Voice of Asia News

میرا ساہیوال کُوفے میں ہے یوسف رشید

ساہیوال میں مرنے والے معصومین کی لاشوں کا پُرسہ کسے دیں، پریوں جیسے چہرے والی منیبہ اور ہادیہ کے سامنے نوحہ پڑھیں یا معصوم عمیر جو اس قتلِ عام کا چشم دید گواہ ہی نہیں اپنی دو چھوٹی بہنوں کا واحد مائی باپ بھی ہے، کو انصاف میں پیش رفت سے آگاہ کریں؟ ستم در ستم تو یہ ہے کہ انصاف کا یہ خون اُن روایتی سیاستدانوں کے دورِ حکومت میں نہیں ہوا کہ جن کو ہم ہمیشہ سے کرپٹ قرار دیتے آئے ہیں۔ جن کے دور میں ماڈل ٹاؤن میں چودہ لاشیں گریں تو ہم نے دھرنے دیے۔

مہذب ملکوں کی روایات کے حوالے دیے۔ بدقسمتی سے انصاف کا خون اُس جماعت کے دورِ حکومت میں ہوا ہے جس کا نام ہی تحریک انصاف ہے۔ عمران خان کہ گذشتہ سبھی سالوں میں ہر حادثے کا ملبہ شریف خاندان پر ڈال کر استعفیٰ مانگا کرتے تھے، اور اپنی چکنی چپڑی باتوں اور کرشماتی شخصیت کے ساتھ جب مغربی ملکوں کی اعلیٰ روایات کے حوالے دیتے تو کس کافر کو نہ یقین آتا کہ یہ شخص کوئی انقلاب برپا کرے گا۔

مان لیجئیے حادثہ ہو گیا۔ غلطی ہو گئی۔ اہلکاروں کی غلطی تھی، کسی افسر نے غلط مخبری پر فائرنگ کا حکم دیا تھا۔ اس واقعے کو ہینڈل آپ نے جس طرح کیا وہ مسخرے پن کی آخری انتہا ہی ہو سکتی ہے۔ وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت کے بیان، آئی جی پنجاب کے بیان، فواد چوہدری کی وضاحتیں، بھونڈا پن بھی ایسا کہ بد سے بد ترین دورِحکومت میں بھی ایسا نہ ہو۔ کبھی کہا گیا کہ بچوں کو اغوا کر کے لے جایا جا رہا تھا، کبھی کہا گیا کہ دہشت گردوں نے فائرنگ کی اور جوابی فائرنگ میں چار ”دہشت گرد“ مارے گئے، اور ان تین معصوم بچوں کو سی ٹی ڈی کے اہلکار ایک پٹرول پمپ پر چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ پھر کہا گیا کہ ذیشان دہشت گرد تھا۔ اور جانے کیا کچھ۔ ہر حکومتی بیان کی تردید کے لئے قدرت نے ثبوت بھی فراہم کر دیے۔ بھلا ہو چیف سیکرٹری پنجاب کا جنہوں نے اتنا تو تسلیم کیا کہ فائرنگ غلط تھی۔ اور فواد چوہدری کہ جنہوں نے بڑی بے رحمی سے دو کروڑ روپے کا ریٹ بھی لگا دیا۔

مدینے کی ریاست کے داعی عمران خان کہ جنہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ قطر سے واپسی پر خود اس معاملے کی انکوائری کریں گے۔ آج دو ہفتے گزر گئے لیکن انکوائری اور قاتلوں کو سزا ملنا تو دور کی بات موصوف نے وطن واپسی کے بعد ایک روایتی بیان بھی نہیں جاری کیا۔ کم سے کم مظلوموں کے گھر ہی چلے جاتے۔ ان یتیموں کے سر پر ہی ہاتھ رکھ دیتے۔ انہیں دہشت گرد تو نہ کہتے۔

جس دن چار اہلکاروں اور بارہ نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی تھی، اسی دن نظر آ گیا تھا کہ حکومت انصاف میں کتنی سنجیدہ ہے۔ نا معلوم افراد کی پخ ملزمان کو شک کا فائدہ پہنچانے کے لئے ڈالی جاتی ہے۔ جس دن جے آئی ٹی نے تفتیش کے لئے تیس دن کا وقت مانگا، اسی دن نظر آ گیا کہ مدینے کی ریاست میں انصاف کا ریٹ کیا ہے۔ اپنا ایک سفارشی آئی جی پنجاب تو ہٹایا نہیں گیا آپ سے۔ اور ڈھنڈورا مچایا گیا کہ تین دن میں انصاف کر دیا ہے۔

اس سے اچھا انصاف تو شہباز شریف نے ماڈل ٹاؤن کے واقعے کے بعد کر دیا تھا کہ آئی جی پنجاب، پرنسپل سیکرٹری سمیت متعدد افسران کو معطل کیا گیا، اور بھلے دکھاوے کے لئے ہی سہی لیکن اپنے وزیر قانون سے استعفیٰ بھی لیا۔ آپ نے کیا کیا؟ آپ کے انڈر ٹریننگ وزیراعلیٰ معصوم بچوں کو ان کے ماں باپ کے مرنے کی خوشی میں پھول پیش کرتے رہے، گورنر پنجاب اسے معمول کا واقعہ قرار دیتے رہے، وزیر قانون ہر روز ایک نئی بھونڈی وضاحت پیش کرتے رہے، اور رہے مہابلی وزیر اعظم، تو وہ قطر میں پاکستانی سفارتخانے کی طرف سے منعقدہ تقریب کو تحریک انصاف کا سیاسی جلسہ قرار دینے میں مصروف رہے۔

اس واقعے کا سب سے مضحکہ خیز پہلو، جے آئی ٹی کے سامنے ملزمان کا بیان کہ انہوں نے فائرنگ ہی نہیں کی۔ لیجئیے صاحب۔ اب بھاڑ میں گئے سارے ویڈیو ثبوت، لواحقین کے بیان وغیرہ۔ اب قانون کی رُو سے ملزمان کی شناخت پریڈ ہو گی۔ جس میں واقعے کے سب سے معتبر عینی گواہ عمیر سے پوچھا جائے گا کہ وہ ملزمان کی شناخت کرے۔ ایک دس گیارہ سال کا بچہ جس کی آنکھوں کے سامنے اس کے ماں باپ اور بڑی بہن کو گولیوں سے بھونا جا رہا تھا، اب اس سے پوچھا جائے گا کہ وہ ایک جیسی وردی میں ملبوس اہلکاروں کو شناخت کرے۔

آپ کی عدالتوں میں ویسے بھی ویڈیو کو ثبوت کو طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا۔ یہ تو ماشا اللٰہ مدینے کی ریاست ہے، کوفہ بھی ہوتا تو دو دن میں مجرموں کو پھانسی پر لٹکا دیا جاتا۔ پولیس اور سی ٹی ڈی کے اہلکاروں سے تفتیش کرنے کے لئے پولیس کے ہی افسران پر مشتمل جے آئی ٹی کو ایک سادہ سے معاملے کی تفتیش کے لئے تیس دن درکار ہیں، جس کا واحد قابلِ فہم مقصد گواہوں اور شواہد کو غائب کرنا ہے۔ علاوہ ازیں تیس دن بعد اس قوم کو کب یاد ہو گا کہ ساہیوال میں بھی کچھ ہوا تھا۔ اور کچھ ہم ایسے سرپھروں کو یاد بھی ہو تو ان تیس دنوں میں قوم کو کسی نئے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا جائے گا، تا آنکہ کوئی نیا سانحہ برپا ہو جائے۔

جن مہذب ملکوں کے حوالے دے کر خان صاحب استعفیٰ استعفیٰ کھیلا کرتے تھے، کچھ ان کی ہی لاج رکھ لی ہوتی۔ چلیں سیاست آپ کی مجبوری ہے، اتحادیوں کو خوش رکھنا آپ کی حکومت کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ کم سے کم آئی جی کو ہی معطل کر دیتے، ان چار اہلکاروں کو ہی سزا دے دیتے۔ ان مظلوموں کی داد رسی ہی کرنے چلے جاتے۔ ان کے سر پر ہاتھ رکھ دیتے، انہیں انصاف کی جھوٹی ہی سہی، پر یقین دہانی کرا دیتے۔ کسی میں اتنی جرات نہیں کہ اپنے گورنر صاحب کے سفارشی آئی جی، جس کی واحد قابلیت گورنر صاحب کی طرح جٹ ہونا ہے، کو معطل کر دے، کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ کسی بڑے پولیس افسر کو سزا دے۔

جن اہلکاروں کو آپ نے معطل کیا ہے وہ تو یہ بھی نہیں مان رہے کہ انہوں نے فائرنگ کی ہے۔ خان صاحب جنہوں نے انصاف کرنا ہوتا ہے وہ ایسے ڈھونگ نہیں کرتے۔ ماں کے جیسی ریاست میں نہتے بچوں کو یوں قتل نہیں کیا جاتا۔ چلیں آپ انصاف بھی نہ کریں، کہ آپ سے امید ہی نہیں۔ لیکن ایک مہربانی کر دیں۔ خدا کے لئے اس نام نہاد نئے پاکستان کو مدینے کی ریاست نہ کہیں۔ خدا کی قسم مدینے کی ریاست ایسی نہیں تھی۔ عمرؓ کی ریاست میں ایک چوپایہ بھی فرات کنارے بھوکا مرتا تو عمرؓ خدا کو جوابدہ ہوتا تھا۔
آپ کی ریاست میں دن دیہاڑے معصوم لوگوں کا قتل ہوتا ہے انصاف ہوتا دور دور تک نظر نہیں آتا، اور آپ اسے مدینے کی ریاست کہتے ہیں۔ یقین کیجئے کہ ایسی ریاستی دہشت گردی جموں کشمیر میں تو ہو سکتی، فلسطین میں تو ہو سکتی ہے، مدینے کی ریاست میں نہیں۔ اگر یہ مدینے کی ریاست ہے تو پھر ساہیوال یقیناً کوفے میں ہے!

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •