Voice of Asia News

بھارتی دہشت گردی اور بے حس عالمی ضمیر: محمد قیصر چوہان

بھارت دُنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلاتا ہے تاہم جس قدر انسانی حقوق کی پامالی اور لسانی، نسلی و مذہبی تعصبات بھارت میں پائے جاتے ہیں شاید ہی کسی ملک میں اس کی نظیر ملتی ہو۔ عمومی طورپر بھارت میں صرف کشمیریوں کی جدوجہد آزا دی کو ہی تحریک کے طور پردیکھا جاتا ہے تاہم ایسا نہیں ہے۔ بھارت میں مقبوضہ کشمیر کے علاوہ پنجاب، تامل، ناڈو، بہار، چھتیں گڑھ، اڑیسہ، ہما چل پردیش، مہارا شٹر سمیت شمال مشرق میں آسام، ناگا لینڈ، منی پورا اور ترقی پورہ سمیت بھارت میں 67 علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ جن میں 17 بڑی اور 50 چھوٹی ہیں۔ صرف آسام میں 34 علیحدگی پسند تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ 162 اضلاع پر علیحدگی پسندوں کا مکمل کنٹرول ہے، علیحدگی کی تحریکیں بھارتی حکومت اور ریاست کیلئے بہت بڑا چیلنج ہے۔ ان تحریکوں نے بھارت کے دیگر حصوں آندھرا پردیش اور مغربی بنگال پر بھی اثرات مرتب کئے ہیں۔بھارتی فورسز نے علیحدگی پسندوں کی آواز کو دبانے کیلئے ایک عرصے سے کالے قوانین کی آڑ لے رکھی ہے۔نریندر مودی بھارت کے وزیراعظم ہی پاکستان اور مسلمان دشمن جذبات ابھار کر بنے ۔ مگربد قسمتی سے وزیراعظم بننے کے بعد بھی مودی نے اپنا انتہا پسندانہ رویہ تبدیل نہ کیا اور منصب سنبھالنے کے بعد انہوں نے بھارتی عوام کے جذبات کو ہوا دینے کیلئے جو گاؤ رکھشا کا نعرہ لگایا تھا اُس سے بھارت میں مسلمانوں بالخصوص کشمیریوں اوراقلیتوں میں احساس تحفظ بڑھا تھا۔اس کے بعد کشمیر میں تحریک آزادی نے نئی کروٹ لی تو بھارتی فورسز نے کشمیری نوجوانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑنے شروع کئے اور بھار تی فوج کے ہا تھوں کشمیروں کا قتل عا م کا جو سلسلہ شروع کیا وہ آج بھی جاری ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں غاصب بھارتی افواج کا نہتے کشمیری عوام پر وحشت و بربریت کا تسلسل برقرار ہے۔ بھارت کی مودی سرکار کشمیری نوجوانوں کی سوشل میڈیا پر فعالیت اور ان کی جانب سے اقوام عالم میں بھارتی فوجوں کے مظالم بے نقاب کرنے سے عاجز آکر انہیں بزور کچل رہی ہے۔ مقبوضہ وادی میں جدید اور مہلک ہتھیاروں کے ذریعے کشمیریوں پر مظالم کا تسلسل تو گزشتہ چار سال سے برقرار ہے جس کے دوران سینکڑوں کشمیری عوام شہید اور اسرائیلی ساختہ پیلٹ گنوں کی فائرنگ سے ہزاروں نوجوان مستقل اندھے اور اپاہج ہوچکے ہیں۔ بھارتی فورسز نے مودی سرکار کے ایجنڈے کے عین مطابق وہاں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال بھی شروع کر رکھا ہے جن کے استعمال کی باقاعدہ جنگ میں بھی اجازت نہیں ہوتی مگر مودی سرکار اپنی جنونیت میں اندھی ہو کر اور کشمیر کو مستقل طور پر ہڑپ کرنے کی نیت سے کشمیریوں کا عرصہ حیات تنگ کرنے پر تلی بیٹھی ہے تاکہ وہ بھارتی تسلط سے آزادی کی تحریک چلاسکیں نہ سوشل میڈیا پر بھارتی مظالم بے نقاب کرتے رہنے کی پوزیشن میں آسکیں۔ بھارت کو مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے نہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی پاسداری ہے نہ ہی اس نے دوطرفہ مذاکرات کیلئے شملہ معاہدے کو کبھی پرکاہ کی حیثیت دی ہے۔ اس کا ایجنڈا کشمیر پر اپنی اٹوٹ انگ والی ہٹ دھرمی کو جیسے تیسے عملی قالب میں ڈھالنے کا ہے جس کیلئے اسے مسلمہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی بھی پاسداری نہیں اور اسکی فوجیں وحشت و بربریت کی انتہاء کرتے ہوئے کشمیری عوام کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہیں جبکہ کشمیریوں کی جدوجہد کا ساتھ دینے اور علاقائی اور عالمی فورموں پر ان کے کاز کیلئے آواز اٹھانے پر بھارت پاکستان کی سا لمیت کے بھی درپے ہے جس پر بھارت کی سول اور فوجی قیادتوں کی جانب سے آئے روز سرجیکل سٹرائیکس اور باقاعدہ جنگ مسلط کرنے کی گیدڑ بھبکیاں لگائی جارہی ہیں۔جبکہ کشمیریوں پر ظلم و جبر کے ایسے ہتھکنڈوں کا مقصد حق خودارادیت کیلئے توانا ہونیوالی کشمیریوں کی آواز ہمیشہ کیلئے دبانا اور ان پر بھارتی فوجوں کے مظالم اقوام عالم کی نگاہوں سے اوجھل رکھنا ہے تاہم دنیا بھر میں پھیلے متحرک کشمیریوں نے اب تک بھارت کی ایسی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہونے دی چنانچہ آج مسئلہ کشمیر علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے حوالے سے پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔
1947سے آج تک پاکستان اور بھارت کے تعلقات ہمیشہ نرم گرم رہے ہیں۔ ان میں اکثر نرمی ہماری جانب سے اور گرمی بھارت کی طرف سے دیکھنے میں آئی ہے۔ پاکستان کی نرمی اس کے قومی نظریہ کی عکاسی کرتی ہے جس ملک کی بنیاد ہی امن و سلامتی پر ہو اور جس کا نظریہ انسانوں سے تو کیا، چرند، پرند اور شجر و حجر کے ساتھ بھی حسن سلوک کی تعلیم دیتا ہو، اس کی جانب سے اشتعال صرف مجبوری اور ہنگامی حالت ہی میں ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قیام پاکستان سے اب تک یہاں ہندوؤں سمیت تمام غیر مسلم اقلیتوں کے ساتھ بہترین سلوک کا اعتراف خود انہوں نے اور دنیا بھر نے کیا ہے۔ دوسری طرف یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ کشیدگی، فائرنگ اور گولا باری کا آغاز ہمیشہ بھارت ہی کی جانب سے ہوا ہے۔ بھارت کی پاکستان سے نفرت کے دو بڑے اسباب ہیں۔ پہلا مذہبی اور دوسرا سیاسی۔ بھارت کے انتہا پسند ہندوؤں نے قیام پاکستان کو روزاول سے تسلیم نہیں کیا۔ وہ اسے اپنی گؤماتا کے دو ٹکڑوں سے تعبیر کرتے ہیں۔ سیاسی وجہ یہ ہے کہ بھارتی ارباب کے خیال میں پاکستان کے قیام سے وہ اہم زرعی و معدنی وسائل اور آبادی کے ایک بڑے حصے سے محروم ہو گئے ہیں۔ بھارت کی اسی کہج فہمی اورخام خیالی کے باعث دونوں ملکوں میں تین بڑی جنگیں ہو چکی ہیں۔ 71برسوں میں ہر بھارتی حکومت دفاعی بجٹ میں سالانہ اضافہ کرتی رہی ہے بھارت کا شمار امریکا، روس، فرانس اور اسرائیل سے اسلحہ خریداری میں دنیا کے دوسرے بڑے ملک کے طور پر ہوتا ہے۔ بھارت کی حکومت کا منشور ہی اکھنڈ بھارت کا قیام ہے۔ بھارتی گجرات کے مسلمانوں کے قاتل نریندر مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد بھارت کا رہا سہا سیکولر چہرہ بھی باقی نہیں رہا، بلکہ یہ ہندو قومیت کا روپ دھار چکا ہے۔بھارت خطے میں اسلحہ کی دوڑ کی وباء کو پھیلانے کا موجد اور بانی ہے۔
مقام حیرت ہے کہ ایک ایسا ملک جس کی آبادی کا ایک قابل ذکر حصہ غربت کی لکیر سے نیچے کسمپرسی کے عالم میں زندگی بسر کر رہا ہے، اس کے حکمران مہنگے ترین ہتھیاروں اور میزائلوں کی تیاری پر غریب عوام کے خون پسینے کی کمائی سے حاصل کئے گئے بجٹ کا ایک بڑا حصہ انتہائی بے دردی کے ساتھ خرچ کر رہے ہیں۔ 75کروڑ سے زائد بھارتی شہری دو وقت کی آبرو مندانہ روٹی بھی بروقت حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کروڑوں عوام کو روٹی دینا زیادہ ضروری ہے یا ایٹمی ہتھیار سازی؟ بھا رتی عوام کو روٹی چاہیے، میزائل اور جوہری بم نہیں۔ بھارت کی اس تمام کاوش کا بنیادی مقصد ہمسایہ ممالک کو خائف اور دہشت زدہ کرنا ہے۔ یہ ایک بڑی سچائی ہے کہ بھارتی حکام یہ ہدف حاصل کرنے میں بھی بری طرح ناکام رہے ہیں۔ بھارت کا ’’خصوصی ہدف‘‘ روز اول سے پاکستان رہا ہے۔ اکثر بھارتی حکومتیں اور ارباب حکومت شروع ہی سے پاکستان کو اپنا ازلی دشمن گردانتے رہے ہیں۔ بھارت کے دفائی بجٹ میں آئے روز اضافے، میزائل تجربے، جوہری ہتھیار سازی اور و رکنگ باؤنڈری پر گولہ باری محض اس لئے کی جاتی ہے کہ بھارت کے متعصب،بنیاد پرست اور رام راج کے خواہش مند انتہا پسند عناصر کو یہ یقین دلایا دیا جائے کہ بھارت جب چاہے اپنے ’’ازلی دشمن‘‘ کو دہشت زدہ کر سکتا ہے۔ حالانکہ یہ محض خام خیالی ہے۔ بھارتی حکمرانوں اور بھارت میں موجود غالب حیثیت رکھنے والے انتہا پسند عناصر کی کوششوں اور خواہشوں کے باوجود پاکستان کا دفاعی استحکام ناقابل تسخیر ہے۔ یہ امر عام پاکستانیوں کیلئے یقیناًاطمینان کا باعث ہے کہ افواج پاکستان نے آزمائش کے ہر مرحلے اور امتحان کے ہر میدان میں پاکستان کی جغرافیا ئی و نظریاتی سرحدوں کے دفاع اور تحفظ کیلئے کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے کبھی دریغ نہیں کیا۔ بھارت نے جنوب مشرقی ایشیا میں اسلحے کی بالادستی کے وکٹری سٹینڈ پر کھڑے ہونے کیلئے خطرناک اور مہلک ترین اسلحے کی اندھا دھند دوڑ شروع کر رکھی ہے، پاکستان کیلئے بھی ناگزیر ہے کہ وہ اپنی جغرافیائی و نظریاتی سرحدوں اور سٹریٹجک تنصیبات کے دفاع اور تحفظ کیلئے اپنی ایٹمی صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے۔ پوری قوم کو افواج پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد ہے اور وہ یہ سمجھتی ہے کہ جب تک افواج پاکستان کا ایک بھی افسر اور جوان زندہ ہے، بھارت اپنے دفاعی بجٹ میں جتنا مرضی اضافہ کر لے تو اسے پاکستان کے خلاف کسی بھی مہم جو یا نہ جارحیت کے نتیجہ میں ہر محاذ پر منہ کی کھانا پڑے گی۔بھارت دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس کے کلکتہ، ممبئی، نئی دہلی، مدارس، بنگلور جیسے بڑے شہروں میں بھی کروڑوں شہری فٹ پاتھوں، جھونپٹر پٹیوں، ٹرنک سیور پائپ لائنوں، گرین بیلٹوں، پارکوں، انڈر پاسوں، کھلے بنجر میدانوں اور حفظان صحت اور بنیادی سہولیات سے محروم غیر انسانی ماحول میں جنم لیتے، پلتے، پروان چڑھتے، جواں ہوتے، شادیاں کرتے، نئی نسل کو جنم دیتے، بیمار پڑتے اور کسمپرسی کے عالم میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جاتے یہیں سے ان کی ارتھیاں اٹھتیں، جوہڑوں کنارے بنائے گئے شمشان گھاٹوں میں ان کا ’’انتم سنسکار‘‘ ہوتا اور ان کی ’’استیاں‘‘ گنگا جل کی نذر کرنے کے بجائے گندے نالوں میں بہا دی جاتی ہیں۔ ان حالات میں بھارتی حکومت کوجنگی جنون کے بجائے اپنے ملک کی غریب عوام کو غربت سے نکالنے کے جنون میں مبتلاء ہونا چاہیے ۔ جن کے کاندھوں پر سوار ہو کر حکمران اقتدار کے ایوانوں تک پہنچتے ہیں۔
اس وقت جبکہ بھارتی لوک سبھا کے آنیوالے انتخابات میں حکمران بی جے پی کو اپنی شکست نوشتہ دیوار نظر آرہی ہے‘ اس کی جانب سے پاکستان دشمنی کو انتہاء تک پہنچا کر انتخابات میں پانسہ پلٹنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بھارت پاکستان کو دبانے کیلئے مسلسل جنگ کی دھمکیاں دے رہاہے۔بھارتی سکیورٹی فورسز نے سیزفائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلااشتعال فائرنگ کرکے پاکستان کو جانی و مالی نقصان پہنچا رہا ہے۔ بھارتی جنگی جنون کا نتیجہ جوہری تصادم کی صورت میں نکل سکتا ہے جس کی دُنیا متحمل نہیں ہو سکتی۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print