننگ کیاکرتا تھا۔پھر لائٹ ہاؤس کے لنڈا بازار سے جوگر خریدلئے تو جوگر شوز پہن کر رننگ شروع کردی۔رننگ سے فارغ ہو کر میں گدھا گاڑی پر مزدوری کرنے نکل جاتاتھا۔پھر شام کو نیو کمبھار واڑہ باکسنگ کلب لیاری میں باکسنگ کی پریکٹس کیا کرتا تھا۔ میرے پہلے کوچ اُستاد حسین تھے۔میں روزانہ چار گھنٹے تک سخت پریکٹس کیا کرتا تھا۔ کچھ عرصے کے بعد میں نے آزاد بلوچ باکسنگ کلب جوائن کر لیا۔
سوال :آپ نے سب سے پہلے کونسا ادارہ جوائن کیا تھا؟
حسین شاہ : مجھے 17 برس کی عمر میں(K.E.S.C) کے ای ایس سی میں دوسو روپے تنخواہ پر نوکری مل گئی تھی۔
سوال : آپ کے کیرئیر کا ٹرننگ پوائنٹ کونسا تھا؟
حسین شاہ : نیشنل باکسنگ چمپئن شپ میں میرا مقابلہ ایشین سلور میڈلسٹ باکسر فضل حسین سے ہو،اتو میں نے اس کو ناک آؤٹ کردیاتھا۔میری خوش قسمتی تھی کہ اس فائٹ کوپروفیسر انور چوہدری صاحب دیکھ رہے تھے،میرے کھیل نے انہیں انسپائر کیا تھااسی لئے انہوں نے فوری طور پر مجھے نیشنل یوتھ باکسنگ کیمپ میں بلالیا۔یہ کیمپ ان دنوں نیشنل کوچنگ سنٹر کراچی میں لگا ہوا تھا۔اس کیمپ میں شرکت کرنے سے مجھے اچھا کھانا پینا اور بہترین کو چنگ نصیب ہوئی۔ میجر رشید صاحب کی کوچنگ نے میرا کھیل نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔اسی کیمپ کے دوران میں نے غربت کو باکسنگ کے کھیل کے ذریعے ناک آؤٹ کرنے کی ٹھان لی۔اسی سوچ نے میرے اندر جیت کا جذبہ پیدا کیا۔اور میں پہلی مرتبہ یوتھ باکسنگ چمپئن شپ جیتنے میں کامیاب ہوا۔
سوال : جب آپ کو سیول اولمپکس کیلئے پاکستان باکسنگ ٹیم میں شامل کیا گیا تھا تو کیا آپ کو میڈل جیتنے کا یقین تھا ؟
حسین شاہ : ان دنوں میری ٹریننگ بہت ہی اچھی تھی اسی لئے مجھے پورا یقین تھا کی میں اولمپکس مقابلوں میں گولڈ میڈل ضرور جیت لوں گا۔میں تربیتی کیمپ میں جب بھی گولڈ میڈل جیتنے کی بات کرتا تھا تو ساتھی باکسرز اور ٹیم مینجمنٹ کے بعض لوگ ہنستے ہوئے مجھے کہتے تھے کہ حسین شاہ تم اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے کی بات کرتے ہو ،تم تو اولمپکس مقابلوں میں چائے کا کپ نہیں جیت سکتے ۔ساتھی کھلاڑیوں اور ٹیم مینجمنٹ کے بعض لوگوں کی طعنز مجھے مزید سخت محنت کرنے پر اُکساتی تھی۔صرف کیوبن کوچ مجھے کہتا تھا کہ حسین شاہ جس طرح تم ٹریننگ کرتے ہو مجھے پورا یقین ہے کہ تم ضرور میڈل جیتو گے۔
سےؤل اولمپکس میں میری پہلی فائٹ ہی بڑی ٹف تھی۔میں نے میکسیکوکے نامور باکسر مارٹن امپیلالس کو 3-2 سے شکست دی۔Congolese کے باکسرSerge Kabongo کو 5-0 سے ہرایا۔اس کے بعد ہنگری کے زولن فوزسی کو 3-2 سے شکست دی۔سمےئی فائنل میں میرا مقابلہ کینڈا کے ایگارتن مارکس سے ہوا تھا ۔ فائٹ کے دوران ہی میرا دائیں ہاتھ فیکچر ہو گیا تھا۔میں نے ٹوٹے ہوئے ہاتھ سے ہی فائٹ لڑی اور میں یہ فائٹ 4-1 سے ہار گیا تھا۔ اور یوں میں براؤنز میڈل جیتنے میں کامیاب ہواتھا۔
سوال : جب آپ نے سیول اولمپک میں کانسی کا تمغہ جیت کر پاکستان کا نام روشن کیا تھا تو حکومت نے آپ کو کیا انعام دیا تھا؟
حسین شاہ :سیول 1988 اولمپک میں کانسی کا میڈل جیتنے کے بعد حکومت کی جانب سے گلشن اقبال میں 1989میں مجھے 120 کا پلاٹ دیا گیا جس کی رجسٹریشن کی مد میں مجھے جو کے ای ایس سی (موجودہ کے الیکٹرک) کی طرف سے 20ہزار روپے کی بڑی رقم ملی جو میں نے پلاٹ کے حصول میں دیدی اب کچھ نہیں میرے پلاٹ پر بھینسوں کا باڑا بن چکاہے اس پر جو قبضہ ہے اس کو ختم کرایا جائے۔
سوال : سابق ورلڈ چمپئن عامر خان پاکستان کی باکسنگ کو فروغ دینے کیلئے کافی متحرک ہیں ؟
حسین شاہ : عامر خان نے پاکستان کیلئے مکے نہیں کھائے اور نہ ہی پاکستان کی نمائندگی کی وہ برٹش نیشنل ہے۔اس نے میڈل برطانیہ کیلئے حاصل کئے ہیں۔ پاکستان باکسنگ کو وہ فروغ نہیں دے رہا بلکہ وہ پاکستان کی باکسنگ کو برباد کرناچاہتا ہے۔عامر خان ایمچر باکسرز کو پروفیشنل میں شامل کرکے اس کو پاکساتی باکسنگ کوتباہ کرنے کے مشن پر گامزن ہے،حکومت نے اسلام آباد میں قائم باکسنگ جمنازیم سے میرا نام ہٹا کر اس پر عامر خان کے نام کی تختی لگا دی ہے۔جو میرے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے۔عامر خان کے والد کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کو پاکستان سے باکسنگ مقابلوں میں لڑنے کیلئے بھیجے۔اگر عامر خان کو پاکستان سے پیار ہے تو وہ پاکستان میں ایمچر باکسنگ کو فروغ دینے کیلئے کام کرے۔
سوال : لیاری میں باکسنگ کا بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے ،آپ اس ٹیلنٹ کو گروم کرنے کیلئے کیا کر رہے ہیں؟
حسین شاہ : میں لیاری میں ایک انٹر نیشنل معیار کی شاہ حسین شاہ باکسنگ اکیڈمی بنانا چاہتا ہوں ۔اگر سندھ حکومت مجھے زمین الاٹ کردے تو میں جاپان اور پاکستان کے اسپانسرز کی مدد سے عالمہ معیار کی باکسنگ اکیڈمی بنا نے کیلئے تیار ہوں۔لیاری میں انٹر نیشنل معیار کا سپورٹس جمنازیم بنانے کی اشدضرورت ہے۔لیاری میں باکسنگ کا ٹیلنٹ موجود ہے لیکن سہولیات کے فقدان کی وجہ سے ٹیلنٹ ضائع ہو رہا ہے۔میں چاہتا ہوں کے پاکستان کے ینگ باکسرز کو ٹریننگ کیلئے کیوبا، ازبکستان، تاجکستان اور یو کرائن میں بھجوایا جائے۔
سوال : آپ کے نزدیک پاکستان میں باکسنگ کے کھیل کے زوال کی کیا وجوہات ہیں؟
حسین شاہ :پاکستان میں باکسنگ کے کھیل کے زوال کی بہت ساری وجوہات ہیں۔پاکستان باکسنگ فیڈریشن کے سابق صدر دودا خان بھٹو،اور موجودہ صدر خالد محمود ،پاکستان سپورٹس بورڈاورپاکستان اولمپک ایسوسی ایشن نے پاکستان کی باکسنگ کو تباہی کے دھانے پر پہنچانے میں اہم ترین کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان باکسنگ فیڈریشن کے سابق صدر دودا خان بھٹو کی کروڑوں روپے کی کرپشن اور باکسنگ کے کھیل کی الف ب سے بھی نا واقف خالد محمود کا پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن سے گٹھ جوڑ کر کے باکسنگ فیڈریشن پر قبضہ کرنے سے پاکستان کی باکسنگ تباہ ہوئی ۔اس وقت پاکستان باکسنگ فیڈریشن کے صدر خالد محمود ہیں جو باکسنگ کے کھیل کی الف ب سے بھی واقف نہیں ہیں۔ خالد محمود کی گندی سیاست کی وجہ سے باکسنگ کا کھیل تباہ ہوا۔اس کے علاوہ نوجوان کھلاڑیوں کو باکسنگ میں اپنا مستقبل محفوظ نظر نہیں آرہا، مختلف ڈپارٹمنٹس نے اپنے کھیلوں کے شعبہ کو بند کر دیا ہے جس کی وجہ سے وہ نوجوان جو باکسنگ کو کیریئر کے طور پر اپنا نا چاہتے ہیں وہ باکسنگ کی طرف نہیں آرہے اس جدید دور میں نوجوانوں نے اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے اپنی ترجیحات تبدیل کر لی ہیں۔ پہلے نوجوان کھلاڑی میٹرک کرنے کے بعد کھیلوں کے ذریعے اپنا کیریئر بنانے کی جانب پوری توجہ دیتے تھے جبکہ ساتھ ساتھ پڑھائی بھی کرتے تھے لیکن اب نوجوان کھلاڑی پروفیشل ایجوکیشن کو ترجیح دے رہے ہیں اب کھیل ان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ گراس روٹ پر ہونے والی باکسنگ کی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو ئی ہیں ۔پہلے پورے ملک میں باکسنگ کے کھلاڑیوں کی ایک بڑی تعداد اس کھیل میں پوری دلچسپی کا مظاہرہ کیا کرتی تھی جس کی وجہ سے کوالٹی پلیئرز بھی زیادہ سے زیادہ سامنے آتے تھے ۔لیکن اب ایسا نہیں ہے جس کی وجہ سے گراس روٹ لیول پر خصوصی طور پر کلب باکسنگ کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے باکسنگ کی نرسریاں تباہ ہو گئی ہیں ماضی میں جب پاکستان میں بڑی تعداد میں اداروں کی ٹیمیں تھیں تو کھلاڑیوں کو نوکریاں مل جاتی تھیں جبکہ اب ملک بھر میں نہ صرف گنتی کے ادارے ہیں جو کھیلوں کی برائے نام سرپرستی کرتے ہیں پہلے کھلاڑیوں کو مستقل بنیادوں پر نوکریاں دی جاتی تھیں جس سے کھلاڑیوں کے گھروں کا کچن چلتا تھا۔ ماضی میں ڈویژن کی سطح پر اچھی کارکردگی پیش کرنے والے کھلاڑیوں کو اچھی جاب مل جاتی تھی جبکہ آج حال یہ ہے کہ قومی ٹیم میں سلیکٹ ہونے والے بعض باکسرزکو بھی کنفرم نوکریاں نہیں ملتیں پھر حکومت اور اسپانسر نے بھی باکسنگ کے کھیل کو نظر انداز کیا۔
سوال : آپ کے نزدیک پاکستان باکسنگ کوعروج پر پہنچانے کیلئے کن اقدامات کی ضرورت ہے ؟
حسین شاہ :سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ کھلاڑیوں کو ملازمتیں ملنی چاہیں جب تک ملازمتیں نہیں ملیں گی مختلف ادارے اپنے ڈپارٹمنٹس میں باکسنگ کی ٹیمیں تشکیل نہیں دیں گے،باکسنگ ترقی نہیں سکتی جبکہ سکول، کالج اور یونیورسٹی میں ایک مرتبہ پھر کھلاڑیوں کے ایڈمشنوں کے کوٹے کو بحال کرنا ہو گا یہ دو ایسے اقدامات ہیں کہ اگر ان پر توجہ دی جائے، حکومتی سطح پر احکامات کے ساتھ ساتھ ان پر عملدرآمد یقینی بنا دیا جائے تو بات آگے چل سکتی ہے۔اس کے علاوہ کلب باکسنگ کو فعال کیا جائے۔ یعنی پھر گراس روٹ لیول پر کلب باکسنگ خود بخود بحال ہوتی چلی جائے گی۔ باکسنگ ایک مرتبہ اسی صورت میں عروج پر پہنچ سکتی ہے جب کھلاڑی اپنا مستقبل محفوظ دیکھیں گے۔کلب باکسنگ، کوچز اور کھلاڑیوں کو خوشحال بنا کر ہی پاکستان میں باکسنگ کے کھیل کو عروج دیا جا سکتا ہے۔
سوال : باکسنگ کے کھیل میں گلیمر لانے کیلئے کونسے اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے؟
حسین شاہ :بطور اولمپین باکسر میں صدر پاکستان جناب عارف علوی صاحب اورسپورٹس مین وزیراعظم عمران خان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ سب سے پہلے تو وہ ملک بھر میں موجود متوازی فیڈریشن کو ختم کرائیں ۔اس کے بعد وہ ملک بھر کے سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کو خطوط لکھیں کے وہ اپنے اپنے اداروں میں دیگر کھیلوں کی طرح باکسنگ کی ٹیمیں بھی بنائیں۔ اس طرح ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مالکان کو بھی باکسنگ کی ٹیمیں بنانے پر قائل کریں ۔ جب نوجوان نسل کو مختلف اداروں میں کنفرم نوکریاں ملیں گی تو وہ فکر معاش سے آزاد ہو کر باکسنگ کو اپنا کیریئر بنائیں گے۔ اور یوں باکسنگ کے کھیل کا جادو پھر سر چڑھ کر بولے گا۔ کرکٹ کی طرح باکسنگ کا کھیل کو بھی گلیوں ، محلوں، سڑکوں اور پارکوں تک پہنچ جائے گا۔ اس کے بعد سکول لیول پر باکسنگ کے کھیل کو لازمی قرار دیا جائے۔
سوال : جس ملک میں کرکٹ کے کھیل کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہو، وہاں آپ کے خیال میں نوجوان نسل کو باکسنگ کے کھیل کی طرف کیسے راغب کیا جا سکتا ہے ؟
حسین شاہ : پاکستان میں باکسنگ کے کھیل کے ساتھ شروع دن سے ہی سوتیلی ماں کی طرح کا سلوک کیا گیا ہے۔ کسی بھی حکومت نے باکسنگ کے کھیل کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا نہیں کیا۔ حالانکہ باکسنگ کے کھیل کو فروغ دے کر حکومت نوجوان نسل کو منشیات کی لعنت سمیت دیگر سماجی برائیوں سے بچا کر معاشرے کا اہم شہری بنا سکتی ہے۔ آپ نے بات کی کرکٹ کے کھیل کی تو کرکٹ کا کھیل دنیا کے چند ممالک میں کھیلا جاتا ہے جبکہ باکسنگ دنیا کے 150 سے زائد ممالک میں پروفیشنل بنیادوں پر کھیلا جانے والا کھیل ہے۔ فٹ بال اور ٹینس کے بعد باکسنگ دنیا کا مشہور ترین کھیل ہے، باکسنگ گلیمر سے بھرپور کھیل ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں اس کا ماحول نہیں بن سکا۔پاکستان میں پروفیسر انور چوہدری صاحب اور میجر رشید صاحب کے بعد اگر کسی نے باکسنگ کے کھیل کو گراس روٹ لیول سے فروغ دینے کیلئے کام کیا ہے تو وہ محمد اکرم خان صاحب ہیں۔اکرم خان نے پاکستان میں باکسنگ کے کھیل کو گلیمر دینے کے حوالے سے کافی کام کیا ۔لیکن کچھ لوگوں نے سازش کرکے اصل پاکستان باکسنگ فیڈریشن کے مقابلے میں متوازی پاکستان باکسنگ فیڈریشن بنا لی ۔بدقسمتی سے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن نے جعلی پاکستان باکسنگ فیڈریشن کو تسلیم کر لیا۔اگر جعلی باکسنگ فیڈریشن نہ بنائی جاتی اور اکرم خان کو بطور جنرل سیکرٹری پاکستان باکسنگ فیڈریشن کام کرنے دیا جاتا تو آج پاکستان میں باکسنگ کا کھیل بھی کرکٹ کی طرح مشہور ہوتا۔جعلی باکسنگ فیڈریشن کے صدر خالد محمود سمیت دیگر عہدیداروں کے اقدامات کی وجہ سے پاکستان میں باکسنگ کا کھیل تباہی کی راہ پر چل پڑا ہے۔جب نوجوانوں کو باکسنگ کے کھیل میں اپنا مستقبل محفوظ نظرنہیں آئے گا تو وہ باکسنگ کے کھیل کو اپنا پروفیشنل کیوں بنائیں گے؟۔سب سے پہلے تو حکومت کو ایسے اقدامات کرنا ہوں گے کہ نوجوان نسل باکسنگ کے کھیل کو اپنا پروفیشن بنانے کے بارے میں سوچیں،پھر پاکستان میں باکسنگ کے کھیل کا ماحول بنایا جائے،جب پاکستان میں باکسنگ کا ماحول بن جائے گا تو نوجوانوں میں خودبخود باکسنگ کے کھیل کا جنون پیدا ہو جائے گا اور پھر اسپانسرز بھی خود بخود آگے آجائیں گے اور میڈیا بھی آجائے گا۔
سوال : پاکستان میں باکسنگ سمیت دیگر کھیلوں میں غیر ملکی کوچز کو ہی کیوں ترجیح دی جاتی ہے کیا پاکستانی کوچز میں اہلیت نہیں ہے کہ وہ اپنے پلیئرز کی کوچنگ کر سکیں؟
حسین شاہ : پاکستانی کوچز بے پناہ صلاحیتوں سے مالا مال ہیں جو مختلف ممالک میں مختلف کھیلوں کی ٹیموں کے پلیئرز کی کوچنگ کر رہے ہیں لیکن بد قسمتی سے ہمارے ہاں جو کلچر پروان چڑھ چکا ہے اس میں اپنوں کی قدر نہیں کی جاتی۔ پاکستان میں غیر ملکی کوچز پر لاکھوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں لیکن اپنے بہترین کوچز کو 30 ہزار روپے دیتے ہوئے جان نکلتی ہے۔ یہ روش ملک کے بہترین کوچز کی حوصلہ شکنی کے مترادف ہے۔ ملکی کھیلوں کی ترقی کیلئے یہ روش ختم کرنا ہو گی۔ البتہ میں یہ ضرور کہوں گا کہ اب پاکستان کو تعلیم یافتہ کوچز اور پلیئرز کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اب دنیا بدل چکی ہے۔ اب پلیئرز کی جدید تقاضوں کے مطابق کوچنگ کیلئے ضروری ہے کہ کوچز تعلیم یافتہ ہوں جو نوجوان پلیئرز کی کوچنگ جدید تقاضوں کے مطابق کر سکیں اچھے اور تعلیم یافتہ کوچز ہی آج کے دور میں اچھے اور عالمی معیار کے کھلاڑی تیار کر سکتے ہیں۔
سوال :آپ کے خیال میں پاکستان میں باکسنگ کے کھیل کو گراس روٹ لیول سے فروغ دینے کیلئے کن لوگوں نے حقیقی معنوں میں کام کیا ہے؟
حسین شاہ :پاکستان میں باکسنگ کے کھیل کو فروغ دینے کیلئے پوری ایمانداری کے ساتھ اگر کسی نے کام کیا ہے تو وہ پروفیسر انور چوہدری صاحب ، میجر رشید ،محمد اکرم خان صاحب اور سابق اولمپین ریفری جج سید علی اکبر شاہ قادری صاحب ہیں۔پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کی وجہ سے پاکستان میں کھیلوں کے میدان ویران ہو گئے تھے کسی بھی ملک کی ٹیم پاکستان کھیلنے کیلئے نہیں آرہی تھی اس ماحول میں پاکستان باکسنگ فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری محمد اکرم خان صاحب سمیت دیگر عہدیداروں کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے نا م سے دوانٹرنیشنل باکسنگ ٹورنامنٹ ٹورنامنٹس کا کامیاب انعقاد ممکن بنا کر پاکستان کے ویران میدان آباد کئے تھے۔ بھارت سمیت دیگر ممالک کی باکسنگ ٹیموں کی پاکستان آمدسے دنیا بھر کی ٹیموں اور کھلاڑیوں کو یہ پیغام ملا تھا کہ پاکستان کھیلوں کے حوالے سے ایک محفوظ اور پر امن ملک ہے جہاں کے لوگ کھیلوں اور کھلاڑیوں سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔لیکن پھر پاکستان باکسنگ فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری محمد اکرم خان صاحب کے خلاف کچھ لوگوں نے سازش کی اور متوازی پاکستان باکسنگ فیڈرشن بنا کر پاکستان میں باکسنگ کے کھیل کو تباہی کی راہ پر گامزن کیا۔
سوال : بطور ایک پروفیشنل کوچ اور سابق اولمپین باکسر کی حیثیت سے آپ پاکستانی باکسنگ کو گراس روٹ لیول پر سے فروغ دینے کیلئے کیا تجاویز دیں گے ؟
حسین شاہ : باکسنگ کے کھیل کو گراس روٹ لیول سے فروغ دینے کیلئے سب سے پہلے تو کوچز کے علم کو اپ گریڈ کیا جائے ان کو بیرون ملک ہونے والے باکسنگ کوچنگ کے کورس کرائیں جائیں تاکہ وہ جدید معیار کی کوچنگ سے آشنا ہوسکیں۔اس حوالے سے میں سمجھتا ہوں کہ کلب لیول کے کوچز کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے کیونکہ کسی بھی پلیئر کو بنانے میں سب سے اہم ترین کردار اسی کوچ کا ہوتا ہے۔ وہ نرسری پیدا کرتے ہیں نیشنل باکسنگ چمپئن شپ میں 10 مختلف کٹیگریز میں مقابلے ہوتے ہیں ان میں گولڈ میڈلز جیتنے والے باکسرز کے کلب لیول کے کوچز کو بھی انعامات سے نوازا جائے اور ان کو بیرون ملک منعقد ہونے والے کوچنگ کورس کرائیں جائیں۔ اگر کلب لیول پر کوچز کی حوصلہ افزائی ہو گی تو وہ زیادہ محنت اور لگن سے کام کریں گے۔ جب وہ گراس روٹ لیول پر انتھک محنت کریں گے تو پاکستان کو عالمی معیار کے باکسرز ملیں گے جو اپنے شاندار کھیل کی بدولت عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کریں گے۔ پاکستانی حکومت باکسنگ ڈویلپمنٹ اینڈ پلاننگ کمیشن تشکیل دے ۔جس میں مجھے ملک بھر سے نامور سابق باکسرز کو شامل کیا جائے۔جو ملک بھر میں باکسنگ کے کھیل کے ٹیلنٹ کو ضائع ہونے سے بچانے اورباکسنگ کے کھیل کو گراس روٹ لیول سے فروغ دینے کیلئے پلان بنائے۔ مختلف اداروں کے ساتھ مل کر ضلعی سطح پر باکسنگ کوچنگ کیمپ منعقد کئے جائیں۔ ملک کے چاروں صوبوں میں چار کیمپ لگائیں جائیں گے۔ ایک کیمپ دو ہفتوں پر مشتمل ہو گا۔ جس میں مختلف شہروں اور اداروں کے لڑکے اکٹھے ٹریننگ کریں۔ کیمپ کے اختتام پر آپس میں مقابلے بھی کرائیں جائیں اور جیتنے والے باکسرز کو نقد انعامات بھی دیئے جائیں ۔ پورے سال میں 16 کیمپ لگائیں ان میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے باکسرز کو پاکستان باکسنگ ٹیم میں شامل کر کے بیرون ممالک کے ٹورز کرائے جائیں گے تاکہ انہیں انٹرنیشنل باکسنگ کا تجربہ حاصل ہو سکے۔ ان 16 کیمپ کے علاوہ نیشنل لیول پر ایک الگ سے کیمپ بھی لگایا جائے۔ ان کوچنگ اینڈ ٹریننگ کیمپوں میں پاکستان کے سابق مایہ ناز باکسرز کے علاوہ نامور غیر ملکی باکسرز بھی نوجوان باکسرز کو کوچنگ ٹپس دیں ۔ علاوہ ازیں کلب لیول پر باکسنگ کے کھیل کو فروغ دینے کیلئے کلبوں کو پروموٹ کیا جائے،کلب باکسنگ پر مقابلے بازی کا رجحان پیدا کیا جائے۔
ملک بھر میں باکسنگ کلبوں کو فعال بنایا جائے گا اور نئے کلب بنائے جائیں ۔
سوال : کیا آپ موجودہ پاکستان باکسنگ فیڈریشن کی کارکردگی سے مطمئن ہیں؟
حسین شاہ : پاکستان باکسنگ فیڈریشن کے صدر خالد محمود نے تو پاکستان کی باکسنگ کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے ۔لہٰذا فوری طور پر باکسنگ فیڈریشن کے دوبارہ الیکشن کرائے جائیں جن لوگوں سے کام نہیں ہوتا وہ اپنے عہدوں کو چھوڑ کر دوسروں کو موقع دیں۔ اکرم خان اور سید علی اکبر شاہ قادری جیسے تجربہ کار جس نے پروفیسر انور چوہدری کے ساتھ 30کام کیا ہے اس کا تجربہ ہے اس کو فیڈریشن میں شامل ہونا چاہئے۔ اب آپ پاکستان باکسنگ کی حالت دیکھ لیں۔دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کرنے والے باکسر اور ٹیکنیکل آفیشلز کو پروفیسر انور چوہدری اور میجر عبدالرشید کے ساتھ دفن کردیا گیا ہے۔پاکستان میں نیشنل باکسنگ اور آل پاکستان باکسنگ ٹورنامنٹ کی جگہ من پسند گروپ اور لوگوں کے ذریعے لوکل باکسنگ ہورہی ہے بلخصوس سندھ میں باکسنگ کو تباہ کردیا گیا ہے۔وزیر اعظم پاکستان عمران خان سپورٹس مین ہیں ان کو کرکٹ کے علاوہ دیگر کھیلوں کا بھی احساس ہے وہ احساس محرومی کا شکار کھیلوں میں بہتری کیلئے اقدامات کریں۔
سوال : آپ حکومت سے کیا مطالبہ کریں گے؟
حسین شاہ :میں سپورٹس مین وزیر اعظم عمران خان سے مطالبہ کرتا کہ وہ پاکستان سپورٹس بورڈ ، پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور اس سے منسلک پاکستان باکسنگ فیڈریشن سمیت دیگر فیڈریشنوں کا گزشتہ دس سال کا آڈٹ کرایا جائے۔اور میں وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ اور انٹی کرپشن کی وزارت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ صرف 5 برس کا سندھ سپورٹس ڈپارٹمنٹ اور سندھ سپورٹس بورڈ سے حساب لیں کہ دس سال میں سندھ میں باکسنگ کے نام پر کتنی رقم جاری کی گئی؟کتنے کلبوں اور ڈویژن و ڈسٹرکٹ پر باکسنگ کے نام پر رقوم جاری کی گئی؟ اور پھر باکسنگ کے لوگوں سے پوچھیں کہ اس رقم کا کیا ہوا ۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے