Voice of Asia News

اشرف صحرائی کی جانب سے تحریک حریت ارکان پر سیفٹی ایکٹ کا نفاذ کی سخت مذمت

سرینگر( وائس آف ایشیا ) تحریک حریت کے چیرمین محمد اشرف صحرائی نے تنظیم کے ذمہ دار عبدالحمید پرے حاجن، غلام محمد شیخ، مولوی سجاد احمد اور مشتاق احمد کو پبلک سیفٹی ایکٹ لگاکر کوت بھلوال جیل شفٹ کرنے اور تحریک حریت ضلع بارہ مولہ کے سابق صدرِ ضلع عبدالغنی بٹ کو مسلسل قیدوبند میں رکھنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ظلم وجبر اور انتقام گیری کی پالیسی حکومت اور انتظامیہ کا معمول ہے۔ انہوں نے کہا کہ عبدالحمید پرے عمر 55سال کو 2016 کو گرفتار کرکے پی ایس اے کے تحت جیل بھیج دیا گیا اور پھر 2019 تک مسلسل جیل میں مقید رہنے کے بعد اگرچہ رہا کیا گیا، مگر صرف 3ماہ گھر میں رہنے کے بعد پھر سے فرضی الزامات کے تحت گرفتار کرکے کوت بھلوال جیل بھیج دیا گیا۔ اگرچہ عدالت نے اس پر لگایا گیا، پی ایس اے کالعدم قرار دے کر ان کی رہائی کے احکامات صادر کئے، مگر انتظامیہ نے ان کو رہا کرنے کے بجائے پھر سے پی ایس اے لگاکر واپس کوٹ بھلوال جیل روانہ کیا۔ صحرائی نے عبدالغنی بٹ اور شیخ محمد رمضان کی مسلسل قیدوبند میں رکھنے کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عبدالغنی بٹ بھی 2016 کی عوامی تحریک میں نمایاں رول ادا کرنے کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا اور گرفتاری سے پہلے موصوف کے مکان اور کارخانے کی توڑ پھوڑ کرکے لاکھوں روپئے کا نقصان پہنچایا گیا۔ دوران اسیری عبدالغنی بٹ کی صحت کافی حد تک بگڑ گئی ہے۔ اگرچہ ان پر لگائے گئے بار بار کے پی ایس اے عدالت نے کالعدم قرار دے کر ان کی رہائی کے احکامات صادر کئے، مگر انتظامیہ نے ان کی رہائی میں ہر بار رکاوٹیں کھڑی کرکے پھر ان ہی گِھسے پٹے الزامات کے تحت جیل میں بند رکھا اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ اسی طرح شیخ محمد رمضان بھی صحت کی خرابی میں مبتلا ہیں۔ صحرائی نے سیاسی لیڈران اور کارکنان وعام جوانوں کی رہائی پر زور دیا۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے