Voice of Asia News

انسان کرہ ارض کا اچھا کیئرٹیکر ثابت نہیں ہوسکا

لندن(وائس آف ایشیا) حشرات الارض کی تعداد پر ہونے والی ایک سائنسی تحقیقی کے مطابق دنیا بھر میں ان کی 40 فیصد انواع کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے جس کی وجہ ٹیکنالوجی کا بڑھتا ہوا استعمال‘کیڑے مار دواؤں کا چھڑکاؤ اور موحولیاتی تبدیلیاں ہیں. اس تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ پرندوں، رینگنے والے اور ممالیہ جانوروں کی نسبت مکھیاں، چیونٹیاں اور بھنورے 8 فیصد زیادہ تیزی سے معدوم ہو رہے ہیں جبکہ جگنو اب محض قصے کہانیوں میں ہی بچے ہیں.تاہم محققین کا کہنا ہے کہ اس بات کا امکان ہے کے کچھ انواع جیسا کہ گھروں میں پائے جانے والی مکھیوں اور لال بیگوں کی تعداد میں اضافہ ہو گا.بہت زیادہ کاشت کاری، کیڑے مار زرعی ادویات کا استعمال اور موسمیاتی تبدیلیاں حشرات الارض کی تعداد میں کمی کی وجوہات بتائی جاتی ہیں. ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جس مقدار میں کیٹرے مار کیمیکل زراعت‘باغوں ‘باعیچوں اور گھروں میں استعمال کیئے جارہے ہیں وہ صرف حشرات کے لیے ہی خطرہ نہیں بلکہ انسانی صحت کے لیے بھی انتہائی مضر ہیں.حشرات کرہ ارض پر پائے جانے والی مخلوقات کا ایک بڑا حصہ ہیں اور انسانوں سمیت دوسری مخلوقات کو بہت سے اہم فائدے دیتے ہیں. یہ پرندوں، چمگادڑوں اور چھوٹے ممالیہ جانوروں کے لیے خوراک کا کام دیتے ہیں، دنیا میں 75 فیصد فصلوں کی تخم کاری کا باعث بنتے ہیں، مٹی کو زرخیز بناتے ہیں اور اس میں موجود ضرررساں کیڑوں کی تعداد کنٹرول میں رکھتے ہیں.حالیہ برسوں میں ہونے والی مختلف تحقیقات یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ خاص کر ترقی یافتہ ممالک میں حشرات کی کچھ انفرادی اقسام جیسا کہ مکھیاں اس معدومی کا زیادہ شکار ہیں‘تاہم زیر بحث مقالہ اس معاملے پر زیادہ روشنی ڈالتا ہے. بائیولوجیکل کنزرویشن نامی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں گزشتہ 13 برسوں کے دوران پوری دنیا میں اس حوالے سے کیے گئے 73 تحقیقی مقالوں کا جائزہ لیا گیا ہے.محققین کو معلوم ہوا ہے کہ حشرات الارض کمی کا عمل اسی طرح سے جاری رہا تو آئندہ چند دہائیوں میں 40 فیصد معدوم ہو جائیں گے‘ ان کے مطابق دنیا میں پائے جانے والے ایک تہائی حشرات خطرے میں ہیں. محققین کی ٹیم کے سربراہ اور یونیورسٹی آف سڈنی کے ڈاکٹر فرانسیسکو سانچیز بیشیو نے بتایا کہ اس کی سب سے بڑی وجہ حشرات کے قیام اور افزائش کے ٹھکانوں کا خاتمہ ہے اور اس کی وجہ زراعت کے موجودہ طریقہ کار، جنگلوں کی کٹائی اور شہروں میں بڑھتی ہوئی آباد کاری ہے.دوسرا زراعت میں کیمیکل سے بھرپور کیڑے مار ادویات اور مصنوعی کھادوں کا بڑھتا ہوا استعمال، تیسرا چند حیاتیاتی عناصر جیسا کہ بیماری پھیلانے والے حملہ آور جراثیم اور چوتھا موسمیاتی تبدیلیاں خاص کر ٹراپیکل میں جہاں ان کا واضح اثر ہے. کچھ دیگر ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ تحقیق سنجیدگی سے غور کرنے کی متقاضی ہے‘برطانیہ میں بگ لائف کیمپین کے ماٹ شارڈلو کہتے ہیں یہ صرف مکھیوں، تخم کاری یا ہماری خوراک سے متعلق نہیں ہے‘گوبر میں پائے جانے والے حشرات جو کہ اس کی ری سائیکلنگ کا کام کرتے ہیں یا بڑی مکھیاں جو دریاؤں اور تالابوں میں اپنی زندگی شروع کرتی ہیں وہ بھی معدومیت کا شکار ہو رہی ہیں.ان کا کہنا ہے کہ یہ واضح ہے کہ کرہ ارض کی حیاتیاتی زندگی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور ان نقصان دہ افعال کو روکنے کے لیے پر زور اور عالمگیر سطح پر کوششوں کی ضرورت ہے‘ حشرات کی آہستہ آہستہ معدومیت کو جاری رہنے دینا کوئی عقلی انتخاب نہ ہو گا. یہ مقالہ بتاتا ہے کہ اگرچہ حشرات کی بہت سی اقسام تنزلی کا شکار ہیں تاہم ان کی کچھ اقسام اس قابل ہیں کہ وہ تبدیل ہوتی صورتحال کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لیں.یونیورسٹی آف سسیکس کے پروفیسر ڈیو گولسن کہتے ہیں کہ گرم مرطوب آب و ہوا کی وجہ سے تیزی سے پھلنے پھولنے والے ضرر رساں حشرات بڑھیں گے کیوں کہ ان کے قدرتی دشمن کیڑے ختم ہو جائیں گے. ایک خیال یہ بھی ہے کہ کرہ ارض پر تھوڑی تعداد میں مگر بہت زیادہ ضرر رساں کیڑے ہی رہ جائیں تاہم ہم ان سب فائدہ مند حشرات سے جیسا کہ مکھیوں، تتلیوں، بھنوروں اور گوبر میں پائے جانے والے کیڑوں، جو کہ جانوروں کا فضلہ تلف کرتے ہیں، ختم ہو جائیں گے.پروفیسر گولسن کہتے ہیں کہ چند سخت جان اور ماحول کے مطابق ڈھل جانے والی حشرات کی اقسام جیسا کہ گھروں میں پائے جانے والی مکھیاں اور لال بیگ نئے ماحول میں زیادہ آسانی سے رہ پائیں گے کیوں کہ انھوں نے ضرررساں حشرات کے خلاف دفاعی نظام تشکیل دے لیا ہے. انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ مجموعی طور پر یہ صورتحال پریشان کن ہے تاہم ہم اس حوالے سے یہ کر سکتے ہیں کہ حشرات کْش ادویات کا استعمال نہ کر یں اور کھادوں کو استعمال کیے بغیر اگائے گئی سبزیوں کے استعمال سے اپنے باغیچے حشرات کے لیے بے ضرر بنائیں.اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت بھی ہے کیونکہ حشرات کی آبادی میں کمی کے 99 فیصد ثبوت یورپ اور شمالی امریکہ سے آ رہے ہیں جبکہ افریقہ اور جنوبی امریکہ سے اس حوالے سے تقریباً کچھ نہیں آ رہا ہے.

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •