Voice of Asia News

امریکی خلائی ایجنسی ناسا میں داخل ہونے والی پہلی عراقی خاتون

بغداد( وائس آف ایشیا)بغداد سے تعلق رکھنے والی باہمت اور نوجوان عراقی خاتون دیانا السندی نے پابندیوں کی زنجیر توڑ کر امریکا کا رخ کیا جہاں خلائی ایجنسی ناسا میں خلا نوردی کے لیے راکٹوں کی تیاری کے شعبے میں کامیابی کے مواقع اْن کے منتظر تھے۔دیانا نے 2017 میں یونیورسٹی گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔ اس سلسلے میں انہوں نے 2008 میں بھرپور کوششوں کا آغاز کیا تھا تا کہ لوس اینجلس منتقل ہو کر اپنے دیرینہ خواب کو پورا کر سکیں۔دیانا نے عرب ٹی وی کے مطابق بتایا کہ انہیں بچپن سے ہی انجینئرنگ کے شعبے سے خصوصی شغف تھا۔ تاہم جب وہ کالج میں تھیں تو انہوں نے اس خیال سے کمپیوٹر سائنس کی تعلیم حاصل کرنا شروع کی کہ وہ اس میں کامیاب رہیں گی مگر ایسا نہ ہو سکا۔ اس طرح دیانا نے انجینئرنگ کے میدان کا رخ کیا اور خلا نوری کی جان کاری حاصل کرنا شروع کی۔دیانا کے مطابق اجتماعی کوشش اور ماہر شخصیات سے ملاقات کے ذریعے انہوں نے اپنی برتری ثابت کر دی اور وہ ناسا میں داخل ہونے والی پہلی عراقی خاتون بن گئیں۔ ناسا میں ان کے سامنے خلائی گاڑیوں اور راکٹوں کی تیاری کے علاوہ دیگر آپشنز بھی تھے۔دیانا نے بتایا کہ 2017 میں امتیازی پوزیشن کے ساتھ کیمیکل انجینئرنگ میں بیچلرز مکمل کرنے کے بعد انہیں موقع فراہم کیا گیاکہ وہ ناسا ایجنسی کے تعاون سے سائنسیزسپیس کے میدان میں اپنی مہارتوں کو جلا بخشیں۔دیانا 2018 سے کمپنی میں بطور ڈیولپمنٹ انجینئر کام کر رہی ہیں۔ انہیں اپنے کام سے محبت ہے کیوں کہ یہ روٹین ورک سے کہیں دور ہے اور ہر دن نئی مشکلات کو حل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ دیانا کہتی ہیں کہ خلا نوردی کا میدان سیاروں اور ستاروں کو سمجھنے کے لیے لا محدود کام کا حامل ہے۔کمپنی میں اپنے کام کی نوعیت کے حوالے سے دیانا نے واضح کیا کہ بطور ڈیولپمنٹ انجینئر وہ مختلف ذمے داریاں انجام دیتی ہیں۔ ان میں راکٹ کے اجزاء کی ڈیزائننگ سے لے کر ان کے تجربے تک کے مراحل شامل ہیں۔عراقی خاتون انجینئر کا کہنا تھا کہ خلا نوردی کے میدان میں داخل ہونے کے لیے کوئی مخصوص پیرامیٹر نہیں ، انجینئرنگ، سائنس، ٹیلی کمیونی کیشن یا ٹکنالوجی کے شعبے میں کام کرنے والا کوئی بھی فرد اسپیس سائنسز میں کام کر سکتا ہے۔اپنی کامیابی کے حوالے سے دیانا کہتی ہیں کہ کامیابی کا کوئی سیدھا راستہ نہیں۔ پیشہ وارانہ زندگی کے راستے میں مایوسی اور ناکامی ہمیشہ موجود ہوتی ہے تاہم یہ چیز اہم نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ منفی تجربات کو زندگی کے مثبت سبق میں کس طرح تبدیل کیا جائے۔

image_pdfimage_print