Voice of Asia News

بھارتی غرور خاک میں مل گیا:محمد قیصر چوہان

جذبہ جہاد سے سرشار پاک فضائیہ کے شاہینوں نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرنے والے دو بھارتی طیارے تباہ کرکے امن کے مکار ترین دُشمن نریندر مودی سرکار کا غرور خاک میں ملا دیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا ہے کہ امن کے مکار ترین دُشمن بھارت نے اگر پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی تو جذبہ ایمانی لیس اور جذبہ جہاد سے سرشار پاکستان کی بہادر افواج بھارت کو صفحہ ہستی سے مٹادے گی۔ منگل کو علی الصباح پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے بھارتی طیاروں کو پاک فضائیہ کی جانب سے فوری کارروائی کر کے بھگائے جانے کے اگلے ہی روز بھارت نے ایک بار پھر پاکستان پر حملے کی کوشش کی تو پاکستان ایئر فورس کے چاق و چوبند دستوں نے اس کے دونوں طیاروں کو مار گرایا۔ ایک دن قبل بھارتی طیارے تین منٹ میں فرار ہوگئے تھے۔ پاکستان نے جانی نقصان کے خوف سے انہیں اپنے علاقے میں نشانہ نہیں بنایا، لیکن وہ جاتے جاتے اپنے اوپر لدے ہوئے چار بموں کو ویرانے میں پھینک گئے، جن سے کوئی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا۔
اس کے باوجود بھارت نے دعویٰ کیا کہ جیش محمد کے ٹھکانے پر حملہ کر کے اس کے طیاروں نے کم و بیش تین سو دہشت گرد ہلاک کر دیئے۔ بھارت نے اپنے دعوے کے ثبوت میں کوئی ایک لاش یا کوئی تباہ شدہ عمارت نہیں دکھائی۔ چنانچہ عالمی برادری نے بھارت کی بات کو ہر گز تسلیم نہیں کیا۔یاد رہے کہ پاکستان میں جیش محمد کو بہت پہلے کالعدم تنظیم قرار دیا جا چکا ہے۔ علاوہ ازیں فوجی آپریشن کے نتیجے میں یہاں اب تک کوئی دہشت گرد گروہ باقی بچا ہے نہ ان کا کوئی ٹھکانہ موجود ہے۔ تاہم اگر بھارت کے طیاروں نے کوئی جانی یا مالی نقصان پہنچایا ہوتا تو وہ محض دعویٰ نہیں کرتا، بلکہ بڑے فخر سے ثبوت وشواہد بھی پیش کرتا، جبکہ اس کی جانب سے کوئی ایک لاش یا تباہ شدہ عمارت نہیں دکھائی گئی۔ پاکستان نے البتہ ویران علاقے میں بھارتی طیاروں کے پھینکے گئے گولہ بارود کی باقیات دکھا کر اس کے ڈھول کا پول کھول دیا ہے۔ پاکستان نے بھارتی طیاروں کی آمد کو اپنی فضائی حدود کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے بھارت پر واضح کر دیا تھا کہ پاکستان خود وقت اور مقام طے کر کے اس کا جواب دے گا۔ پاکستان کی جانب سے جواب دینے سے قبل ہی جنگی جنون میں مبتلا بھارت نے دوسرے دن دو طیارے بھیج کر پاکستان کو ڈرانے یا نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ پاک فضائیہ نے دونوں طیاروں کا ٹھیک ٹھیک نشانہ لے کر مار گرایا، جبکہ ایک طیارے کے پائلٹ کو زندہ گرفتار بھی کر لیا گیا۔ جنوبی ہند سے تعلق رکھنے والے ابھی نندن نے خود کو فلائنگ پائلٹ اور ہندو قرار دیتے ہوئے اپنی ملازمت کا نمبر (27981) بھی بتا دیا ہے۔
پاکستان نے بھارت کی تمام تر اشتعال انگیزی کے باوجود پورے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی حکومت اور فوج کو پیشکش کی ہے کہ اگر پلوامہ حملے میں پاکستان کا کوئی شخص یا گروہ ملوث ہے تو بھارت ثبوت فراہم کرے۔ پاکستان ہر قسم کی تحقیقات میں مکمل تعاون کرے گا۔ جنگ چھیڑنا آسان ہے، لیکن اس کے نتائج بہت ہولناک نکلتے ہیں، جبکہ جنگ کسی مسئلے کا حل بھی نہیں ہے اور اگر متحارب ممالک ایٹمی اسلحہ رکھتے ہوں تو ان کے درمیان شروع ہونے والی جنگ ابتداء ہی میں اس قدر تباہ کن ہو گی کہ جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ وزیر اعظم عمران خان نے اپنے بھارتی ہم منصب کو اس حقیقت سے آ گاہ کرتے ہوئے انہیں مذاکرات کی ایک بار پھر دعوت دی ہے۔ میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ پاکستان نے دو بھارتی طیارے گرا کر بھارتی جارحیت کا جواب نہیں دیا ہے، بلکہ اپنی صلاحیت، ذمے داری اور امن کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ دونوں ممالک، خطے اور دنیا میں جنگ و جدل کی نہیں، امن، سلامتی اور انسانی خوشحالی کی ضرورت ہے۔
اصل بات تو یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر بھارت کے ہاتھوں سے نکلتا جا رہا ہے۔ بھارتی باشندوں کی جانب سے بھی کشمیریوں کو ان کے بنیادی انسانی حقوق اورآزادی فراہم کرنے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی فہم و فراست صرف اس حد تک درست ہے کہ وہ مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کے خلاف انتہا پسندانہ اور وحشیانہ جذبات رکھتے ہیں، جبکہ اس وقت انہیں رواں برس اپریل میں عام انتخابات کا مرحلہ بھی درپیش ہے۔ اس کی خاطر وہ بھارت میں جنگی جنون کی فضا پیدا کر کے اور پاکستان مخالف جذبات بھڑکا کر اگلی بار بھی وزیر اعظم بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ دو دنوں تک لگاتار پاکستانی فضائی حدود کی بھارتی خلاف ورزی پر سول اور فوجی بھارتی حکام جھوٹ اور پروپیگنڈے کا چاہے جتنا ملمع چڑھائیں وہ عالمی برادری کو مزید فریب میں مبتلا نہیں رکھ سکتے۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی مسلسل دھمکیوں اور فوجیوں کو سرحدوں پر پہنچانے کی وجہ سے پاکستان کا بچہ بچہ بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار ہے۔ آرمی چیف جنرل جاوید باجوہ تو کئی روز پہلے سیالکوٹ بارڈر پر پہنچ کر پاکستانی فوج کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے بعد اطمینان کا اظہار کر چکے ہیں۔ عالمی برادری کو یقین ہے کہ بھارت کا موجودہ جنگی جنون عارضی ہے، کیوں کہ بھارتی حکومتیں، بالخصوص نریندر مودی جیسے انتہا پسند رہنما عام انتخابات کے زمانے میں پاکستان دشمنی کی فضا پیدا کرکے یہ باور کرنے لگتے ہیں کہ ان کی طرح انتہا پسندی اور وحشت میں مبتلا کچھ عوام انہیں زیادہ ووٹ دے کر اقتدار کے ایوانوں تک پہنچا دیں گے۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اس حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ابتداء میں ان کی حمایت کرنے والے انتہا پسند اور جنونی ہندو سیاستدان، فوجی اور ذرائع ابلاغ کے لوگ اب ان کی حکومت کے پروپیگنڈے کے سحر سے نکلتے جا رہے ہیں اور وہ پلوامہ حملے کو بھی نریندر مودی کی انتخابی مہم کا حصہ قرار دینے لگے ہیں۔ سابق فوجی، محب وطن بھارتی مفکرین اور دانشور اپنے وزیراعظم کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ اپنے ذاتی، سیاسی اور اقتدار کے مفادات کی خاطر جنگ کے شعلے نہ بھڑکائیں، جو خدا نخواستہ چھڑ گئی تو بہت ہلاکت خیز ہوگی۔ بھارت میں قومیتوں کی تقسیم، آزادی کی تحریکوں اور شدید اختلاف رائے کے برعکس پاکستان میں حکومت اور اس کے مخالفین، افواج پاکستان، تمام سیاسی و مذہبی رہنما اور مسلمانوں کے علاوہ اقلیتی برادریاں بھی بھارت کے خلاف متحد ہیں اور وہ سب اپنے وطن کی خاطر جان دینے کیلئے تیار ہیں۔ کوئی مودی جی کو یہ بھی بتا دے کہ جنگیں کثرت تعداد اور محض فوجی سازو سامان سے نہیں لڑی جاتیں، ان کیلئے طاقت سے زیادہ اپنے نصب العین کی صداقت اور جذبے کی سچائی اہمیت رکھتی ہے، جو پاکستان کے مقابلے میں بھارت میں واضح طور پر بہت کم ہے۔
پاکستانیوں میں لاکھ اختلافات ہوں مگر ملک کی حفاظت کے لیے یہ قوم ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے جو وطن کے دفاع کے لیے اپنا خون بہانا اعزاز سمجھتی ہے۔ پاکستانی حکومت کو بھی اس وقت سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف پیش رفت کرنا چاہیے۔ یہ بھارت کا کشمیر میں تشدد اور خونریزی ہی ہے جس کے باعث پلوامہ کا واقعہ رونما ہوا اور معاملات اب اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ خطے کے دو ایٹمی ممالک باقاعدہ جنگ کے دہانے پر ہیں۔ یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اصل مسئلہ کیا ہے۔ اصل مسئلہ نہ تو پاک بھارت جنگ کو روکنا ہے اور نہ مقبوضہ کشمیر میں جنم لینے والے انسانی المیے کی روک تھام ہے۔ اصل مسئلہ کشمیر کے مسئلے کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہے۔ اگر کشمیریوں کو حق خود ارادیت دے دیا جاتا تو معاملات یہاں تک پہنچتے ہیں نہیں۔ ہمیں خبردار رہنا ہوگا کہ پاک بھارت جنگ کے شور میں کہیں مسئلہ کشمیر دب کر ہی نہ رہ جائے۔ بھارت نے لائن آف کنٹرول پر گرما گرمی کرکے کشمیری مجاہدین کی قربانیوں کو گرد میں چھپانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ کشمیر کے مسئلے کا حل پاکستان لیے بھی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ پاکستانی دریاؤں کا پانی مقبوضہ کشمیر ہی میں روکا گیا ہے۔ اگر کشمیریوں کو حق خود ارادیت دے دیا جائے تو وہ بھارت کے چنگل سے آزاد ہوجائیں گے اور یوں پاکستان کا پانی بھی محفوظ ہوجائے گا۔
دو دن کی بھارتی جارحیت کے تناظر میں پاکستان کو امن اور مذاکرات کی تمام تر پیشکشوں کے باوجود پوری طرح تیار رہنے کی ضرورت ہے۔ بھارت میں رنگ و نسل، علاقے اور مذہب کے شدید اختلافات اور علیحدگی کی تحریکوں کے برعکس الحمد للہ پاکستان میں حکومت، افواج پاکستان،صحافیوں سمیت تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اور ہر طبقہ فکر کے لوگ اپنے ملک کے تحفظ و سلامتی کی خاطر جان و مال کے نذرانے پیش کرنے کیلئے ہمہ وقت تیار اور متحد ہیں۔ جبکہ پاکستان کی فضائیہ نے بھارتی طیارے تباہ کرکے انتہا پسند نریندر مودی سرکار کا غرور خاک میں ملا کرامن پسند پاکستانی قوم کا سر فخر سے بلند کردیا ہے اور افواج پاکستان نے ثابت کردیا ہے کہ وہ پاک سر زمین کی حفاظت کی ضامن ہے۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •