Voice of Asia News

تصویر کا اصل رُخ:شوکت علی چوہدری

کسی بھی ملک کی معیشت اور صنعت کی ترقی میں دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ محنت کشوں کا بھی بہت اہم ترین کردار ہوتا ہے۔ اگر دنیا کے ترقی یافتہ ممالک پر ایک طائرنہ نظر ڈالی جائے تو ان کی ترقی ان کی صنعتی ترقی کے ساتھ جڑی ہوئی نظر آتی ہے،ان کی مصنوعات کا معیار اور کوالٹی ہی دُنیابھر میں ان مصنوعات کی فروخت کی ضمانت سمجھی جاتی ہے۔دُنیا کے صنعتی اور ترقی یافتہ ممالک نے یہ مقام ایسے ہی حاصل نہیں کر لیا اس مقام تک پہنچنے کے لیے انہیں کئی مشکل مراحل سے گزرنا پڑا ہے تب جاکر وہ دُنیا میں معتبر ٹھہرے۔
آپ یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ ان ممالک میں محنت کشوں کی محنت کا استحصال نہیں ہوتا اور نہ ہی وہاں کے محنت کش اپنے مطالبات منوانے کے سڑکوں پر آتے ہیں اور نہ ہی ان کو پولیس تشدد اور بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ایسا بہت کچھ وہاں بھی ہوتا ہے پچھلے کئی ماہ سے اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے فرانس کے دارلحکومت پیرس کا منظر سب کے سامنے ہے کہ پیلی جیکٹ تحریک جو دراصل مہنگائی اور بے روزگاری کے ستائے ہوئے عوام اور محنت کشوں کی تحریک ہے جس نے فرانسیسی حکومت کو مصیبت میں ڈالا ہوا ہے۔لیکن مہذب اور ترقی یافتہ کہلوائے جانے والے ممالک میں ایسا سننے اور دیکھنے کو نہیں ملے گا کہ کوئی محنت کش کام کے دوران کسی عمارت کی بلندی سے نیچے گر جائے اور کوئی سرکاری ہسپتال اس کے علاج سے انکار کر دے۔تمام تر تضادات کے باوجود وہاں کے حکمران اپنی عوام اور دُنیا کی نظروں میں اس لیے معتبر رہتے ہیں کہ وہ اپنے عوام اور خاص کر محنت کشوں کے صحت و سلامتی کے معاملات کو بہتر سے بہتر رکھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔اس کے برعکس پاکستانی حکمران جو اٹھتے بیٹھتے مثالیں تو دیار غیر کی دیتے رہتے ہیں لیکن مجال ہے جو عوام الناس کے رستے ہوئے زخموں پر مرہم رکھ سکیں۔آپ ماضی کے حکمرانوں کو جانے دیں کہ بقول موجودہ حکمرانوں کے وہ تو ماسوائے قومی دولت لوٹنے اور اپنا اُلو سیدھا کرنے کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کچھ نہیں کر پائے۔
تحریک انصاف کی حکومت نے پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کا نعرہ لگایا ہے ۔ریاست مدینہ کا سنتے ہی ایک فلاحی ریاست کا تصور ذہین میں آجاتا ہے کہ چلو ایک لمبے عرصے بعد ہی سہی کسی حکمران کو وطن عزیز کو ایک فلاحی ریاست بنانے کا خیال تو آیا۔یہ تو ہوا تصویر کا ایک رخ اب تصویر کے دوسرے رُخ کی طرف چلتے ہیں کہ منڈی بہاؤالدین کے ایک محنت کش کی اینٹیں اُٹھاتے ہوئے حادثہ ہوجانے کی وجہ سے ٹانگ دو جگہوں سے ٹوٹ جاتی ہے اور جسم کے دوسرے حصوں پر شدید چوٹیں آتی ہیں۔جب اس کو منڈی بہاؤا لدین کے ہسپتال لے جا یاجاتا ہے تو وہاں کے مسیحا اسے گجرات کے ہسپتال بھیج دیتے ہیں اسی زخمی حالت میں وہ غریب محنت کش جیسے تیسے گجرات ہسپتال پہنچتا ہے تو وہاں کے مسیحا اسے لاہور کا راستہ دکھا دیتے ہیں ،مصیبت کا مارا یہ محنت کش لاہور کے سرکاری ہسپتال پہنچتا ہے تو بجائے اس کے اس دُکھ ،تکلیف اور آفت زدہ محنت کش کو علاج کی تمام سہولیات مہیا کی جاتیں اسے واپس منڈی بہاؤالدین بھجوادیا جاتا ہے۔ایک غریب اور زخموں سے چور ،چلنے پھرنے سے محتاج اس دھاڑی دار مزدور کو علاج کی سہولت دینے کے لیے کسی سرکاری ہسپتال میں کوئی جگہ نہیں۔اس وقت وہ مصیبت کا مارا ہوا محنت کش منڈی بہاؤالدین کے ایک پرائیویٹ ہسپتال میں داخل ہے،روزانہ چھے سات سو روپے دھاڑی کمانے والا یہ محنت کش کیا کسی پرائیویٹ ہسپتال کا خرچہ کس طرح برداشت کر پائے گا۔۔۔؟اور اس حالت میں کہ جب وہ دھاڑی کمانے کے قابل بھی نہیں ہے ۔ تو یہ ایک دھاڑی دار محنت کش کی کہانی ہے نہ جانے ہر روز کتنے ایسے محنت کش اور بے بس ومجبور لوگ ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال اور ایک شہر سے دوسرے شہر تک مارے مارے پھرتے ہوں گے جن کا جرم صرف اتنا ہی ہے کہ وہ اس ملک کے غریب شہری ہیں ۔ ہمارے حکمران غریبوں کی فلاح وبہبود کے دعوے تو بہت کرتے ہیں لیکن عمل کچھ نہیں۔پاکستان کی غریب عوام کے مقدر میں صرف اور صرف در در کی ٹھوکریں ہی ہیں۔ُاوپر سے حکمرانوں کے یہ دعوے کہ ہم اس ملک میں ددوھ اور شہد کی نہریں بہادیں گے اور اس ملک کا نام پوری دُنیا پیں روشن کر دیں گے اور اس ملک کو ترقی کے بام عروج تک پہنچادیں گے۔میری سمجھ تو آتے نہیں کہ جس ملک کے محنت کش کا میعار زندگی بدترین ہو وہ ملک عالمی برادری میں کیسے معتبر بن سکتا ہے۔کسی ملک کی ترقی،عزت و ناموس اور شہرت اس کے محنت کشوں اور عوام کی ترقی و خوشحالی سے جڑی ہوئی ہے،باقی تو سب باتیں ہیں،بلند وبانگ دعوے ہیں ،سبز باغ ہیں جو پاک سر زمین کے غریب شہریوں کو 71 برس سے دکھائے جا رہے ہیں۔

mazdoormahaz@gmail.com

image_pdfimage_print