Voice of Asia News

فرخ سہیل گوئندی کو’’ دہشت گردی ‘‘سے کون روکے گا : محمد نوازطاہر

سمجھ نہیں آتی کہ دہشت گردی ختم کیوں نہیں ہوتی ؟ وہ دہشت گردی جو پاکستان بننے کے ساتھ اور اپنے پیداہوتے ہی دیکھی۔۔۔ جی ہاں!249 وہی دہشت گردی جو شعور کے خلاف کی جاتی رہی ہے اور کی جارہی ہے اور شعور دبانے اور بیدارنے کیلئے بھی کی جارہی ہے۔ یہ دہشت گردی کل لاہور پریس کلب میں بھی ہوئی ، دو’’ دہشت گرد‘‘ اچانک پریس کلب میں ڈاخل ہوئے اور اپنا ہدف پورا کے خاموشی کیساتھ روا نہ ہوگئے ، مخبر نے اطلاع دی ہے بہت جلد یہ دونوں ’’دہشت گرد ‘‘پھر کسی وقت حمہ آور ہونگے۔ میں اس’’ دہشت گردی ‘‘نشانہ اس وقت بنا جب ’’بم‘‘(کتاب ) دوست راناعمران نے لائبریری میں’ گھس‘ کر فوری فوٹو گرافر روم میں حاضری کا حکم صادر فرمایا جہاں دونوں’’ دہشت گرد‘‘ فرخ سہیل گوئندی اور محترم حسین نقی موجود تھے، ان کے سامنے گتے کے ایک ڈبے میں کئی ’’بم‘ دکھائی دے رہے تھے۔یہ جمہوری پبلیکیشنز میں تیار کیے گئے تھے ، کچھ’ بم ‘کہیں اور تیار ہوئے تھے اور فرخ سہیل گوئندی کو پیش کیے گئے تھے اور وہ بڑی محبت کے ساتھ پریس کلب کی لائبریری کیلئے عطیہ کرنے آئے۔ اسے معاشرے میں جہاں انسان کی تقدیر سیاہی سے لکھنے کی مشینیں دن رات چل رہی ہیں وہیں فرخ سہیل گوئندی روشنائی سے لکھنے شعور کی بیداری قلمبند کررہے ہیں۔ فرخ سہیل کو تب سے ہی جانتاہوں جبسے لاہور کی سڑکوں پر شعور نعرہ زن ہے اور لاٹھیوں کا سامنا کررہا ہے، اس دور میں جبکہ کم و بیش ہر شخص حساب کتاب پڑھنے میں لگا ہوا ہے وہاں فرخ سہیل گوئندی جیسے کچھ مہربان عمرانیات اور سیاسیات پڑھانے کیلئے کوشاں ہیں۔ وہ معاشرے کو معاشرہ پڑھا کر معاشرہ بنانے کے خواب دیکھنے سے باز ہی نہیں آتے۔ کل بھی وہ عمر شریف صاحب کی تحریک پر’ سرمایہ ‘ایک ڈبے میں بند کرکے لائے اور ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا کہ بائیس ہزار گہنے ابھی ان کی لائبریری میں موجود ہیں۔ اپنی لائبریری کاذکر کرتے ہوئے انہوں نے اپنے گھر ہونے والی چوری کا انکشاف بھی کیا اور ساتھ یہ بھی بتایا کہ چور واردات کے دوران ان کی یادیںِ خواہشیں اور بچپن ، لڑکپن ، جوانی اور موجودہ سنجیدہ عمر کی نشانیاں کیمرے بھی لے گئے ہیں جن میں ایک وہ کیمرا بھی شامل تھا جو انہوں نے بچپن نے جیب خرچ جمع کرکے خریدا تھا۔۔۔ حسین نقی صاحب کبھی کبھار پریس کلب کو رونق بخشتے ہیں تو بہار آجاتی ہے۔ انہوں نے بھی انکشاف کیا جو پنجابی اخبار (سجن )انہوں نے اسی کی دہائی کے اواخر میں بہت سے لوگوں کو چیلنج کرکے سو روز کیلئے شروع کیا تھا اور وہ ڈیڑھ سال سے بھی زائد شائع ہوتا رہا ، اب انہوں نے اس کا آن لائن ایڈیشن شروع کردیا ہے۔ وہ ’ سجن ‘ کے ابتدائی ایام کی یادیں شیئر کررہے تھے اور بتا رہے کہ مجید نظامی ( مرحوم ) کا بھی خیال تھا کہ سجن اخبار کا کائی فائدہ نہیں ہوگا ، اسے پڑھنے والا کوئی نہیں ہوگا بلکہ وہ پنجابی کے کچھ الفاظ ایسے ذومعنی ہیں جو ان کے خال میں غالباً ناقابلِ اشاعت ہے تو میں(حسین نقی ) نے اُردو کے چند الفاظ لکھ کر مجید نظامی کی خدمت میں پیش کئے اور استفسار کیا کہ کیا یہ ذومعنی نہیں ؟ جس پر وہ خاموش ہوگئے، ا برسبیلِ تذکرہ انہوں نے جنگ گروپ کے بانی میر شکیلالرحمان کے پانش ہزار روپے سے جنگ اخبار شروع کرنے اور پھر حمید نظامی( مرحوم) کے نوائے وقت کیلئے پانچ پانچ ہزار روپے عطیہ کرنے والوں کو نام بھی یاد دلائے اور دکھ کا اظہار کیا کہ پانچ پانچ ہزار روپے سے صحافتی ’کاروبار ‘ کرنے والے اربوں روپوں کے مالک ہیں جو کارکنوں کو کئی کئی ماہ تک اپنے محفوظ سرمائے سے بھی تنخواہیں ادا کریں تو انہیں انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن اس کے باوجود وہ اندھا دھند کارکنوں کا معاشی قتلِ عام کررہے ہیں۔ صحافت کے پیشے میں جان ہتھیلی پر رکھ کر ناقابلِ تردید خبر تصویری شکل میں پیش کرنے والے فوٹوگرافرز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے فرخ سہیل گوئندی کو پاکستان کی تاریخ فوٹوگرافی کی صورت میں مرتب کرنے کی ہدایت بھی کی جس کی فرخ سہیل گوئندی نے فوری حامی بھر لی جبکہ وہ فوٹو گرافی کے شوق کا ذکر پہلے ہی کرچکے تھے۔ میرے یہ بتانے پر کہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں بھی لائبریری بن چکی ہے جس پر انہوں نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد کو بھی کتب عطیہ کرنے کی حامی بھر لی ہے۔ کتب عطیہ کرتے وقت میں نے انکے چہرے پھر خوشی محسوس کی ، انہیں نجانے کیوں یقین ہے کہ لاہور پریس کلب کے اراکیں پریس کلب کے صدر ارشد انصاری کی تبلیغ پر مطالعے کی طرف راغب ہونگے ، مجھے ارشد انصاری کی ایک بات بہت اچھی لگی، وہ حامد میر کی تعریف اور کتاب دوستی کا انتہائی احترام کے ساتھ ذکر تھا ، وہ ساتھیوں کو حامد میر کے ہر وقت بغل میں کتاب رکھنے یا شائد کتابیں’ چرانے ‘ کے شوق اور شغف کا حوالہ دیتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ حامد میر کے مطالعے کا شوق اور کتاب دوستی ہی انہیں دوسرے سے ٹی وی اینکرز سے ممتاز کرتا ہے جبکہ اہیسے اینکرز کی کمی نہیں جو پیدائشی استاد ہیں اور اور بقول حسین نقی صاحب کہ بہت سے اینکرز حضرات تو ملک کی سیاسی تاریخ سے بھی نابلد ہیں۔
فرخ سہیل گوئندی نے مزید کتب عطیہ کرنے کاوعدہ کیا ہے یعنی وہ شعور کی ’دہشت گردی ‘سے باز آتے دکھائی نہیں دیتے۔ جس کی وجہ میرے خیال میں یہی ہے کہ انہیں یقین ہے کہ سیاہی سے لکھی تحریروں کے مقابلے کیلئے روشنائی سے لکھی تحریروں کی شدید ضرورت ہے اور لوگ سیاہی سے روشنائی کی طرف مائل ہوسکتے ہیں۔ خاص طور پر گھٹن والے متعفن معاشرے میں جہاں سماج سدھار کی بات کرنے والے باغی اور دہشتگردقراردیکر سلاخوں اور کال کوٹھڑیوں میں بندکئے گئے مگر فرخ سہیل گوئندی اور ایسے کچھ دیگر محترم یہ ’دہشت گردی‘ جاری رکھے ہوئے ، بھلا اب کوئی انہیں اس ’دہشت گردی ‘سے روک سکے گا ؟ نہیں کوئی نہیں۔۔۔ اگر کوئی ہے تو اپنا سیاہ چہرا ذرا سامنے تو لائے۔۔
reporter2reporter@gmail.com

 

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے