Voice of Asia News

یکم مارچ 1963،کراچی کے شہید مزدورں کی یاد میں:شوکت علی چوہدری

انقلاب فرانس اور یورپ کے صنعتی انقلابات نے دُنیا بھر کو بوڑوا جمہوریت سے روشناس کروایا اور اس کا سہرہ ان ملکوں کے سرمایہ داروں کے ساتھ ساتھ محنت کشوں کے سر سجتا ہے۔دراصل انسانی تاریخ طبقاتی جدوجہدکی تاریخ ہے۔ اور اسی طبقاتی جدوجہدنے انسانی معاشروں کو قدیم قباہلی،غلام دارانہ،جاگیردارانہ اور شہنشاہانہ نظاموں سے نجات دلواکر ترقی کی اس راہ گزر پر لا کھڑا کیا جہاں سے انسان نے چاند ستاروں تک پر کمندیں ڈالنے میں کامیابیاں حاصل کر لیں اور ایسی حیرت انگیز ترقی کی طرف سر پٹ دوڑھنا شروع کر دیاکہ دور تک اسے روکنے والی کوئی اور طاقت موجود نہیں ہے۔اگر تعصب اور جانبداری کی عینک اتار کر تاریخ کے اس سفر کا ایماندارانہ تجزیہ کیا جاے تو بلاشبہ ہر کوئی یہ کہنے پر مجبود ہو گا کہ اس ترقی میں کلیدی کردار محنت کش قوتوں کا ہے۔اب ہم اپنے موضوع کی طرف آتے ہوئے ایک نظر پاکستان میں محنت کشوں کی تحریکوں پر ڈالتے ہوئے اس بات کا جاہزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں کہ پاکستان جو جمہوریت کے نام پر معرض وجود میں آیا اس میں جب اسی جمہوریت کا گلہ نہ صرف گھوٹا گیا بلکہ آپ یوں کہہ لیں کہ سانس لینا تک روبھر کر دیا گیا تو محنت کشوں نے اپنی قربانیوں اور جدوجہد سے پاکستان میں آواز حق بلند کرنے کا عمل جاری رکھا۔ یکم مارچ 1963ء کو کراچی کے محنت کشوں نے اس وقت جب تمام تر جمہوری سرگرمیوں کو مارشل لاء کے تحت پابند کر دیا گیا تھا اور تحریر و تقریر کی آزادی پر پہرے بٹھادہیے گے تھے تو یہ کہتے ہوے نعرہ حق بلند کیا تھا کہ”یہ کارخانے ہماری محنت سے چل رہے ہیں مگر ہمارے خون کے چراغ محلوں میں جل رہے ہیں۔”یکم مارچ 1963ء کے دن محنت کش طبقے کے بہادر بیٹوں نے ظلم و نا انصافی کو ختم کرنے کیلئے آواز اٹھای اپنے حقوق منوانے کیلئے مردانہ وار میدان میں آے اور اپنے مقصد کی عظمت پر یقین رکھتے ہوے موت کو اس لیے گلے لگا لیا کہ ان کے ساتھی اور ان کی آنے والی نسلیں انسانوں کی طرح زندگی بسر کرنے کا حق حاصل کرلیں۔یکم مارچ کے شہد ساتھی بھی ان ہی لوگوں میں شامل ہیں۔کراچی کے مزدوروں نے جب ان سے ہڑتال کرنے کا حق بزور طاقت چھین لیا گیا تو دسمبر 1962ء میں احتجاجی تحریک کا آغاز کیا۔تمام تر ریاستی ظلم و جبرکے باوجود پرامن طور پر اپنی تحریک کو جاری رکھتے ہوے 20 فروری 1963 ء کو زیب تن کے میدان میں جلسہ عام منعقد کیااس جلسہ میں تقریبا” 40 ہزار مزدوروں نے شرکت کی۔اس صورت حال سے گھبرا کر ریاستی اداروں نے شہر میں 144 نافز کر کے مزدوروں کی سرگرمیوں پر پابندی لگانے کی کوشش کی۔21 فروری کو دفعہ 144 کے باوجود لگ بھگ 20 ہزار کی تعداد میں مزدور زیب تن کے میدان میں اکٹھے ہو گئے اور بھر پور احتجاج کیا۔اسی رات اس تحریک میں شامل تمام مزدور رہنماؤں اور آگے بڑھے ہوئے مزدور کارکنوں کی وسیع پیمانے پر گرفتاریاں ہوئیں۔
اس حکومتی کاروائی کے خلاف یکم مارچ کو عام ہڑتال کا اعلان کر دیا گیا۔یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ تھا کہ محنت کشوں نے اتنی بڑی تعداد میں اکٹھے ہو کر اپنے روزی روٹی کے معاملات کو بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ ٹریڈ یونین پر لگاء جانے والی پابندیوں اور حق تحریر و اجتماع پر قرغن کے خلاف احتجاجی تحریک کا آغاز کیا تھا۔پوری سرکاری مشینری حرکت میں آگی۔لاٹھی چارج۔آنسو گیس کا استعمال اور بے دریغ گولی چلانے کے عمل نے ہر سو افراتفری مچادی۔کتنے مزدورں کا خون ناحق بہا اس کی صحیح تعداد کا تو اندازہ نہ ہو سکا کہ سرکار کے کارندوں نے تمام لاشوں کو قبضہ میں لے کر میونسپل کمیٹی کی گوشت کی گاڑیوں میں ان کو سول ہسپتال پہنچایا تھا۔اس خونی واقعہ کے 9 دن بعد مزدوروں اور انتظامیہ کے درمیان سمجھوتہ ہوا اور کراچی کے تمام مل اور کارخانے کھل گے،طے یہ ہوا کہ حکومت مزدورں کے حق ہڑتال پر عائد پابندی کو ختم کرے گی۔مزدور قوانین میں موجود مزدور مخالف شقوں کو ختم کرے گی اور فائرنگ کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرے گی اور زخمی و شہید ہونے والے مزدورں کے لواحقین کو معاوضہ ادا کرے گی۔لیکن ہوا کیا 17 اپریل 1963 ء کو مزدوروں کے رابطہ آفس سے 40 مزدور رہنماوں اور مزدور کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیااوران کو کئی ماہ کیلئے جیلوں میں نظر بند کر دیا گیا۔17 سے 24 اپریل تک سینکڑوں مزدور کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔اور تقریبا”8 ہزار مزدوروں کو اس بنا پر نوکریوں سے نکال دیا گیا کہ وہ یونین کے سر گرم کارکن رہے تھے۔تقریبا”17 یونینز کی رجسٹریشن اس لئے منسوخ کر دی گی کہ انہوں نے ہڑتال میں حصہ لیا تھا۔یہ ہی وہ دور ہے جب مزدوروں کی ابھرتی ہوئی طاقت کو توڑبے کیلئے سرکاری سطح پر اداروں میں پاکٹ یونیز بنانے کا آغاز ہوا۔جدید صنعتی معاشرے اور جمحوریت اسی وقت پروان چڑھ سکتے ہیں جب حکمران طبقات اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ آبادی کی بڑی اکثریت یعنی محنت کشوں کو ان کے آئینی اور قانونی حقوق دینا لازم ہے۔ان کی یونینز پر پابندی لگانا۔ان سے ان کا احتجاج کا حق چھیننا اور ان کے قانونی حق ہڑتال کو ختم کرنا کسی صورت کسی بھی معاشرے میں جمہوری قدروں کے فروغ کا باعث نہیں بن سکتا۔ہم یکم مارچ 1963 ء کو کراچی میں شہید ہونے والے مزدور رہنماوں کو پاکستان کی مزدور تحریک کے ساتھ ساتھ جمہوری تحریک کے رہنما اور قائد بھی تسلیم کرتے ہیں۔

mazdoormahaz@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •